نواز شریف اکتوبر میں پاکستان آئیں گے اور مسلم لیگ ن کی الیکشن مہم کی قیادت کریں گے: شہباز شریف

سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشاورت کے بعد طے پایا کہ نواز شریف اکتوبر میں پاکستان واپس آئیں گے اور اپنے خلاف کیسز میں قانون کا سامنا کریں گے۔ دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو قید کی سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کو ’او ایس ڈی‘ بنانے کا ٹوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. توشہ خانہ کیس: گوشواروں کی تفصیلات سے متعلق لطیف کھوسہ کے دلائل جاری

    آج سپریم کورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ سے متعلق ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن اسلام آباد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل سے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال، جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔

    ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کردیا ہے، لطیف کھوسہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل ہیں۔

    لطیف کھوسہ الیکشن کمیشن میں عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے گوشواروں کی تفصیلات سے متعلق دلائل دے رہے ہیں۔

    لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان میانوالی سے 2018 میں رکنِ قومی اسمبلی منتجب ہوئے تھے، اور ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنے اور اہلیہ کے اثاثے چھپائے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رکن پارلیمان ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرانے کا پابند ہے۔‘

    ’6 ایم این ایز نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھیجا، ریفرنس میں اثاثوں سے متعلق جھوٹا ڈیکلیئریشن جمع کرانے کا الزام لگایا گیا۔ سپیکر نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا۔‘

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استفسار پر لطیف کھوسہ نے الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 اور سب سیکشن 4 پڑھا۔ انھوں نے کہا ’قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنون میں ہی کاروائی کرسکتا ہے۔‘

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفار کیا کہ ’کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے؟‘

    اس پر لطیف کھوسہ نے کہا ’کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا، الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں کاروائی کرسکتا ہے۔‘

  2. توشہ خانہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل سے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔

    سماعت دن 11:30 بجے کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ کرے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے تمام مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور یا پشاور ہائی کورٹ منتقل کیے جائیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو میرے تمام مقدمات کی شنوائی سے روکا جائے۔‘

    درخواست گزار کا کہنا تھا ’میرے خلاف تمام انکوائریاں اور ٹرائل بھی اسلام آباد ہائی کورٹ سے منتقل کیے جائیں۔‘

    درخواست عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔

    درخواست آئین کے آرٹیکل 186 اے کے تحت دائر کی گئی ہے۔

  3. ڈالر کی قیمت 1.87 روپے اضافے کے بعد 299 روپے کی حد عبور کر گئی, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا تسلسل منگل کے روز بھی جاری رہا جب انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 1.87 روپے اضافے کے بعد 299.01 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    ڈالر کی قیمت میں مسلسل چند روز سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت میں 1.35 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    پاکستان میں موجودہ نگران حکومت کے قیام سے پہلے ایک ڈالر کی قیمت 288.49 پر موجود تھی جو نگران حکومت کے قیام کے ایک ہفتے کے دوران ساڑھے دس روپے تک بڑھ چکی ہے اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور منگل کے روز ایک ڈالر کی قیمت 306 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ درآمدات کے لیے ادائیگیاں ہیں اور گزشتہ حکومت میں ڈالر کی قیمت کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا رہا تھا تاہم نگران حکومت میں ڈالر کی قیمت مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق جاری ہے دوسری جانب درآمدات کے لیے ادائیگیوں نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا ۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف معاہدے کے تحت درآمدات کو روکا نہیں جا سکتا تو دوسری جانب پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے اپنے نفع کو بیرون ملک بھیجنے سے بھی روپے کی قدر پر دباؤ بڑھا

  4. جنوبی وزیرستان: شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں چھ فوجی اہلکار ہلاک

    فوجی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں چھ فوجی جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جنوبی وزیرستان کے علاقے اسمان منزا میں پیش اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائی کی۔

    اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے چھ اہلکار ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بہاردی سے لڑتے ہوئے چار شدت پسندوں کو ہلاک کیا جبکہ دو شدت پسند زخمی بھی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

  5. توشہ خانہ کیس: الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے مزید وقت کی استدعا، سماعت جمعرات تک ملتوی, سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطلی اور ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا ریکارڈ عدالت میں آ گیا ہے؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے بتایا کہ ’مجھے کیس کا تصدیق شدہ ریکارڈ ابھی نہیں مل سکا۔

    ’کیس کے میرٹس پر سزا معطلی کی درخواست دی گئی ہے۔ میری استدعا ہے کہ مجھے تیاری کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔‘

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’میں الیکشن کمیشن کے وکیل کو وقت دینے کی مخالفت کرتا ہوں۔

    ’میری استدعا ہے کہ آج ہی سزا معطلی کی درخواست منظور کی جائے۔ جان بوجھ کر کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔‘

  6. آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کو 10 روز میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے۔

    درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ موجود درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے کیونکہ صدر کے بیان کے بعد قانون سازی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    یہ درخواست ایڈوکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

  7. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل اور رہائی کی درخواستوں پر آج سماعت کرے گی

    اسلام آباد ہائی کورٹ آج توشہ خان کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل اور رہائی کی درخواست پر آج ساڑھے گیارہ بجے سماعت کرے گی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری درخواستوں پر سماعت کریں گے۔

  8. سپریم کورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کر دی: ’آپ کو آرڈر پسند آئے گا‘، چیف جسٹس, سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کر دی ہے۔ نیب کی جانب سے درخواست واپس لینے کی بنیاد ہر خارج کی گئی ہے۔

    اس دوران پراسیکوٹر نیب کا کہنا تھا کہ نیب ترامیم کی وجہ سے موجودہ کیس واپس لے رہے ہیں۔ نیب نے سنہ 2019 میں شمیم شوگر مل کیس میں مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

    نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ’ترامیم کے بعد مریم نواز کے خلاف کیس ختم ہو چکا ہے۔ آرڈر میں خارج کرنے کے بجائے اپیل نمٹا دی گئی لکھ دیں۔‘

    ’آپ کو آرڈر پسند آئے گا‘، چیف جسٹس کا نیب پراسیکیوٹر کو جواب

  9. ریاست اور بجوکے: عاصمہ شیرازی کا کالم

  10. بلوچستان کی نگران کابینہ میں پانچ وزرا، تین مشیر شامل, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے نگران کابینہ میں پہلے مرحلے میں پانچ وزرا اور تین مشیروں کو شامل کیا گیا۔ وزرا سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ تقریب میں گورنر ملک عبدالولی کاکڑ نے حلف لیا۔

    پہلے مرحلے میں نگران کابینہ کے لیے جن پانچ وزرا نے حلف لیا، ان میں کیپٹن (ر) زبیراحمد جمالی، پرنس احمد علی، عبدالقادر بلوچ، امجد رشید اور جان اچکزئی شامل تھے۔

    پرنس احمد علی کا تعلق خان آف قلات فیملی سے ہے اور سابق وزیر اعلی جام کمال کے ماموں زاد بھائی ہیں۔ پرنس احمد علی نے حال ہی میں جام کمال کے ساتھ نواز لیگ کی رہنما مریم نواز سے ملاقات کی تھی-

    جان اچکزئی پیشے کے لحاظ صحافی ہیں۔ ان کا تعلق بی بی سی پشتو سروس سے بھی رہا جبکہ وہ سابق نواز لیگ کی حکومت میں بلوچستان حکومت کے ترجمان رہے۔ امجد رشید ایک معروف نجی این جی او کے سربراہ ہیں۔

    کیپٹن ریٹائرڈ زبیرجمالی سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے سالے کے بیٹے ہیں جبکہ ڈاکٹر قادر بلوچ کا تعلق تعلیم کے شعبے سے ہے۔ نگراں وزیر اعلی نے تین مشیروں کی تقرری کی جن میں شانیہ خان، عمیر محمد محمد حسنی اور دانش لانگو شامل ہیں۔

    شانیہ خان کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے اور وہ سابق وزیراعلی میرعبدالقدوس بزنجو کی کوآرڈینیٹر رہیں۔ عمیر محمد حسنی سابق وفاقی وزیر سردار فتح محمد حسنی کے صاحبزادے ہیں اور ان کے چچا میرعارف جان محمد حسنی نے حال ہی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    میردانش لانگو نگراں وزیراعظم کے قریبی دوست میر خالد لانگو اور سابق وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کے کزن ہیں۔

  11. صدر عارف علوی کی ٹویٹ ’پریشر کُکر کی وہ سیٹی ہے جو موقع دیکھ کر کھولی گئی‘

  12. الیکشن کمیشن میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہgett

    سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کی زیر صدارت پیر کے روز آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں سے متعلق الیکشن کمشن آف پاکستان میں اہم اجلاس ہوا۔

    اجلاس میں سیپشل سیکریٹری، ڈی جی لا، صوبائی الیکشن کمشنروں اور دیگر سینیئر افسران نے شرکت کی۔ جن کی جانب سے الیکشن کے انعقاد سے متعلق اب تک انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اب تک کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن کے تمام ونگز انچارج اور صوبائی الیکشن کمشنر صاحبان الیکشن کے انعقاد سےمتعلق تمام انتظامات کی فوری تکمیل، متعلقہ اداروں سے رابطہ اور ضروری الیکشن میٹریل کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  13. تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ: عمران خان سمیت کارکُنوں کی رہائی کے لیے حکمتِ عملی بنائی جائے گی

    پی ٹی آئی کور کمیٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام رہنماؤں اور کارکُنان کی رہائی اور سیاسی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے حکمتِ عملی بنائی جائی گے۔‘

    اعلامیے کے مطابق کور کمیٹی کے اراکین نے کہا ہے کہ ’ایف آئی اے کی جانب سے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی غیرقانونی گرفتاری اور دورانِ حراست ان سے رویے کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

    دوسری جانب تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ میں ترامیم کے مسودوں کی توثیق کے حوالے سے صدرِمملکت کے ٹویٹ اور بعد کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  14. توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اپیل 23 اگست کو سماعت کے لیے مقرر

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے اٹک جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں اپیل 23 اگست کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ عمران خان کی اپیل پر سماعت کرے گا۔

    خیال رہے کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں ماتحت عدالتوں سے ضمانت منسوخی کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر پیر کے روز رجسٹرار آفس سپریم کورٹ کی جانب سے اعتراض لگا کر واپس کر دیا گیا ہے۔

    واضع رہے کہ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں اس نوعیت کی براہ راست درخواست ناقابل سماعت ہے، درخواست گزار نے پہلے مناسب فورم سے رجوع نہیں کیا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اپیل 23 اگست کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔ 23 اگست کو توشہ خانہ کیس کیس کی سماعت تین رُکنی بینچ کرے گا۔ چیف جسٹس عُمر عطا بندیال، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس جمال مندوخیل اس بینچ کا حصہ ہیں۔

    یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان توشہ خانہ کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔

  15. جڑانوالہ واقعے سے متعلق متفرق درخواستوں پر سپریم کورٹ کل سماعت کرے گی

    Supreme Court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جڑانوالہ میں چرجز اور کرسچن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں کو نظر آتش کرنے کے واقعے سے متعلق متفرق درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ پر سماعت کے لیے بینچ بھی تشکیل دے دیا۔ چیف جسٹس عمرا عطا بندیال، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل تین رکنی بینچ کل ان درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔

  16. ’اقلیت ہمارا گلدستہ ہیں، ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو گی‘: نگراں وزیراعظم کی جڑانوالہ میں تقریب سے خطاب

    PM

    ،تصویر کا ذریعہscreenshot

    پنجاب کے قصبے جڑانوالہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں جڑانوالہ واقعے پر بہت افسوس ہوا ہے۔ ان کے مطابق ابھی دو دن ہی ان کی حکومت کو ہوئے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔

    ان کے مطابق وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر مسیحی خاص طور پر اور اقلیت عام طور پر آخر کیا ایسی چیز ہو گئی ہے کہ ہمارے اس گلدستے کے خلاف ایسا ردعمل اور رویہ سامنے آیا۔

    وزیراعظم کے مطابق ’میں تین قسم کی ٹوپیاں پہن کر آپ کے سامنے پیش ہوا ہوں۔ پہلی بحیثیت پیغمبر اسلام کے امتی کے، دوسری نگراں وزیراعظم کی اور تیسری قائد اعظم کے پیروکار کے طور پر یہاں پیش ہوا ہوں۔‘

    آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی کہ اقلیت کے حقوق پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ’اگر اقلیت کی جان و مال پر کوئی بھی شخص اور گروہ حملہ آور ہو گا۔ آپ ریاست کو مظلوم کے ساتھ پائیں گے۔‘

  17. بل تنازع: صدرمملکت نے اپنا سیکریٹری تبدیل کر دیا

    Alvi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آفیشل سیکرٹس اور آرمی ترامیمی بلز پر دستخط کا تنازع سامنے آنے کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے سیکریٹری وقار احمد کی خدمات واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کر دی ہیں۔

    ایوان صدر کے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’کل کے واضح بیان کے پیش نظر ایوان صدر نے صدر مملکت کے سیکریٹری کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کر دیں‘۔

    ایوا صدر نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’ایوانِ صدر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے نام خط میں کہا ہے کہ صدر مملکت کے سیکریٹری وقار احمد کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں لہٰذا ان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کی جاتی ہیں‘۔

    ایوان صدر نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے کہا ہے کہ ’پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد کو صدر مملکت کا سیکریٹری تعینات کیا جائے‘۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. سائفر گمشدگی کیس: سابق وزیر خارجہ چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم ایک خصوصی عدالت نے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی سائفر گمشدگی کیس میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انھیں چار روز کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کی وکلا ٹیم میں شامل ایڈوکیٹ علی بخاری کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے معاملے پر درج ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف اس ضمن میں ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر خارجہ نے ’سائفر میں موجود اطلاعات غیر مجاز افراد تک پہنچائیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مذموم مقاصد اور ذاتی فائدے کے لیے حقائق کو مسخ کیا اور دونوں نے ریاست کے مفادات کو خطرے میں ڈالا اور مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے مندرجات کے غلط استعمال کی سازش کی گئی۔‘

    گرفتاری کے اگلے روز یعنی اتوار کو شاہ محمود کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں سے انھیں ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔ ڈیوٹی جج نے ہدایت کی تھی کہ سابق وزیر خارجہ کو پیر کے روز متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

    پیر کے روز اس کیس کی ان کیمرا سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات نے کی۔ سماعت کے آغاز پر تمام تر غیرمتعلقہ افراد سمیت پی ٹی آئی کے جونیئر وکلا کو بھی کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔

    جج نے اس موقع پر کہا کہ چونکہ یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا معاملہ ہے لہذا تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلے جائیں۔

    شاہ محمود قریشی کی جانب سے وکیل شعیب شاہین نے دلائل دیے اور شاہ محمود کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی۔

    فریقین کے دلائل کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  19. پرویز الہی کی ذاتی معالج سے معائنہ کروانے کی درخواست، عدالت نے 29 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

    Pervaiz Elahi

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@CHPARVEZELAHI

    لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے خلاف ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے مقدمے میں 29 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

    پیر کو لاہور کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعلیٰ کے خلاف ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر پرویز الٰہی اور ان کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔

    پرویز الہی کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ پرویز الہی کی بار بار گرفتاری کا معاملہ سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں التوا تھا۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آج ان مقدمات کے حل کا کہا ہے۔

    وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ اگر آج لاہور ہائیکورٹ اس کا فیصلہ نہیں کرتی تو پرویز الہی کی گرفتاری معطل تصور ہو گی۔

    پرویز الہی نے عدالت سے کہا کہ اگر پیر تک پرویز الہی کی حراست نیب کو دے دیں تو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ ’میں پیر تک نہیں منگل تک ریمانڈ دوں گا کیونکہ پیر کو میں نہیں ہوں۔‘

    اس موقع پر پرویز الہی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو ذاتی معالج سے معائنہ کروانے کی اجازت دی جائے۔ امجد پرویز نے کہا کہ پرسنل ڈاکٹر کی سہولت نواز شریف کو بھی دی گئی تھی۔

    پرویز الہی نے اس موقع پر عدالت سے کہا کہ ’میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘ انھوں نے عدالت سے پرسنل معالج سے معائنہ کروانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے سیدھا کھڑا ہونے میں بھی مشکل ہے۔ مجھے پرسنل معالج سے چیک اپ کروا دیں۔ اور پیر کو فیملی سے ملاقات کروا دیں۔‘

  20. آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ پر صدر کی خاموشی ان کی رضامندی تھی: خواجہ آصف

    سابق وزیرِ دفاع اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ صدرِ پاکستان کی جانب سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بلز پر خاموشی اختیار کرنے کو ان کی رضامندی سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔

    سلسلہ وار ٹویٹس میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ رضامندی کا اظہار نہ کرنے کے معاملے کو اگر انگلش کامن لا کے تحت دیکھیں تو وہاں خاموش رہنا رضامندی کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس لیے اگر صدر خاموش رہے اور نہ واضح طور پر اپنا اعتراض ظاہر کیا اور نہ ہی (بل) ریمارکس کے ساتھ واپس کیا تو یہ معاملے پر ان کی خاموشی سمجھی جائے گی اور خاموشی کا مطلب رضامندی ہو گا۔‘

    انھوں نے لاطینی زبان کے ایک محاورے کا بھی حوالہ دیا جس کا مطلب ہے ’جو خاموش رہا، اس نے اپنی رضامندی دے دی‘۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام