توشہ خانہ کیس: ’چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں،‘ عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے توشہ خانہ کیس میں گواہان سے متعلق بدھ کے روز ہونے والی سماعت کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی جانب سے پیش کیے گئے گواہان کا کیس سے تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے ان گواہان کو عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل نے عدالت میں چار گواہان پر مشتمل فہرست پیش کی تھی۔ اپنے فیصلے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہمایوں دلاور نے لکھا ہے کہ سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل گوہرعلی نے اقرار کیا کہ چاروں گواہان ٹیکس کنسلٹنٹ یا اکاؤنٹنٹ ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نہ تو انکم ٹیکس کا کیس دیکھ رہی ہے اور نہ ہی چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف شکایت انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت درج کی گئی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف شکایت الیکشن ایکٹ کے تحت درج ہے اس لیے گواہان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں بنتا جس کی بنیاد پر ان کے بیانات ریکارڈ نہیں کروائے جا سکتے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت آج (جمعرات) دن 11 بجے اس کیس کے حوالے سے حتمی دلائل سنے گی اور فیصلہ محفوظ کر لے گی۔
یاد رہے کہ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی دو گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف نے سیشنز کورٹ میں ہونے والی اس کارروائی کو رکوانے کی غرض سے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی جسے بدھ کے روز مسترد کر دیا گیا تھا۔









