جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر ’اتفاق‘

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کے درمیان مشاورت کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنی نامزدگی پر کہا ہے کہ ’یہ اہم ذمہ داری ہے، خاص کر جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. قران کی بے حرمتی کسی صورت قابل قبول نہیں، پاکستان کے امن کو داؤ پر نہیں لگانے دیں گے: بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو ذرداری نے کہا ہے کہ قران کی بےحرمتی کسی صورت قبول نہیں، اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور پاکستان کے امن کو کسی صورت داؤ پر نہیں لگانے دیں گے۔

    دفتر خارجہ اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں وزیر داخلہ بلاول بھٹو نے اپنے دور وزارت میں پاکستان کو درپیش چیلینجز اور بطور وفاقی وزیر اپنی اور وزارت کی کارکردگی کے حوالے سے آگاہ کیا۔

    بلاول بھٹو نے خطاب میں کہا کہ ’جیسے ہی وزارت سنبھالی تو خارجہ پالیسی دباؤ کا شکار تھی۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کے چیلنج کا سامنا تھا۔ پاکستان کو چیلنجز سے نکالنے کے لیے ڈٹ کر کام کیا۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’حنا ربانی کھر نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے دن رات کام کیا اور ہم نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے دو ایکشن پلان وقت سے پہلے مکمل کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’خوشی ہے کہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں کام کیا ہے۔ پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات کو دوبارہ بحال کیا۔ چین کے ساتھ تعلقات مسائل کا شکار تھے تاہم ہم نے سی پیک کو نہ صرف بحال کیا بکہ 10 سالہ تقریبات کا اہتمام بھی کیا۔‘

    ان کے مطابق ’بہتر خارجہ پالیسی کے باعث بیلا روس اور یوکرین کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ چین سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کا مشکل وقت میں بھرپور ساتھ دیا۔ جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان تنہا ہے دوست ممالک کی کوششیں ان کے لیے منہ توڑ جواب ہے۔‘

  2. نگران وزیراعظم کے معاملے پر کوئی ڈیڈ لاک نہیں، شہباز شریف سے آج ملاقات متوقع ہے: راجہ ریاض

    راجہ ریاض

    ،تصویر کا ذریعہ@NAOFPAKISTAN

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے کہا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے معاملے پر کسی قسم کا کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے اور ان کی اس ضمن میں وزیر اعظم شہباز شریف سے آج ملاقات متوقع ہے۔

    جیوز نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ’اسمبلی آج تحلیل ہو جائے گی جس کے بعد تین دن کا وقت ہو گا جس کے دوران ہم مل کر نگران وزیر اعظم کے لیے مشاورت کریں گے۔‘

    اس سوال پر کہ اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ قائد حزب اختلاف اور وزیر اعظم کے درمیان ایک نام پر اتفاق نہ ہو سکے، راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ’میں اور وزیر اعظم شہباز شریف کوشش کریں گے کہ ہم مل بیٹھ کر ایک نام پر اتفاق کر لیں اور معاملہ الیکشن کمیشن تک نہ پہنچے۔‘

    انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جو بھی نام اس منصب کے لیے فائنل ہو گا وہ سب کے لیے قابل قبول ہو گا۔

  3. آج اگر ایک سیاسی جماعت کے رہنما کو جیل ہوئی تو اس کی خوشی نہیں: شہباز شریف

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے ’16 ماہ میں کسی سیاسی مخالف کو نہیں جیل بھجوایا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آج اگر ایک سیاسی جماعت کے رہنما کو جیل ہوئی تو اس کی خوشی نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ مٹھائی بانٹنے یا کھانے کی بات نہیں اگر کسی نے کیا تو اچھا نہیں ہوا۔‘

    شہباز شریف نے ایک بار پھر نو مئی کے واقعات کی مذمت کی۔ انھوں نے فوج کی خدمات کو خراج تحسینِ پیش کیا۔

    انھوں نے کہا ’یہ ریاست کے خلاف بغاوت تھی۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کہ ماضی میں بھی وزرائے اعظم کو جلا وطن کیا گیا، سزائیں ہوئیں لیکن ’کیا آج تک کسی نے اس ملک کے حساس ادارے کا گملہ بھی توڑا؟ ہاں احتجاج کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج دوبارہ ایک قرار دار منظور کر کے اس بات کا اعادہ کریں تاکہ قیامت تک کوئی پاکستان کی ریاست یا فوج کے خلاف ایسا کرنے کی جرات کر سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔

  4. سول ملٹری تعلقات پر کتابیں لکھی گئیں لیکن پاکستان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش نہیں ہوئی: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے الواداعی اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’11 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی میں ہم پر جو اعتماد کیا گیا اور مخلوط حکومت وجود میں آئی، اس کے بعد 16 ماہ میں حتی المقدور کوشش کی کہ صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے آتے ہی بدترین سیلاب کا سامنا کیا۔

    ’اس کے بعد آنے والے چیلننجز اس سے کم نہیں تھے۔ مہنگائی کا طوفان جو ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا، چاروں صوبوں نے تعاون کیا، سب یکجا ہو گئے، سب نے اپنی سیاست کو قربان کیا اور ریاست کو بچایا۔‘

    شہباز شریف کا حلیف جماعتوں کے نمائندوں سے کہنا تھا کہ ’جب تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، اس وقت آپ نے سیاست یا سیاسی مفاد کا نہیں سوچا اور مشکل فیصلوں میں مدد کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ دوست ممالک نے بھی پاکستان کی مدد کی۔ انھوں نے بتایا کہ قرضوں کی مد میں چین نے بھی کافی مدد کی اور کئی ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔

    شہباز شریف نے ایک بار پھر نو مئی کا ذکر کرتے ہوئے اس دن ہونے والے واقعات کی مذمت کی۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش تھی۔ ریاست اور فوج کے خلاف سازش تھی۔ سپہ سالار عاضم منیر کے خلاف سازش تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سبق حاصل کرنا ہے کہ ایسا واقعہ آئندہ رونما نہ ہو۔ صوبوں اور وفاق کی دوریوں کو کم کرنا ہوں گی۔ ہر ایک کے نظریات مختلف ہیں لیکن سب ایک مقصد کے لیے یکجا ہو گئے۔ سب پارٹیوں نے برداشت اور تدبر کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے ہمالیہ جیسے مسائل کو حل کیا۔‘

    شہباز شریف کا کابینہ کے آخری اجلاس سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ’سول ملٹری تعلق پر کتابیں لکھی گئیں، لیکن پاکستان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش نہیں ہوئی، جو ہوئی وہ مختصر وقت کے لیے ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج پاکستان اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ بنگلہ دیش ہم سے آگے ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔‘

  5. موجودہ قومی اسمبلی کا آخری اجلاس: ’چاہتے ہیں کہ آج ہیپی اینڈنگ ہو‘

    قومی اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    قومی اسمبلی کے آخری اجلاس کے دوران سپیکر راجہ پرویز اشرف کا اراکینِ اسمبلی سے کہنا تھا کہ وہ چاہیے ہیں کہ آج ’ہیپی اینڈنگ‘ ہو۔

    بہت سے ارکان خطاب کے لیے وقت مانگ رہے تھے اور دوسروں کو خطاب مختصر کرنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ اجلاس کے دوران احتجاج کرنے والے اراکین سے سپیکر کا کہنا تھا کہ ’آج خوش خوش رہیں، مسکرائیں۔ پانچ سال گزار کر جا رہے ہیں۔ ‘

    ’عدلیہ سیاسی کردار بند کرے

    قومی اسمبلی کے آحری اجلاس سے خطاب میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی اور آنے والے اسمبلی کا سب سے بڑا ایشو معیشت کا ہو گا۔ ملک کے خود کفیل ہونے کے لیے ضروری وسائل اس ملک میں دستیاب ہیں مگر اس میں عدلیہ کا بہت بڑا کردار ہے، اگر وہ سیاسی کردار بند کر دے جو اس نے شروع کر رکھا ہے۔

    انھوں نے کہا عدلیہ کے پاس دو ہزار ارب روپے سے زائد کے کیسز ہیں اگر وہی حل ہو جائیں تو بہت مدد ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کئی کمپنیوں اور رئیل اسٹیٹ نے عدالتوں سے برسوں سے حکم امتناعی لے رکھے ہیں۔ اربوں ڈالر کے مقدمات کئی سالوں سے عدالتوں میں ہیں۔

    اس موقع پر قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ہم نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا لیکن ہم نے عمران خان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا۔ ’ہم نے ان سے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ کی پالیسیوں سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کے نو مئی کے واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

  6. بریکنگ, کوئٹہ میں دھماکہ، ایک خاتون سمیت چھ افراد زخمی

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے ایک دھماکے میں ایک خاتون سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ ذوہیب محسن نے بتایا کہ زخمیوں میں دوپولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    بم دھماکے کا واقعہ شہر کے جوائنٹ روڈ پرپیش آیا جس سے ایک ایسی ریڑھی بھی متاثر ہوئی جس پر ایک خاتون پاکستان پرچم فروخت کر رہی تھیں۔ زخمیوں میں پرچم فروخت کرنے والی خاتون بھی شامل ہیں۔

    ایس ایس پی آپریشنز نے بتایا کہ پولیس کے دو اہلکاروں کے زخمی ہونے کے علاوہ ایک رکشے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ٹارگٹ ریڑھی تھی، رکشے والا یا پولیس اہلکار تھے۔‘

    کوئٹہ میں چوبیس گھنٹے کے دوران بم حملے کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔ گذشتہ شب سریاب روڈ پر سکیورٹی اہلکاروں کی ایک چوکی پردستی بم حملے میں دوافراد زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ گذشتہ شب بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگیچر میں ایک حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    قلات میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا دونوں اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔

    ادھر بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع میں سی ٹی ڈی کی کاروائی میں تین افرادہلاک ہوئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق مارے جانے والے مبینہ طور پر شدت پسند تھے جو کہ مقابلے میں مارے گئے۔

  7. پیمرا ترمیمی بل 2023 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا

    میڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اطلاعات مریم اونگزیب نے پیمرا ترمیمی بل 2023 پیش کیا۔ اس موقعے پر قومی اسمبلی سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مِس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے بارے میں ترامیم بارہ ممالک کے قوانین سے متاثر ہو کر بنائی گئیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان پر الزام لگایا گیا کہ ’کسی کے اشارے پر کالا قانون بنایا گیا۔ میں نے کہا مجھے ترامیم تجویز کریں۔ لیکن اسے اسے میری ذات کا معاملہ بنایا گیا۔ میں نے تنقید کو برداشت کرنے کی مثال پیش کی۔‘

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’جن سے میری مشاورت ہوئی ان میں پی ایف یو جے، اور میڈیا کے نمائندہ شامل تھے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ انھوں نے اس مشاورت میں حصہ لیا تھا۔ میں کراچی پریس کل بھی گئی۔ ہماری حکومت نے میڈیا کی آزادی کی جنگ لڑی ہے۔ ‘

    انھوں نے مزید کہا کہا کہ ’مجھ پر الزام لگے کہ ہم کالا قانون لا رہے ہیں اور لوگوں کی آزادیِ رائے کو سلب کر رہے ہیں۔ بل کو پڑھے بغیر اسے متنازع بنایا گیا۔ ‘

    یاد رہے کہ اس سے پہلے مریم اورنگزیب وضاحت دے چکی ہیں کہ پیمرا ترمیمی بل پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے اور اب چیئرمین پیمرا سے پاور لے کر کاونسل آف کمپلین کو دے دی گئی ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کا فیصلہ پہلے چیئرمین پیمرا کرتے تھے۔ اب یہ تعین چیئرمین پیمرا کے ساتھ 3 رکنی کمیٹی کرے گی۔ اس بل میں صحافیوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کی شق شامل کی گئی ہے، اس بل میں پہلی ترمیم کے تحت لائسنس یافتہ صحافتی ادارے کا ہر ملازم، چاہے وہ ڈیسک پر بیٹھتا ہو، کیمرا سنبھالتا ہو یا ایڈیٹر ہو، وہ میڈیا ورکر ہی شمار کیا جائے گا۔‘

  8. اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔

    بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عمران خان کے وکلا کو ہراساں کرنے کی شکایت کی۔

    انھوں نے کہا کہ آپ بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور وکلا کے باپ ہیں، اور بطور باپ آپ پر وکلا کے تحفظ کی بھی ذمہ داری ہے۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ روز ایف آئی اے نے ایک وکیل کو آٹھ گھنٹے بٹھائے رکھا۔ اور آج خواجہ حارث کو طلب کر رکھا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پتہ چلا ہے، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر سماعت کے بعد آئیں اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔

    اس موقع پر عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ میرے اوپر بھی پرچہ کاٹ دیا گیا ہے۔

    اس موقع پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا حق دفاع ختم کیا گیا، حق دفاع ختم کرنے کی درخواست اس عدالت میںپہلے سے ہی زیر التوا ہے۔

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ حق دفاع کا معاملہ زیر التوا ہونے کے باوجود ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلہ سنا دیا۔ حقیقت یہ ہے ٹرائل کورٹ زیادہ سے زیادہ جو سزا سنا سکتی تھی وہ سنائی گئی جس میں تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ شامل ہے۔

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ عدلیہ کا مذاق بنانے کے مترادف تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہو اور فیصلہ سنا دیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جس جلد بازی میں یہ سب کچھ کیا ایسا کبھی نہیں ہوا۔

    اس موقع پر عمران خان کی لیگل ٹیم کے سربراہ خواجہ حارث نے روسڑم پر آ کر عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل چلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سات دن میں کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلے کا حکم دیا، تیسرے دن میں نے کہا میں پیر کے روز یعنی پانچویں روز دلائل دوں گا۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے سنے بغیر فیصلہ سنا دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نے کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف دو درخواستیں دائر کیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کیا جبکہ ٹرائل کورٹ نے ہمیں سماعت کا مناسب موقع دیے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا۔

    خواجہ حارث نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں ٹرائل کورٹ میں 12:15 پر پہنچ گیا تھا،جہاں مجھے بتایا گیا کہ 12:30 پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ جب جج عدالت میں آئے تو میں روسڑم پر تھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے درخواست دی مگر جج نے کہا میں فیصلہ سنانے لگا ہوں۔

    ان کا سوال کیا کہ کیا عدالت کو ہمیں سننا نہیں چاہیے تھا؟ کیا ملزم اور اس کے وکیل کے بغیر فیصلہ سنایا جاسکتا ہے؟

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’خواجہ صاحب نوٹس جاری کیا ہے جواب آ جائے تو پھر دیکھتے ہیں۔‘

    جس پر خواجہ حارث نے عدالت سے کہا کہ ’میں ایک دو گزارشات عدالت کے سامنے کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے چھ ماہ مقدمہ سننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ فیصلہ سنے بغیر دیا گیا۔

    انھوں نے عدالت سے مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل سماعت ممکن نہیں ہے، لیکن ہم کوشش کریں گے کہ اس کو جلدی مقرر کیا جائے۔ کل مجھے میڈیکل چیک اپ کے لیے جانا ہے۔‘

    جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہ ہو دیگر کیسز میں ضمانت خارج ہو جائے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک میں آپ گرفتار ہوں تو دوسرے میں بھی گرفتاری ہو جائے، آصف زرداری کیس میں ہم یہ طے کر چکے ہیں۔

  9. وکیل قتل کیس میں عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار، بینچ اور شکایت کنندہ کے وکیل میں تلخ جملوں کا تبادلہ, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کوئٹہ کے ایک وکیل کے مقدمۂ قتل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔

    بدھ کو درخواستِ ضمانت کی سماعت کے دوران بینچ میں شامل ججوں سے تلخ کلامی کے بعد عدالت نے شکایت کنندہ کے وکیل امان اللہ کنرانی کو تحریری معافی نامہ جمع کروانے کا حکم بھی دیا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ان کے وکیلوں کو ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیا جارہا ہے۔ اس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے دوسرا کیس نہیں صرف کوئٹہ وکیل قتل کیس ہے اس پر دلائل دیں۔

    دوران سماعت شکایت کنندہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے بینچ کے دو اراکین جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اظہر رضوی پر اعتراض کرتے ہوئے ان پر جانبداری کے الزامات عائد کیے۔ امان اللہ کنزانی نے مقدمے میرٹ پر نہ سننے کا الزام عائد کیا تو ججز نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اس دوران امان اللہ کنرانی اور ججوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

    اس تلخ کلامی کے بعد بینچ کے سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے امان اللہ کنرانی سےکہا کہ ’اگر آپ کو ججز پر کوئی اعتراض تھا تو تحریری طور پر جمع کروانا چاہیے تھا، آپ کو روسٹرم پر آ کر ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے تھیں‘۔

    اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ’آپ نے جو الزامات لگائے اس کا جواب دینا ہو گا، ہم کمزور نہیں ہیں‘۔ اس پر امان اللہ کنرانی اور جسٹس نقوی کے درمیان پھر تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد جسٹس نقوی نے وکیل سے کہا کہ وہ فوری طور پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگیں۔

    امان اللہ کنرانی نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’آپ جج بنیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر پارٹی بنیں گے تو میں بولوں گا۔ پارٹی بننا ہے تو کرسی سے اتر جائیں۔‘

    بینچ کے سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے امان اللہ کنرانی کی جانب سے مانگی گئی زبانی معافی پر دونوں ججز سے استفسار کیا تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے تو کہا کہ الزامات واپس لینے پر وہ معافی قبول کر سکتے ہیں جبکہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ’ابسلیوٹلی ناٹ‘۔

    اس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل امان اللہ کنرانی کو تحریری معافی نامہ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئیعمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار رہے گا۔ بینچ نے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی۔

  10. بریکنگ, اٹک جیل عملے سے ہاتھا پائی کا معاملہ: عمران خان کے دو وکلا کے خلاف مقدمہ درج

    اٹک جیل

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قانونی ٹیم کے دو وکلا کے خلاف اٹک جیل کے عملے سے ہاتھا پائی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    عمران خان کے وکلا کے خلاف مقدمہ تھانہ سٹی اٹک میں ڈپٹی سپرانٹینڈنٹ افضال احمد وڑائچ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    ایف آئی ار میں کہا گیا ہے کہ دونوں وکلا جیل لاک اپ ہونے کے بعد چئیرمین پی ٹی آئی عمران خانسے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ جیل چوکی پر عملے نے وکلا کو جیل لاک اپ ہونے کا بتایا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس پر وکلاء مشتعل ہو گئے اور انھوں نے جیل عملے سے ہاتھا پائی شروع کر دی۔ درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے وکلا شیر افضل خان، عمیر خان نیازی نے ہیڈ وارنٹ ابرار خان کی یونیفارم بھی پھاڑ ڈالی۔ دونوں وکلا کے خلاف درج مقدمے میں سنگین دھمکیاں دینے سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔

  11. بریکنگ, عمران خان کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر وفاقی و صوبائی حکومت سے جواب طلب

    Attock Jail

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB PRISIONS

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے نمائندگان سے جمعہ تک جواب طلب کرتے ہوئے پیٹیشن پر سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

    بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی اور جیل میں سہولیات کی فراہمی کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ایک چیز خیال رکھیں قانون کی خلاف ورزی نا ہو، جو قانون میں ہے وہ آپ کو ضرور دیں گے۔

    سماعت کے آغاز پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق منگل کے روز اٹک جیل گئے لیکن انھوں نے ہمیں اجازت نہیں دی۔

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جیل میں ملاقات کا کوئی وقت ہوتا ہے؟

    اس پر وکیل شیر افضل مروت نے بتایا کہ جیل میں چھ بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے۔

    شیر افضل مروت نے سماعت کے دوران بتایا کہ توشہ خانہ کے مقدمے کا فیصلہ سنانے والے جج ہمایوں دلاور کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی پوسٹ پر گذشتہ روز پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے رکن نعیم حیدر کو ایف آئی اے میں تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا تھا اور آج عمران خان کی لیگل ٹیم کے سربراہ خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میرے علم میں آیا ہے تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا، میں ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر اس کو دیکھوں گا۔

    عمران خان کو جیل میں سہولیات فراہمی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے عمران خان کے وکیل کو کہا کہ ایک چیز خیال رکھیں قانون کی خلاف ورزی نا ہو، جو قانون میں ہے وہ آپ کو ضرور دیں گے۔ جو قانون میں نہیں ہے وہ نہیں ملے گا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں چونکہ اپنی جیل نہیں ہے اس لیے اسلام آباد کے قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو بیرک میں رکھنے کی بجائے سیل میں رکھا ہے اور سیل کی حالت کافی خراب ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ شب ہونے والی بارش کا پانی اس سیل میں موجود تھا جہاں پر ملک کا سابق وزیر اعظم قید ہے۔

    اس موقع پر وکیل شیر افضل نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جو لسٹ دی ہے اس کے مطابق اگر عدالت آرڈر کر دے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لسٹ کے مطابق آرڈر کر دوں گا لیکن سیاسی اجتماع نا بنائیے گا۔

    اس پر شیر افضل نے کہا کہ فہرست کے مطابق سارے لوگ ایک ساتھ چیئرمین عمران خان سے ملاقات کرنے نہیں جائیں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پچاس لوگوں کا سیاسی اجتماع نا بن جائے۔

    چیف جسٹس نے عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ نہیں بلکہ کسی اور جیل میں بھیجنا ہے یہ فیصلہ کون کرے گا؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ میاں نواز شریف نے استدعا کی تھی اور وہ کوٹ لکھ پت جیل چلے گئے تھے۔

    جس پر عمران خان کے وکیل شیر افضل نے کہا کہ عدالت نے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس عمل کے پیچھے کوئی بدنیتی تو نہیں ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجرم سےان کے وکلا کی ملاقات سے متعلق آرڈر کریں گے جبکہ عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کا معاملہ جمعہ تک ملتوی کرتے ہیں۔

    انھوں نے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے نمائندگان سے جمعہ تک اس سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے چیرمین پی ٹی آئی عمران خانکو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی پیٹیشن پر سماعت 11 اگستتک ملتوی کر دی ہے۔

  12. بلوچستان اسمبلی نے ’صوبے کی آبادی کم کرنے‘ کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    census

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان اسمبلی نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بلوچستان کی آبادی کم کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے۔

    مذمتی قرارداد مشترکہ طور پر بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں لائی گئی تھی۔ اجلاس کی صدارت سپیکر میر جان محمد نے کی۔

    قرارداد کو اجلاس میں پیش کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر زراعت اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ اسد بلوچ نے کہا کہ یہ ایوان بلوچستان کی آبادی کو کم کرنے کے مشترکہ مفادات کونسل کے ظالمانہ فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2017 میں بلوچستان کی صحیح مردم شماری نہیں ہو سکی تھی لیکن اب جب ڈیجیٹل مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں اضافہ ہوا تو وفاقی حکومت نے اس میں کمی کی۔

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی دو کروڑ 35 لاکھ کی آبادی کو برقرار رکھے۔

    قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’70 لاکھ آبادی کم کرنا بلوچستان کے خلاف ایک سازش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس سے بلوچستان کی نشستوں میں اضافہ نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی وسائل کی تقسیم میں اس کے حصے میں بہتری آئے گی۔

    پشتنونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے نے اپنا نام بغیر اجازت قرارداد میں شامل کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے خلاف علامتی واک آوٹ کیا۔

    منگل کی شب دیر تک جاری رہنے والے اجلاس میں بحث مباحثے کے بعد بلوچستان کی آبادی میں کمی سے متعلق قرارداد منظور کر لی گئی۔ بلوچستان اسمبلی نے باجوڑ میں بم دھماکے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کر لی۔

  13. بریکنگ, الیکشن کمیشن نے عمران خان کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیا

    election

    ،تصویر کا ذریعہECP

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ملنے کے بعد پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اب سے کچھ دیر قبل جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو سنیچر کے روز توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشنز عدالت سے تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا تھا جس کے بعد انھیں آئین کے آرٹیکل 63 1 ایچ جسے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 232 کے تحت نا اہل قرار دیا جاتا ہے اور اب وہ پانچ سال کے لیے نااہل ہو چکے ہیں اور قومی اسمبلی کی نشست این اے 45 کرم 1 سے بھی انھیں ڈی نوٹیفائی کیا جاتا ہے۔

    نااہلی کے بعد عمران خان اب نہ تو الیکشن میں حصہ لے سکیں گے اور نہ تحریکِ انصاف کی سربراہی کر سکیں گے۔

  14. عنقریب پیپلز پارٹی کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے: بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن ہر وقت الیکشن کے لیے تیار ہوتے ہیں عنقریب پیپلز پارٹی کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے۔

    سکھر میں ایس آئی یو ٹی کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ ’سیاسی کارکنوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ سب ہر وقت الیکشن کے لیے تیار ہوتے ہیں ۔میں دو تین دن بعد ہی آپ کے پاس آوں گا اور ہم مل کر الیکشن مہم چلائیں گے۔‘

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت سے جیسے ہی فری ہوں گے تو وہ عوام کے درمیان ہوں گے۔

    ’ سب مل کر محنت اور جدوجہد کریں گے اور بے نظیر بھٹو کے مشن کو ساتھ مل کر مکمل کریں گے۔‘

  15. بریکنگ, پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس: عمران خان کو تاحیات چیئرمین کا منصب دینے کی منظوری،سی سی آئی کے فیصلوں کو چیلینج کرنے کا اعلان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFaceBook/ ImranKhan

    پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے پارٹی چیئرمین کا منصب تاحیات عمران خان کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    کور کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق ’چیئرمین عمران خان کی منظوری سے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں اور بنیادی حقوق اور شخصی آزادیوں کے تحفظ کے لیے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔‘

    اعلامیہ کے مطابق ’اجلاس میں انتخابات کو التواء کا شکار کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور قانونی و سیاسی مزاحمت پر اتفاق کیا گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کے بہرصورت 90 روزہ آئینی مدت ہی میں انعقاد کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ‘

    کور کمیٹی نے ’بلّے‘ کے انتخابی نشان نہ دیے جانے کی ہر کوشش کی بھی بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انتخابی انشان بطور جماعت ہمارا حق ہے، اس کو سلب کرنے کی قابلِ مذمّت کوشش کی گئی تو ہر ممکن قانونی و سیاسی طریقے سے چیلنج کریں گے۔

    چیئرمین عمران خان کی منظوری سے تحریک انصاف کا مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کو عدالتِ عظمیٰ کے روبرو چیلنج کرنے کا بھی اعلان’چیئرمین عمران خان کی جیل سے بھجوائی گئی خصوصی ہدایات کی روشنی میں یومِ آزادی کو بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘

  16. بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف عمران خان کی اپیل پر سماعت کل ہو گی, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہImran Khan/Face Book

    توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ہے اور اس اپیل پر اب کل سماعت ہو گی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ عمران خان کی اپیل پر سماعت کرے گا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری اس بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ دو رکنی بینچ بدھ کے روز اس اپیل کی سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے ان کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج دلاور ہمایوں کی جانب سے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ چیلنج کیا تھاجس میں توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں اپیل کے حتمی فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے اور درخواست گزار یعنی عمران خان کو ضمانت پر رہائی دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

  17. آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے اقتدار نگران حکومت کے حوالے کر دیں گے: شہباز شریف

    شہباز شریف کا دورہ جی ایچ کیو

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کل ہماری حکومت کا آخری دن ہے اور ہماری مدت پوری ہو جائے گی ۔ آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے اقتدار نگران حکومت کے حوالے کر دیں گے۔

    یہ بات انھوں نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں شہدا کے اہل خانہ کے اعزاز میں منعقد تتریب میں خطاب کے دوران کہی۔

    انھوں نے کہا کہ میں سپہ سالارجنرل عاصم منیر اور ان کی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں جنھوں نے منصب سنبھالتے ہی پاکستان کو آگے بڑھانے کا منصوبہ سامنے رکھا ۔

    شہباز شریف نے کہا کہ جانے سے پہلے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا جامع پروگرام بنایا ہے جس کے لیے گزشتہ کئی ماہ میں بے تحاشہ کوششیں کی گئیں۔

    شہباز شریف کے مطابق گزشتہ روز حتمی میٹنگ میں زراعت کو فروغ دینے، معدنیات کے ذخائر کو استعمال میں لانے کے منصوبے بھی ترتیب دیے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔

    شہباز شریف کے مطابق دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کا رلانے کے لیے ان میں مزید اضافے کا عزم بھی ہے۔ ہمیں دن رات محنت کرنا ہو گی تاکہ ان مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔

  18. عمران خان کی اٹک جیل میں حراست کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اعتراضات دور: ’ کل نمبر لگنے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر ہو گی‘, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اٹک جیل میں حراست کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعتراضات دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس درخواست پر بدھ کے روز نمبر لگنے کے بعد یہ دوبارہ سماعت کے لیے مقرر ہو گی۔

    دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر ڈوگر نے ریمارکس میں کہا کہ یہ ذہن میں رکھیں کہ جیلوں کے رولز میں جو سہولت دی گئی ہے، عدالت وہی آرڈر کرے گی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں یہ استدعا بھی کی گئی تھی کہ عمران خان کو جیل میں اے کلاس کی سہولیات دینے اور ان کا طبی معائنہ ڈاکٹر فیصل سے کروانے اور ان کی ملاقات ان کی اہلیہ اور دیگر وکلا سے کروانے کی درخواست کی گئی تھی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اٹک جیل میں حراست کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔

    عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل شیرافضل مروت عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور ان کی طرف سے دیا گیا پاور آف اٹارنی عدالت کے سامنے پیش کیا۔

    وکیل شیر افضل مروت نے دلائل میں کہا کہ جیلوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’جو قانون قاعدہ ہو گا بتا دیجئے گا اس کے مطابق آرڈر کر دوں گا۔‘

    عمران خان کے وکیل نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ان کی اہلیہ اور ان کے وکلاء کو ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا بھی کی جس پر عیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جو وکلا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملنا چاہتے ہیں ان میں سے دو تین نام بھی بتا دیں، اسی لحاظ سے آرڈر کر دیں گے۔

  19. بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف عمران خان کی اپیل سماعت کے لیے منظور, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہImranKhan/face Book

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اعتراضات ختم ہونے کے بعد نمبر لگا دیا گیا۔

    عمران خان کی جانب سے کل یعنی بدھ کے روز اپیل پر سماعت مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج دلاور ہمایوں کی جانب سے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ چیلنج کیا تھا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل میں توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں اپیل کے حتمی فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے اور درخواست گزار یعنی عمران خان کو ضمانت پر رہائی دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

  20. توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل دائر، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا

    توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے چنانچہ اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردہ اپیل پر فیصلے تک سابق وزیراعظم کی سزا معطل کر کے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔