جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر ’اتفاق‘

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کے درمیان مشاورت کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنی نامزدگی پر کہا ہے کہ ’یہ اہم ذمہ داری ہے، خاص کر جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عمران خان کو اٹک جیل میں ہی کیوں رکھا گیا، پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو وجوہات بتا دیں

    attock

    ،تصویر کا ذریعہSocial media

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی ہے۔

    سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب راؤ شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں جبکہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے پوچھا کہ جب ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل بھیجا آپ نے اٹک بھیج دیا۔ اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقلی کا فیصلہ کس کا تھا؟

    اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پنجاب حکومت کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت کے سامنے پیش کر دیا۔

    وکیل پنجاب حکومت کی جانب سے خط پڑھا گیا جس میں اٹک جیل منتقلی سے متعلق تفصیلات درج تھیں۔ خط کے متن کے مطابق اڈیالہ جیل حساس نوعیت کی جیل ہے جہاں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں اور زیادہ تر قیدی بم دھماکوں اور دہشتگردی جیسے سنگین مقدمات میں نامزد ہیں۔

    خط کے مطابق اس لیے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل نہیں کیا گیا۔

    عمران خان کے وکیل شیر افضل نے ان وجوہات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں تو چیئرمین پی ٹی آئی کے آنے سے کیا فرق پڑ جائے گا؟ پاکستان کی تمام جیلوں میں قیدی جگہ سے زیادہ ہیں۔‘

    عمران خان کے وکیل شیر افضل کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کو کس کلاس میں رکھنا ہے، سات دن میں یہی فیصلہ نہیں ہو سکا۔یہ کام ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ کے جج کا کام ہوتا ہے۔‘

    attock

    وکیل پنجاب حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم نے پانچ ڈاکٹرز جیل میں ان کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ ڈی ایچ کیو میں پہلے معاملہ بھیجا جاتا ہے پھر بورڈ ہوتا ہے وہ دیکھتا ہے۔‘

    وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ان کا اپنا ڈاکٹر چیک کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ڈاکٹر عدنان روز چیک کرنے آتے تھے، آپ بیشک جیل کا ریکارڈ منگوا لیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم قرآن پاک دینا چاہ رہے ہیں کتابیں دینے چاہ رہے ہیں یہ وہ بھی نہیں دینے دے رہے۔ اس پر وکیل پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ وہاں عمران خان کو قرآن اور جائے نماز پہلے ہی دے دی گئی ہے۔

    اس پر عمران خان خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ انگلش ورژن استعمال کرتے ہیں ہم نے وہ دینا تھا۔ جس پر وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ہم انگلش ورژن بھی پہنچا دیں گے۔

    وکیل پنجاب حکومت نے مزید بتایا کہ عمران خان کے لیے ہم نے کھانے کے لیے الگ سے باورچی رکھا ہوا ہے، ان کے الگ برتن رکھے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک میڈیکل آفیسر اور ایک ڈی ایس پی کھانا چیک کرتا ہے پھر چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا دیا جاتا ہے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عدالت عمران خان کو جیل میں ملنے والی سہولیات اور ملاقات کے اوقات سے متعلق فیصلہ دے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر ایک دو لوگ بھی جا رہے ہیں تو پھر تو کوئی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا نہیں ہوتی، چالیس پچاس لوگ جائیں تو اور بات ہے۔‘

  2. قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے اس میں مداخلت ناقابل قبول ہے: سعد رفیق

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے اس میں مداخلت ناقابل قبول ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جو بینچ فیصلہ کرے وہی ریویو سنے یہ اصول انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ بینچز کی تشکیل کے لیے فرد واحد کے اختیار نے عدل کو بارہا پامال کیا آج کے فیصلہ کا ریویو آئندہ پارلیمنٹ ہی میں ہو گا۔‘

  3. سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیا تھا؟

    senate

    ،تصویر کا ذریعہSenate Secretariat

    سپریم کورٹ (ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز) ایکٹ 2023، جو رواں برس مئی میں پاس کیا گیا تھا کے تحت سب سے اہم تبدیلی یہ کی گئی تھی کہ ازخود نوٹس پر فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے، نئے ایکٹ کے تحت نظرثانی کا دائرہ کار اپیل جیسا ہی ہونا تھا۔

    اس قانون کے تحت دوسری اہم تبدیلی یہ کی گئی تھی کہ نظرثانی کی اپیل کی سماعت اس بینچ سے بڑا بینچ کرے گا جس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی ہو۔

    قانون کے تحت اپیل کنندہ کو اپنا وکیل بھی تبدیل کرنے کا حق دیا گیا تھا۔

    بل میں کہا گیا تھا کہ نئے قانون کے تحت کسی بھی فیصلے کے بعد 60 دن کے اندر نظرثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی تھی۔

    ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ نئے قانون کے تحت ان افراد کو بھی اپیل کا حق حاصل ہو گا جن کے خلاف اس قانون کے نافذ العمل ہونے سے پہلے فیصلہ سنایا گیا ہو۔ تاہم ایسے افراد کو قانون نافذ ہونے کے 60 دن کے اندر اپیل دائر کرنا ہو گی۔

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کی سات شقیں تھیں:

    • شق ایک کے تحت ایکٹ ’سپریم کورٹ (ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز) ایکٹ 2023 کہلائے گا۔
    • شق دو کے تحت سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار مفاد عامہ کے مقدمات کی نظر ثانی کے لیے بڑھایا گیا اور مفاد عامہ کے مقدمات کی نظر ثانی کو اپیل کے طور پر سنا جائے گا۔
    • شق تین کے مطابق نظر ثانی کی سماعت کرنے والے بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس سے زیادہ ہو گی۔
    • شق چار کے مطابق نظر ثانی میں متاثرہ فریق سپریم کورٹ کا کوئی بھی وکیل کر سکے گا۔
    • شق پانچ کے تحت ایکٹ کا اطلاق آرٹیکل 184 تین کے پچھلے تمام مقدمات پر ہو گا۔
    • شق چھ کے تحت متاثرہ فریق ایکٹ کے اطلاق کے 60 دنوں میں اپیل دائر کر سکے گا۔
    • شق سات کے مطابق ایکٹ کا اطلاق ملتے جلتے قانون، ضابطے، یا عدالتی نظیر کے باوجود ہر صورت ہو۔
  4. بریکنگ, سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کے قانون کو کالعدم قرار دے دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے، پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 19 جون کو ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 23 مارچ 2023 کو پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات ملتوی کر دیے تھے جو 30 اپریل بروز کو شیڈول تھے، اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ فیصلہ آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔

    فیصلے کے ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے 25 مارچ کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    واضح رہے کہ پنجاب انتخابات کیس میں وفاقی حکومت کی جانب سے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ پیش کر کے کیس سننے والے بینچ پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے اور نئے قانون کے تحت عوامی مفاد کے مقدمات میں نظرثانی کی اپیلوں کو لارجر بینچ میں سننے کا قانون بنایا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کی آخری سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل اور درخواست گزاروں نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر بل 26 مئی کو صدر مملکت عارف علوی کے دستخط کے بعد قانون بن گیا تھا جس کے بعد آرٹیکل 184/3کے تحت دیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ مذکورہ بل 14 اپریل کو قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد پانچ مئی کو سینیٹ سے بھی منظورکر لیا گیا تھا۔

  5. بریکنگ, سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ آج سنائے گی

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 19 جون کو ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ تین رکنی بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 23 مارچ 2023 کو پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات ملتوی کر دیے تھے جو 30 اپریل بروز کو شیڈول تھے، اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ فیصلہ آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔

    فیصلے کے ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے 25 مارچ کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    واضح رہے کہ پنجاب انتخابات کیس میں وفاقی حکومت کی جانب سے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ پیش کر کے کیس سننے والے بینچ پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے اور نئے قانون کے تحت عوامی مفاد کے مقدمات میں نظرثانی کی اپیلوں کو لارجر بینچ میں سننے کا قانون بنایا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کی آخری سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل اور درخواست گزاروں نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی دلائل دینے کی استدعا کی تاہم سپریم کورٹ کے اس سماعت کے حکم نامہ کے مطابق الیکشن کمیشن درخواستوں میں فریق نہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں وہ عدالتی معاون کے طور پر معروضات جمع کراسکتے ہیں اس عدالتی حکم نامے میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا جارہا ہے۔

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر بل 26 مئی کو صدر مملکت عارف علوی کے دستخط کے بعد 2023 قانون بن گیا تھا جس کے بعد آرٹیکل 184/3کے تحت دیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا حق ہو گا۔ مذکورہ بل 14 اپریل کو قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد پانچ مئی کو سینیٹ سے بھی منظورکر لیا گیا تھا۔

    نئے قانون کے تحت آرٹیکل 184/3 کے تحت فیصلوں پر 60 روز کے اندر نظر ثانی اپیلیں دائر کی جاسکتی ہیں جن کی سماعت فیصلہ دینے والے بینچ سے بڑا بینچ کرے گا۔

  6. وزیراعظم شہباز شریف کے دورِ حکومت میں کتنی مہنگائی ہوئی اور پاکستان کی معاشی کارکردگی کیسی رہی؟

  7. کوئٹہ میں دو دھماکوں سے ایک شخص ہلاک، چار زخمی

    کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دو دھماکوں سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

    ان میں سے ایک دھماکہ شہر کے مصروف ترین علاقے موتی رام روڈ پر ہوا جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔ دھماکے سے تین ایسی دکانیں متاثر ہوئیں جن پر پھول، پاکستانی پرچم اور دیگرسجاوٹی اشیا فروخت کی جاتی تھیں۔

    دھماکے کے باعث ایک دکان میں آگ بھڑک اٹھی جسے فائر بریگیڈ کے عملے نے بجھا دیا۔ جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنزکوئٹہ ذوہیب محسن نے بتایا کہ یہ پٹاخوں اورسجاوٹی اشیا کی دکانیں تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آگ کی وجہ سے تینوں دکانوں کی چھتیں بیٹھ گئیں۔ انھوں نے بتایا کہ جو لوگ زخمی ہوئے ہیں ان کے زخموں سے یہ نہیں لگتا ہے کہ یہ کوئی ہاِئی ایکسپلوسیو دھماکہ تھا۔

    انھوں نے کہا کہ دھماکہ دکان کے اندر ہوا ہے، باہر سے کچھ نہیں ہوا۔ ’تاہم بم ڈسپوزل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی یہ بتایا جاسکے گا کہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا۔‘

    دوسرا دھماکہ مغربی بائی پاس کے علاقے میں ہوا۔ بروری پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر دستی بم سے حملہ کیا۔ دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

  8. وقت پر الیکشن کروانے کی ذمہ داری ہماری نہیں الیکشن کمیشن کی ہے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہNA

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت آئین کے مطابق اپنا وقت پورا ہونے سے قبل ہی چلی گئی ہے اور اب یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ انتخابات کے وقت کے حوالے سے فیصلہ کرے اور قوم کو اس سے آگاہ کرے۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں اینکر حامد میر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے آئین کی مکمل پاسداری کی اور 13 اگست سے پہلے حکومت ختم کر دی۔ وقت پر الیکشن کرونا ہماری ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی نگراں حکومت کی۔ اب یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کا ہے، جن اداروں نے الیکشن کروانا ہے، آئین پر عملدرآمد ان کی بھی ذمہ داری ہے۔ میرا خیال ہے کہ الیکشن جلد از جلد ہونے چاہییں۔‘

    نگراں وزیر اعلیٰ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’آئین ہمیں اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگراں وزیر اعظم کا نام فائنل کرنے کے لیے تین دن دیتا ہے، مگر امید ہے کہ ہم تین دن سے پہلے ہی اتفاق رائے کر لیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس ضمن میں قائد حزب اختلاف سے جمعرات کو ہونے والی پہلی ملاقات کے دوران اُن کی جانب سے کچھ نام سامنے آئے ہیں، کچھ ہم نے دیے ہیں۔ کل ان ناموں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، اور امید ہے اتفاق ہو جائے گا۔‘

    وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ 16 ماہ کی مختصر ترین حکومت کے دوران ڈیفالٹ سے پاکستان کو بچانا اور آئی ایم ایف سے پروگرام بحال کرنا اُن کے لیے مشکل ترین مرحلہ تھا۔ ’ایک موقع پر آئی ایم ایف کے سربراہ نے مجھے کہا کہ اب وقت گزر گیا ہے، اب 30 جون کے بعد دیکھیں گے، مگر ہم نے محنت کی اور پروگرام لیا۔‘

  9. الیکشن کمیشن کی وفاق میں تقرریوں و تبادلوں پر پابندی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ کی تحلیل کے بعد وفاق میں سرکاری افسران کی تقرری و تبادلوں پر پابندی لگائی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہو چکی، نگران سیٹ اپ کی تشکیل تک ہر قسم کی ٹرانسفر پوسٹنگ روک دی جائے۔ جلد نگران وزیر اعظم اور کابینہ کی تشکیل ہو جائے گی۔‘

    خط میں مزید لکھا گیا کہ علم میں آیا ہے کہ بڑے پیمانے پر وزارتوں اور ڈویژنز میں ٹرانسفر پوسٹنگ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

    ’نگران حکومت کے آنے تک ایسے کسی اقدام سے گریز کیا جائے، نگران حکومت کی تشکیل کے بعد قانون اور پالیسی کے مطابق ٹرانسفر پوسٹنگ کی جا سکتی ہے۔‘

  10. سائفر تنازع: اگر شائع ہونے والے مندرجات درست ہیں تو یہ بذات خود بڑا جرم ہے، شہباز شریف

  11. بریکنگ, نگراں وزیر اعظم کے امیدواروں کے نام میڈیا میں نہ دینے کا فیصلہ، جلد اتفاق رائے ہو جائے: راجہ ریاض

    قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر راجہ ریاض کا وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اور وزیر اعظم نے طے کیا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے لیے ممکنہ امیداروں کے ناموں سے متعلق میڈیا میں بات نہیں کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے طے کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ کس شعبے سے تعلق ہے؟ یا جن کے نام میڈیا میں گردش کر رہے ہیں ہم اس کا ذکر نہیں کریں گے۔‘

    ملاقات میں ہونے والی مشاورت سے متعلق راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم نہیں تھا کہ انھوں نے کِس کا نام لینا تھا اور نہ انھیں پتا تھا کہ میں نے کیا نام دینے تھے۔ تاہم امید ہے کہ ہم ایک نام پر متفق ہو جائیں گے۔‘

  12. عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی اور گرفتاری: پاکستان میں جمہوری عمل کی کمزوری کی وجہ ’اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت‘ ہے یا خود سیاستدان؟

  13. توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیسز میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج, فرحت جاوید/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری عدم پیروی پر خارج جبکہ بشری بی بی کی ضمانت کی استدعا میں نیب کی جانب سے گرفتاری کے آرڈر جاری نہ ہونے پر درخواست نمٹا دی ہے۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ (القادر ٹرسٹ) کیس اور توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران بشری بی بی اپنے وکیل خواجہ حارث اور دیگر کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں۔ جبکہ نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی عدالت پیش ہوئے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ’بشریٰ بی بی کے وارنٹ تو جاری نہیں ہوئے، تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ ادھر کھڑے ہو جائیں۔‘ پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ ابھی گرفتار کرنے کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہیں۔

    عدالت نے پوچھا کہ ’یہ کیس انکوائری ہے یا انوسٹیگیشن ہے؟‘ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اب انوسٹی گیشن میں تبدیل ہوگیا ہے۔ انتظار پنجوتھہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے کوئی ضمانت دے دیں، جس پر عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ ’ایسا کچھ نہیں ہے، لگ بھی نہیں رہا۔‘

    عدالت نے بشری بی بی کی حاضری لگائی جس کے بعد وہ واپس روانہ ہوگئیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے شرجیل میمن کیس میں ان کی گرفتاری کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’ملزم اگر ایک کیس میں گرفتار ہو تو یہ نہیں کہ اسے دوسرے مقدمات میں گرفتار نہیں کر سکتے۔‘

    خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’ہم ایک ایسے کیس کی بات کر رہے ہیں جس میں درخواست گزار ایک مقدمے میں گرفتار ہے۔‘

    دوران سماعت خواجہ حارث نے دونوں مقدمات کی سماعت سے استثنی کی درخواست دائر کر دی اور کہا کہ ’میری عدالت سے استدعا ہے کہ کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔‘

    بشری بی بی کے خلاف گرفتاری آرڈر جاری نہ ہونے پر درخواستِ ضمانت نمٹا دی گئی

    ضمانت کے حوالے سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے مختلف مقدمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’اگر ملزم گرفتار ہے اور وہ جان بوجھ کر پیش نہیں ہو رہا تو عدالت خود اس معاملہ کو دیکھے، استدعا ہے کہ کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک کیلئے ملتوی کی جائے۔‘

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی۔ عدالت کے جج نے کہا کہ ’ہم آج میرٹ پر تو بات نہیں کر رہے‘۔ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ’یہ ایک دن یا میڈیکل کی بنیاد پر استثنی کی درخواست کر سکتے ہیں، اب یہ تو نہیں کہ ملزم جیل میں ہے، کیا ملزم تین سال جیل میں رہے تو کیا تین سال تک اس کا انتظار کیا جائے گا؟‘

    خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’ہم مختلف عدالتوں کے فیصلوں کی کاپی پیش کرتے ہیں۔‘

    جج نے کہا کہ ’اگر نیب والے گرفتار کر لیتے ہیں تو یہاں سے تو اچھا ہی ہو گا نا۔ زرداری صاحب تو خود کہتے تھے کہ مجھے جیل بھیج دیں۔ پتہ نہیں ان کو کیا تھا۔‘

    خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں ایک موقع دیں، ہم کوئی جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہے۔‘

    عدالت نے نیب کو بشری بی بی کی گرفتاری نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ نہ ہو کہ شام کو انھیں پکڑ لیں۔‘

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدم پیروی پر چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت خارج کرنے جبکہ بشری بی بی کے گرفتاری آرڈر جاری نہ ہونے پر درخواست نمٹانے کا حکم دے دیا۔

  14. بریکنگ, بشریٰ بی بی کو عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی

    بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہHUM TV

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ان سے اٹک جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت مل گئی ہے جبکہ ان کی قانونی ٹیم کو اگلے ہفتے ملاقات کا کہا گیا ہے۔

    عمران خان کی قانونی ٹیم کے رکن نعیم حیدر پنجوتھا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بشریٰ بی بی کو ملاقات کی اجازت مل گئی ہے لیکن لیگل ٹیم کو اگلے ہفتے کے لیے ملنے کا کہا جا رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’شاہد اس کی وجہ آخری پریس کانفرنس ہے، لیگل ٹیم قانونی طور پر ان سے مل سکتی کیونکہ وکالت نامے اور کیسسز کے حوالے ہدایت لینی ہے۔ یہ ہمارا حق ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. بریکنگ, نگران وزیر اعظم کون ہو گا؟ شہباز شریف نے آج مشاورت کے لیے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو دعوت دے دی

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو آج نگران وزیر اعظم کے نام پر مشاورت پر کے لیے دعوت دے دی ہے۔

    ملک میں عبوری حکومت کا انتظام دیکھنے کے لیے نگران وزیراعظم کے تقرر پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

    ان کی جانب سے جاری دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرنے کے بعد آئین ساز اسمبلی ختم ہوگئی ہے لہذا آئین کے آرٹیکل 224 (ون اے) کے تحت نگران وزیر اعظم کی تعیناتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

    وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو آج وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں نگران وزیر اعظم کے نام پر مشاورت کے لیے مدعو کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگران وزیراعظم کے معاملے پر مشاورت آج متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد نگراں وزیر اعظم کے نام کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت ہے، تین دن میں نام فائنل نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔

    پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگراں وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی اگر پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کرسکی تو یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا اور الیکشن کمیشن حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگراں وزیراعظم کے نام کا اعلان کرے گا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ شب وزیر اعظم کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے لیے بھیجی گئی سمری پر صدرِ پاکستان کے دستخط کے نتیجے میں اسمبلی اپنی مدت کی تکمیل سے تین دن قبل تحلیل ہو گئی ہے۔

    جبکہ قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ مشاورتی عمل میں نگران وزیراعظم کے لیے ایک نام پر اتفاق کر لیا جائے۔

    Notice

    ،تصویر کا ذریعہPMO

  16. بشریٰ بی بی اور عمران خان کی قانونی ٹیم سابق وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے اٹک جیل روانہ

    پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ آج بشریٰ بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اٹک جیل میں عمران خان سے ملاقات کرے گی۔

    پی ٹی آئی کے مطابق چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی اور ان کی قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کرنے کے لیے اٹک جیل روانہ ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی اور جیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے چیف جسٹس عامر فاروق سے اٹک جیل میں عمران خان سے ملاقات نہ کرنے دینے سے متعلق شکایات کرتے ہوئے اس ضمن میں حکم جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔

    جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’فہرست کے مطابق آرڈر جاری کر دیتے ہیں لیکن وہاں سیاسی اجتماع نہ بنایا جائے۔‘

  17. تحریک عدم اعتماد کے بعد حکومت سنبھالنا مسلم لیگ ن کے لیے دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہوا یا سیاسی غلطی؟

  18. نگران حکومت کیا ہوتی ہے، یہ کیسے بنتی ہے اور اس کا کام کیا ہوتا ہے؟

  19. بریکنگ, صدر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی

    صدر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر دیے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہو گئی۔

    صدر مملکت نے قومی اسمبلی کی تحلیل وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    واضح رہے اسمبلی تحلیل ہوتے ہی وزیر اعظم کی کابینہ ختم ہو گئی تاہم نگران وزیر اعظم کی تعیناتی تک وزیر اعظم شہباز شریف اپنے عہدے پر موجود رہیں گے۔

    قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد اب تین روز کے اندر نگران وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

    قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد اب نگران وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے تین دن کا وقت ہے جس دوران شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض مل کر نگران وزیر اعظم کے لیے مشاورت کریں گے۔

  20. سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی پیمرا ترمیمی بل 2023 منظور: ’چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنے گی‘

    پارلیمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیمرا ترمیمی بل 2023 قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے متقفتہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

    بل کے مطابق چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنے گی جس میں قومی اسمبلی کے 2 اور سینیٹ سے 2 ارکان شامل ہوں گے۔

    بل کے مطابق ’چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کے لیے کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے ممبران برابر ہوں گے۔ وزارت اطلاعات چیئرمین پیمرا کے لیے کمیٹی کو 5 نام تجویز کرے گی ، کمیٹی ان میں سے کوئی ایک نام منظوری کے لیے صدر کو بھیجے گی۔‘

    بل کے مطابق ’اگر پارلیمانی کمیٹی کسی نام پر 30 دن میں اتفاق نہ کر پائی تو وزارت اطلاعات 5 رکنی پینل وزیر اعظم کو ارسال کرے گی ۔ وزیر اعظم چیئرمین پیمرا کے لیے مناسب نام تجویز کرکے صدر کو ارسال کرے گا۔‘

    پیمرا ترمیمی بل میں میڈیا ورکز کے لیے تنخواہ کے لفظ کو واجبات سے بدل دیا گیا ہے ۔

    پیمرا ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی ادارہ دو ماہ تک ملازمین کو واجبات نہیں دے گا تو حکومت اس ادارے کو اشتہارات نہیں دے گی، پھر بھی تنخواہ نہ دی گئی تو کونسل آف کمپلینٹ ایک کروڑ تک جرمانہ کرسکے گی۔

    پیمرا ترمیمی بل

    ،تصویر کا ذریعہParliament

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کو منظوری کے لیے پہلے سینیٹ میں پیش کیا ۔ بل پر سینیٹر رضا ربانی ، طاہر بزنجو اور اپوزیشن نے بھی تحفظات کا اظہار کیا اور بل کی منظوری کے وقت یہ سب ایوان سے چلے گئے ۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا پیمرا کا قانون پرویز مشرف کا تھا، اس میں بہت تبدیلی کی ضرورت تھی، وزیر اعظم نے بھی اس کی حمایت کی ، بل کو پڑھے بغیر دانستہ طور پر اسے متنازع بنایا گیا اور کہا گیا ہم کالا قانون لا رہے ہیں۔

    اس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔ ایوان نے بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ۔