’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو

لاہور میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’جو نفرت کی سیاست کر رہے ہیں اس سے ملک تقسیم ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرے گی۔‘

لائیو کوریج

  1. مسلم لیگ ن کا منشور تیار، 27 جنوری کو ایک تقریب میں سامنے لایا جائے گا: سینیٹر عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے منشور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد مسلم لیگ ن کے انتخابی منشور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

    ان کے مطابق یہ منشور مسلم لیگ ن کی 27 جنوری کو لاہور میں منعقدہ تقریب میں پیش کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق ماہرین کی 36 کمیٹیوں کی تجاویز اور اقدامات پر مشتمل جامع منشور کسی بھی جماعت کی طرف سے عوام سے کیا گیا پہلا باضابطہ عہدنامہ ہوگا۔

  2. وفاقی حکومت نے سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا سائفر ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 21 نومبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حقائق کا جائزہ نہیں لیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر ٹرائل کے لیے قائم خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دیا اس کے باوجود کہ ہائیکورٹ کے پاس خصوصی عدالت کی حیثیت ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

    درخواست وکیل راجہ رضوان عباسی کے توسط سے دائر کی گئی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات کو فریق بنایا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی، ڈی سی اور چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر اداروں کو بھی اس میں فریق بنایا گیا ہے۔

  3. پاکستان ایران کشیدگی: نگران وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا

    پاکستان اور ایران میں کشیدگی کے بعد نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا۔

    اجلاس میں آرمی چیف، ائیرچیف اور نیول چیف کے سااتھ ساتھ انٹیلیجنس اداروں کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔

    اجلاس میں پاکستان ایران کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور اس اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔

    واضح رہے کہ نگراں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج ہی ہو گا، جس میں نگراں وزیر خارجہ اپنے ایرانی ہم منصب سے ہونے والی بات چیت کے علاوہ پاکستان ایران کشیدگی سے متعلقہ دیگر ملکوں کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بارے میں کابینہ کے ارکان کو آگاہ کریں گے۔

  4. پاکستان کی فوج میں اختلاف رائے کا تاثر: ’ذہن سازی‘ اور پالیسی میں ’تبدیلی‘ کا ٹکراؤ کیسے ہوا؟

  5. ’فضائی حملوں سے ظاہر ہوتا خطے میں ایران کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا‘: جو بائیڈن

    biden

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی سرزمین پر فضائی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ایران کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ایران کو خطے میں خاص طور پر زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس تمام صورتحال میں کیا پیشرفت ہوتی ہے، مجھے نہیں علم کہ یہ صورتحال اب کس طرف جاتی ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافہ نہیں دیکھنا چاہتا۔

  6. پاک ایران صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، جنوبی و وسط ایشیا میں کشیدگی نہیں چاہتے: جان کربی

    john kirby

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کروبی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدہ صورتحال کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں اور خطے میں کشیدہ میں اضافہ نہیں چاہتے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس تمام صورتحال کی بہت قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔

    جان کربی نے کہا کہ پاکستان پر پہلے ایران نے حملہ کیا جو ان کا ایک اور غیرذمے دارانہ حملہ ہے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے حوالے سے ایرانی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں مکمل طور پر مسلح ملک ہیں، ہم واضح طور پر جنوب اور وسط ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ نہیں دیکھنا چاہتے اور اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ اپکستان نے ایران پر حملے سے قبل امریکہ کو آگاہ کیا تھا۔

  7. پاکستان اپنی سرزمین پر مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانے بننے سے روکے: ایران

    ایرانی وزیر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی وزارت خارجہ نے دوبارہ ایک بیان میں اپنے سیستان و بلوچستان صوبے کے شہر سراوان میں آج صبح پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے کی مذمت کی ہے۔ اس نے ’غیر ایرانی علاقہ مکینوں پر‘ پاکستانی فضائی کارروائی کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ تہران پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے پُرعزم ہے تاہم اس نے اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی سرزمین پر ’مسلح دہشتگرد تنظیموں کے ٹھکانے بننے سے روکے۔‘

    اس نے کہا کہ ایرانی شہریوں کی سلامتی اور علاقائی سالمیت ’ریڈ لائن‘ ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں اپنے حملے کی وضاحت کی اور بتایا کہ اس نے دیکھا تھا کہ ایک عسکریت پسند گروہ ایران سے نکل کر پاکستان جا رہا ہے لہذا ’اس دہشتگرد گروہ کو روکنے کے لیے آپریشنز کیے گئے۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ پاکستانی سرزمین پر حملے میں ’ایرانی عسکریت پسند تنظیم‘ جیش العدل کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یہ حملے رہائشی علاقوں سے دور ہوئے اور یہ ایران کی بارڈر فورسز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اور عوام کو درپیش خطروں سے نمٹیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان فضائی حملوں پر تہران میں پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کیا گیا۔

  8. ’برادر اسلامی‘ ممالک کے ایک دوسرے پر حملے: بی بی سی کی لائیو کوریج

    ایران، پاکستان کشیدگی پر بی بی سی اُردو کی لائیو کوریج پر خوش آمدید۔ آج کی اہم پیشرفتوں کا خلاصہ یہ ہے:

    • ایران کی جانب سے منگل کو پاکستان پر حملے کے جواب میں پاکستانی فوج نے جمعرات کی صبح ایک ایرانی سرحدی شہر پر مبینہ ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
    • پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا ہدف ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے ’دہشت گردوں کے ٹھکانے‘ تھے۔
    • ایران نے پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کی مذمت کی ہے جس میں ایرانی حکومت کے مطابق تین خواتین، دو مرد اور چار بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ ایران میں پاکستان کے ناظم الامور کو ’وضاحت‘ کی غرض سے طلب کیا گیا ہے۔
    • پاکستان نے منگل کو ایرانی حملے کی شدید مذمت کی تھی، جس میں ایرانی سرحد کے قریب پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا تھا اور جس میں پاکستانی حکومت کے مطابق دو بچے ہلاک ہوئے تھے۔
    • ایران نے کہا تھا کہ اُس کے حملوں کا مقصد پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ کالعدم ’جیش العدل‘ کے شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔
    • مختلف ممالک نے پاکستان اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔
  9. ’پاکستان سے متعلق ایرانی میڈیا میں کوئی منفی خبر نہیں چل رہی، خبر ہے تو یہ کہ دونوں مُلکوں نے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا‘

    تہران سے سنئیر صحافی زہرہ زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اور پاکستان کی سرحد پر ایرانی فورسز نے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد پاکستانی فورسز نے ایران میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، یہ وہ خبر ہے جو ایرانی میڈیا پر چل رہے ہے۔‘

    زہرہ زیدی کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ اور اُس کے اتحادی غزہ میں جاری بمباری سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کروا رہے ہیں اور وہ اس میں ملوث ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران میں پاکستان سے متعلق کوئی منفی خبر نہیں چل رہی۔ تاہم ایرانی انتظامیہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا ایران میں مارے جانے والے دہشت گرد تھے یا نہیں اور اگر وہ دہشت گرد تھے تو اُن کا تعلق کس مُلک اور علاقے سے تھا ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہ یہ لوگ ایران میں داخل کیسے ہوئے۔‘

    زہرہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد کوئی معنی نہیں رکھتی دونوں مُمالک کے درمیان تعقات ایسے ہیں کہ لوگ بلا روک ٹوک آتے اور جاتے ہیں۔‘

  10. ایران اور پاکستان کے لیے دردِ سر بننے والے عسکریت پسند سرحدی علاقوں میں کیسے آپریٹ کرتے ہیں؟

  11. کیا یہ تمام واقعات کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؟, بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    مشرق وسطیٰ کو الجھن اور خطرناک دونوں ہی طرح کے وقت کا سامنا ہے، جہاں متعدد ممالک سرحد پار میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں۔

    رواں ماہ اب تک اسرائیل، حماس، امریکہ، برطانیہ، لبنان، ایران، یمن، شام، عراق اور پاکستان نے یا تو میزائل اور ڈرون داغے ہیں یا ان کا نشانہ بنے ہیں۔

    تو کیا یہ تمام واقعات کسی نہ کسی طرح سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؟ ہاں، اور نہیں۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان سب سے بڑا اور مہلک ترین تنازع جاری ہے جو اب اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔ چونکہ امریکہ خود اسرائیل کا اتحادی ہے اس لیے خطے میں واشنگٹن کے اقدامات کو بہت سے لوگ اسرائیل کی حمایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    اس کا اطلاق جنوبی بحیرہ احمر کی صورتحال پر بھی ہوتا ہے جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجو غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ سمندری قزاقی اور دہشت گردی ہے۔ حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس وقت اپنی کارروائیاں روکیں گے جب اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے گا۔

    ایران، جس کے حماس، حوثیوں اور حزب اللہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اپنے میزائل مختلف ممالک پر داغ رہا ہے۔

    اس کا ہدف شام میں دولت اسلامیہ گروپ رہا ہے، عراقی کردستان کے کرمان میں ان کے حالیہ خودکش بم دھماکے کے جواب میں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک اسرائیلی جاسوس اڈہ تھا، اور پاکستان کے اندر بلوچ علیحدگی پسندوں پر حملہ جس نے اسلام آباد کے ساتھ سفارتی اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔

    ان میں سے کسی بھی واقعے کو مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور زیادہ تر فریق ایسا ہونے سے بچنے کے خواہاں ہیں۔ لیکن اجتماعی طور پر وہ ایک ایسے خطے میں تناؤ کو بڑھاتے ہیں جس میں کچھ گہرے اور بظاہر ناقابل حل مسائل ہیں۔

  12. ایران نے پاکستان پر حملہ کر کے ’ریڈ لائن‘ عبور کی تھی: ملیحہ لودھی

    سنہ 2015 سے 2019 تک اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندہ رہنے والی سابق سفارتکار ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ’تہران کو یہ اشارہ دینا چاہتا ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی پاکستان کی سرحد کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔‘

    بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ورلڈ ایٹ ون‘ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران نے منگل کو پاکستان پر ایک مہلک میزائل اور ڈرون حملہ کر کے ’ریڈ لائن‘ عبور کی تھی۔

    وہ مزید کہتی ہیں کہ ایران کے حملے پر پاکستانی ’حیران‘ تھے کیونکہ ’گذشتہ سالوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں میں مصروف رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی حکومت یہ دکھانا چاہتی تھی کہ وہ جہاں چاہیں حملہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے حالیہ اقدام نے انھیں دوبارہ سفارتی تنہائی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ ہمیں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

  13. کشیدگی میں کمی کی گنجائش موجود ہے: چیتھم تھنک ٹینک

    چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک کے تجزیے کے مطابق اگرچہ ایران اور پاکستان کی طرف سے ایک دوسرے پر کیے جانے والے حملوں سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بڑھتا دکھائی دیتا ہے مگر لیکن اِن حملوں کی نوعیت اس خطرے کو محدود کر سکتی ہے۔

    چیتھم ہاؤس میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صنم وکیل نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ورلڈ ایٹ ون‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ابتدائی طور پر ایران کے لیے ایک پڑوسی ملک، جو کہ ایک جوہری طاقت بھی ہے، کی خودمختاری کو پامال کرنا بہت خطرناک نظر آیا۔‘

    ’تاہم ایسا لگتا ہے کہ دونوں طرف سے حملے متناسب یعنی شدت میں ایک جیسے تھے چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کشیدگی کے کم ہونے کی گنجائش ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک اُن ’دہشت گرد گروپوں‘ پر حملہ آور ہو رہے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔ چنانچہ کشیدگی میں کمی کی گنجائش موجود ہے۔‘

  14. اسلام آباد میں ایران کے حملہ کے خلاف مظاہرہ

    ایران پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں طلبہ نے ایران کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔

    اس احتجاج کا انعقاد کروانے والے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکومت نے ’ہمارے ملک اور ہماری خودمختاری پر حملہ کیا ہے۔‘

    اسلام آباد میں یہ مظاہرہ پاکستان کی جانب سے سیستان اور بلوچستان کے علاقے میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ کے خلاف جوابی حملوں کے بعد کیا گیا جن میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔

    آج کا حملہ منگل کے روز بلوچستان پر ایرانی فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا۔

  15. پاکستان نے جوابی حملے سے ایران کے لیے ’ریڈ لائن‘ متعین کر دی, بی بی سی کی مرکزی نامہ نگار برائے عالمی امور لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    پاکستان جانتا تھا کہ جب ایران نے اس کی سرزمین کے اندر اہداف پر حملہ کیا تو اسے جوابی کارروائی کرنی پڑے گی۔

    ایک ’برادر‘ ہمسایہ کی جانب سے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی پر حیران ہو کر اس نے فوری طور پر جواب دینے کا فیصلہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ حملہ کرنے کے قابل اور تیار ہے۔

    ایران کی طرح اس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں پر حملہ کرنے میں اس کی کارروائی ’آئندہ ہونے والے حملے‘ کو روکنے کے لیے تھی۔

    پاکستان اپنے خطے سے متعلق بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اُس کے گرد موجود ہمسایہ مُمالک کے ساتھ اُس کے تعلقات پہلے ہی سرد مہری کا شکار ہیں۔ اس میں دیرینہ علاقائی حریف انڈیا اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی شامل ہے۔

    دونوں ہمسایہ ممالک طویل عرصے سے پاکستان کے ساتھ دشمن قوتوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات بھی لگاتے رہے ہیں۔

    ایسا لگتا ہے کہ یہ ایران اور دیگر دوست اور غیر دوست ممالک کے ساتھ ’ریڈ لائن‘ قائم کرنے کے بارے میں ہے جو ممکنہ طور پر اسی طرح کی کارروائی پر غور کرسکتے ہیں۔

    قومی وقار بھی اس سب کے بیچ موجود ہے۔ یہ غیر معمولی اور غیر متوقع واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، جس نے طویل عرصے سے پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، اندرون ملک کافی دباؤ کا شکار ہے۔

    ایک ایسے ملک میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار انتخابات میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں جو مالی بحران سے بھی دوچار ہے۔

    کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، سفیروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ اس نقصان کی تلافی، اس عدم اعتماد کو کم کرنے میں وقت لگے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ فریقین سمجھتے ہیں کہ یہ آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے۔

  16. ایران اور پاکستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر مختلف ممالک کا ردعمل

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہJamaran

    پاکستان اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی حدود میں حملوں کے بعد دنیا کے متعدد ممالک نے اس صورتحال پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل برتنے کی اپیل کی ہے۔

    یورپی یونین

    یورپی یونین کے ترجمان پیٹر اسٹیناؤ کا کہنا ہے کہ اسے حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی سرزمین پر حملوں کے بعد ’مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر تشدد‘ پر تشویش ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان، عراق اور ایران پر حملے یورپی یونین کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں کیونکہ یہ ان ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور خطے میں عدم استحکام کے اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔‘

    چین

    چینی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور پاکستان پڑوسی اور اہم اسلامی ممالک ہیں۔ ہم دونوں فریقین سے تحمل کا مطالبہ کریں گے۔ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔‘

    امریکہ

    امریکہ نے اگرچہ پاکستان کے جوابی حملے کے بعد اب تک اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم ایران کی جانب سے پاکستان میں کارروائی کے بعد امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم ایران کی جانب سے اس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گذشتہ چند دنوں میں ایران کو اپنے تین ہمسایہ ممالک کی خود مختاری اور سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے دیکھا ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے قول و فعل میں تضاد ہے۔‘

    روس

    روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ’ایران اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کریں اور فریقین کے درمیان مسائل کو ’سفارتی اور سیاسی ذرائع‘ سے حل کریں۔ مزید یہ کہ ماسکو کو ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش ہوئی ہے۔‘

    افغانستان

    افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایکس پر ایک بیان میں لکھا ’کیونکہ یہ خطہ مسلط کردہ تنازعات اور طویل عدم استحکام کے بعد سلامتی اور استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، لہذا فریقوں کو سفارتی اور مذاکراتی ذرائع کے ذریعے خطے کے استحکام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

    ترکی

    ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد کہا کہ ’ایران اور پاکستان نہیں چاہتے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو۔‘فدان نے اردن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ترکی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا چاہتا ہے اور جلد از جلد امن بحال کرنا چاہتا ہے۔

    برطانیہ

    ایران میں برطانیہ کے سابق سفیر رابرٹ میکیئر کے مطابق ’پاکستان پر ایران کے حملوں اور پاکستان کے ردعمل کی کُچھ اندرونی وجوہات ہیں۔ اگرچہ سرحد پار سے ہونے والے حملے سنگین ہیں لیکن اس پر تھوڑی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ تور پر ایک دوسرے پر حملہ نہیں کیا ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جوابی حملے دوسرے ملک کی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے، انھوں نے مزید کہا کہ ایران پاکستان سرحد پر سالوں سے مسائل موجود ہیں۔‘

  17. کیا ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرنا ہمارے مفاد میں ہے؟ سابق وزیرِاعظم عمران خان کا سوال, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہیں مگر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ معاملات اس نہج تک کیسے پہنچے۔

    یہ بات انھوں نے جمعرات کے سائفر مقدمے کی اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔

    وہاں موجود صحافی رضوان قاضی اور ایک جیل اہلکار کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ بطور وزیراعظم وہ خود بھی ایران گئے تھے اور وہاں ایرانی سپریم لیڈر سے ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہوں وہ آج خوش ہیں۔

    سابق وزیرِاعظم نے سوال کیا کہ کیا ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے بجائے صورتحال کو ڈیفیوز ہونا چاہیے۔

    اپنے دورِ حکمرانی کے دوران پڑوسی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات فروغ دینے کی کوششوں کی مثال دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب افغانستان گئے تو انہوں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس کے بر عکس، بلاول بھٹو زرداری جب وزیر خارجہ تھے تو ایک دفعہ بھی افغانستان نہیں گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی افغانستان کے تعاون کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی اور آج افغانستان اپنا بارڈر بند کرنے کا سوچ رہا ہے۔

  18. نیوٹرل بھائی جان بھول گئے ہیں کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوٹرل بھائی جان بھول گئے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور یہ سنہ 2002 والی پلے بُک نہیں ہے۔

    وہ اڈیالہ جیل میں سائفر مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صورتحال بالکل سنہ 1970 جیسی ہے جب صرف پارٹی ٹکٹ جیتا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر جو ظلم کیا جا رہا ہے یہ ان کی جماعت کے لیے انتخابی مہم ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کے پوسٹرز پر قیدی نمبر 804 لکھا جائے گا۔

    سابق وزیرِ اعظمنے مزید کہا کہ وقت پر الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے ملک کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے اور اگر گذشتہ سال اکتوبر میں انتخابات ہو جاتے تو استحکام آ چکا ہوتا۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ انتخابات صرف اس لیے ملتوی کیے گئے تا کہ ان کی جماعت کو کچلا جا سکے۔

  19. سائفر مقدمے میں عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا بیان قلمبند، سماعت 22 جنوری تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPTI/Twitter

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے جمعرات کے روز اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے سائفر کے معاملے میں مرحلہ وار پیش آنے والے واقعات سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا ہے۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی قاضی رضوان اور اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق اس موقع پر اعظم خان کا کہنا تھا کہ سائفر معاملے کے بارے میں انھیں اس وقت کے سیکریٹری خارجہ نے ٹیلی فون کرکے بتایا جبکہ اُس وقت کے وزیر خارجہ (شاہ محمود قریشی) نے سائفر معاملے میں اُن سے بات کرنے سے پہلے وزیر اعظم (عمران خان) سے اس ضمن میں بات کر چکے تھے۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ مارچ 2022 میں ان کے عملے نے سائفر کاپی انھیں فراہم کی جو انھوں نے اگلے ہی روز وزیر اعظم کو دے دی۔ اعظم خان نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے انھیں بتایا کہ وزیر خارجہ نے اُن سے اس معاملہ پر بات کی ہے۔

    سابق پرنسپل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ان سے سائفر کاپی لے لی جس میں اس وقت امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر اسد مجید کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کا ذکر تھا۔

    اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اعظم خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی حکام نے سائفر بھیج کر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ ان کے بقول عمران خان نے کہا کہ یہ میسج اندرونی ایکٹرز کے لیے اشارہ ہیں تاکہ وہ عدم اعتماد کی تحریک لا کر منتخب حکومت کو تبدیل کر دیں۔

    اعظم خان نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس موقع پر سائفر کی کاپی وزیر اعظم نے اپنے پاس رکھ لی جو بعد میں نہ ملی۔

    اعظم خان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ جب انھوں نے وزیر اعظم سے سائفر کی کاپی واپس کرنے کا کہا تو انھوں نے جواب دیا گیا کہ وہ تو گم ہوگئی ہے اور بعدازاں عمران خان نےاپنے ملٹری سیکریٹری، اے ڈی سی اور دیگر سٹاف کو اس معاملے کو دیکھنے کا کہا۔

    اعظم خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے جب سائفر معاملے پر عوام کو اعتماد میں لینے کا کہا تو میں نے بطور سیکریٹری، وزارت خارجہ سے فارمل میٹنگ کا مشورہ دیا اور کہا کہ سیکریٹری خارجہ ماسٹر سائفر سے میسج پڑھ کر سنائیں۔

    سابق پرنسپل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ایک اجلاس بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں اس وقت کےسیکریٹری خارجہ نے سائفر پڑھ کر سنایا۔اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ سائفر معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائےاور پھر وفاقی کابینہ نے معاملہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سامنے رکھنے کا فیصلہ لیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ متعلقہ ملک (امریکہ) کو اندرونی معاملہ میں مداخلت پر ڈی مارش جاری کیا جائے۔

    اعظم خان نے عدالت کو بتایا کہ ان کے چارج چھوڑنے تک سائفر کی کاپی واپس نہیں بھجوائی گئی تھی جبکہ روایت کے مطابق سائفر کی کاپی وزارت خارجہ کو واپس بھجوا دی جاتی ہے۔

    قاضی رضوان کے مطابق جب اعظم خان اپنا بیان قلمبند کروانے روسٹم پر آئے تو اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان اپنی کرسی سے اٹھے اور انھوں نے جج سے مطالبہ کیا کہ اعظم خان کا بیان قلمبند کروانے سے پہلے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر ان حلف لیا جائے۔

    عمران خان کے وکلا نے اس بارے میں تحریری درخواست دی جس پرجج ابوالحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمان ہیں، قرآن پاک پڑھتے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں، آپ کو درخواست دینے کی ضرورت نہیں، ہم نے قرآن پاک منگوا لیاہے۔

    جیل اہلکار کے مطابق اعظم خان جب قران پر حلف لے رہے تھے تو کمرہ عدالت میں موجود عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے اونچی اواز میں کہا کہ بعض لوگ مقدس کتاب پر حلف لے کر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اب تک اس مقدمے میں 15 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں اوراستغاثہ کے مطابق اس مقدمے میں گواہان کی مجموعی تعداد 28 ہے۔

    اعظم خان کی گواہی ریکارڈ کرنے کے بعد عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی۔

  20. روس کی پاکستان اور ایران سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

    روس نے ایران اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کریں اور فریقین کے درمیان مسائل کو ’سفارتی اور سیاسی ذرائع‘ سے حل کریں۔

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو کو ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش ہوئی ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مُمالک کی حدود سے باہر انسداد دہشت گردی کے کسی بھی اقدام کو اس میں شامل ممالک کے مابین ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیا جانا چاہئے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ دو دوست ممالک کے درمیان ایسا ہوا ہے۔‘