پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے
خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری
کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمر فاروق کی
سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر
دیے ہیں۔
سماعت کے آغاز پر چیئرمین
پی ٹی آئی عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عمران خان
کے وکلا کو ہراساں کرنے کی شکایت کی۔
انھوں
نے کہا کہ آپ بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور وکلا کے باپ ہیں، اور بطور
باپ آپ پر وکلا کے تحفظ کی بھی ذمہ داری ہے۔
لطیف
کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ روز ایف آئی اے نے ایک
وکیل کو آٹھ گھنٹے بٹھائے رکھا۔ اور آج خواجہ حارث کو طلب کر رکھا ہے۔
جس
پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پتہ چلا ہے، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر سماعت کے بعد آئیں اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔
اس
موقع پر عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ میرے اوپر
بھی پرچہ کاٹ دیا گیا ہے۔
اس
موقع پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا حق دفاع ختم کیا گیا،
حق دفاع ختم کرنے کی درخواست اس عدالت میںپہلے سے ہی زیر التوا ہے۔
لطیف
کھوسہ کا کہنا تھا کہ حق دفاع کا معاملہ زیر التوا ہونے کے باوجود ایڈیشنل سیشن جج
نے فیصلہ سنا دیا۔ حقیقت یہ ہے ٹرائل کورٹ زیادہ سے زیادہ جو سزا سنا سکتی تھی وہ
سنائی گئی جس میں تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ شامل ہے۔
لطیف
کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ عدلیہ کا مذاق بنانے کے مترادف تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ
معاملہ ہائی کورٹ میں ہو اور فیصلہ سنا دیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جس
جلد بازی میں یہ سب کچھ کیا ایسا کبھی نہیں ہوا۔
اس
موقع پر عمران خان کی لیگل ٹیم کے سربراہ خواجہ حارث نے روسڑم پر آ کر عدالت کو
بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل چلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام
آباد ہائیکورٹ نے سات دن میں کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلے کا حکم دیا، تیسرے دن میں نے کہا میں پیر کے روز یعنی پانچویں
روز دلائل دوں گا۔
خواجہ
حارث کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے سنے بغیر فیصلہ سنا دیا۔
انھوں
نے کہا کہ ہم نے کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف دو درخواستیں دائر کیں، اسلام
آباد ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کیا جبکہ ٹرائل کورٹ نے ہمیں
سماعت کا مناسب موقع دیے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا۔
خواجہ
حارث نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں ٹرائل کورٹ میں 12:15 پر پہنچ گیا
تھا،جہاں مجھے بتایا گیا کہ 12:30 پر فیصلہ
سنایا جائے گا۔ جب جج عدالت میں آئے تو میں روسڑم پر تھا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میں
نے درخواست دی مگر جج نے کہا میں فیصلہ سنانے لگا ہوں۔
ان
کا سوال کیا کہ کیا عدالت کو ہمیں سننا نہیں چاہیے تھا؟ کیا ملزم اور اس کے وکیل
کے بغیر فیصلہ سنایا جاسکتا ہے؟
اس
پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’خواجہ صاحب نوٹس جاری کیا ہے جواب آ جائے تو پھر دیکھتے ہیں۔‘
جس
پر خواجہ حارث نے عدالت سے کہا کہ ’میں ایک دو گزارشات عدالت کے سامنے کرنا چاہتا
ہوں۔ آپ نے چھ ماہ مقدمہ سننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ فیصلہ سنے بغیر دیا گیا۔
انھوں
نے عدالت سے مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس
نے ریمارکس دیے کہ کل سماعت ممکن نہیں ہے، لیکن ہم کوشش کریں گے کہ اس کو جلدی
مقرر کیا جائے۔ کل مجھے میڈیکل چیک اپ کے لیے جانا ہے۔‘
جس
پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہ ہو دیگر کیسز میں ضمانت خارج ہو جائے تو چیف جسٹس
نے ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک میں آپ گرفتار ہوں تو دوسرے میں بھی
گرفتاری ہو جائے، آصف زرداری کیس میں ہم یہ طے کر چکے ہیں۔