جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر ’اتفاق‘
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کے درمیان مشاورت کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنی نامزدگی پر کہا ہے کہ ’یہ اہم ذمہ داری ہے، خاص کر جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے۔‘
لائیو کوریج
’ملک کی قیادت کے لیے اعتماد کرنے پر تمام سٹیک ہولڈرز کا شکر گزار ہوں: نامزد نگران وزیر اعظم

،تصویر کا ذریعہTwitter
پاکستان کے نامزد نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ وہ ملک کی قیادت کے لیے اعتماد کرنے پر تمام سٹیک ہولڈرز کے شکر گزار ہیں۔
ٹوئٹرپر اپنے پیغام میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ’اللہ کا شکر گزار ہوں کہ مجھے پاکستانی عوام کی خدمت کا موقع ملا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے ملک کی قیادت کے لیے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا۔‘
واضح رہے کہ سنیچر کے روز سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو پاکستان کا آٹھواں نگران اعظم تعینات کیا گیا ہے اور ان کا تعلق بلوچستان کے پشتونوں کے معروف کاکڑ قبیلے سے ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھا کہ ’سب سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔‘
یاد رہے کہ انوارالحق کاکڑ 2018ء میں بلوچستان عوامی پارٹی سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ وہ بلوچستان سے بننے والے دوسرے نگراں وزیراعظم ہیں۔
اس سے قبل بلوچستان ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس میرہزارخان کھوسہ بلوچستان نگراں وزیراعظم رہے۔
بریکنگ, بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کر دی گئی
گورنربلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کر دیے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ کو ارسال کردی ہے۔
امید ہے کہ نگران وزیراعظم عوام کےآئینی وجمہوری حقوق پر مزید آنچ نہیں آنے دیں گے: پاکستان تحریک انصاف
پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ نگران وزیر اعظم کی نامزدگی کے معاملے پر وزیر اعظم کی جانب سے کسی بھی سطح پر ان کی جماعت سے مشاورت نہیں کی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمان کے اندر اور باہر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔
نگران وزیر اعظم کی تعیناتی پر ان کا کہنا تھا کہ ’سینیٹر انوارلحق کاکڑ کی نامزدگی کٹھ پتلی وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے جعلی قائد کے مابین مشاورت سے عمل میں لائی گئی ہے۔‘
’اب جبکہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ بطور نگران وزیراعظم نامزد ہوچکے ہیں تو ان پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ توقع ہے کہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ بطور نگران وزیراعظم منصب سنبھالنے کے بعد تین ماہ کی آئینی مدت کے اندر انتخابات کا منصفانہ اور شفاف انعقاد یقینی بنائیں گے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’امید ہے کہ نگران وزیراعظم عوام کےآئینی وجمہوری حقوق پرمزید کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو منصفانہ ماحول میں انتخابی مہم چلانے کے مواقع میسر کرنا نگران حکومت کے بنیادی فرائض میں سے ایک ہے۔ ‘
پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے چئیرمین و سابق وزیراعظم عمران خان قید اور بدترین سنسرشپ کے نشانے پر ہیں۔ چنانچہ نگران وزیراعظم کوان معاملات کا فوری نوٹس لینا ہو گا۔‘
انھوں نے نگران وزیر اعظم سے آئین و قانون کی رُوح کے مطابق انتخابات کے مؤثر انعقاد کے لیے ماحول ترجیحی بنیادوں پر ساز گار کرنے کی اپیل کی۔
صدرعارف علوی نے انوار الحق کاکڑ کی بطور نگران وزیراعظم تعیناتی کی منظوری دے دی
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انوار الحق کاکڑ کی بطور نگران وزیراعظم تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس منظور کی خبر ٹویٹ کی گئی جس میں صدر کو نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی کے لیے منظوری پر دستخط کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
صدر مملکت نے تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت کی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, نگراں وزیر اعظم کے لیے انوار الحق کاکڑ کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابقہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ نگراں وزیر اعظم کے لیے انوار الحق کاکڑ کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انوار الحق کاکڑ کا نام انھوں نے دیا تھا جس پر وزیر اعظم نے اتفاق کر لیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ کل تک اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔
وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے ایڈوائس صدر پاکستان کو بھجوا دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPMO
پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس میں جماعت کو تفصیلی جواب جمع کروانے کی اجازت
پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ ضبطگی کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حکم نامے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو انصاف کے تقاضے کے تحت تفصیلی جواب جمع کرانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
الیکنش کمیشن کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی 50 ہزار روپے الیکشن کمیشن ڈپٹی ڈائریکٹر لا کے دفتر میں جمع کرائیں، یہ رقم یتیم خانے کو دے دی جائے گی۔‘
الیکشن کمیشن کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی 22 اگست کو شو کاز نوٹس کا حتمی جواب جمع کرائے ، حتمی جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں الیکشن کمیشن کیس کو نمٹانے دے گا۔‘
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حتمی فیصلہ جاری کر دے گ‘۔ یہ حکم نامہ چیف الیکشن کمشنر کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔
الیکنش کمیشن کا کہنا ہے کہ ’جوابدہ کیس کو طوالت دینے تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔‘
’ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوئے‘
یاد رہے کہ گذشتہ سال اگست میں ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا کہ کیوں نہ یہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
ممنوعہ فنڈنگ کا یہ کیس سنہ 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت تھا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے کمیشن کے سامنے صرف آٹھ اکاؤنٹس کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے جبکہ اس نے 13 اکاؤنٹس کو نامعلوم قرار دیتے ہوئے اظہارِ لاتعلقی کیا۔
کمیشن کے مطابق سٹیٹ بینک سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی کا اظہار کیا وہ پی ٹی آئی کی سینیئر صوبائی اور مرکزی قیادت اور عہدیداروں نے کھولے اور چلائے تھے۔یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے سینیئر پارٹی قیادت کے زیرِ انتظام تین مزید اکاؤنٹس کو چھپایا۔ کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے ان 16 بینک اکاؤنٹس کو چھپانا آئین کی شق 17 (3) کی خلاف ورزی ہے۔
اس فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ نے سنہ 2008 سے سنہ 2013 تک کے لیے جو فارم ون جمع کروایا تھا، وہ کمیشن کی جانب سے سٹیٹ بینک سے حاصل کردہ ڈیٹا اور دیگر ریکارڈ کی بنا پر بے انتہا غلطیوں کا حامل ہے، چنانچہ کمیشن پارٹی کو نوٹس جاری کر رہا ہے کہ کیوں نہ یہ ممنوعہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کو اٹک جیل میں ملاقاتوں کی اجازت، طبی سہولیات دینے کا حکم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹک جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو قوانین کے مطابق تمام سہولیات دینے کا حکم کیا ہے۔
عمران خان کے وکلا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جیل حکام سے آئندہ ہفتے تک چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی وجوہات سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔
گذشتہ سماعت کے تحریری حکم نامے میں عدالت نے کہا ہے کہ یہ بتایا جائے کن وجوہات کی بنیاد پر عمران خان کو اٹک جیل میں رکھا گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو گھر کا کھانا دیا جاسکتا ہے یا نہیں، اس پر آئندہ سماعت پر معاونت طلب کی گئی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا کچھ ریکارڈ پر نہیں جو قیدی کو ہفتے میں ایک سے زائد بار ملاقات سے روکے۔ جیل رولز کے مطابق جیل حکام عمران خان کی ان کے دوست، رشتہ داروں اور وکلا سے ملاقات کروائیں۔‘
عدالت نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو جائے نماز اور انگلش ترجمے کے ساتھ قرآن مجید اور انھیں مناسب طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کو اٹک جیل میں رکھا گیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی معاملات سے متعلق رپورٹ آئندہ سماعت تک طلب کی گئی ہے۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ جیل میں ملاقات کے اوقات 8 سے 2 بجے تک ہیں، 3 بجے تک بھی ملنے دیا جاسکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق ملاقات سوموار سے ہفتے کے روز تک مقررہ اوقات میں کی جاسکتی ہے جبکہ مقررہ اوقات کے بعد ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اس میں لکھا ہے کہ ’عدالت کو بتایا گیا کہ قیدی سے روزانہ کی بنیاد پر ملاقات میں قانونی طور پر کوئی قدغن نہیں۔ تاہم روزانہ کی بنیاد پر ملاقات سپریٹنڈٹ جیل کی اجازت سے مشروط ہوتی ہے۔‘
حکمنامے میں عمران خان کے وکلا کے حوالے سے لکھا گیا کہ اٹک جیل میں بی کلاس سہولیات موجود ہی نہیں ہیں اور سابق وزیر اعظم کو یہاں رکھنے کا مقصد بی کلاس سہولیات مہیا نہ کرنا ہے۔ تاہم ’ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق عمران خان کو وہ تمام سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں جس کے وہ قانونی طور پر حقدار ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق ان کو کھانا جیل مینیو کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد دیا جاتا ہے۔
عدالت نے درخواست کو آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل کا تحریری حکم نامہ جاری،سزا معطلی کی درخواست جلد مقرر کرنے کی ہدایت, سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر نو اگست کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپیل ٹرائل کورٹ کے 5 اگست کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی شکایت پر ٹرائل چلایا گیا اور عدالت نے عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
حکم نامے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سزا کے خلاف اپیل اور سزا معطلی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے۔
عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت کا حکم بھی دیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبائی اسمبلی تحلیل کیے جانے کی سمری پر دستخط کر دیے, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہGOB
وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبائی اسمبلی تحلیل کیے جانے کی سمری پردستخط کردیے ہیں اور گورنربلوچستان کے دستخط کرنے کے بعد موجودہ اسمبلی تحلیل ہوجائے گی۔
بلوچستان کے ایک سینیئرسرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ کے دستخط کے بعد اب سمری آج ہی گورنربلوچستان کو بھیجی جائے گی جس پردستخط کرنے کے بعد موجودہ اسمبلی تحلیل ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ 12اگست موجودہ بلوچستان اسمبلی کا آخری دن ہے۔
اس سے قبل نو اگست کی رات تقریبا 12 بجے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کیے تھے جس کے بعد قومی اسمبلی اور وزیر اعظم کی کابینہ تحلیل ہو گئی تھی۔
گزشتہ روز گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے دستخط کے بعد صوبہ سندھ کی اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی جبکہ پنجاب اور خیبرپختون حوا میں پہلے ہی نگران حکومتیں قائم ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے اپنے ایک ٹویٹ میں تمام ایم پی ایز، اتحادی جماعتوں، اپوزیشن اراکین اوربیوروکریسی کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ ’ہم نے ایک ساتھ مل کر حقیقی جمہوری جذبے کی مثال دیتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کیا۔‘
بلوچستان اسمبلی کے سٹیٹ آفیسر کی جانب سے اراکین کو واجبات اور ایم پی ایز لاجزکو خالی کرنے کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔
سٹیٹ آفیسرزنے ایم اپی ایزلاجز میں فلیٹ کی سہولت رکھنے والے اراکین سے کہا ہے کہ وہ 12اگست سے پہلے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اوراسمبلی کی تحلیل کے بعد اراکین 15دن کے اندر فلیٹس کو خالی کرنے کا اہتمام کریں۔
کسان بھائی، فوجی بھائی: محمد حنیف کا کالم
سپریم کورٹ میں احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت 15 اگست کو ہو گی

،تصویر کا ذریعہAFP
سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو گئی ہے اور چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 15اگست کو سماعت کرے گا۔
احسن اقبال کے خلاف عدالتی بینچ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست 2 مٸی 2018 کو دائر کی گئی تھی۔
درخواست میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
درخواست میں احسن اقبال کو آئین کے آرٹیکل 63،62 کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
رجسٹرار سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین کو سماعت کے حوالے سے نوٹسسز بھی جاری کردیے ہیں۔
امید ہے کہ نگران وزیراعظم کے نام کا فیصلہ آج (سنیچر کو) ہو جائے گا: وزیراعظم شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہAPP
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئینی طور پر نگران وزیراعظم کی تقرری کے لیے آئین نے آٹھ دن مقرر کر رکھے ہیں، امید ہے کہ نگران وزیراعظم کے نام کا فیصلہ آج (سنیچر کو) ہو جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ الوداعی بات چیت میں کہا کہ وہ نگران وزیر اعظم کی تعیناتی پر اتحادی جماعتوں کے سربراہوں سے بھی ملاقات کریں گے جس کے بعد حتمی فیصلے کے لیے اپوزیشن لیڈر راجا ریاض سے بھی ملاقات ہو گی۔
صدر عارف علوی کی جانب سے انھیں اور قائد خزب اختلاف کو 12 اگست تک نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنے کے لیے لکھے گئے خط سے متعلق سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ اس معاملے پر آئین میں طریقہ کار بالکل واضح ہے جس کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کے روز صدر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف اور تحلیل شدہ قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف راجا ریاض احمد کو سنیچر کے روز نگران وزیراعظم کا نام دینے کے لیے خط لکھا تھا۔
صدر مملکت نے لکھا تھا کہ انھوں نے وزیراعظم کی تجویز منظور کرتے ہوئے 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی، وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف 12 اگست تک موزوں نگران وزیر اعظم کا نام تجویز کریں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ کسی بھی ایک نام پر اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کی صورت میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا جائے گا جس کو آئین کے مطابق تین دن کے اندر فیصلہ کرنا ہو گا۔
پارلیمانی کمیٹی کی سطح پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا جسے دو دن میں حتمی فیصلہ کرنا ہو گا۔
شہباز شریف نے اپنے دور حکومت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ بطور وزیراعظم دور حکومت کے 16 ماہ ان کے 38 سالہ سیاسی کیریئر میں سب سے مشکل وقت تھا تاہم تمام شراکت داروں کےساتھ مل کر چیلینجز پر قابو پایا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے 14 نگراں صوبائی وزرا کے استعفے قبول کر لیے, عزیزاللہ خان بی بی سی اردو پشاور
گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے 14 نگراں صوبائی وزرا اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے 11 معاونین اور مشیروں کے استعفے منظور کرتے ہوئے اس ضمن میں نوٹیفیکیشن جاری کر دیے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 31 جولائی کو الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ اعظم خان کو نگراں کابینہ کے ان ممبران عہدوں سے ہٹانے کی ہدایت کی تھی جو مبینہ طور پر سیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ چند وزرا، مشیراور معاونین خصوصی کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تعینات کیا ہے چنانچہ سیاست میں ملوث وزرا، معاونیناورمشیروں کو فوری ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔
خط میں قرار دیا گیا تھا کہ بعض وزرا، مشیروں اور معاونین خصوصی کا رویہ نگران حکومت کے آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ نگران وزیراعلیٰ اپنی کابینہ کی تعداد کو کم سے کم رکھیں۔
اس سے قبل الیکشن کمیشن نے نگران صوبائی وزیر شاہد خٹک کی عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے جلسے میں شرکت اور خطاب پر نوٹس بھی لیا تھا جس کے بعد انھیں وزارت سے ہٹانےکا حکم دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہتحریک انصاف کی جانب سے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد21 جنوری 2023 کواعظم خان کونگرانوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تعینات کیا گیا تھا اور انہوںنے اسی روزاپنے عہدے کاحلف اٹھایا تھا جبکہ 26 جنوری کوگورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے گورنر ہاؤس میں نگران کابینہ سے حلف لیا تھا۔
مستعفی ہونے والے نگران وزرا میں سید مسعود شاہ، عبدل حلیم، جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر، محمد علی شاہ، بخت نواز خان، منظور خان آفریدی، محمد غفران، حامد شاہ، شفیع اللہ خان، ساول نذیر، فضل الہٰی، تاج محمد آفریدی، فیروز جمال شاہ اور مطیع اللہ شامل ہیں۔
استعفے قبول کرنے سے قبل گورنر خیبرپختونخوا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کابینہ ممبران کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تھا اور یہی وجہ تھی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے خدشات کے اظہار کے بعد انھوں نے بلاجھجک اپنے استعفے جمع کروائے تھے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعلیٰ نے اپنی کابینہ خود بنائی اور سیاسی جماعتوں کے کوٹے کی بنیاد پر ممبران کی کابینہ میں شمولیت کی باتیں جھوٹی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کی جانب سے نگراں وزیراعظم کے لیے دیے گئے ناموں میں صادق سنجرانی کا نام شامل ہے: احسن اقبال

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما احسن اقبال نے تصدیق کی ہے کہ قائد حزبِ اختلاف راجہ ریاض کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو نگراں وزیراعظم کے عہدے کے لیے دیے گئے ناموں کی فہرست میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا نام بھی شامل ہے۔
جمعہ کی شب جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کے نام کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہی فائنل ہو گا۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ نگراں وزیر اعظم کا نام سنیچر کے دن تک فائنل ہو جائے گا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی نشست کے دوران کی۔
جمعہ کی شام ہونے والی اس ملاقات میں شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
جمعہ ہی کی شام وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں نگراں وزیراعظم کے نام کے حوالے سے مشاورت بھی ہوئی۔
دوسری جانب صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کو جمعہ کے دن لکھے گئے ایک خط میں یاد دہانی کروائی ہیں کہ انھوں نے آئین کے مطابق 12 اگست تک نگراں وزیراعظم کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کی بابت ایوان صدر کو آگاہ کرنا ہے۔
سندھ اسمبلی تحلیل کر دی گئی، نوٹیفیکشن جاری
پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ٹوٹیفیکیشن پر دستحط کر دیے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ اسمبلی آج رات نو بجے سے تحلیل کر دی گئی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا: بی جے پی حکومت مذہبی فسادات روکنے میں ناکام کیوں؟
سائفر کے مبینہ متن کا منظرِعام پر آنا پی ٹی آئی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا یا نقصان دہ؟
نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ سمیت سات مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت خارج

،تصویر کا ذریعہReuters
لاہور کی انسداد دہشتگری عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نو مئی کو جیلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر مقدمات میں ضمانت اور حاضری معافی کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
انسداد دہشتگری عدالت کے جج اعجاز بٹر کی جانب سے کیس کی سماعت کی گئی جس دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کی ضمانت عدم پیشی پر خارج نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ عدم حاضری پر تکنیکی بنیادوں پر ضمانت خارج نہیں ہو گی۔ انھوں نے عدالت سے مزید وقت کی استدعا کی جس پر جج اعجاز بٹر نے آج ہی دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین پنجاب کی جیل میں ہیں اور عدالت انھیں جیل سے عدالت طلب کرے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت کے پاس ملزمان کو طلب کرنے کا اختیار ہے (مگر) چیئرمین تحریک انصاف سزا یافتہ ہیں۔‘
چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل نے مزید تیاری کے لیے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’میں کوئی نیا قانون نہیں بنا سکتا۔ دیکھنا ہے سزا یافتہ کی حاضری معافی منظور بھی ہو سکتی ہے کہ نہیں۔‘
بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ عمران خان اس سے پہلے تسلسل سے کورٹ میں پیش ہوتے رہے ہیں اور وہ عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’جب وہ آزاد تھے تب تو وہ عدالت آتے نہیں تھے۔‘
سرکاری وکیل فرہاد علی شاہ نے عمران خان کی عدالت پیشی کی مخالفت کی اور کہا کہ ’عبوری ضمانت پر کارروائی ملتوی کرنا بلا جواز ہے۔ اس کے بعد حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔‘
انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر سات مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت خارج کر دی اور عدم پیشی پر چیئرمین تحریک انصاف کی ضمانتیں خارج کیں۔
انسداد دہشتگری عدالت نے عمران خان کی حاضری معافی کی درخواستیں بھی مسترد کیں۔
ازخود نوٹس نظرِثانی قانون کالعدم: عدالتی فیصلے سے نواز شریف کی واپسی کی راہ میں حائل مشکلات بڑھیں گی؟
