یہ صفحہ مزید ایب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے، یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
15 اگست کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کے درمیان مشاورت کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنی نامزدگی پر کہا ہے کہ ’یہ اہم ذمہ داری ہے، خاص کر جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے، یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
15 اگست کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہTWITTER
صوبہ سندھ کی اپوزیشن لیڈر رعنا انصار نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ مشاورت کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ نامزد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
انھوں نے پیر کی شب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ نام دونوں کی طرف سے تھا۔ باہمی مشاورت سے اس نام پر اتفاق ہوا۔‘
’امید ہے یہ ایسا نام ہے جو سندھ کی حکومت اور عوام کے لیے بہتر ثابت ہوگا اور الیکشن شفاف ہوں گے۔‘
پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضی وہاب نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس نامزدگی کا نوٹیفیکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔
مقبول باقر 2002 میں سندھ ہائیکورٹ کے جج جبکہ 2015 میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ وہ گذشتہ سال بطور سپریم کورٹ جج ریٹائر ہوئے۔
’الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام، ہمارا کردار ان کی معاونت کرنا ہے‘
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنی نامزدگی پر کہا ہے کہ ’یہ اہم ذمہ داری ہے، خاص کر جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے۔ کوشش رہے گی کہ لوگوں کی مشکلات کم کر سکیں اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھ سکیں۔
’الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ ہمارا کام ان کی معاونت ہوگا۔۔۔ الیکشن کے حوالے سے ہمارا یہی کردار ہوگا۔ کوشش یہ ہوگی کہ آئین و قانون کے مطابق انتخابات ہو سکیں۔‘
راولپنڈی کے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کا راہداری ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ انھیں اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔
جیل انتظامیہ کے مطابق پرویز الہٰی کو نظر بندی آرڈر کی مدت مکمل ہونے کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تاہم نیب راولپنڈی نے پرویز الہٰی کو جیل سے رہا ہوتے ہی حراست میں لے لیا۔
انھیں جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ خالد حیات کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیب کی جانب سے عدالت سے پرویز الہٰی کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی گئی اور دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ نے ان کا راہداری ریمانڈ منظور کر لیا۔ انھیں نیب کی جانب سے لاہور متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
پرویز الہٰی کو تھری ایم پی او کے تحت نظربند کیا گیا تھا جبکہ نیب لاہور ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور رشوت لینے جیسے الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انوار الحق کاکڑ نے پیر کو پاکستان کے نگراں وزیراعظم پاکستان عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا۔
آٹھویں نگراں وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں سابق وزیراعظم شہباز شریف، سپیکر راجہ پرویزاشرف، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شہزاد وسیم بھی شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ انوار الحق کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے پشتونوں کے معروف کاکڑ قبیلے سے ہے۔ انوارالحق کاکڑ پاکستان کے اب تک کے کم عمر ترین نگراں وزیراعظم ہیں۔ انوارالحق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد احتشام الحق کاکڑ نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور تحصیل دار کیا جس کے بعد وہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انوار الحق کاکڑ کے دادا قیام پاکستان سے قبل ریاست قلات میں خان آف قلات کے معالج کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔
انوارالحق کاکڑ نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی جبکہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کیڈٹ کالج کوہاٹ سے حاصل کی۔ انھوں نے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم یونیورسٹی آف بلوچستان سے حاصل کی۔
وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے لندن گئے لیکن سیاست میں دلچسپی کے باعث انھوں نے واپس پاکستان آ کر عملی سیاست میں حصہ لیا۔ انھیں کتب بینی کا شوق ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے سیاسی کیریئر کا آغاز مسلم لیگ سے کیا۔ سنہ 1999 میں نواز لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد انھوں نے ق لیگ میں شمولیت اختیار کی اور ق لیگ کے ٹکٹ پر 2008 میں کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی نشست سے انتخاب لڑا۔ تاہم اس میں انھیں کامیابی نہ مل سکی۔
جب 2013 کے عام انتخابات میں بلوچستان میں نواز لیگ اور قوم پرست جماعتوں کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تو انوار کاکڑ سابق وزیراعلیٰ سردار ثنا اللہ زہری کی حکومت میں حکومت بلوچستان کے ترجمان رہے۔
2018 میں نواز لیگ مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے نام سے ایک نئی جماعت بنی اور انوارالحق کاکڑ اس کے بانیوں میں سے ایک تھے۔
بلوچستان کی شورش زدہ صورتحال میں انوار کاکڑ ریاستی بیانیے کی بھرپور وکالت کرتے رہے ہیں۔
انوارالحق کاکڑ 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی سے سینیٹر منتخب ہوئے۔
وہ بلوچستان سے بننے والے دوسرے نگراں وزیراعظم ہیں۔ سنہ 2013 میں بلوچستان ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس میر ہزار خان کھوسو نگراں وزیراعظم رہ چکے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو نیب لاہور کی ٹیم اڈیالہ جیل سے سکیورٹی کے سخت حصار میں راولپنڈی کچہری لے کر پہنچی۔
پرویز الٰہی کو ڈیوٹی جج خالد حیات کے سامنے پیش کیا گیا۔ ڈیوٹی جج نے پرویز الٰہی کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور کر لیا اور انھیں کل لاہور کی متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

،تصویر کا ذریعہPIA
پی آئی اے کی پہلی بین الاقوامی پرواز پی کے 234 دبئی سے سکردو لینڈ کرنے کے بعد سکردو کو ایک بین الاقوامی ائیر پورٹ کا درجہ مل گیا ہے۔
پی آئی اے سے جاری بیان کے مطابق ’ان پروازوں کے آغاز سے قومی ائیر لائن پی آئی اے نے ایک اور اعزاز حاصل کر لیا اور سکردو کو پوری دنیا میں متعارف کروایا ہے۔
بیان کے مطابق ’بین الاقوامی پرواز پر سیاح جنت نظیر گلگت بلتستان کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہو سکیں گے اور دوران پرواز سیاحوں کو ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں بشمول کے ٹو اور نانگا پربت کے خوبصورت نظارے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPIA
سکردو ایئر پورٹ پر اس تاریخی اہمیت کے حامل موقعے پر ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ مسافروں کا استقبال پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ائیر وائس مارشل عامر حیات سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات اور سرکاری حکام نے کیا۔
اس یادگار موقع پر مسافروں میں گلگت بلتستان کی روایتی ٹوپی اور تحائف تقسیم کیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہPIA
پی آئی اے ترجمان نے بیان میں مزید کہا کہ ’سیاح اب دبئی سے براہ راست ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز سے سکردو پہنچ سکیں گے۔
جہاز کو آمد پر ائیرپورٹ حکام کی جانب سے واٹر کینن سلوٹ بھی پیش کیا گیا جبکہ جہاز کے کپتان نے کام پٹ کا شیشہ کھول کر جشن آزادی کی مناسبت سے قومی جھنڈا لہرایا۔
تحریک انصاف کے کارکن حسان خان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو ایبٹ آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ ’میرا بیٹا حسان خان ایبٹ آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے، مجھے امید ہے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور قانون سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حسان نیازی پر نو مئی کو جناح ہاؤس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے اپنی ٹویٹ میں حسان نیازی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ انھیں ایبٹ آباد سے کچھ دیر قبل گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
فرخ حبیب نے مطالبہ کیا ہے کہ حسان نیازی کو قانون کے مطابق عدالت پیش کیا جائے تاکہ یہ اپنا قانونی حق دفاع استعمال کرسکیں اور خاندان کو اسکے متعلق رسائی فراہم کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہPTV
صدر پاکستان عارف علوی نے کہا ہے کہ انصاف نہ ہونے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ انصاف کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کو سنا جائے جس ملک میں انصاف ختم ہو جاتا ہے اس کا پورا نظام دررہم برہم ہو جاتا ہے۔
جشن آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ آئین، قانون اور میرٹ کی با لا دستی کے لیے قربانیاں دی گئیں، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
عارف علوی نے کہا کہ سیاستدان اور سٹیک ہولڈرز درگزر کا رویہ اپنائیں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ ابھی پاکستان کے لیے راستے کھلے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 2 کروڑ 70 لاکھ بچے اس ملک میں سکولوں سے باہر ہیں۔ ٹیکس دینے والے ٹیکس نہ دینے والوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اسلام پر امن مزہب ہے۔ نفرت پھلانے کے بجائے محبت کو فروغ دینا ہو گا۔
انھوں نے پاکستان کے مشکل وقت میں چین ، یو اے ای، سعودی عرب اور چین کی جانب سے مدد کیے جانے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ قوم اور فوج میں دراڑ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی ۔ افواج پاکستان اور عوام ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 76 ویں جشن آزادی کے موقع پر آزادی پریڈ کا انعقاد کیا گیا جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خوشحال اور مستحکم ملک بنانا ہمارا مشن ہے، ہم ایک اہم اور کٹھن دور سے گزر رہے ہیں، ہمیں شدت پسندی اور جنگی جنون جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
آرمی چیف کے مطابق ’قوم اور فوج میں دراڑ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔ ہمیں پاکستان کو کمزور کرنے کی خواہش رکھنے والی ناکام قوتوں کا سامنا ہے۔‘
آرمی چیف نے کہا کہ میں اس موقع پر اپنی عظیم قوم کو امید کا پیغام دیتا ہوں، ملکی خودمختاری اور سالمیت کی خاطر ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ہمیں جغرافیائی، سیاسی تنازعات، طاقت کے حصول کی کشمکش جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، ہمیں خوف اور مایوسی پھیلانے والوں کا منفی پروپیگنڈا مسترد کرنا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہISPR
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ قوم اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے،(انڈیا کے زیر اہتمام بسنے والے) کشمیری عوام بھی جلد مظالم سے چھٹکارا پائیں گے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ چین، سعودی عرب، امارات، ترکیہ، قطر اور ایران کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں جن کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
تقریب میں رات 12 بجتے ہی پرچم کشائی کی گئی جس کے بعد مل کر قومی ترانہ پڑھا گیا۔
نامزد نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انھوں نے بلوچستان عوامی پارٹی بی اے پی کی رکنیت اور سینیٹر کے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’نگران وزیر اعظم کے طور پر مجھے جو بنیادی ذمہ داری سونپی گئی تھی (اس کی وجہ سے) میں نے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی اپنی رکنیت چھوڑنے اور سینیٹ کے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہChinese Embassy in Pakistan
گوادر حملے کے بعد چین نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تخریب کاروں کو سخت سزائیں دیں اور چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
پاکستان میں چینی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گوادر پورٹ پراجیکٹ کے قریب چینی قافلے پر فائرنگ کی گئی اور بموں سے حملہ کیا گیا۔ یہ قافلہ گوادر ایئرپورٹ سے ساحلی علاقے کی جانب آ رہا تھا۔
اس کا کہنا ہے کہ حملے میں کوئی چینی شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
چین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ’تخریب کاروں کو کڑی سزائیں دے اور چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔‘
اس نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستانی حکام اس حملے کی مفصل تحقیقات کریں اور مستقبل میں ایسے حملے ہونے سے روکیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق گوادر میں دہشتگردوں نے ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا جس کے بعد آپریشن میں دو دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’اتوار کو گوادر میں دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے کارروائی کے دوران چھوٹے ہتھیاروں اور دستی بموں کا استعمال کیا تاہم موثر اور تیز ردعمل کے باعث دو دہشت گردوں کو‘ ہلاک کیا گیا ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کسی فوجی یا سول افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک میں امن اور خوشحالی کے دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
خیال رہے کہ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق گوادر میں چینی انجینیئروں کے قافلے پر حملہ ہوا تاہم آئی ایس پی آر کے بیان میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق گوادر کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کی صبح ایئرپورٹ روڈ پر فقیر کالونی پل کے علاقے میں دھماکوں اور فائرنگ کی آواز سنی تھیں۔ ایک شہری نے بتایا کہ زوردار دھماکوں کے بعد دیر تک انھوں نے فائرنگ کی آوازیں سنی۔
شہری کے مطابق دھماکوں کے بعد فائرنگ کا سلسلہ اندازاً ایک گھنٹے تک جاری رہا جبکہ علاقوں کی شاہراہوں کو شہریوں کی آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGLOBAL TIMES
پاکستان کے سکیورٹی حکام کے مطابق صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے جس میں اب تک ایک دہشت گرد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز کا کہنا ہے کہ چینی انجینیئروں کو لے جانے والے ایک قافلے پر فائرنگ کی گئی جس میں تاحال کسی چینی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔
اس کے مطابق تین بُلٹ پروف ایس یو وی گاڑیوں اور ایک بُلٹ پروف وین پر مشتمل قافلے میں 23 چینی شہری سوار تھے اور حملے کے دوران ایک آئی ای ڈی دھماکہ ہوا جبکہ وین پر گولیاں برسائی گئیں جس سے شیشوں پر کریک آئے۔
گلوبل ٹائمز کا کہنا ہے کہ کراچی میں چینی قونصل خانے نے اتوار کو اس حملے کے بعد چینی شہریوں کے لیے ایک سیفٹی وارننگ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کے باعث وسیع پیمانے پر عوامی سرگرمیوں سے گریز کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے وہاں آپریشن شروع کیا جس دوران دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
اس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ادھر مسلح شدت پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں آج گوادر میں ’چینی انجینیئروں کے خلاف حملے‘ کی ذمہ داری قبول کی ہے اور چار چینی شہریوں کے ساتھ ساتھ نو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم گلوبل ٹائمز کے مطابق تاحال اس حملے میں کسی چینی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
ِخیال رہے کہ اتوار کو عینی شاہدین کے مطابق گوادر میں ایئرپورٹ روڈ پر فقیر کالونی پُل کے قریب فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے رہنما سردار اختر مینگل نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں نگراں وزیرا عظم کے طور پر انوارلحق کاکڑ کی تقرری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل نے اپنے خط میں لکھا کہ ’میرا یہ خط 22 جولائی 2022 کے پیغام کا تسلسل ہے، جن مسائل کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا کاش اُن میں کمی آتی، آج بھی وہی بلوچستان وہی جبری گمشدگیاں ہیں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسئلےکے حل کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم پر جو گزری یا گزر رہی ہے وہ ہماری قسمت ہے، حیرانی اس بات سے ہے جو آپ لوگوں پر گزری اُس سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا گیا۔‘
بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے سردار اخترمینگل نے کہا کہ ’یہ کہا جا رہا ہے کہ انوارالحق کاکڑ کی تقرری سے بلوچستان کی محرومیاں دور ہوں گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی محرومیاں جن اداروں کی وجہ سے ہیں انوار الحق کاکڑ نے ان کے ہر غلط اقدام کا دفاع کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں لوگ مر رہے ہیں اور اغوا کیے جا رہے ہیں اور نامزد نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ہر لحاظ سے ان کو صحیح قرار دیا اور وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا جس شخص نے غلط اقدامات کا دفاع کر کے اپنی حیثیت بنائی ان سے بلوچستان کے مسائل کے حل کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
بی این پی کے سربراہ کے مطابق انوار الحق کاکڑ کی تقرری کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بلوچستان کے مسائل کو حل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کوئٹہ میں چند سال قبل تعینات رہنے والے ایک سینیئر سیکورٹی اہلکار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نگراں وزیراعظم کی تقرری ان کی تقرری کے مترادف ہے۔
سردار اختر مینگل نے بتایا کہ انھوں نے اس سے قبل 22جولائی 2022 کو میاں نوازشریف کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں ان سے درخواست کی تھی کہ بلوچستان کے جو معاملات ہیں ان کو اسٹیبلشمنٹ کے حوالے نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف نے یہ کہا تھا کہ وہ شہباز شریف سے بات کریں گے لیکن ان تحفظات کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ چند روز قبل جلدبازی میں جو قانون سازی کی گئی وہ سیاسی جماعتوں کے لیے اپنے لیے گھڑے کھودنے کے مترادف ہیں۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر گوادر میں ایئرپورٹ روڈ پر فقیر کالونی پل کے قریب فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق فقیر پل کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ گذشتہ ایک گھنٹے سے جاری ہے۔
واضح رہے کہ اس علاقے میں جوڈیشل کمپلیکس کے علاوہ دیگر اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔