نواز شریف اکتوبر میں پاکستان آئیں گے اور مسلم لیگ ن کی الیکشن مہم کی قیادت کریں گے: شہباز شریف
سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشاورت کے بعد طے پایا کہ نواز شریف اکتوبر میں پاکستان واپس آئیں گے اور اپنے خلاف کیسز میں قانون کا سامنا کریں گے۔ دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو قید کی سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کو ’او ایس ڈی‘ بنانے کا ٹوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, تحریک انصاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی: زلفی بخاری, فرحت جاوید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان زلفی بخاری نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی۔
ان کے مطابق ’ایک تو یہ ایکٹ بذات خود ایک آمرانہ قانون ہے جو اگر آج نہیں تو مستقبل میں غلط استعمال ہو گا اور کسی کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ مگر اب تو یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اس کو قانون بنانے کے لیے قانونی راستہ ہی اختیار نہیں کیا گیا۔‘
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ہم اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے کہ اسے روکا جائے۔
انھوں نے نگراں وزیر اطلاعات اور وزیر قانون کی پریس کانفرنس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اطلاعات نے خود تسلیم کیا ہے کہ بل پر صدر کے دستخط نہیں تھے۔
زلفی بخاری، جو عمران خان کے دورِ حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہے ہیں، نے پی ٹی آئی کے لیڈران کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی سینیئر قیادت اور کارکنان دونوں کو ہی دھمکیوں کا سامنا ہے، ’ہم سب اس وقت چھپے ہوئے ہیں کیونکہ ہمیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘
صدر نے 10 دن کی آئینی مدت میں کوئی راستہ استعمال نہیں کیا، دونوں بلز قانون بن گئے ہیں: نگراں وزیر قانون

،تصویر کا ذریعہPTV
،تصویر کا کیپشننگراں وزیر قانون احمد عرفان اسلم (بائیں) اور نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی (دائیں) نگراں وزیرقانون احمد عرفان اسلم نے پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا ہے آئین کے آرٹیکل 75 میں صدرمملکت کو دس دن کی مدت دی گئی ہے۔ اگر وہ کوئی رستہ نہیں لیتے تو پھر یہ خود بخود قانون عمل میں آ جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اب یہ قانون نوٹیفائی ہو گیا ہے۔‘
نگراں وزیرقانون کے مطابق اگر صدرمملکت کوئی آبزرویشن دیتے تو پھر ایسی صورت میں ان بلز کا پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوتا۔
نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے جو اعتراض لگایا ہے کہ ان وجوہات کی بنیاد پر انھوں نے یہ بلز واپس بھجوائے ہیں۔ تو اگر یہی اعتراضات ان بلز پر لگا کر واپس بھیج سکتے تھے، جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق دس دن کا قانونی وقت گزرنے کے بعد صدر نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ ان کی مرضی ہے۔
سیاسی جماعتوں کا صدر عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے صدر عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’آئین کے مطابق زبانی حکم کو حکم تصور نہیں کیا جاتا۔۔۔ اگر 10 روز میں صدر اعتراضات کے ساتھ بل واپس نہیں بھیجتے تو یہ منظور تصور کیا جاتا ہے۔‘
’علوی صاحب کو اعتراضات کے ساتھ بل واپس بھیجنے کا تحریری یا ریکارڈڈ ثبوت دینا ہوگا۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’اخلاقی تقاضہ یہی ہے کہ عارف علوی مستعفی ہوں کیونکہ وہ اپنا دفتر چلانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔‘ ان کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد محض حمایت حاصل کرنا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 1X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ وہ (صدرمملکت) یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ناک کے نیچے بلز پرکوئی اور دستخط کرتا ہے؟ صدر کی وضاحت ان کے صدارتی منصب سنبھالنے کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے، اگر ایسا ہی ہے تو صدر کو اس عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے، اگر آپ کا عملہ آپ کے کہنے میں نہیں تو آپ صدارتی منصب چھوڑ دیں۔
تاہم پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما فرحت اللہ بابر نے صدرمملکت عارف علوی کے مؤقف کو دلیرانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 100 لفظوں سے بھی کم لکھ کر صدر مملکت نے جوہری دھماکہ کر دیا ہے جس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔
X پوسٹ نظرانداز کریں, 2X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جس صدرکو نہیں پتہ کہ ایوان صدر میں کیا ہو رہا ہے وہ عہدے پر رہنے کا اہل ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’صدر بیان دینے، معافی مانگنے کے بجائے بتائیں ان افسروں کے خلاف کیا کارروائی کی۔‘
صدرمملکت نے قانونی عمل میں جان بوجھ کر تاخیر کی، وزارت قانون
وزارت قانون نے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ٹویٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک پریس ریلیز میں وزارت نے کہا ہے کہ جب کوئی بل صدر مملکت کو بھیجا جاتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت ان کے پاس دو آپشن موجود ہوتے ہیں۔ یا تو وہ اس بل کو منظور کر دیں یا پھر اسے اپنی آبزرویشن کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیں۔
وزارت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 75 میں کسی تیسرے آپشن کی بات نہیں کی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق اس معاملے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ صدر مملکت نے جان بوجھ کر ان بلز کو منظور کرنے میں بامقصد تاخیر کی۔
ان بلز کو بغیر آبزرویشن کے ہی پارلیمنٹ واپس بھیجنے کا آئین میں کوئی جواز نہیں دیا گیا ہے۔
وزارت قانون کے مطابق اگر صدر کی کوئی آبزرویشن ہوتیں تو وہ ان بلز کو اپنی آبزرویشنز کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس بھیج سکتے تھے، جس طرح وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں۔ وزارت کے مطابق صدر مملکت اس متعلق پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے۔
وزارت قانون کے مطابق یہ تشویشناک پہلو ہے کہ صدر مملکت نے اپنے ہی حکام کی ساکھ کو مجروح کرنے کا رستہ چنا۔ وزارت قانون کے مطابق صدر مملکت کو اپنے کیے کی ذمہ داری خود ہی قبول کر لینی چائیے۔
’میرا عملہ میرے حکم کے خلاف گیا‘ صدر کی آرمی ایکٹ، آفیشل سیکرٹس ایکٹ ترامیم پر دستخط کرنے کی تردید

،تصویر کا ذریعہ@ArifAlvi
صدر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی ہے۔
ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں اللّٰہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انھیں غیر مؤثر بنایا جا سکے۔
’میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔ اللہ سب جانتا ہے، وہ انشا اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔‘
پاکستان کے سینیٹ اور قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ترامیم پر مبنی بِل کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا جس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص سرکاری حیثیت میں حاصل کی گئی ایسی معلومات، جو ملکی مفاد اور سلامتی کے لیے نقصان دہ بن سکتی ہوں، کو ظاہر کرتا ہے یا اسے ظاہر کرنے کا سبب بنتا ہے، اسے پانچ سال تک قید بامشقت کی سزا دی جا سکے گی۔
اس میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ جو فوجی افسر دوران سروس ایسے عہدے پر فائز رہا ہو جو آرمی ایکٹ کے تحت آتا ہو اور جسے ’حساس‘ قرار دیا گیا ہے وہ اپنی ریٹائرمنٹ، یا مستعفی ہونے، یا پھر برطرفی کے پانچ سال مکمل ہونے تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔
دوسری طرف آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل بھی دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر کو بھجوایا گیا تھا۔ اُس وقت کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ اس بل میں انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے شہریوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کی شق حذف کر دی گئی ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images
پاکستان کی سیاسی و اقتصادی صورتحال اور نئے انتخابات سمیت دیگر امور پر تازہ ترین خبروں کے حوالے سے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!
20 اگست تک کی خبروں کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
