نواز شریف اکتوبر میں پاکستان آئیں گے اور مسلم لیگ ن کی الیکشن مہم کی قیادت کریں گے: شہباز شریف

سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشاورت کے بعد طے پایا کہ نواز شریف اکتوبر میں پاکستان واپس آئیں گے اور اپنے خلاف کیسز میں قانون کا سامنا کریں گے۔ دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو قید کی سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کو ’او ایس ڈی‘ بنانے کا ٹوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے خط پر وزارتِ قانون کی رائے مانگ لی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہECP

    ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے خط پر وزارتِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی ہے۔

    ایوانِ صدر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن کے اس مؤقف پر کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے پر رائے مانگی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ رواں ہفتے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمیشن کے نام ایک خط تحریر کیا تھا جس میں کہا تھا کہ آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد نوے دن میں انتخابات ہونا ضروری ہیں اور بطور صدر ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس ضمن میں آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

    صدر پاکستان نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ ایک، دو دن میں صدر سے ملاقات کریں تاکہ انتخابات کی تاریخ طے کی جا سکے۔

    اس خط کا جواب دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ اس جواب پر صدر پاکستان نے اب وزارتِ قانون کی رائے طلب کی ہے۔

  2. ’آپ کو لگتا ہے کہ ریاست آ کر کہے گی کہ سزا غلط دی گئی؟‘ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس, سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہNayyar Abbas/BBC

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران بات کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کا کہنا تھا کہ ’جن کیسز کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس میں ایف آئی آر کے تحت ٹرائل ہوا۔ اس کیس میں ٹرائل سے پہلے کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔‘

    اس پر وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس بنیاد پر اپیل خارج کر دی جائے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ ریاست کو نوٹس جاری کر دیا جائے۔‘

    جسٹس طارق جہانگیری کا کہنا تھا کہ ’جس کیس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اُس میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ اس کیس میں کوئی ایف آئی آر موجود نہیں ہے۔‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’قانون کی متعلقہ دونوں شقیں کہتی ہیں کہ ریاست کو نوٹس جاری کیا جانا ہے۔ سزا کے خلاف اپیل پر ریاست کو نوٹس ضروری ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ریاست کو نوٹس جاری کر بھی دیں تو انھوں نے آ کر کیا کرنا ہے؟‘

    وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’ریاست کے پاس فیصلے کے دفاع کا حق موجود ہے۔ ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کا دفاع کرے گی یا نہیں۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’آپ کو لگتا ہے کہ ریاست آ کر کہے گی کہ سزا غلط دی گئی؟ یہ مختصر سزا ہے اور یہ بغیر نوٹس بھی معطل ہو جاتی ہے۔‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’ایسا کوئی فیصلہ موجود نہیں ہے کہ بغیر نوٹس سزا معطل ہوئی ہو۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ کا کہنا ہے کہ تین سال تک بھی بغیر نوٹس کے ضمانت نہیں ہوسکتی نوٹس لازمی ہے؟‘

    امجد پرویز نے جواب دیا کہ ’جی بالکل ایسا ہی ہے کہ نوٹس لازمی ہے۔ مختصر سزا پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے احکامات موجود ہیں۔

    ’ایک کیس میں ملزم کو ٹرائل کے بعد ساڑھے دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ملزم نے ہائیکورٹ میں شارٹ سینٹینس کی بنیاد پر معطلی کی اپیل کی۔‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’ہائی کورٹ نے اس کی اپیل خارج کی معاملہ سپریم کورٹ گیا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمات میں بھی سزا معطل نہیں ہو سکتی۔

    ’تین سال کی سزا معطلی حق نہیں عدالت کے استحقاق پر منحصر ہے۔‘

    اس کے ساتھ اسلام ہائی کورٹ کی جانب سے سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی ہے اور الیکشن کمیشن سے دلائل جمعے کی نماز سے پہلے مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔

  3. اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ بینچ ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے: جسٹس عامر فاروق, سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNayyar Abbas/BBC

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست میں سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’ریکارڈ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو پانچ اگست کو سزا سنائی گئی اور آٹھ اگست کو فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

    ’اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے حقِ دفاع ختم کرنے کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے۔‘

    وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر رکھا ہے۔‘

    اس چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ ڈویژن بینچ ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے۔‘

    اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اس حوالے سے زیادہ وقت دینے کی استدعا کر دی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے عدالت سے تیاری کے لیے دو ہفتوں کا وقت مانگا تھا، مگر ایک دن کا وقت ملا۔ اس دوران ان کی جانب سے چھ پیچیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ’چھ سوالات تو نہیں ہیں، ابھی تو تین ہی سوالات ہیں جن کا آپ نے جواب دینا ہے۔‘

    جب الیکشن کمیشن کے وکیل نے مزید وقت دینے کی استدعات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’جس طرح کھوسہ صاحب نے گوہر صاحب یا ادھر ادھر سے چیزیں لے کر دلائل دیے۔ آپ بھی اسی طرح ادھر ادھر سے چیزیں لیکر دلائل دیں۔‘

    امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’ملزم 342 کے بیان میں کہتا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنا چاہتا ہے۔

    ’اس کا مطلب ہے کہ ملزم نے مانا کہ پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کر دیا اب دفاع میں گواہ پیش کرنے چاہییں۔ الیکشن کمیشن کے فارم بی پُر کرنے کے لیے معلومات تو ملزم نے خود دینی ہوتی ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اکاؤنٹنٹ، ٹیکس کنسلٹنٹ نے خود سے تو معلومات پر نہیں کرنی ہوتیں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو کوئی اپنے ریٹرنز فائل کرنے کا کہے تو میں تو خود نہیں کر سکتا۔ ہم اگر چہ لیگل کمیونٹی سے ہیں لیکن ٹیکس ریٹرن تو نہیں بھر سکتے۔‘

    یہ مس ڈیکلیریشن کا کیس ہے۔ یہ ٹیکس ریٹرن کا کیس ہی نہیں ہے۔‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNayyar Abbas/BBC

    امجد پرویز کا مزید کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی جیولری یا گاڑی تو ڈیکلیئر نہیں کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی ریٹرن میں چار بکریاں مسلسل ظاہر کی جاتی رہی ہیں۔‘

    اس چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’یہ عدالت اس وقت سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے۔ سزا معطلی کی درخواست پر عدالت میرٹس پر گہرائی میں نہیں جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ سوالات تو پیدا ہو گا کہ ملزم کو حقِ دفاع ہی نہیں دیا گیا۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے گواہوں کو غیرمتعلقہ قرار دیا۔

    ’گوشوارے تو اپنے کنسلٹنٹ کی مشاورت سے جمع کروائے جاتے ہیں۔ یہ تو کلائنٹ نے بتانا ہوتا ہے کہ اُس کے اثاثے کیا تھے۔‘

    امجد پرویز کا مزید کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے پاس تین سال تک کوئی جیولری یا موٹرسائیکل تک نہیں تھی۔‘

    چیف جسٹس نے جواب میں کہا کہ ’ان کے تین سوالات ہیں ایک مجسٹریٹ والا ہے، ایک دورانیے والا ہے اور ایک اتھارٹی والا ہے۔‘

    وکیل امجد پرویز کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کا سوال یہ بھی ہے کہ ان کو آخری دن سنا نہیں گیا ان کا حق دفاع بھی ختم ہوا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قانون کے مطابق اپیل سننے والی عدالت کو درخواست گزار، شکایت کنندہ اور حکومت کو بھی نوٹس کرنا ہوتا ہے۔

    ’تاریخ میں سزا کے خلاف اپیل میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حکومت کو نوٹس جاری نہ ہوئے ہوں۔‘

  4. انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت پہلی مرتبہ 300 روپے کی حد عبور کر گئی, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان جمعرات کے روز بھی جاری رہا جب ایک ڈالر کی قیمت 58 پیسہ اضافے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار انٹر بینک میں 300 روپے کی حد عبور کر گئی۔

    جمعرات کو کاروبار کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت 300.22 روپے پر بند ہوئی۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور کی اسں قیمت 316 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق برآمدات کی ادائیگیوں نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا ہے تو دوسری جانب عام افراد کی جانب سے بھی ڈالر کی خریداری دیکھی جا رہی ہے جو سرمایہ کاری کے مقصد کے لیے ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کی توقع کی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

  5. اداروں کے خلاف تقاریر اور بغاوت پر اُکسانے کا مقدمہ: ایمان مزاری اور علی وزیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا, فرحت جاوید، بی بی سی اُردو

    ایمان مزاری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاجی مظاہرے کے دوران اداروں کے خلاف تقاریر کرنے اور عوام کو بغاوت پر اُکسانے کے الزامات کے تحت درج مقدمے میں سماجی کارکن ایمان مزاری اور پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ ان دونوں افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے گذشتہ ہفتے کو درج کیے تھے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے لگوائے، تقاریر کیں اور عوام کو بغاوت پر اُکسایا۔

    جمعرات کی دوپہر ایمان مزاری اور علی وزیر کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذولقرنین کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر استغاثہ نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا اور انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کے احکامات دیے۔

    پراسیکیوٹر راجہ نوید نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی ریلی کے دوران سٹیج پر موجود ایمان مزاری کو نامعلوم شخص کی جانب سے پرچہ دیا گیا جس پر لکھی تقریر انھوں نے پڑھی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس تفتیش کرنا چاہتی ہے کہ ایمان مزاری لکھی ہوئی تقریر کس نے دی۔

    عدالت کے استفسار کر اس کیس کے تفتیشی افسر نے آگاہ کیا کہ ملزمان کی وائس میچنگ اور فوٹوگریمیٹک ٹیسٹ کروا لیے گئے ہیں۔

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ تین روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران مزید کیا پیش رفت ہوئی؟ انھوں نے ریماکس دیے کہ ’میں نے پہلے دن کہا تھا کہ بےگناہ کو بےگناہ قرار دیا جائےگا اور انصاف کیا جائے گا۔

    دلائل کے بعد عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔

    علی وزیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس فیصلے کے بعد عدالت میں موجود ایمان مزاری کی وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ آج ہی اپنی مؤکلہ کی درخواست ضمانت دائر کر کے بحث کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے مزید استدعا کی کہ ایمان مزاری ایک خاتون ہیں اس لیے ضمانت پر دلائل آج ہی سُن لیے جائیں۔

    تاہم عدالت نے قرار دیا کہ آج درخواست ضمانت پر بحث نہیں ہو سکتی جس کے بعد 26 اگست کو اس درخواست پر دلائل کے لیے نوٹسز جاری کر دیے گئے۔

    سماعت سے قبل جب ایمان مزاری کو کمرہ عدالت میں لایا گیا وہ اپنی والدہ اور تحریک انصاف کی سابق رہنما شیریں مزاری کے کافی دیر گلے لگی رہیں۔

    زینب جنجوعہ کی استدعا پر جج نے ایمان مزاری کو اپنی والدہ شیریں مزاری سے کمرہ عدالت میں ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے حکام کو کہا کہ ماں بیٹی کو ملاقات کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے۔

  6. ’عام انتخابات کی تاریخ کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے‘ صدر کے خط کا جواب

    الیکشن کمیشن نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے خط کے جواب میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 58 (1) کے تحت عام انتخابات کی تاریخ کا اختیار صرف کمیشن کے پاس ہے۔

    صدر کو لکھے گئے خط میں کمیشن نے کہا ہے کہ اس نے نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہوسکے۔

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہECP

    ’الیکشن کمیشن عام انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور اسی ضمن میں الیکٹروول روڈ میپ کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے۔‘

    ’الیکشن کی رائے ہے کہ (صدر سے) ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔‘

    خیال رہے کہ صدر نے الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا تھا۔ اس میں صدر مملکت نے جنرل الیکشن کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو مُلاقات کی دعوت دی تھی۔

  7. توشہ خانہ کیس: یہ تو نہیں ہو سکتا کہ میرے سر پر ہمیشہ تلوار لٹکی رہے، عمران خان کے وکیل کے دلائل

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    عمران خان کے وکیل کا عدالت سے درخواست کی کہ ’سیشن عدالت کے فیصلے میں خرابیاں ہی کافی ہیں کہ اس کو کالعدم قرار دے دیا جائے‘۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نہ کہا ’کیا ہائیکورٹ کے اٹھائے گئے نکات کے جوابات حتمی فیصلے میں موجود ہیں؟‘

    اس پر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’ نہیں نہیں نہیں، ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے مکمل طور پر آپ کے احکامات کو نظر انداز کیا ہے، ہم نے اپنے دفاع میں گواہان کی فہرست دی، عدالت نے گواہان کو غیر متعلقہ قرار دے دیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گواہان کی فہرست کی جانچ پڑتال کیے بغیر ہی انھوں نے فہرست مسترد کردی، معذرت کے ساتھ آپ نے بھی ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ دینے سے نہیں روکا۔ جب ہائیکورٹ میں معاملہ زیر سماعت ہو تو ہمیشہ ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ کرنے سے روکا جاتا ہے۔‘

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ ’کس بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے گواہان کی فہرست کو مسترد کیا؟‘

    اس موقعے پر ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور کا فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔

    لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا ’عدالت کے مطابق گواہان کا تعلق انکم ٹیکس معاملات سے ہے، عدالت نے کہا کہ یہ عدالت انکم ٹیکس کا معاملہ نہیں دیکھ رہی، عدالت نے کہا وکیل دفاع گواہان کو کیس سے متعلقہ ثابت کرنے میں ناکام رہے، اس بنیاد پر ٹرائل عدالت نے گواہان کی فہرست کو مسترد کیا، جج صاحب نے کہا گواہان آج عدالت میں بھی موجود نہیں، گواہ اس روز کراچی میں موجود تھے۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’گوشوارے جمع ہونے کے 120 دن کے اندر کمپلینٹ دائر کی جا سکتی ہے جبکہ یہ کمپلینٹ گوشوارے جمع ہونے کے 920 دن بعد دائر کی گئی، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ میرے سر پر ہمیشہ تلوار لٹکی رہے۔‘

  8. بریکنگ, الیکشن کمیشن کی انتخابات اور حلقہ بندیوں پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں الیکشن کمیشن آج سے سیاسی جماعتوں سے انتخابات کے انعقاد اور حلقہ بندیوں سے متعلق مشاورت کا آغاز کر رہا ہے۔

    اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کو ملاقات کے لئے دعوت نامے بھجوائے۔

    مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو لکھے گئے دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقاتیں عام انتخابات کے روڈمیپ سے متعلق ہوں گی۔

    دعوت نامے کے مطابق سیاسی جماعتوں سے حلقہ بندیوں،، الیکٹورل رولز کی اپڈیشن، عام انتخابات کے انعقاد اور شیڈول سمیت مختلف معاملات پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔

    آج الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف اور جمیعت علمائے اسلام کے وفود سے ملاقات کرے گا، جبکہ مسلم لیگ ن سے ملاقات پچیس اگست،اور پیپلز پارٹی سے 29 اگست کو کی جائے گی۔

  9. ٹرائل سیشن کورٹ ہی کرے گی، لیکن براہ راست نہیں کر سکتی: لطیف کھوسہ

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواست پر سماعتکے دوران عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے جج کے فیصلے کی خلاف ورزی کی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا اعتراض یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ درست فورم پر دائر نہیں کی گئی۔الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کی جا سکتی تھی، ہم سیشن کورٹ کی جانب سے ٹرائل کرنے کو تو چیلنج ہی نہیں کر رہے، ٹرائل سیشن کورٹ ہی کرے گی، لیکن براہ راست نہیں کر سکتی۔‘

  10. الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائر کرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں: لطیف کھوسہ کے دلائل

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا سزا معطلی کے تین گراؤنڈز ہیں۔

    ’ایک تو شارٹ سینٹینس ہے، دوسرا کیس کے عدالتی اختیار کا معاملہ ہے، سیشن عدالت براہ راست الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کا اختیار نہیں رکھتی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی دائرہ اختیار کا معاملہ پہلے نمٹایا جانا چاہیے تھا، الیکشن کمیشن کی تعریف کے مطابق الیکشن کمشن چیف اور ممبران پر مشتمل ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ اپنے کسی ملازم کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دے۔ اس کیس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن کو اختیار دیتا ہے۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ’ ٹرائل کورٹ کے مختلف فیصلوں پر ہم نظر ثانی میں آئے اور آپ نے قبول بھی کرلیے۔ آپ کے آرڈر کو دیکھتے ہوئے پھر بھی ڈیسائڈ نہیں کیا گیا۔‘

    لطیف کھوسہ کاکہنا تھا کہ ’ابھی تک کیس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ بھی ہونا ہے، الیکشن کمیشن کا سیکرٹری الیکشن کمیشن نہیں، وہ کمپلینٹ دائر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، الیکشن کمیشن چیف الیکشن کمشنر اور چار ممبران پر مشتمل ہوتا ہےآ ریکارڈ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کمپلینٹ دائر کرنے کا کوئی اجازت نامہ موجود نہیں۔‘

    اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ ریکارڈ میں موجود ہے۔ ‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اجازت سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی ہے۔‘

    لطیف کھوسہ نے مختلف عدالتوں کے فیصلے بھی پڑھ کر سنائے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائر کرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں؟

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ’ جی بالکل، وہ اجازت نامہ درست نہیں ہے، ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے آرڈر کو بھی نظر انداز کیا، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بہت غلطیاں ہیں۔‘

  11. بریکنگ, سیکرٹری الیکشن کمیشن کو شکایت فائل کرنے کا کوئی اختیار نہیں: عمران خان کے وکیل

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل سن رہے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر، شیر افضل مروت، شعیب شاہین سمیت دو درجن سے زائد وکلا عدالت پیش ہوئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز و دیگرعدالت پیش ہوئے۔

    اس موقعے پر لطیف کھوسہ نے کہا ’خواجہ حارث کی غیر موجودگی میں مجھے دلائل دینے کا کہا گیا۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کا آرڈر ہمیں ملا ہے اس میں آج کی کاروائی کا کہا ہے۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’سیشن جج نے اس عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے میرے موکل کو 3 سال کی سزا سنائی ہے۔‘

    چیرمین پی ٹی آئی کے لطیف کھوسہ نے ٹرائل کورٹ کے دائرہِ اختیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ’سیشن کورٹ ڈائرکٹ کمپلینٹ کو نہیں سن سکتی، الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ چیرمین الیکشن کمیشن اور چار ممبران کمیشن ہی شکایت دائر کرنے کا مجاز ہے، میرے موکل کے خلاف شکایت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دائر کردی ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن کو شکایت فائل کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔‘

  12. توشہ خانہ کیس:عمران خان کی سزا کی معطلی کے لیے درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت شروع

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کی معطلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران اس میں خامیوں کی نشاندہی کی۔

    سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ’ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں غلطیاں کی ہیں۔ اگر کل ہائی کورٹ میں کچھ نہ ہوا تو کل دن ایک بجے سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔‘

  13. عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں کس بنیاد پر ریلیف مل سکتا ہے اور کیا وہ گھر جا سکیں گے؟

  14. کوئٹہ میں وکیل قتل کیس: عمران خان کی گرفتاری روکنے کے حکم میں توسیع

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کوئٹہ میں وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیے جانے سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی ہے۔

    کیس کے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی بیماری کے باعث پیش نہیں ہوئے۔ مدعی مقدمہ کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

    چیف جسٹس نے اس کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل موسم گرما کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔

  15. سپریم کورٹ: رانا ثنا اللہ کی منسوخیِ ضمانت کے لیے دائر درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ نے نیب کی جانب سے سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کے لیے دائر درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

    نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی درخواست کی تھی۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی انکوائری کالعدم قرار دے چکی ہے۔

  16. صدر عارف علوی نے آئندہ عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو مدعو کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو آئندہ عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے سے متعلق اُمور پر گفت و شنید کے لیے ایوان صدر میں مدعو کیا ہے۔

    ایوان صدر سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق عارف علوی نے خط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی ہے اور کہا ہے انھوں نے نو اگست کو سابق وزیر اعظم (شہباز شریف)کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا تھا اور اب آئین کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا مرحلہ درپیش ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 48 (5) کے تحت اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے نوے دن میں عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر آج (بدھ) یا کل (جمعرات) صدر کے ساتھ اس ضمن میں ملاقات کریں تاکہ مناسب تاریخ طے کی جا سکے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPresident of Pakistan Office

  17. ٹرائل کورٹ نے حق دفاع کے بغیر توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کیسے کر دیا؟: سپریم کورٹ

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس ابھی فورمز موجود ہیں۔ ‘

    اس پر چیف جسٹس کا ان سے کہنا تھا کہ ’کیا آپ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم چیئرمین پی ٹی آئی کو بری کردیں،۔ آپ کے طرز عمل تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔‘

    اس موقعے پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریماکس دیے کہ ’اگر ملزم کوئی گواہ خود پیش نہیں کرتا تو عدالت گواہان کو طلب کرسکتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو گواہان پیش کرنے کے لیے وقت نہیں دیا گیا۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ٹرائل کورٹ نے کہا گواہان غیر متعلقہ ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ ’بادی النظر میں ٹرائل کورٹ نے ایک ہی دن میں فیصلہ دیا جو درست نہیں تھا، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بادی النظر میں خامیاں ہیں، ابھی اس معاملے میں مداخلت نہیں کررہے، کل ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، ہم پرسوں کیس سنیں گے۔ ‘

    دوران سماعت چیف جسٹس الیکشن کمیشن کے وکیل پر برہم ہوگئے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’چیرمین پی ٹی آئی کو کون سے انصاف کے مواقع دیے گئے ہیں؟ تین دفعہ کیس کال کر کے ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزا سنا کر جیل بھیج دیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو تو سنا ہی نہیں گیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بہتر ہو گا پہلے ہائی کورٹ فیصلہ کرے۔ ہائیکورٹ نے 4 اگست کے فیصلے میں توشہ خانہ کیس سے متعلق سوالات کی فہرست ٹرائل کورٹ بھیجی تھی، کیا ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے سوالات پر فیصلہ کیا، درخواست گزار کی شکایت ہے کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ کرنے کے بجائے کیس واپس ٹرائل کورٹ بھیج دیا، درخواست گزار کا کیس یہ ہے کہ غلط عدالت میں توشہ خانہ کیس بھیجا گیا۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا ’ٹرائل کورٹ نے فیصلے سے قبل تین بار ملزم کو موقع دیا تھا، ملزم کی عدم حاضری پر ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کیا۔‘

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ ’ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع کے بغیر توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کیسے کر دیا؟ ملک کی کسی بھی عدالت میں کرمنل کیس میں ملزم کو حق دفاع کے بغیر کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، توشہ خانہ کیس کے فیصلے کی اتنی جلدی کیاتھی؟‘

  18. بریکنگ, ’ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں اگر کل ہائی کورٹ میں کچھ نہ ہوا تو سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی‘

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ غلطیوں کے باوجود آج ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں غلطیاں کی ہیں۔ اگر کل ہائی کورٹ میں کچھ نہ ہوا تو کل دن ایک بجے سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔

    آج سپریم کورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ سے متعلق ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن اسلام آباد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل سے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔

    چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ ’آپ جذباتی ہونے کے بجائے قانون کے مطابق دلائل دیں، بہتر نہیں ہوگا کہ ہائی کورٹ مائینڈ پلائی کرکے فیصلہ کریں۔‘

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ’بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں۔‘

    اس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردیی گئی ہے۔

  19. آپ فیصلوں پر اعتراض اٹھائیں ہائیکورٹ پر نہیں: جسٹس مندوخیل

    آج سپریم کورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ سے متعلق ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن اسلام آباد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل سے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔

    عمران خان کے وکیل کے دلائل کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’اختیارات کے خلاف اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں، آپ اختیاراتِ سماعت کا معاملہ ہائی کورٹ لے کر گئے وہاں کیا ہوا؟‘

    سماعت کے دوران جسٹس مندوخیل کا کہنا تھا کہ آپ ہر بات پر ہائیکورٹ پر اعتراض اُٹھاتے ہیں، آپ فیصلوں پر اعتراض اٹھائیں ہائیکورٹ پر نہیں، آپ کو ہائیکورٹ کے فیصلے پسند نہیں آئے آپ ہمارے پاس آ گئے، عدالت پر اعتراض نہ اٹھائیں۔ ،

    اس موقعے پر چیف جسٹس نے کہا ’یہ بہت اہم معاملہ ہے فیصلے پبلک ہوتے ہیں ، فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور فیصلوں تک ہی رہنی چاہیے، ادارے ایسے ہی کام کر سکتے ہیں۔‘

    جسٹس مظاہر علی نقوی کا کہنا تھا ’اس کیس میں سزاکتنی ہوئی۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’ تین سال، یہ ایک سو بیس دن بنتے ہیں۔‘

    جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا ’الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ دینے کے کتنے دن بعد شکایت بھیجی۔‘

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا قانون میں دنوں کا تعین اثاثوں کے تفصیل جمع کرانے سے لکھا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریماکس دیےکہ ’342 اسمبلی ممبران پھر صوبائی ممبران سب کی تفصیل الیکشن کمیشن 120 دن میں کیسے دیکھ سکتا ہے؟ 120 دن کہاں سے شروع ہوں گے یہ دیکھنے کے لیے اپنا مائینڈ اپلائی کرنا ہو گا۔‘

    جسٹس مندوخیل نے کہا ’پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی پھر شکایت بھیجی گئی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں، اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلاوجہ کیس ایک جج سے دوسرے جج کو منتقل کرنے سے عدالتیں ڈی مورال ہوتی ہیں۔‘ سپریم کورٹ یہاں اپنےہر ایک جج کے دفاع کے لیے بیٹھی ہے۔‘ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’جج صاحب ہم نے آپ کے لیے خون دیا ہے، ‘

    چیف جسٹس نے جواب دیا ’آپ نے ہمارا ساتھ دیا آئین کی خاطر، ہم گواہ ہیں۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے وضاحت کی ’آپ نے آئین کے لیے جدوجہد کی کسی جج کے لیے نہیں۔‘

  20. توشہ خانہ کی شکایت پہلے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی: لطیف کھوسہ

    آج سپریم کورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ سے متعلق ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن اسلام آباد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل سے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس مظاہر علی نقوی کے استفسار پر ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے ضابطہ فوجداری کا سیکشن 137 اور سب سیکشن 4 پڑھ کر سنایا۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفار کیا ’اگر آپکی اپیل منظور ہوجاتی ہے تو ٹرائل کورٹ تو فیصلہ سنا چکی ہے، پھر یہ کیس کہاں جائے گا؟ ‘

    اس پر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’ہم نے قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کیا ہوا ہے۔‘

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریماکس دیے کہ ’آپ نے شکایت کی قانونی حیثت کو چینلج ہی نہیں کیا تو پھر کیا کہہ رہے ہیں؟

    اس پر لطیف کھوسہ نے کہا ’ہم نے شکایت کی قانونی حیشت کو ہی چیلنج کیا ہے۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا ’آپ کا کیس اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا کیس سن کر اب ہم کہان بھیجیں گے۔‘

    اس پر لطیف کھوسہ نے کہا ’اس ساری مشق کو سپریم کورٹکالعدم قرار دے سکتی ہے۔ فیصلے کے دن وکیل خواجہ حارث کے منشی کو بھی اغوا کرلیا تھا۔ انصاف تک رسائی کو روکا جاتا رہا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’ آپ نے درخواست کے ساتھ حقائق کی سمری لگائی ہے اس میں بتائیں، کیا آپ کہتے ہیں کہ شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی؟‘

    اس موقعے پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’موجودہ کیس یہ نہیں ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف ریفرنس بھیجا جا سکتا تھا یا نہیں، آپ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف آئے ہیں، توشہ خانہ مرکزی کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے کیا اس کو چیلنج کیا گیا؟‘

    چیف جسٹس نے پوچھا ’دائرہ اختیار کا معاملہ آپ نے چیلنج کیا تھا، اور آپ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ دوسری عدالت میں کیس زیر التوا ہے۔‘

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا ’کیا سپریم کورٹ کے یہ کیس سننے سے مرکزی کیس کا فیصلہ متاثر نہیں ہوگا، اگر آپ کی اپیل منظور ہو جاتی ہے تو ٹرائل کورٹ تو فیصلہ سنا چکی ہے، پھر یہ کیس کہاں جائے گا۔‘

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ’ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گر سکتی۔‘

    وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ’الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کوئی فوجداری کارروائی تاحکم ثانی نہیں ہوگی۔‘

    چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا ’کیا لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ ‘

    وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ’توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کریں گے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ’درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی۔‘

    وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی۔‘

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے پوچھا سیشن عدالت میں آپ کا موقف کیا ہے کہ شکایت قابل سماعت نہیں تھی؟

    اس پروکیل لطیف کھوسہ نے کہا ’ہمارا موقف ہے کہ توشہ خانہ کی شکایت پہلے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا ’آپ کے مطابق اس معاملے پر ابتدائی کاروائی مجسٹریٹ کرکے ٹرائل سیشن عدالت ہی کرسکتی ہے‘۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’قانون میں لکھا ہے کہ مجسٹریٹ شکایت کا جائزہ لے کر اسے سیشن عدالت بھیجے گا، قانون میں مجسٹریٹ کے جائزہ لینے کا مطلب کیا ہے؟‘

    وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ مجسٹریٹ جائزہ لے گا کہ شکایت بنتی بھی ہے یا نہیں ؟ قتل ہوا ہی نہ ہو تو دفعہ 302 کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی۔‘