’نہیں چاہتے فوج شہریوں پر بندوق اٹھائے، فوج کو غیر آئینی اقدام سے روکیں گے‘: چیف جسٹس

عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت فوج کو پابند کرے گی کہ وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھوں نے اپوزیشن اور حکومت میں ہوتے ہوئے بہت سے سپہ سالاروں سے ملاقاتیں کیں لیکن ان کا ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ملک ترقی کرے۔

لائیو کوریج

  1. توشہ خانہ کیس: ’چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں،‘ عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے توشہ خانہ کیس میں گواہان سے متعلق بدھ کے روز ہونے والی سماعت کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی جانب سے پیش کیے گئے گواہان کا کیس سے تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے ان گواہان کو عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل نے عدالت میں چار گواہان پر مشتمل فہرست پیش کی تھی۔ اپنے فیصلے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہمایوں دلاور نے لکھا ہے کہ سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل گوہرعلی نے اقرار کیا کہ چاروں گواہان ٹیکس کنسلٹنٹ یا اکاؤنٹنٹ ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نہ تو انکم ٹیکس کا کیس دیکھ رہی ہے اور نہ ہی چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف شکایت انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت درج کی گئی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف شکایت الیکشن ایکٹ کے تحت درج ہے اس لیے گواہان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں بنتا جس کی بنیاد پر ان کے بیانات ریکارڈ نہیں کروائے جا سکتے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت آج (جمعرات) دن 11 بجے اس کیس کے حوالے سے حتمی دلائل سنے گی اور فیصلہ محفوظ کر لے گی۔

    یاد رہے کہ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی دو گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف نے سیشنز کورٹ میں ہونے والی اس کارروائی کو رکوانے کی غرض سے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی جسے بدھ کے روز مسترد کر دیا گیا تھا۔

  2. سینیٹ اجلاس: رضا ربانی نے بل کی کاپی پھاڑ دی’ ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھے راجواڑے میں بھیج دیا گیا ہے‘

    رضا ربانی

    ،تصویر کا ذریعہPTV/ Screen Grab

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینٹ کے اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل پیش کیا گیا تو سینیٹر رضا ربانی نے قانون سازی کے دوران اپنی ترامیم شامل نہ کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بل کی کاپی پھاڑ دی۔

    رضا ربانی نے سینیٹ سے خطاب میں کہا کہ ’مجھے پیپلز پارٹی نے سینٹ آف پاکستان میں بھیجا تھا لیکن مجھے لگ رہا ہے جیسے مجھے راجواڑے میں بھیجا گیا ہے کہ جہاں میری آنکھوں پر پٹی ہو اور جو منسٹر صاحبان کہیں اور جو کیبنیٹ سے منظور ہو کر آ جائے میں ان کی ہاں میں ہاں ملاوں۔‘

    سینیٹر رضا ربانی نے اپنی ٹیبل پر رکھی بل کاپی پھاڑی اور کہا کہ ’میرا حق تھا ترامیم کا جسے 10 روز سے مجھ سے چھینا جا رہا ہے۔ مجھے لگا میں اپنا وقت ضائع کر رہا ہوں اس لیے میں آپ کا بل پھاڑ رہا ہوں۔‘

    رضا ربانی کے مطابق ’میں پارٹی پالیسی کا پابند ہوں ۔ میرے بطور پارلیمنٹرین کے حقوق سلب ہو رہے ہیں ۔ میں نے اپنی ترامیم صبح دیں اور وہ شامل ہی نہیں ہوئیں۔‘

    انھوں نے چیئرمین سینیٹ کو محاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایوان میں میری ترامیم پیش کریں بے شک اسے ایوان مسترد کردے لیکن اگر آپ بل ایسے ہی منظور کرنا چاہتے ہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا آج اس سے دو ہاتھ آگے ہو رہا ہے۔‘

  3. پاکستانی فوج اور پیپلز لبریشن آرمی مل کر اجتماعی مفادات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے: آرمی چیف

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات منفرد اور مضبوط ہیں ، دونوں ممالک نے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا ، دونوں ممالک کی افواج اور عوام کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 96 ویں سالگرہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں منائی گئی جس میں آرمی چیف مہمان خصوصی تھے۔

    پاک فوج سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی فوج اور پیپلز لبریشن آرمی کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم مل کر اجتماعی مفادات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق چینی ناظم الامور نے تقریب کی میزبانی پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر سی پیک کے آغاز کی 10 ویں سالگرہ منائی، دونوں ملکوں میں اسٹریٹجک تعاون پرمبنی شراکت داری وقت کی آزمائش اور بین الاقوامی منظرنامے کی تبدیلی پر پورا اتری ہے۔

  4. راجہ ریاض، نور عالم سمیت مزید 13 ارکان کی پی ٹی آئی کی رکنیت ختم، سابق ایم پی اے ملک شوکت علی کو شوکاز نوٹس جاری

    پی ٹی آئی نے راجہ ریاض، نور عالم سمیت مزید 13 ارکان کی رکنیت ختم کر کے پارٹی سے نکال دیا جبکہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر ملک شوکت علی کو بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر ان 13 پارٹی ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کر کے پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق ’ برطرفی کے نوٹس میں ان تمام رہنماوں کو کسی بھی طرح سے پارٹی کا نام اور عہدہ استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    تحریک انصاف کے مطابق سابق ایم پی اے خیبرپختونخوا ملک شوکت علی کو مجاز اتھارٹی کے علم میں لائے بغیر نئی پارٹی اجلاس میں شرکت پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق شوکت علی سے دو دن کے اندر وضاحت طلب کرلی ہے۔

  5. بریکنگ, توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی جانب سے گواہان پیش کرنے کی استدعا مسترد, شہزاد ملک، بی بی اردو، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN/FACEBOOK

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ سے تحائف خرید کر اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے اور پھر انھیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد کی مقامی عدالت نےملزم کی طرف سے گواہان پیش کرنے کی استدعا کو مسترد کردیا ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے وکیل گواہان کا اس کیس سے تعلق قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔عدالت نے فریقین سے جمعرات کو حتمی دلائل طلب کر لیے ہیں۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ کے مقدمے میں منگل کے روز متعلقہ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

    مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نےبدھ کو اس مقدمے کی سماعت شروع کی تو عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت سے استدعا کی کہ گواہوں کی لسٹ تیار کرنے کے لیے کچھ وقت دیا جائے جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’یہ مقدمہ غلط ڈکلریشن کا ہے گواہوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’گواہوں کی لسٹ کیس کو التوا میں ڈالنے کی کوشش ہے۔‘

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ جو لسٹ پیش کی گئی ہے اس میں گواہ عثمان علی کون ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ محمد عثمان علی فارم بی سمیت تمام دستاویزات تیار کیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پٹیشن کلائنٹ خود نہیں بلکہ اس کا وکیل دائر کرتا ہے۔

    عدالت نے سابق وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایشو فارم بی ہے اس پوائنٹ پر آئیں‘ جس پر عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ میں اپنے اکاؤنٹنٹ کو عدالت کے سامنے بطور گواہ لانا چاہتا ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرا کیس یہ ہے کہ اس وقت میرے پاس تحائف نہیں تھے۔‘

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل دس اے جو کہ فیئر ٹرائل سے متعلق ہے، اس کے مطابقمقدمہ چلایا جائے اور یہ ہمارا حق ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پراسیکوشن یہ نہیں کہہ سکتی کہ کونسا غلط ہے کون سا صحیح ہے یہ ہمارا حق ہے۔‘

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’ملزم عمران خان نے آج پرائیویٹ گواہ پیش نہیں کیے اور ملزم نے سرکاری گواہان کی فہرست بھی پیش نہیں کی۔‘

    عدالت کا کہنا تھا کہ ’آج جمع کروائی گئی گواہوں کی فہرست میں ٹیکس کنسلٹنٹ اور ایک اکاؤنٹنٹ شامل ہیں۔‘

    عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کےمطابق کیس فارم بی اور جھوٹے ڈیکلریشن کا ہے اوریہ غیر متعلقہ گواہ ہیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سماعت کے دوران آپ کو بتایا گیا تھا کہ آج گواہ پیش کرنے ہیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھا تھا کہ آپ فیصلہ کررہے ہیں گواہ آیا ہے یا نہیں۔ مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ گواہان کے متعلقہ ہونے پر فیصلہ دیں گے۔ ‘

    سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’گواہ پیش کرنا ہمارا حق ہے اور ملزم کے وکیل کے مطابق تمام گواہ اس کیس سے متعلقہ ہیں عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کے خلاف فرد جرم میں اثاثے چھپانے کا الزام ہے۔‘

  6. فوجی عدالتیں قانون کے تحت ہیں لیکن آئین کے آرٹیکل 175 سے مستثنٰی ہیں: اٹارنی جنرل

    سپریم کورٹ میں سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجر بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔

    سپریم کورٹ نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت فل کورٹ سے کروانے سے متعلق درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

    اس سے پہلے سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر عدلیہ اور مقنّنہ کے دائرہ کار میں تفریق کیسے کریں گے؟

    اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’کورٹ مارشل کا دائرہ کار الگ کیا گیا ہے۔ میں اس معاملے پر لیاقت حسین کیس سمیت مختکف فیصلے پڑھوں گا۔‘

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں کہ فوجی عدالتیں قانون کے مطابق نہیں ہیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’یہ عدالتیں قانون کے تحت بنی ہیں لیکن آئین کے آرٹیکل 175 سے مستثنٰی ہیں ۔ میں عدالتی سوالات کا بھی جواب دوں گا۔ کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے تحت نہیں آتا‘۔

    اس پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا ’اگریہ بات ہے تو درخواستوں گزاروں کا استدلال درست نہیں ہو جاتا؟ درخواست گزار یہی کہہ رہے ہیں سویلین شہریوں کےبنیادی حقوق ہیں۔ بنیادی حقوق تو پھر آرٹیکل 175 کے تحت قائم عدالتیں ہی دیکھیں گی۔‘

    اس موقعے پر جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا ’جو زیر حراست 102 افراد ہیں ان کے ٹرائلز کس عدالت میں ہوں گے؟ مارشل لاء کورٹس یا ملٹری کورٹس میں؟

    اٹارنی جنرل کا جواب تھا کہ ’ملٹری کورٹس میں ان افراد کا ٹرائل ہو گا۔‘

    چیف جسٹس نے پوچھا ’اگر فوجی عدالتیں ہی آئینی عدالت میں اپیل کا حق دیا جائے تو کیا ہو گا؟ ملٹری کورٹس تو پھر کسی ہائی کورٹ کے زیر نگرانی نہیں ہو گی؟کیا ایسی صورتحال میں ملٹری کورٹس آرٹیکل 175 کے تابع آ جائیں گی۔‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں اپیل کے حق سے ملٹری کورٹس پھر عام عدالت بن جائیں گی۔‘

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ ’شہریوں کے بنیادی حقوق تو آئین کے آرٹیکل175 سے بنی عدالت میں ہی ہوتے ہیں۔ فوجی عدالتوں میں شہریوں کے یہ حقوق کیسے ملیں گے؟‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’جسٹس منیب اختر کے سوالات کے جوابات میں جسٹس عائشہ ملک کے جوابات بھی بتاؤں گا۔‘

    جسٹس اعجاز الااحسن کا کہنا تھا کہ ’ملٹری کورٹس بھیجنے کے لیے کسی سول شہری کا فوج یا ان سے براہ راست تعلق لازم ہے۔‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا ’لیاقت حسین کیس کے مطابق تعلق ہونا لازم ہے۔ گذشتہ سماعت پر جسٹس منیب اختر نے کہا تھا کہ حکومت جانے والی ہے تو اٹارنی جنرل کیسے یقین دہانی کرا سکتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وجہ سے براہ راست جی ایچ کیو سے ہدایات لی ہیں، ممکن ہے ایک ہفتے بعد میں اور حکومت نہ ہوں اس لیے ڈائریکٹ ہدایات لی ہیں۔‘

    جسٹس منیب اختر ’سویلین کے لیے ملٹری کورٹس ایک متوازی جوڈیشل سسٹم نہیں ہوگا۔‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا ’گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کئی قوانیں منظور ہوچکے ہیں۔ آرمی ایکٹ میں بھی کئی ترامیم ہوچکی ہیں۔ کچھ کمیٹی میٹنگز میں شرکت کرسکا کچھ میں نہیں، کچھ ترامیم کا پتہ نہیں۔

  7. کوئٹہ میں نامعلوم افراد کے دو حملوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو نامعلوم مسلح افراد کے حملوں میں اب تک تین پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بدھ کے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئٹہ شہر میں پولیس اہلکاروں پر یہ دوسرا حملہ تھا- دونوں حملوں میں مجموعی طور پر تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایس پی سٹی شفقت جنجوعہ نے بتایا کہ پولیس اہلکار ہزارہ ٹاؤن سے ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اسپنی روڈ پر بے نظیر پل کے قریب حملہ کیا۔ مارے جانے والے پولیس اہلکارکی شناخت جواد احمد کے نام سے ہوئی ہے جن کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا۔

    ایس پی سٹی نے بتایا کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    گدشتہ روز نواں کلی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    نواں کلی میں مارے جانے والے دونوں پولیس اہلکاروں کا تعلق بھی ہزارہ قبیلے سے تھا۔ ہزارہ قبیلے کے افراد کا تعلق شعیہ مسلک سے ہے۔ کوئٹہ پولیس کے ایک اور سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ان واقعات کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہیں۔

  8. ’ہمیں تنقید کی کوئی پرواہ نہیں‘ فوجی عدالتوں میں مقدمات سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت فل کورٹ سے کروانے سے متعلق درخواستیں مستردُ کی ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجر بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ستمبر تک فل کورٹ بینچ دستیاب نہیں ہے، جہاں پر دلائل رُکے تھے وہاں سے ہی شروع کر دیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اپنا کام جاری رکھیں گے، کوئی پسند کرے یا نہ کرے۔ ملک میں کون سا قانون چلے گا یہ فیصلہ عوام کریں گے۔ ہم نے کام ٹھیک کیا یا نہیں تاریخ پر چھوڑتے ہیں۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، تاریخ سب دیکھ رہی ہے۔ ہمیں تنقید کی کوئی پرواہ نہیں۔‘

    ٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ ’گرفتار افراد کی فیملیز سے ملاقات سمیت تمام یقین دہانی ہم کروا چکے ہیں۔

    ’کل لطیف کھوسہ نے گرفتار ملزمان سے ناروا سلوک کی شکایت کی، میں نے خود چیک کیا، کسی ملزم کے ساتھ ناروا سلوک نہیں ہوا۔ ملزمان کو صحت سمیت تمام سہولیات میسر ہیں، ملزمان کے خلاف ناروا سلوک ہوا تو ایکشن ہوگا۔‘

  9. توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد: ’ہوسکتا ہے جو ریلیف آپ مانگ رہے ہیں وہ ہائیکورٹ فیصلہ کر دے‘

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے توشہ خانہ کیش کی سماعت کی جس میں جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو ریلیف آپ نے مانگا، وہ ہم نے دے دیا تھا۔ حیرت ہے آپ نے پھر بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

    انھوں نے استفسار کیا کہ ’ہائیکورٹ میں کیس اب کب کے لیے مقرر ہے؟‘ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ’کیس کل ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہے، اصل سوال دائرہ اختیار کا ہے۔‘

    جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی درخواست غیر مؤثر ہوچکی تھی، پھر بھی ہم نے سنا اور آرڈر دیا۔

    ’ہم صورتحال کو سمجھ رہے ہیں، ہم نے سمجھا تھا ہائیکورٹ آپ کو بہتر آرڈر دے گی۔ ہم نے حکمنامے میں لکھا تھا ہائیکورٹ درخواستوں کو اکھٹا سنے۔ ہوسکتا ہے جو ریلیف آپ مانگ رہے ہیں، وہ ہائیکورٹ فیصلہ کردے، پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیں۔‘

    خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ ’ہائیکورٹ نے حکم امتناع نہیں دیا اس لیے سپریم کورٹ آئے ہیں۔‘

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’ہم اس وقت ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، عدالت اگر آپ کو ریلیف نہیں ملتا تو سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔

    ’ہم نے حکمنامے میں لکھا تھا ہائیکورٹ درخواستوں کو اکٹھا سنے۔ سپریم کورٹ سے حکم لینے کی بجائے ہائیکورٹ کے حکم انتظار کرنا بہتر ہو گا۔‘

    کیس کی سماعت جمعے ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ الیکشن کمیشن حکام کو چار اگست کو طلب کیا گیا ہے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

  10. بریکنگ, سپریم کورٹ کی فوجی عدالتوں کے معاملے میں فُل کورٹ بنانے، توشہ خانہ کی کارروائی روکنے کی درخواستیں مسترد

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف درخواست پر فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

    بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سنایا کہ فل کورٹ ستمبر تک دستیاب نہیں اس لیے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت یہی بینچ کرے گا۔

    ادھر عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں مقامی عدالت میں جاری ٹرائل روکنے کی استدعا بھی مسترد کی گئی ہے۔ توشہ خانہ کیس کے ٹرائل سے متعلق سماعت چار اگست تک ملتوی کی گئی ہے۔

  11. نئی حلقہ بندیوں کے لیے درکار آئینی ترمیم بروقت الیکشن میں رکاوٹ بن سکتی ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال

    احسن اقبال

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وہ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ اگر نئی مردم شماری کے تحت انتخابات ہوتے ہیں تو اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے آئینی تقاضے سے تجاوز کرنا پڑے گا کیونکہ نئی مردم شماری کے نوٹیفیکیشن کے بعد الیکشن کمیشن کو حلقہ بندی کے عمل کو (نئی مردم شماری کی روشنی میں) دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے کہ الیکشن نئی مردم شماری کے تحت ہوں گے یا پرانی پر۔

    انھوں نے کہا کہ 2017 میں بھی ایسی ہی صورتحال درپیش تھی جب مردم شماری کا پروویزنل نتائج آ چکے تھے جس کے بعد چند لوگ سپریم کورٹ گئے کہ 2018 کا الیکشن 2017 کی مردم شماری پر ہونا چاہیے۔ ’اس وقت حکومت نے آئینی ترمیم کر کے کہا کہ جو پرویزنل نتائج آئے ہیں انھیں حتمی نتائج سمجھتے ہوئے الیکشن کمیشن حلقہ بندی کا عمل شروع کر دے۔‘

    اس سوال پر کہ اب حکومت کے پاس اس ضمن میں آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار نہیں ہے تو کیا نگراں سیٹ اپ اپنی مدت سے زیادہ عرصے چلے گا؟ احسن اقبال نے کہا کہ اس معاملے میں آئینی ترمیم واقعی ایک رکاوٹ ہو گی اور یہی وہ معاملات ہیں جن کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کوئی آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ن لیگ نے اس معاملے پر کوئی یو ٹرن نہیں لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا پلان تھا کہ رواں ماہ مارچ کے مہینے تک مردم شماری کا عمل مکمل کیا جانا تھا مگر صوبوں کی حد تک یہ عمل سست روی کا شکار رہا جس کی وجہ سے یہ معاملہ چند ماہ لیٹ ہوا۔

  12. عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس 22 اگست تک ملتوی

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے کی۔

    عمران خان کی جانب سے وکیل شعیب شاہین، پیش فواد چوہدری کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری جبکہ اسد عمر ذاتی حیثیت میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

    عمران خان کے وکیل شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’مجھے ابھی بھی مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔‘ انھوں نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی اور عمران خان کی ذاتی حیثیت میں پیشی سے استثنیٰ کی درخواست دی۔

    شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کئی دنوں سے روزانہ عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔

    سماعت کرنے والے بینچ میں شامل اکرام اللہ خان کا کہنا تھا کہ آج تو چیئرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کرنا تھی اور ان کی توہین عدالت کیس میں ’استثنیٰ کی درخواست کیسے منظور کر لیں؟‘

    ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان پر تاحال جرم ثابت نہیں ہوا۔ توہین الیکشن کمیشن پر کارروائی 22 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  13. توشہ خان کیس میں جج کے ریمارکس: ’گواہان کی لسٹ پیش نہ کی تو آپ کا حق ختم کر دیں گے‘

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ اگر سابق وزیر اعظم کے وکلا کی جانب سے گواہان کی فہرست پیش نہ کی گئی تو ان کا یہ حق ختم کر دیا جائے گا۔

    سماعت کے آغاز میں الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری اور مرزا عاصم بیگ عدالت میں پیش ہوئے۔

    وکیل خالد یوسف نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کے مرکزی وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں اور انھیں 12 بجے تک کا وقت دیا جائے۔

    وکیل الیکشن کمیشن سعد حسن نے کہا کہ آج انھوں نے گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کرنی تھی۔

    جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو وکلا کو مخاطب کر کے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے عدالت میں آج گواہان کی لسٹ پیش نہ کی تو آپ کا رائٹ ختم کردیں گے۔‘

    عدالت نے کیس کی سماعت میں 12 بجے تک کا وقفہ دیا ہے۔

  14. ’پیپلز پارٹی الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما پیپلز پارٹی اور وفاقی وزیر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت عام انتخابات میں تاخیر کے حق میں نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سندھ کو مردم شماری پر اعتراضات ہیں، وزیر اعلیٰ کے خط کا جواب نہیں دیا گیا۔

    ’اگر وزیر اعظم واقعی 2023 کی مردم شماری کے تحت الیکشن کرانا چاہتے ہیں تو اس مردم شماری کے نتائج کی منظوری سی سی آئی (مشترکہ مفادات کونسل) نے دینی ہے۔ آرٹیکل 51 (3) میں آئینی ترمیم درکار ہوگی۔‘

  15. ’آئی ایس آئی اور آئی بی بغیر وارنٹ کے زور زبردستی تلاشی لے سکتی ہیں‘: آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترامیم منظور

    پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے منگل کو ہونے والے اجلاس میں ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل 2023‘ کی منظوری دی ہے، جس کے تحت ملک کی ’انٹیلیجنس ایجنسیاں جس سے مراد آئی ایس آئی اور آئی بی ہیں اب بغیر وارنٹ کے تلاشی لے سکیں گے اور ضروری ہوا تو پھر اس مقصد کے لیے طاقت کا بھی استعمال کر سکیں گی۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے اس بل کو منظوری کے لیے پیش کیا، جسے کچھ اراکین کی طرف سے احتجاج کے باوجود منظور کر لیا گیا۔

    بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے، ریاست کے خلاف کام کرتا ہے، ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا، پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ان جرائم پر تین سال قید، دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

    اس بل کے مطابق تفتیشی ایف آئی اے کا آفیسر ہوگا اور اس افسر کی تقرری ڈی جی ایف آئی اے کرے گا۔ تاہم بل کے مطابق ضرورت پڑنے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی جاسکے گی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنانے کی مجاز ہو گی۔

  16. ’نئی مردم شماری کے تحت ہی الیکشن میں جانا ہے، گیند اب الیکشن کمیشن کے کورٹ میں ہے‘: وزیراعظم شہباز شریف

    PM

    ،تصویر کا ذریعہEhtisham

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے نجی ٹی وی چینل آج نیوز پر صحافی عاصمہ شیرازی کو دیے گئے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’نئی مردم شماری کے تحت ہی الیکشن میں جانا ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ یہ مشترکہ مفادات کونسل کا معاملہ ہے اور امید ہے کہ سی سی ائی کی (اس حوالے سے) میٹنگ ہو جائے گی۔

    وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ ’جونہی (نئی مردم شماری کے) نتائج مکمل ہوتے ہیں تو پھر اس (معاملے) کو سی سی آئی میں لے کر جائیں گے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ جب مردم شماری ہوئی ہے تو پھر انتخابات بھی اس کے تحت ہونے چاہییں اور اب گیند الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے کہ وہ کتنے عرصے میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنا سکتا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’حلقہ بندیاں کرنا اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے، انتخابات میں تاخیرکا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

    سیاسی مبصرین کے خیال میں اگر نئی مردم شماری کے نتائج نوٹیفائی ہوتی ہے تو 90 روز میں انتخابات کا انعقاد مشکل ہو جائے گا۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ہم 90 دن میں انتخابات کے لیے آئینی تقاضے پورے کررہے ہیں۔‘

    ’نگراں سیٹ اپ کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے‘

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی مدت مکمل کرنے والی ہے، 12 اگست کو حکومت اپنی مدت مکمل کرلے گی، اور نگراں سیٹ اپ کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جب کہ اس حوالے سے نوازشریف سے بھی مشاورت جاری ہے، نام فائنل ہونے پر اپوزیشن لیڈر راجا ریاض سے بات ہوگی۔

  17. تحریک انصاف نے عثمان بزدار کی بنیادی رکنیت ختم کر دی

    پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کی طرف عثمان بزدار کو یہ نوٹس بھیج دیا گیا ہے کہ ان کی پارٹی چھوڑنے کی خبر میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوئی ہے، جو انھوں نے 2 جون کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا ہے۔

    تحریک انصاف نے عثمان بزدار کو خبرادر کیا ہے کہ وہ اب مستقبل میں پارٹی کا نام کسی بھی صورت استعمال نہ کریں۔

    تحریک انصاف نے جن دیگر 21 شخصیات کی رکنیت ختم کی ہے ان میں مخدوم خسرو بختیار بھی شامل ہیں، جو تحریک انصاف کے دور حکومت میں وفاقی وزیر تھے۔

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

  18. کوئٹہ میں مسلح افراد کے حملے میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پرمامور دو پولیس اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    فائل فوٹو بلوچستان سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پرمامور دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    یہ واقعہ کوئٹہ شہرکے علاقے نواں کلی میں زرغون آباد پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔

    زرغون آباد پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکارنے بتایا کہ اس علاقے میں ایک پولیو ٹیم بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے میں مصروف تھی۔

    اہلکار کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے پولیوٹیم کی سکیورٹی پرمامور دونوں پولیس اہلکاروں پرفائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے۔

    ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت شوکت علی اورسیّدمہدی کے ناموں سے ہوئی۔ مارے جانے والے دونوں پولیس اہلکاروں کا تعلق ہزارہ قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگراضلاع میں آج سے سات روزہ پولیو مہم شروع ہوگئی ہے جس کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 25 لاکھ 99 ہزار بچوں کوپولیو سے بچاِو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    دریں اثناء وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجواوروزیرداخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے زرغون آباد تھانے کی حدود میں پولیو ڈیوٹی پرمامورپولیس اہلکار وں پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہیں۔

    اپنے الگ الگ بیانات میں انہوں نے کہا کہ ’واقعہ انتہائی افسوسناک اورہمارے بچوں کے صحتمند مستقبل کے خلاف مذموم سازش ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے پولیو مہم ناکام بنانا چاہتے ہیں لیکن پولیو مہم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اور سماج دشمن عناصر کے مزموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔‘

  19. فوجی عدالتوں میں صاف شفاف ٹرائل ہونا ممکن نہیں: درخواست گزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    Jawad S Khawaja J

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس درخواست گزار پاکستان کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہیں۔

    انھوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی مدت جلد ختم ہونے والی ہے، چند روز بعد حکومت کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔

    سابق چیف جسٹس کے مطابق سویلینز کے ملٹری عدالت میں ٹرائل کر کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے ہیں، حکومت قانون سازی کے ذریعے بنیادی حقوق ختم کرنا چاہتی ہے۔

    قانون سازی کے ذریعے بنیادی حقوق کی فراہمی کو تسلیم کیا جائے تو حقوق دینا حکومت کے اختیار میں آ جائے گا۔

    درخواست گزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ’فوجی عدالتوں میں صاف شفاف ٹرائل ہونا ممکن نہیں ہے۔‘

    ان کے مطاق ’ان فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ بینچ کی تشکیل جو بھی ہو تمام ججز کو اپنے حق کے مطابق بلا خوف و خطر فیصلہ کرنا چاہیے، جج کو فیصلہ کرنے بعد اس کی نتائج کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔‘

    یہ تحریری معروضات سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل کی جانب سے جمع کروائی گئیں۔

  20. چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں 4 اگست تک توسیع, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    احتساب عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف قائم 190 ملین پاؤنڈز اور توشہ خانہ ریفرنسز پر کارروائی 4 اگست ملتوی کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت میں بھی آئندہ تاریخ تک توسیع کر دی۔

    خیال رہے کہ بشریٰ بی بی بھی آج عمران خـان کے ہمراہ احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔