توشہ خانہ کیس: گوشواروں کی تفصیلات سے متعلق لطیف کھوسہ کے دلائل جاری
آج سپریم کورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ سے متعلق ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن اسلام آباد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل سے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال، جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔
ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کردیا ہے، لطیف کھوسہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل ہیں۔
لطیف کھوسہ الیکشن کمیشن میں عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے گوشواروں کی تفصیلات سے متعلق دلائل دے رہے ہیں۔
لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان میانوالی سے 2018 میں رکنِ قومی اسمبلی منتجب ہوئے تھے، اور ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنے اور اہلیہ کے اثاثے چھپائے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رکن پارلیمان ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرانے کا پابند ہے۔‘
’6 ایم این ایز نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھیجا، ریفرنس میں اثاثوں سے متعلق جھوٹا ڈیکلیئریشن جمع کرانے کا الزام لگایا گیا۔ سپیکر نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا۔‘
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استفسار پر لطیف کھوسہ نے الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 اور سب سیکشن 4 پڑھا۔ انھوں نے کہا ’قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنون میں ہی کاروائی کرسکتا ہے۔‘
جسٹس مظاہر نقوی نے استفار کیا کہ ’کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے؟‘
اس پر لطیف کھوسہ نے کہا ’کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا، الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں کاروائی کرسکتا ہے۔‘










