’نہیں چاہتے فوج شہریوں پر بندوق اٹھائے، فوج کو غیر آئینی اقدام سے روکیں گے‘: چیف جسٹس

عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت فوج کو پابند کرے گی کہ وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھوں نے اپوزیشن اور حکومت میں ہوتے ہوئے بہت سے سپہ سالاروں سے ملاقاتیں کیں لیکن ان کا ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ملک ترقی کرے۔

لائیو کوریج

  1. توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت: ’مجھ سے تحائف کا کیا صرف اس لیے پوچھا جا رہا ہے تاکہ مجھے نااہل کر سکیں؟‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروانا شروع کر دیا ہے۔

    دوران سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین تحریک انصاف سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے شکایت کنندہ (الیکشن کمیشن) کے الزامات پڑھے ہیں؟ اس پر عمران خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھوں نے الزامات نہیں سنے کیونکہ ان کی موجودگی میں یہ بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے تھے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں فرد جرم بھی اُن کی موجودگی میں عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی انھیں فردِ جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ سیشنز عدالت نے ان کا نمائندہ مقرر کر کے گواہان کے بیانات ریکارڈ کروائے، اس بات سے قطع نظر کہ انھوں نے اپنا نمائندہ مقرر کرنے کی کوئی درخواست عدالت جمع نہیں کروائی تھی جبکہ ان کے وکلا نے سیشنز عدالت کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کی مخالفت بھی کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت خود سے اُن کا نمائندہ مقرر نہیں کر سکتی تھی۔ یاد رہے کہ اس کیس میں الیکشن کمیشن کے دو گواہان، کابینہ ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری اور اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر، کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

    تاہم اس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت کی ہدایت پر اپنا 342 کا بیان قلمبند کروانا شروع کیا۔ عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں گواہان کے بیانات قلمبند کرتے وقت ہر سماعت پر استثنیٰ دیا گیا اور سیشنز عدالت کے فیصلے کے مطابق اُن کے مقرر کردہ نمائندہ کا موقف بھی ٹھیک طرح نہیں لکھا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ملزم کی غیرموجودگی میں گواہان کا بیان ریکارڈ کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں قلمبند کیے گئے گواہان کے بیانات ان کے سامنے نہیں پڑھے جا سکتے۔

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عاشورہ کی چھٹیوں کے دوران انھیں گواہان کے بیانات مہیا کیے گئے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے شکایت دائر کرنے کے لیے کسی کو نامزد نہیں کیا اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر شکایت 120 دنوں کے بعد دائر کی گئی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے 2017 کے بعد سے اپنے اثاثہ جات ہر سال الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ان کے خلاف جو ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا وہ بدنیتی پر مبنی تھا۔ انھوں نے کہا کہ ریفرنس میں 2017-18 اور 2018-19 کے اثاثہ جات کا ذکر کیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن نے اس کے بعد کے اگلے برسوں کے بھی اثاثہ جات تک رسائی حاصل کی جو پی ڈی ایم حکومت کی بدنیتی ظاہر کرتی ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سنہ 2018-19 میں دائر جواب میں نہیں کہا گیا کہ 58 ملین روپے نجی بینک میں جمع کروائے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون میں نہیں لکھا کہ تحائف کے نام جمع کروائیں جائیں اور الیکشن کمیشن کے فارم بی میں تحائف کے نام لکھنے کا کالم موجود ہی نہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ گواہان نے تحائف کی مالیت کا چالان بھی عدالت میں جمع نہیں کروایا جبکہ ان سے تحائف کے حوالے سے دستاویزات بناتے وقت رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں صرف اتنا کہوں گا کہ تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو سوالنامے میں نہیں لکھا جا سکتا۔‘

    انھوں نے یہ اعتراض بھی عائد کیا کہ تحائف کے حوالے سے دستاویزات مہیا کرنے والا شخص بھی بطور گواہ عدالت پیش نہیں ہوا، تحائف کے حوالے سے دستاویزات کی نا تو تصدیق کی گئی اور نہ شہادت لی گئی۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں بینک ریکارڈ قابل قبول شہادت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ یہ ’کمپیوٹر جنریٹیڈ‘ دستاویزات ہے۔ سابق وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کرنے سے قبل اُن سے کبھی نجی بینک کا ریکارڈ طلب کیا ہی نہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نجی بینک کے حوالے سے ریکارڈ بنانے والا فرد بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ بینک سٹیٹمنٹ کا ریکارڈ اُن کی غیر موجودگی میں الیکشن کمیشن نے طلب کیا جبکہ بینک سٹیٹمنٹ کا ریکارڈ لینے اور جمع کروانے والا فرد بطور گواہ پیش نہیں ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ان سے 2018-19 میں چار تحائف کے بارے میں پوچھنا درست نہیں کیونکہ اُن کے پاس اسی سال یہ تحائف موجود نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ 2018-19 میں چار تحائف میرے پاس ہی تھے یا نہیں۔

    عمران خان نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کا پیش کیا گیا بنک ریکارڈ قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بھی درست نہیں کہ میں جھوٹا بیان اور ڈیکلریشن جمع کروایا، استغاثہ نے ایسا کوئی گواہ پیش نہیں کیا جس نے بتایا ہو کہ تحائف میں نے رکھا۔

    اس موقع پر سوال کیا گیا کہ الزام ہے آپ نے پانچ تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ استغاثہ کا یہ الزام درست نہیں۔ ’میں نے یہ تحائف اپنے ٹیکس گوشواروں کے فارم بی میں لکھے تھے۔ میں نے 2018-19 میں غلط اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے۔ ‘ انھوں نے کہا کہ انھوں نے 2020-21 میں اپنے ظاہر اثاثہ جات میں قیمتی تحائف کا ذکر کیا جس کے لیے 11 ملین روپے ادا کیے گئے۔

    نھوں نے کہا کہ ان کے ٹیکس کنسلٹنٹس نے قیمتی تحائف کا ذکر الیکشن کمیشن میں دائر اثاثہ جات میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ 2020-21 میں جمع کروائے گئے چالان توشہ خانہ، کیبنٹ ڈویژن اور الیکشن کمیشن میں بھی جمع ہیں۔

    ’یہ سوچنا عجیب ہے کہ الیکشن کمیشن نے پانچ تحائف پر کیسے اخذ کر لیا کہ میں نے جمع نہیں کروائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھ سے تحائف کا کیا اس لیے صرف پوچھا جا رہا ہے تاکہ مجھے نااہل کر سکیں؟‘ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت شکایت دائر کی گئی۔ شکایت کنندہ پر لازم تھا کہ وہ ثابت کرے کہ تحائف میرے پاس تھے جو اس نے ثابت نہیں کیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تحائف ذاتی طور پر فروخت نہیں کیے۔ ’میں نے بریگیڈیئر وسیم چیمہ کے ذریعے تحائف بیچے جن کو عدالت بطور گواہ نوٹس جاری کر سکتی ہے اور طلب کر سکتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2019-20 کے حوالے سے کبھی خریداروں کے نام نہیں پوچھے بلکہ الیکشن کمیشن نے آج تک کسی سے توشہ خانہ تحائف کے خریداروں کے نام نہیں پوچھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ تحائف پاس ہونے کے باوجود ظاہر نہ کرنے کے الزام پر شکایت کنندہ کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔ بیان ریکارڈ کروانے کا سلسلہ فی الحال جاری ہے۔

  2. عام شہریوں کے کیس فوجی عدالتوں میں چلانے کا معاملہ: سپریم کورٹ نے فل کورٹ کی تشکیل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز (عام شہریوں) کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    اس لارجر بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل نے زیر حراست سویلینز کی فہرست پبلک کرنے سے متعلق ہدایات کے لیے مہلت طلب کی تھی۔

    منگل کو ہونے والی سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس موقع پر فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ انھوں نے فل کورٹ تشکیل دینے کی تین وجوہات اپنی درخواست میں بیان کی ہیں اور بڑی وجہ یہ ہے کہ فوجی آمر پرویز مشرف بھی فل کورٹ فیصلے کی مخالفت نہیں کر سکے تھے جبکہ سپریم کورٹ کے ججز بشمول جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی بات کی ہے۔

    فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جا سکتا ہے تاہم عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں۔

    اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا دیگر درخواست گزاروں کا بھی یہی مؤقف ہے۔

    اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ صرف اپنی حد تک بات کر رہے ہیں جبکہ ایک اور درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا تاہم دو ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے اور یہ کہ دو ججز کے بینچ سے اٹھنے سے کوئی تنازع پیدا نہیں ہوتا۔

    اس دوران اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ انھوں نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر دو ججز بینچ چھوڑ گئے جبکہ ایک پر اعتراض کر دیا گیا۔

    درخواست گزاروں کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ بینچ پہلے یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا اس کیس کی سماعت فل کورٹ میں کی جائے یا موجودہ بینچ ہی سماعت کو جاری رکھے گا۔

    فل کورٹ سے متعلق دلائل سے قبل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نو مئی کے واقعات میں بہت سے لوگ ملوث تھے اور شواہد کی روشنی میں ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    اس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ گرفتاری سے قبل اگر کوئی انکوائری ہوئی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ انکوائری ریکارڈ پر موجود ہے۔

    چیف جسٹس نے دریافت کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنھوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، اس پر اٹارنی جنرل ن کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوجی ٹرائل کا سامنا کرنے والے زیر حراست افراد سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے اور تحریری جواب میں پورا چارٹ ہے کہ کتنی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے دریافت کیا کہ 102 گرفتار افراد کی گرفتاری کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا گیا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی روشنی میں افراد کو حراست میں لیا گیا۔

  3. اسحاق ڈار کا ’ملکی مفاد سامنے رکھتے ہوئے‘ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں لگ بھگ 20 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 19.95 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 19.90 روپے اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت بڑھ کر 272.95 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 273.40 روپے ہو گئی ہے۔ ان قیمتوں کا اطلاق فوری ہو گا۔

    وفاقی وزیر داخلہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ملکی مفاد سامنے رکھتے ہوئے‘ کم سے کم اضافے کا کم سے کم بوجھ عوام کو منتقل کیا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اگرچہ عالمی سطح قیمتوں میں اضافے پہلے ہوا مگر حکومت پاکستان نے اس ضمن میں اعلان میں تاخیر اس لیے کی کیونکہ حکومت چاہتی کہ وہ تمام ذرائع دیکھے جائیں جن کی مدد سے کم سے کم اضافی بوجھ عوام تک منتقل کیا جائے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’صبح وزیر اعظم سے اس حوالے سے بات چیت ہوئی اور انھوں نے کہا کہ جتنا کم ممکن ہو اتنا اضافہ کیا جائے، لیکن ہم سب کو معلوم ہے کہ ہماری آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم لیوی کے معاملے کچھ یقین دہانیاں اور شرائط ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے ایسا ہی کیا کہ آئی ایم ایف معاہدے میں ہونے کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کیں، جس سے ملک اور قوم کا نقصان ہوا۔

  4. توشہ خانہ کیس: عمران خان کا بیان ریکارڈ کرنے سے متعلق سماعت میں وقفہ, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا بیان ریکارڈ کرنے سے متعلق سماعت میں آج دن ساڑھے بجے تک کا وقفہ کر دیا ہے۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت کا آغاز جب منگل کی صبح کیا تو چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل مرزا عاصم بیگ عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور انھوں نے سماعت میں دن ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کرنے کی استدعا کی۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے مؤکل نے چند کیسز میں آج ہی شامل تفتیش ہونا ہے اور احتساب عدالت میں بھی پیش ہونا ہے اس لیے انھیں توشہ خانہ کیس میں پیش ہونے کے لیے کچھ وقت فراہم کیا جائے۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت میں دن ساڑھے 12 تک وقفہ کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس کیس میں پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران بیان قلمبند کرانے کے لیے سابق وزیراعظم عمران خان کو آج صبح (منگل) ساڑھے نو بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔ پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی تھی کہ 342 کا بیان قلمبند کرنے کے عمل کو ملتوی کر دیا تاہم عدالت نے اس استدعا کو مسترد کر دیا تھا۔

    اس کیس میں پہلے ہی الیکشن کمیشن کے دو گواہان، کابینہ ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری اور اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر، کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ اب اس کیس میں عمران خان کا بیان ریکارڈ ہونا ہے جس کے بعد اس کیس کا کارروائی آگے بڑھے گی۔

  5. باجوڑ حملہ ریاستی اداروں کی بڑی ناکامی، 26 انٹیلیجنس ایجنسیاں کہاں غائب تھیں: مولانا فضل الرحمان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@JUI_F

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ باجوڑ جیسے واقعات کے ذریعے اُن کی جماعت کا عوام سے رابطہ توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم اس نوعیت کے اقدامات سے نہ تو پہلے ان کی پارٹی کا راستہ روکا جا سکا ہے اور نہ ہی یہ آج ممکن ہو گا۔

    یاد رہے کہ جے یو آئی (ف) کے ورکرز کنونشن پر اتوار کے روز ہونے پر خودکش حملے میں 45 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے وقت مولانا فضل الرحمان دبئی میں موجود تھے تاہم یہ اطلاع ملنے کے بعد وہ اپنا دورہ مختصر کر کے پاکستان واپس پہنچے تھے۔ افغانستان میں برسراقتدار طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس خودکش حملے کی مذمت کی گئی ہے جبکہ ابتدائی طور پر داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس بابت ابھی تک کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ باجوڑ حملہ ایک بڑی انٹیلیجنس ناکامی ہے۔ ’کیا یہ مجھے اعتماد دلا سکتے ہیں کہ ریاست میری جان کی حفاظت کرسکتی ہے یا نہیں؟ یا ریاست صرف مجھ سے ٹیکس وصول کرے گی اور میری جان ومال کی حفاظت نہیں کریں گی۔ مجھے شکایت ہے کہ میں نے ریاست کو بچانے کے لیے قربانیاں دی ہیں، میں نے اس ریاست کی بقا اور استحکام کے لیے جدوجہد کی ہے، میں ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہوں لیکن اکیلے ایک جماعت کیا کر سکتی ہے، پوری قوم ریاستی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے۔‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کیا ہمارے ریاستی ادارے صرف اس بات کے لیے رہ گئے ہیں کہ وہ کسی غریب مولوی کو تھانے میں لے آئیں اور ان پر الزمات لگائیں کہ تمہارے پاس کسی نے کھانا کھایا یا چائے پی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں 26 انٹیلیجنس کے ادارے ہیں، مگر وہ غائب کہاں ہیں۔

    جے یو آئی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حربوں سے ان کی جماعت کو اپنی فکر اور نظریے سے نہیں ہٹایا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ حملے کے تناظر میں ان کی جماعت پہلے قبائلی زعما کا جرگہ اور پھر جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ موجودہ صورتحال پر غور کیا جا سکے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. آرمی ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور: اہم ترامیم کیا ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے موجودہ حکومت کی طرف سے آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ترامیم پر مبنی بِل کو منظور کر لیا ہے۔ سینیٹ یہ بل پہلے ہی پاس کر چکی ہے اور اب صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف کی عدم موجودگی میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ’پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2023‘ پیر کے روز ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا۔

    سینیٹ میں اس بل کے پیش کیے جانے کے موقع پر جماعت اسلامی نے اس پر اعتراض عائد کیا تھا جبکہ تحریک انصاف نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم بعدازاں تحریک انصاف نے اعلان کیا تھا کہ وہ تحقیقات کرے گی کہ اس کے سینیٹرز نے اس بل کے حق میں ووٹ کیوں دیا۔

    پیر کے روز اس بل کو قومی اسمبلی میں منظوری کے پیش کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس بل میں موجود کسی بھی ترمیم کا اطلاق سویلینز یعنی عام شہریوں پر نہیں ہو گا۔

    اس بل کے اغراض و مقاصد میں لکھا گیا ہے کہ اس بل کا مقصد افواج پاکستان کی تشکیل و تنظیم سازی کے لیے بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے، جیسا کہ فوج میں بھرتی کرنے کے اختیارات اور ملازمت کے اصول و شرائط، فلاحی سرگرمیوں میں شمولیت، قومی ترقیاتی کاموں اور دوسرے آپریشنل اور ادارہ جاتی معاملات جن کا ذکر سپریم کورٹ کے 28 نومبر 2019 کے فیصلے میں موجود ہے۔

    یاد رہے کہ 28 نومبر 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آئینی درخواست پر دیا گیا تھا۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آرمی ایکٹ میں اہم ترامیم کیا ہیں؟

    • قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے بل کے مطابق کوئی بھی شخص سرکاری حیثیت میں حاصل کی گئی ایسی معلومات، جو ملکی مفاد اور سلامتی کے لیے نقصان دہ بن سکتی ہوں، کو ظاہر کرتا ہے یا اسے ظاہر کرنے کا سبب بنتا ہے، اسے پانچ سال تک قید بامشقت کی سزا دی جا سکے گی۔ تاہم آرمی چیف یا ان کے نامزد کردہ افسر کی اجازت سے فراہم کی گئی مجاز معلومات کو اس سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
    • اس بل میں دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ جو افسر دوران سروس ایسے عہدے پر فائز رہا ہو جو آرمی ایکٹ کے تحت آتا ہو اور جسے ’حساس‘ قرار دیا گیا ہے وہ اپنی ریٹائرمنٹ، یا مستعفی ہونے، یا پھر برطرفی کے پانچ سال مکمل ہونے تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔
    • اس ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا شخص جو کسی ’حساس‘ عہدے پر تعینات رہا ہو وہ اپنی ریٹائرمنٹ، عہدے سے مستعفی ہونے یا برطرفی کے پانچ سال مکمل ہونے تک کوئی ملازمت بلخصوص کسی ایسی فرم میں بطور کنسلٹنٹ بھی کام نہیں کر سکتا جو کہ پاکستانی فوج اور اس کے اداروں کے مفادات کے خلاف ہو۔
    • اس کے علاوہ دیگر افسران یا اہلکار اپنی ریٹائرمنٹ یا برطرفی کے دو سال تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے اور اس کی خلاف ورزی کرنے اور جرم ثابت ہونے پر دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو گی۔ بل کے مطابق اس قانون کا اطلاق اس فوجی افسر یا اہلکار پر نہیں ہو گا جس نے اس معاملے میں آرمی چیف یا ان کے مقرر کردہ نمائندے سے پیشگی اجازت لی ہو۔
    • ایک اور منظور ہونے والی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی معلومات کسی دوسرے یا دشمن ملک کے فرد کو فراہم کرے جو کہ فوج کی سرگرمیوں سے متعلق ہو یا ایسی معلومات جو کہ فوج کو بدنام کرنے یا اسے کمزور کرنے کے زمرے میں آتی ہوں تو ایسے شخص کے خلاف مقدمہ آرمی اور سیکرٹ ایکٹ کے تحت چلایا جائے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پانچ سال تک سزا دی جا سکے گی۔
    • پاس ہونے والی ایک ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص سوشل میڈیا پر کسی ایسی مہم کا حصہ بنتا ہے جس کا مقصد فوج کو بدنام کرنا یا اسے کمزور کرنا ہو، یا اگر کوئی اہلکار کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو کہ پروینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا ایکٹ) کے زمرے میں آتا ہو تو اس شخص کے خلاف مقدمہ بھی فوجی عدالت میں چلایا جائے گا اور جرم ثابت ہونے پر اس کو دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔
  7. پاکستان کے مرکزی بینک کا شرح سود نہ بڑھانے کا اعلان

    گورنر سٹیٹ بینک نے پیر کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی نے ماضی میں ہونے والے دونوں اجلاسوں کے درمیان جو معاشی اتار چڑھاؤ آیا ہے اس کا جائزہ لیا ہے اور کمیٹی نے شرح سود کو 22 فیصد تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گورنر نے مزید کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ایکسٹرنل چیزوں، افراط زر میں پیش رفت کا بھی معائنہ کیا اور سی بی آئی میں سالانہ مہنگائی کا بھی جائزہ لیا گیا کیونکہ مئی میں افراط زر 38 فیصد تھا جو کہ جون کے مہینے میں کم ہوکر 29.4 فیصد رہ گیا ہے۔

    سٹیٹ بینک اپریل 2022 سے اب تک شرح سود میں 12.25 اضافہ کیا ہے۔ مرکزی بینک نے جون میں شرح سود میں تبدیلی نہیں کی تھی۔

  8. بریکنگ, توشہ خانہ ریفرنس میں بیان قلمبند کرانے کے لیے عمران خان منگل کو ذاتی حیثیت میں طلب, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    توشہ خانہ

    ،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN

    اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں بیان قلمبند کرانے کے لیے سابق وزیراعظم عمران خان کو منگل کی صبح ساڑھے نو بجے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے دائر کر دہ 342 کا بیان ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

    مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے اس توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی۔ اس ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے دو گواہان کے بیانات پہلے ہی قلمبند ہو چکے ہیں۔

    ان گواہان میں ایک گواہ کابینہ ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری اور دوسرے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر تھے۔ ان گواہان پر عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے جرح مکمل کی تھی۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنا بیان قلمبند کرانے کی التوا کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ آجکل 180 کیسز میں مختلف عدالتوں کے سامنے پیش ہورہے ہیں اور انھیں بیان کی تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔

    آج دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کے سامنے فرد جرم نہیں پڑھی گئی اور یوں سابق وزیراعظم پر فرد جرم عائد ہی نہیں ہوئی ہے۔ جج ہمایوں دلاور نے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ بیان حلفی دے سکتے ہیں کہ عمران خان کے سامنے فرد جرم نہیں پڑھی گئی۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے توشہ خانہ ریفرنس میں تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کو کل پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

  9. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست واپس

    درخواست گزار محمد حنیف راہی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست واپس لے لی ہے۔

    حنیف راہی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور آڈیو لیکس کمیشن کے دیگر دو ممبران کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ اس درخواست میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے اپنی کارروائی جاری رکھی جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

    اس درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراضات عائد کیے تھے، جس کے بعد ان اعتراضات پر درخواست سماعت کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر میں سنی جانی تھی۔ تاہم اب درخواست گزار کی طرف سے یہ درخواست واپس لینے کی وجہ سے نمٹا دی گئی ہے۔

  10. توشہ خانہ کیس: مقامی عدالت کی سابق وزیر اعظم عمران خان کو آج ہی اپنا بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت

    اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آج دن تین بجے کی مہلت دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کے وکلا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مؤکل کو سمجھائیں کہ اس کیس میں بیان ریکارڈ کروانا ضروری ہے۔

    پیر کی صبح جب توشہ خانہ کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو عدالت کو ایک بار پھر آگاہ کیا گیا کہ سابق وزیراعظم نے اب تک اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا جبکہ دوسری جانب ان کے وکلا نے اس ضمن میں ایک مرتبہ پھر مزید وقت دینے کی استدعا کی۔

    اس موقع پر عمران خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے اور انھوں نے جج کو آگاہ کیا انھیں 35 سوالات کل (اتوار) کو ہی فراہم کیے گئے ہیں اور ان سوالات کو بغور پڑھنے کے بعد ہی بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کوئی وکیل نہیں ہیں اور اسی لیے سوالنامہ پڑھ کر مکمل اطمینان کے بعد ہی بیان ریکارڈ کروائیں گے۔ سابق وزیر اعظم کی جانب سے یہ بات بتائے جانے کے بعد جج نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ (عمران خان) کی لیگل ٹیم آپ کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر خواجہ حارث چاہیں تو ایک ایک سوال آپ کو بتا اور سمجھا سکتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کے خلاف اس وقت 150 سے زائد کیسز زیرالتوا ہیں جن میں وہ شامل تفتیش ہیں اور انھیں دیگر عدالتوں میں پیش ہونا ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا ان کے لیے حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل اور عدالت کی جانب سے اس ضمن میں مزید استفسار اور سوالات کے بعد عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ گن پوائنٹ پر کیسز نہیں سنے جا سکتے۔

    جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ ’آپ کو بہت وقت دیا گیا، آپ نے بیان ریکارڈ نہیں کروایا، آج تیسرا دن ہے، آج چیئرمین پی ٹی آئی اپنا ریکارڈ بیان کروا دیں۔‘

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اس معاملے پر سماعت مؤخر کرتے ہوئے، دوبارہ سماعت کا وقت تین بجے دیا ہے۔

  11. سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کیس میں ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کیس میں ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی کہ یہ کیس مفادِ عامہ کا ہے لہٰذا اسے فل کورٹ میں سننا چاہیے۔

    درخواست گزار کرامت علی کے وکیل فیصل صدیقی نے فل کورٹ تشکیل دینے کی متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ’ماضی میں بھی فوجی ٹرائل سے متعلق کیس نو ممبرز بینچ یا فل کورٹ نے ہی سنا ہے۔

    ’موجودہ حکومت کے کئی وزراء بھی موجودہ بنچ پر پبلک میں تنقید کر چکے، فل کورٹ کے فیصلے پر آج تک اسٹیبلشمنٹ سمیت سب نے عمل کیا۔‘

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ حکومت کی جانب سے فل کورٹ بنانے کی استدعا پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

  12. چین کے ساتھ دوستی جاری رہے گی، کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے: وزیرِاعظم شہباز شریف

    pak china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے 10 برس مکمل ہونے پر ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ دوستی جاری رہے گی اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    انھوں نے ’انتہائی اہمیت کی حامل‘ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سی پیک میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری توانائی، آمد و رفت اور پبلک ٹرانسپورٹ میں لگائی گئی۔ اب ہم سی پیک کے دوسرے فیز میں داخل ہو گئے ہیں۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم صدر شی جن پنگ کے نظریے کے مطابق کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے لیے ایم ایل ون انتہائی اہم ہے، کراچی سرکلر ریلوے پراجیکٹ بھی۔‘

  13. عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔

    عمران خان کی درخواست کے متن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے نہیں روکا۔ حکم امتناع نہ دینے سے ٹرائل کورٹ میں سماعت مکمل ہو جائے گی۔

    درخواست کے مطابق ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ہائیکورٹ میں اپیلیں غیر موثر ہو جائیں گی۔ ہائیکورٹ کو حکم امتناع پر منظور یا مسترد کا آرڈر کرنا چاہیے تھا۔

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی کارروائی پر تحفظات کے حوالے سے درحواست دائر کی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے مقدمہ واپس ٹرایل کورٹ میں بھیج دیا یتھا۔

    عمران خان نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل سماعت کے لیے منظور کی جانے کی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ کو کارروائی آگے بڑھانے سے روکا جائے۔

    چیئرمین تحریک انصاف نے اپیل پر فوری سماعت کی درخواست بھی دائر کردی ہے۔

    توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف چئیرمین پی ٹی آئی کی آج دائر ہونے والی درخواست پر نمبر الاٹ کر دیا گیا ہے۔

  14. ’ہی لیفنگ اور ان کے وفد کی پاکستان آمد پر ان کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے نائب وزیر اعظم کے پاکستان کے سرکاری دورے پر اپنے پیغام میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہی لیفنگ اور ان کے وفد کی پاکستان آمد پر ان کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    شہباز شریف نے لکھا کہ ’ ہمیں خوشی ہے کہ سی پیک کی 10 ویں سالگرہ کے موقع پر وہ ہمارے ساتھ شامل ہیں اور اس گیم چینجر عمل سے ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے انھوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔

    واضح رہے حکومتِ پاکستان کی دعوت پر چینی صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندے، چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن ہی لیفنگ تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں موجود ہیں۔

  15. سعودی عرب اور یو اے ای کی سرمایہ کاری کی خبروں کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی ، انڈیکس میں ساڑھے نو سو پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز تیزی کا رجحان جاری ہے اور انڈیکس میں اب تک 950 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد انڈیکس 48 ہزار کی حد عبور کر چکا ہے۔

    اس وقت مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص خریداری میں دلچسپی کا رجحان جاری ہے۔

    تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کی وجہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خبریں ہیں۔

    اس کے ساتھ پاکستان منرل کانفرنس کے انعقاد نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

  16. بینک آف چائنہ اسلام آباد برانچ کا افتتاح: ’مشکل حالات میں تعاون کے انتہائی مشکور ہیں‘

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور یقین ہے کہ پاکستان کی معیشت جلد بہتر ہو جائے گی۔

    بینک آف چائنہ اسلام آباد برانچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بینک آف چائنا اور پاکستان کے درمیان تعاون جاری رہے گا۔

    انھوں نے چین کی حکومت کا پاکستان کے مشکل حالات سے نکالنے کے لیے ہر قسم کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور چین کے نائب وزیر اعظم اور ان کے وفد کی پاکستان آمد پر پاکستان کی جانب سے اظہار تشکر بھی کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے چینی قیادت کے ساتھ مل کر سی پیک کا منصوبہ شروع کیا تھا جس کے اثرات پاکستان کی ترقی میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔

    واضح رہے حکومتِ پاکستان کی دعوت پر چینی صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندے، چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن ہی لیفنگ تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں موجود ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چینی نائب وزیر اعظم اپنے دورہ کے دوران سی پیک کی 10ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔

    وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی دہائی منانے والی تقریب میں بطور مہمان خصوصی بھی شرکت کریں گے۔

  17. پاکستان میں نگراں حکومت کا تصور کب آیا اور اب اسے ’بااختیار‘ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

  18. وائلنٹ ایکسٹریمزم بل 2023: انتہا پسندی کی روک تھام سے متعلق قوانین کی موجودگی میں نئے بل کا مقصد کیا تھا؟

  19. ہائی سکیورٹی زون کے علاوہ شہر بھر کے تمام راستے کھلے ہیں: اسلام آباد پولیس

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی سکیورٹی زون کے علاوہ شہر بھر کے تمام راستے کھلے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ہائی سکیورٹی زون میں سرینا اور ایکسپریس چوک سے گاڑیاں داخل ہوسکتی ہیں۔ شہر بھر تمام معاملات معمول کے مطابق ہیں۔

    واضح رہے کہ چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فنگ تین روزہ دورے پرپاکستان میں موجود ہیں جس کے باعث اسلام آباد میں مقامی سطح پر پیر اور منگل کے روز چھٹی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

    اس دوران اسلام آباد میں چلنے والی میٹرو بس سروس بھی معطل رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے اعلامیے میں شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں۔

    پولیس کے مطابق ’موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہے۔ ضلع بھر میں سکیورٹی چیکنگ سخت کردی گئی ہے۔ شہری دوران چیکنگ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔‘

    پولیس نے کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق پکار 15 پر اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔

  20. سی پیک کی 10ویں سالگرہ: چین کے نائب وزیر اعظم پاکستان کے دورے پر، آج تقاریب میں شرکت کریں گے

    china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومتِ پاکستان کی دعوت پر چینی صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندے، چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن ہی لیفنگ اتوار کو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چینی نائب وزیر اعظم اپنے دورہ کے دوران سی پیک کی 10ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی دہائی منانے والی تقریب میں بطور مہمان خصوصی بھی شرکت کریں گے۔

    چینی نائب وزیر اعظم ہی لیفنگ نے چین کے بین الاقوامی اقتصادی تعلقات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نفاذ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جن میں سے سی پیک ایک اہم منصوبہ ہے۔

    نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے چیئرمین (2017-2023) کے طور پر انھوں نے پاکستان میں سی پیک کے متعدد منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کیا۔

    یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مذاکرات کا حصہ ہے۔

    چینی نائب وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور چین کی طرف سے اپنی ’آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ کو مزید گہرا کرنے سے منسلک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے مسائل پر حمایت کی توثیق، اقتصادی اور مالی تعاون کو بڑھانا، سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔