فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ

فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. آصف زرداری اور شہباز شریف میں تنازع کی وجہ نہیں بننا چاہتا، نجم سیٹھی

    پاکستان کرکٹ بورڈ چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وہ آصف زرداری اور شہباز شریف کے درمیان تنازع کی وجہ نہیں بننا چاہتے اور موجودہ حالات میں پی سی بی چیئرمین کے عہدے کے امیدوار نہیں ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک مختصر بیان میں نجم سیٹھی نے کہا کہ ’ایسا عدم استحکام اور غیر یقینی پی سی بی کے لیے اچھی نہیں ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’تمام سٹیک ہولڈرز کو گڈ لک‘ لیکن ’موجودہ حالات میں چیئرمین شپ کا امیدوار نہیں ہوں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. عمران خان کی ٹکراؤ کی حکمت عملی سے اتفاق نہیں تھا، اسد عمر

    اسد عمر

    ،تصویر کا ذریعہASAD UMAR/FACEBOOK

    تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ ان کو پارٹی چیئرمین عمران خان کی ٹکراؤ کی حکمت عملی سے اتفاق نہیں تھا اور اسی وجہ سے انھوں نے پارٹی عہدے سے استعفی دیا۔

    پاکستان کے نیوز چینل اے آر وائی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ’اس وقت ملک جس نہج پر پہنچا ہوا ہے سب کو دو قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان لیڈر ہیں، وہ جو سٹریٹجی اختیار کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں، لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ بطور سیکرٹری جنرل، ان کا کام حکمت عملی پر عمل کروانا تھا لیکن ’میں اس سٹریٹجی پر کیسے عمل کرواتا جس پر میں یقین نہیں رکھتا۔‘

    ان کے مطابق پارٹی عہدے سے استعفی دینے کی یہی وجہ تھی۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ ان کا اختلاف نو مئی کے واقعات سے پہلے شروع ہوا لیکن ’نو مئی کو جو ہوا وہ ایک الگ سطح پر تھا۔‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کا کس سٹریٹجی سے اتفاق نہیں تھا تو اسد عمر نے جواب دیا ’ٹکراؤ کی سٹریٹجی‘ سے۔

    اسد عمر نے کہا کہ جس طرح پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت ہے اسی طرح پی ڈی ایم کی جماعتوں نے بھی سوا دو کروڑ ووٹ لیا۔ ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جن جماعتوں کو سوا دو کروڑ پاکستانیوں نے ووٹ دیا، میں ان کے ساتھ سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے نہیں بیٹھوں گا۔‘

    اسد عمر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ’سب کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے فوج اور تحریک انصاف کے تعلقات بہتر ہو جائیں۔ لوگ پارٹی چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو نظر آ رہا ہے کہ اگر یہ تعلقات ٹھیک نہیں ہوں گے تو آگے سیاسی طور پر شاید راستے بند ہوں۔‘

    اسد عمر نے کہا کہ پارٹی لیڈر شپ کا خیال تھا کہ حکومت سے مزاکرات میں الیکشن کی تاریخ پر معاہدہ کر لینا چاہیے تھا لیکن عمران خان نے اختلاف کیا۔

    انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 80 فیصد اراکین استعفوں کے خلاف تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے فیصلے پر عمران خان کو بتایا کہ 99 فیصد ایم پی اے اس کے خلاف ہیں۔‘

    ادھر تحریک انصاف کی جانب سے اسد عمر کے اس انٹرویو پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ’اگر اسد عمر کو چیئرمین کے فیصلوں سے اختلاف تھا تو اسی وقت منصب سے الگ ہوتے۔‘

    تحریک انصاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’اب جب پارٹی کو ایک منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے تو ان کو استعفی دینا یاد آیا۔ اس میں ان کا ذاتی مفاد تو چھپا ہو سکتا ہے، پارٹی کا نہیں۔‘

    حکومت سے مزاکرات کے معاملے پر تحریک انصاف کے بیان میں کہا گیا کہ ’مزاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کی وجہ تحریک انصاف نہیں بلکہ پی ڈی ایم کی جانب سے الیکشن سے فرار کی خواہش تھی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. آئی ایم ایف بورڈ کے 29 جون تک کے شیڈول میں پاکستان شامل نہیں, تنویر ملک، صحافی

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے اس کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاسوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے جس میں پاکستان کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے پر کوئی اجلاس نہیں ہے۔

    تاہم آئی ایم ایف کے مطابق اس شیڈول میں ضرورت کے مطابق تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی تعطل کا شکار ہے اور اس پروگرام کو موجودہ مہینے میں ختم ہونا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کی مختلف شرائط پوری کی گئی ہیں تاہم بیرونی فنانسنگ کے شعبے میں پاکستان آئی ایم ایف کو مطمئن نہیں کر سکا جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے اس کی ایک ارب ڈالر کی قسط جاری نہیں ہو سکی۔

    سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان

    پاکستان سٹاک ایکسچنج میں سوموار کے روز شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ سارے سیشن میں فروخت کے دباؤ کا شکار رہی۔

    سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں کاروبار کے اختتام پر 680 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیکس میں بڑی کمی کی وجہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے معدوم ہونے والے امکانات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام اس مہینے ختم ہونا ہے لیکن اس کی بحالی شاید مشکل ہو جس کا منفی اثر سٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر پڑا ہے۔

  4. انسداد دہشتگردی عدالت: عمران خان کی پانچ مقدمات میں ضمانت منظور، 11 میں 4 جولائی تک توسیع

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی 11 مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع جبکہ پانچ مقدمات میں چار جولائی تک ضمانت منظور کی ہے۔

    یہ مقدمات جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ، جوڈیشل میجسٹریٹ زیبا کو دھمکی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر ہنگامہ آرائی اور نو مئی سمیت دیگر واقعات پر درج کیے گئے تھے۔

    ’9 مئی کی شفاف تحقیقات ہوئیں تو سب سامنے آئے گا‘

    سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم الیکشن چاہ رہے تھے، انتشار تو نہیں چاہ رہے تھے۔

    ’میں نے جوش خطابت میں کہا آئی جی صاحب اور جسٹس زیبا آپ کے خلاف ہم لیگل ایکشن لیں گے۔۔۔ (کارکنان کو) ہدایات دی ہوئی تھیں کہ آپ نے کسی انتشار کا حصہ نہیں بننا۔ ہم ریلی نکالتے ہیں، ایک دم سیکشن 144 لگ جاتا ہے۔ لوگوں پر حملہ ہو جاتا ہے۔ میں اسی وقت ریلی کینسل کرتا ہوں تاکہ انتشار نہ ہو، پھر یہ میرے گھر آتے ہیں وارنٹ لے کر، 24 گھنٹے میرا گھر حملے کی زد میں رہتا ہے۔‘

    انھوں نے روسٹرم پر آ کر عدالت کو بتایا کہ ’جوڈیشل کمپلیکس میں ہمیں پتہ نہیں کہاں سے لوگ آئے۔ پولیس نے ان پر شیلنگ شروع کردی۔ اوپر سے پولیس والے پتھر پھینک رہے تھے۔ میں تو ضمانت کرانے آیا تھا، ہمیں رپورٹ آئی کہ اندر ماحول ہی کچھ اور بنا ہوا ہے۔ ہمیں پتہ چلا آئی ایس آئی نے جوڈیشل کمپلیکس کا فلور ٹیک اوور کر رکھا ہے۔

    ’9 مئی پر بھی آزاد انکوائری ہوگی تو پتہ چلے گا، ہمارے پاس ویڈیوز ہیں کہ پولیس نے خود اپنی گاڑیاں جلائیں۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’9 مئی کی صاف شفاف تحقیقات ہوئیں تو سب سامنے آئے گا۔ ہمارے لوگوں نے یہ حملہ نہیں کیا۔۔۔ میری 27 سالہ جدوجہد ہے، ہمیشہ پُر امن رہے۔‘

    ’کارکنان نے عمران خان کے کہنے پر اشتعال انگیزی کی‘

    تاہم پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے دوران درخواست گزار معصوم ثابت نہیں ہوئے، درخواست گزار کو بدنیتی کے الزام لگانے سے پہلے بدنیتی کے ثبوت دینا ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دیگر شریک ملزمان اور کارکنان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر مختلف اوقات اور مقامات پر اشتعال انگیزی کی۔‘

    ’چشم دید گواہوں کے بیانات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں کو ہدایات دے رہے تھے، درخواست گزار موجود ہونے کے باوجود کارکنوں کو جرائم کرنے سے نہیں روک رہے تھے۔‘

    پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ ’درخواست گزار کی موجودگی میں جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ ان مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات لگتی ہے، کیا قانون میں کسی کو عمر رسیدہ ہونے کے باعث غیر معمولی ریلیف فراہم کرنے کا ذکر ہے؟‘

    پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ’انھوں نے کہا مجھے قتل کردیا جائے گا، لوگ گھروں سے نکلیں۔ یہ ایک جتھا لے کر جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، امن و امان کی صورتحال پیدا کی، ان کے ٹویٹس ریکارڈ پر موجود ہیں۔‘

    ’پارٹی کی پوری قیادت جوڈیشل کمپلیکس حملے میں شامل تھی۔‘

    پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ ’عمران خان نے کہا جج زیبا چوہدری تمھیں چھوڑوں گا نہیں۔ اس پر عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی آڈیوز بھی موجود ہیں۔‘

    وکیل اور پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے عمران خان کی پانچ مقدمات میں ضمانت منظور جبکہ دیگر 11 مقدمات میں عبوری ضمانت میں چار جولائی تک توسیع کی۔

  5. آڈیو لیکس کمیشن: سپریم کورٹ کا 26 مئی کا حکم برقرار، کیس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

    مبینہ آڈیوز لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف کیس کے تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ میں شامل تین ججز پر اعتراض اٹھایا ہے۔

    اس کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ تینوں جج صاحبان مقدمہ سننے والے بینچ سے الگ ہو جائیں جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے جوابی دلائل دیے۔

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا، بینچ کی تشکیل پر اٹھے اعتراضات کا فیصلہ ہونے تک 26 مئی کا حکمنامہ برقرار رہے گا اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

  6. شہریار آفریدی 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیے گئے

    ْْٰشہریار آفریدی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت پیش کیاگیا۔

    پولیس نے عدالت سے شہریار آفریدی کے تین روز جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ۔ پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ شہریار آفریدی کا فوٹوگریمیٹک ٹیسٹ کروانے پر مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ نویدخان نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی اور شہریار آفریدی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔

  7. ایک آدمی کو باہررکھنے کے لیے سارے ملک کے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے: عمران خان, اعظم خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ’ایک آدمی کو باہر رکھنے کے لیے سارے ملک کے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔‘

    عمران خان نے یہ بات جوڈیشل کمپلیکس میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران مختصر وقفے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان کے سوال کے جواب میں کہی۔

    بی بی سی اردو کے اعظم خان نے عمران خان سے سوال کیا ’خان صاحب آپ کہتے ہیں کہ میری جدوجہد جاری رہے گی لیکن ساتھ ہی آپ کہتے ہیں کہ آرمی چیف آپ سے بات کریں۔ تو یہ کون سی جدوجہد ہے جس میں آرمی چیف بات کریں تو معاملہ ختم ہو سکتا ہے۔‘

    عمران خان نے بی بی سی کے سوال کے جواب میں کہا ’صرف ایک چیز ملک۔ ہمارا ملک تباہی کی جانب جا رہا ہے، میں تو کوئی کسی کی مدد نہیں مانگ رہا نہ میں چاہتا ہوں کہ الیکشن میں کوئی میری مدد کرے، نہ میں یہ کہتا کہ میرے اوپر کیسز معاف کروا دیں۔‘

    عمران خان نے مزید کہا ’نہ میں یہ کہتا کہ مجھے باہر بھیج دیں اور نام ای سی ایل سے ہٹا دیں۔ میں تو اس ملک میں ہوں اور میں سارے کیسزلڑوں گا۔‘

    عمران خان نے کہا ’میں ملک کے لیے مانگ رہا ہوں۔ ملک تباہی کی جانب جا رہا ہے، معیشت بیٹھ گئی ہے۔ ہمارے پولیٹکل انسٹی ٹیوشن بیٹھ گئے ہیں۔ ملک کے ادارے تباہ کردیئے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایک آدمی کو باہر رکھنے کے لیے سارے ملک کے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔‘

  8. ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ: ’قانون سازی کریں مگر ابہام نہ چھوڑیں‘, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ آف پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کےخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مبنی تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئےکہا کہ آرٹیکل 188 نظرثانی کی حدود کو محدود نہیں کرتا،آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں نظرثانی کا دائرہ بڑھانا امتیازی سلوک نہیں، سپریم کورٹ میں اپیلیں ہائیکورٹس یا ٹریبونلز کے فیصلوں کیخلاف آتی ہیں، آرٹیکل 184(3) کا مقدمہ براہ راست سپریم کورٹ میں سنا جاتا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے نظرثانی کا دائرہ بڑھایا گیا اس پر سوال اٹھا ہے، انڈین سپریم کورٹ میں اس نوعیت کے کیسز میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، سوال یہ ہے کیا قانون سازی سے نظرثانی کا دائرہ اتنا بڑھایا جا سکتا ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں نظرثانی کے لیے الگ دائرہ کار رکھا گیا ہے، نظرثانی میں اپیل کے حق سے کچھ لوگوں کیساتھ استحصال ہونے کا تاثر درست نہیں۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایکٹ سے پہلے 184/3 میں نظرثانی کا کوئی طریقہ نہیں تھا، حکومتی قانون سازی سے کسی کیساتھ استحصال نہیں ہو گا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’حکومت قانون سازی کر سکتی ہے مگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا درست نہیں لگ رہا۔ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ نظرثانی اور اپیل کو ایک جیسا کیسے دیکھا جا سکتاہے؟ عدالت کو حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

    عدالت نے کہا کہ اگر نظر ثانی کا دائرہ اختیار بڑھا دیا جائے تو کیا یہ تفریق نہیں ہوگی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی معاملے کے لیے پورے آئین کو کیسے نظر انداز کریں؟ قانون سازی کی جائے مگر اس میں ابہام نہ ہو۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین رکنی بینچ اگر فیصلہ دے تو کیا 4 رکنی بنچ نظرثانی کر سکے گا؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ لارجر سے مراد لارجر ہے جتنے بھی جج ہوں،آئین نظرثانی کے دائرہ اختیار کو محدود نہیں کرتا۔

    جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ کیا نظرثانی کے اختیار کو سول قوانین سے مماثلت دی جا سکتی ہے؟ سول قوانین صوبائی دائرہ اختیار میں ہیں اور ریویو ایکٹ میں صوبائی قوانین کا ذکر نہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،حکومت نے نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل کردیا جس کی ٹھوس وجوہات پیش کرنا لازم ہے، قانون سازی سے قبل محتاط طریقہ کار سے حقائق کو دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تمام درخواستگزاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواست گزار اپنے دلائل تحریری طور پر بھی جمع کرادیں۔

    چیف جسٹس کے مطابق درخواست گزار تحریری جوابات میں ریفرنسز بھی شامل کریں تا کہ مدد مل سکے

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم آپس میں مشاورت کرکے جلد فیصلہ سنائیں گے۔

  9. عمران خان کو خاموش کروائیں یہ ملزم ہیں: جوڈیشل کمپلیکس میں جاری مقدمے کی سماعت میں جج کے ریمارکس, اعظم خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ،اسد عمر اور راجہ خرم نواز کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوئی۔ مقدمے کی سماعت ایڈیشنل اینڈ سیشن جج اسکندر خان نے کی۔

    پی ٹی آئی سے منسلک رہنما اسد عمر اور عمران خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت اسد عمر نے چئیرمین پی ٹی آئی کے ساتھ مصافحہ کیا جس کے بعد عمران خان اسد عمر کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے روسڑم پر کھڑے ہوگئے۔

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ آج جوڈیشل کمپلیکس میں 17 مقدمات درج ہیں ، شامل تفتیش ہوئے انکے ہر سوال کا جواب دیتے رہے ہیں۔

    پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال تفتیش میں شمولیت نہیں کی گئی۔ ڈی آئی جی کا آفس ساتھ ہے شامل تفتیش ہو جائیں۔

    پراسیکیوٹر کے مطابق ڈی آئی جی آفس سیکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ ہے ، ہم نے ملزم کو ویڈیوز دیکھا کے تفتیش کرنی ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ جوڈیشل کمپلکس میں کوئی کمرہ موجود نہیں جہاں تفتیشی افسر شامل تفتیش کر لیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی دلائل کے دوران بار بار کی مداخلت پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ انھیں(عمران خان ) کو خاموش کروائیں یہ ملزم ہیں۔ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمپلکس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے کوئی مخصوص کمرہ نہیں۔

    عدالت نے جوڈیشل کمپلکس کے رجسڑار کو طلب کر کے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کےلئے کمرہ فراہم کرنے کی ہدایت کی

    جج سکندر خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کو شامل تفتیش ہونے کےلیے چار جولائی تک مہلت دے دی۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان چار جولائی تک شامل تفتیش ہوں بصورت دیگر وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی ،اسد عمر ،راجہ خرم نواز کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔ کیس کی مزید سماعت چار جولائی کو ہو گی۔

  10. ہو سکتا ہے آج فیصلہ سنا دیں :عمران خان کی 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں عدالت کے ریمارکس

    عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جاری ہے۔

    عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان کا رویہ عدالت کے سامنے ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ اگر 71 کی بجائے 17 سال کا جوان لڑکا ہوتا تو وہ بھی کہتا 150 کیسز سے میں نہیں لڑ سکتا ،چیرمین پی ٹی آئی عدالت سے انصاف چاہتےہیں۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ یہاں صرف حکومتی وکیل موجود ہیں، مقدمات درج کروانے والے موجود نہیں، ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کوئی پولیس اہلکار کو خوف زدہ نہیں کرسکتا۔ پولیس بتا دے کہ کتنے کیسز میں عمران خان کی گرفتاری درکار ہے۔

    سلمان صفدر کے مطابق اسلام آباد پولیس نے حدیں ہی پار کرلی ہیں۔ پولیس نے حکومت کے کہنے پر چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف کاروائی کی، درخواست گزار سوائے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے علاوہ اپنے گھر سے نہیں نکلے۔

    دوران سماعت پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’درخواست گزار شامل تفتیش ہوں، اگر تحقیقات میں بے گناہ ہوئے تو ڈسچارج کریں گے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ جب آپ کے پاس جب درخواست گزار آئے تھے تو آپ نے تمام مقدمات میں کیوں سوال نہیں کیے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ درخواست گزار تھک گئے تھے، انھوں نے درخواست کی کہ میں اب تھک گیا ہوں، ملتوی کیا جائے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہمیں لاہور ہائیکورٹ سے 7 دنوں کی ضمانت ملتی ہے، ہم اگلے ہی دن آپ کے سامنے پیش ہونے کےلئے گھر سے نکل آئے، جب یہاں پہنچے تو اندر ہی نہیں آنے دیا گیا، شیلنگ شروع ہوگئی، امن و امان کی صورتحال پیدا ہوگئی، وہ 40 منٹ تک باہر گیٹ پر انتظار کرتے رہے ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا ہو سکتا ہے آج فیصلہ سنا دیں ۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے دوران سماعت کہا کہ ہو سکتا ہے آج فیصلہ سنا دیں ۔

  11. بریکنگ, القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان، بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت چار جولائی تک منظور

    بشری بی بی

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت میں 4 جولائی تک ضمانت منظور کر لی ہے۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اوران کی اہلیہ دونوں احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث جبکہ پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی،سہیل عارف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت میں 4 جولائی تک توسیع کر دی۔

    عدالت نے بشریٰ بی بی کی 5 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی۔

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکلا کی جانب سے نیب کے بطور ملزم طلبی کے نوٹس کے پیش نظر ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی ۔

  12. عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت شروع, اعظم خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہUN

    چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت میں شروع ہو گئی ہے۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

    عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ تھانہ سنگجانی کا مقدمہ سب سے پرانا ہے۔ یہ 2022 میں مقدمہ درج ہوا۔

    سلمان صفدر نے کہا کہ وہ ایک ایک ایف آئی آر پڑھ کر دلائل دیں گے اور پراسیکوشن کی بدنیتی بتائیں گے۔

    آئی جی اسلام آباد کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ پانچ کیسز میں وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے، کچھ کیسز میں شامل تفتیش نہیں ہوئے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہم جے آئی ٹی کے سامنے گئے اور ہر سوال کا جواب دیا، ان مقدمات میں بدنیتی شامل ہے، درخواست گزار کا کرکٹ کی تاریخ میں بہت صاف ریکارڈ ہے، درخواست گزار نے پاکستان کو بہت سے انعامات جیتائے۔‘

    سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ درخواست گزار فلاحی بہبود کے کاموں میں بھی بہت آگے ہیں، شوکت خانم ہسپتال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل میں کہا کہ درخواست گزار ملک کے 22ویں وزیر اعظم رہے ہیں۔ ان کے دور میں احتساب کا سلسلہ شروع ہوا اور کرپشن کے مقدمات چلے جو اپنے اختتام کو پہنچے اور سزائیں ہوئیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں کرپشن کے خلاف کیسز چلے۔ ان کے دور حکومت میں پراسیکیوشن کا غلط استعمال نہیں کیا گیا جبکہ مخالف سیاسی لیڈروں نے ملک چھوڑنا شروع کر دیا۔

    سلمان صفدر نے دلائل میں مزید کہا کہ عمران خان کے سیاسی مخالفین پر ایک سے دو مقدمات تھے، 160 نہیں تاہم ان کی حکومت جانے کے بعد انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت عمران خان اوران کی پارٹی کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے۔

    سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گل کا پہلا کیس تھا جس میں کسٹوڈیل تشدد کی بات سامنے آئی۔

  13. کون سی اتھارٹی یا ایجنسی کس طریقہ کار کے تحت گفتگو ریکارڈ کر سکتی ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ, اعظم خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو لیکس پر خصوصی کمیٹی میں طلبی کے خلاف کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئین اور قانون شہریوں کی کالز کی سرویلنس اور ریکارڈنگ کی اجازت دیتا ہے؟ غیر قانونی طور پر ریکارڈ کی گئی کالز کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کون سی اتھارٹی یا ایجنسی کس طریقہ کار کے تحت کالزریکارڈ کر سکتی ہے اور بتایا جائے کہ آڈیو ریکارڈنگ کا غلط استعمال روکنے کے کیا سیف گارڈز ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، جو سوالات سپریم کورٹ میں زیر بحث ہیں ان پر فیصلے کا انتظار کر لیا جائے۔ وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیو لیکس کے معاملے پر کمیشن قائم کیا ہے۔ عدالت نے جو سوالات اٹھائے وہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی ان سوالات پر فیصلہ سنانا ہے۔

    جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے پانچ سولات پر ہی معاونت کریں۔ ہو سکتا ہے ہم کوئی فیصلہ دیں تو وہ سپریم کورٹ کے لیے معاونت ہو۔

    اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا یہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، حکومت چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کیسے جوڈیشل کمیشن بنا سکتی ہے؟ حکومت کو چاہیے تھا کہ چیف جسٹس سے مشاورت کرتی اور وہ ججز نامزد کرتے۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کو عدالتی سوالات کے جواب دینے میں کتنا وقت چاہیے ہو گا؟ آپ کو چار ہفتے کا ٹائم دیتے ہیں۔

    سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی خصوصی کمیٹی میں طلبی کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کی درخواست پر سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار نے آڈیو ریکارڈنگ کے معاملے پر معاونت کے لیے بیرسٹر اعتزاز احسن، میاں رضا ربانی، مخدوم علی خان اور بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا کو طلب کیا تھا۔

    آج سماعت میں عدالتی معاونین میں صرف اٹارنی جنرل اور چوہدری اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے۔

  14. پنجاب کی نگران کابینہ نئے مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے بجٹ کی منظوری آج دے گی

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 17 واں اجلاس آج ہو گا۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق صوبائی کابینہ کا اجلاس پیر کی دوپہر 12 بجے سول سیکریٹریٹ میں منعقد ہوگا جس میں سیکریٹری خزانہ نئے مالی سال کے بجٹ کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔

    اجلاس میں نئے مالی سال 2023-24 کے بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔

    اعلامیے کے مطابق پنجاب کابینہ نئے مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے بجٹ کی منظوری دے گی۔

    اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، چیف سیکریٹری، انسپیکٹر جنرل پولیس، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز شریک ہوں گے۔

  15. ’سکیورٹی خدشات کے باعث چیرمین پی ٹی آئی کی دو گاڑیوں کو جوڈیشل کمپلیکس داخل ہونے دیاجائے‘

    چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے رجسٹرار جوڈیشل کمپلیکس کو درخواست دائر کردی ہے جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جوڈیشل کمپلیکس میں دو گاڑیوں کے داخلے کی درخواست کی گئی ہے۔

    درخواست کے مطابق ’سکیورٹی خدشات کے باعث چیرمین پی ٹی آئی کی دو گاڑیوں کو جوڈیشل کمپلیکس داخل ہونے دیاجائے۔‘

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو آج 16 مقدمات میں عبوری ضمانت کے لئے جوڈیشل کمپلیکس پیش ہونا ہے۔

  16. چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 19 کیسز میں آج اسلام آباد کی مختلف عدالتوں میں پیش ہوں گے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنے خلاف متعدد کیسز میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔

    عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس،الیکشن کمیشن کی درخواست پر فوجداری کارروائی سے متعلق کیسز سمیت دیگر مقدمات کی سماعت اسلام آباد کی مختلف عدالتوں میں آج مقرر ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اتوار کی شب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں، 19 کیسز میں ضمانت ہے۔‘

    عمران خان کے مطابق ’کسی بھی کیس میں ضمانت کینسل کر سکتے ہیں، پورا تیار ہوں کہ یہ مجھے پھر سے پکڑ سکتے ہیں۔‘

  17. بریکنگ, یونان کشتی حادثہ: وزیراعظم شہباز شریف کا تحقیقات کا حکم، آج ملک میں یوم سوگ کا اعلان

    کشتی حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہHELLENIC COAST GUARD

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یونان کے قریب بحیرہ روم میں کشتی الٹنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے اور آج یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے کشتی حادثے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ جب کہ کشتی حادثے میں ہلاکتوں پر آج ملک بھر میں قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور آج سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل احسان صادق تحقیقاتی کمیٹی کے چئیرمین مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (افریقہ) جاوید احمد عمرانی کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے، اسی طرح آزاد جموں و کشمیر پونچھ ریجن کے ڈی آئی جی سردار ظہیر احمد اور وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری (ایف آئی اے) فیصل نصیر بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق کمیٹی یونان میں کشتی ڈوبنے کے تمام حقائق جمع کرے گی اور انسانی اسمگلنگ کے پہلو کی تحقیق ہوگی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے تعاون اور اشتراک کے عمل کی تجاویز دی جائیں گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ فوری، درمیانی اور طویل المدتی قانون سازی کا جائزہ لیاجائے گا، ایسے واقعات کا سبب بننے والے افراد، کمپنیوں اور ایجنٹوں کو سخت ترین سزائیں دینے کے لیے قانون سازی ہوگی۔

    بیان کے مطابق کمیٹی ایک ہفتے میں رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی اور کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    وزیر اعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لوگوں کو جھانسہ دے کر خطرناک اقدامات پر مجبور کرنے والے انسانی اسمگلروں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    انھوں نے انسانی اسمگلنگ جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث ایجنٹس کے خلاف فوری کریک ڈاؤن اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کی ہدایت کی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  18. بریکنگ, ’میں کبھی یہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جاؤں گا، جیل جانے کو تیار ہوں‘: عمران خان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہYoutube/PTI

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’میں نے کبھی یہ ملک چھوڑ کر نہیں جانا، میں ڈیل کے لیے یہ نہیں کر رہا ہوں، میں یہ سب قوم کے مستقبل کے لیے کر رہا ہوں۔‘

    ان کے مطابق مائنس ون کی باتیں کی جاتی ہیں مگر وہ ڈیل نہیں کریں گے۔ عمران خان کے مطابق میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں اور یہ میں اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک ملک حقیقی طور پر آزاد نہیں ہوتا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں، 19 کیسز میں ضمانت ہے، کسی بھی کیس میں ضمانت کینسل کر سکتے ہیں، پورا تیار ہوں کہ یہ مجھے پھر سے پکڑ سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ نو مئی کو ہمارے کارکنان کے اندر کچھ لوگ گھسائے گئے جنھوں نے سازش کے تحت اہم تنصیبات پر حملے کیے۔ ان کے مطابق وہ حیران ہیں کہ پولیس نے ان مظاہرین کو کیوں نہیں روکا جو کور کمانڈر ہاؤس چلے گئے یا پھر جو لوگ انھیں جی ایچ کیو لے گئیے۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ’نو مئی کے بعد بہانہ بنا کر قانون کی دھجیاں اڑا گئی ہیں۔‘

    عمران خان کے مطابق اب جیل سے واپس آ کر انھیں کارکنان نے بتایا ہے کہ نو مئی کو ’ایک دم کوئی لوگ آتے تھے اور ایک دم اشتعال دلاتے تھے کہ آؤ جی ایچ کیو چلو، میانوالی جہاز جلاؤ اور آؤ کور کمانڈر گھر جلاؤ۔‘

    عمران خان کے مطابق اس کے بعد پورا ایکشن تیار تھا اور 24 گھنٹوں کے اندر دس ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

  19. یونان کشتی حادثے میں ملوث عناصر کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے افسران نامزد کر دیے

    یونان کشتی حادثے میں کئی پاکستانیوں کی ممکنہ ہلاکت کے پیش نظر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات کے لیے افسران کو نامزد کر دیا۔

    نامزد کئے گئے افسران میں انسپیکٹر ہادی پرستان، انسپیکٹر عبداللہ، انسپیکٹر وقار اعوان اور سب انسپیکٹر ارتضا انصر شامل ہیں۔ یہ افسران ایف آئی اے کے مختلف اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکلز میں تعینات ہیں۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ’افسران کے موبائل نمبرز اور ای میل بھی شئیر کر دیے گئے ہیں۔ عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ کشتی حادثے میں ملوث عناصر کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات شیئر کرنے کے لئے افسران سے رابطہ کریں۔ معلومات شئیر کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔‘

  20. جماعت اسلامی کا 23 جون کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا اعلان

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اعلان کیا ہے ’کراچی کے انتخابات میں دھانلی کے خلاف اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر 23 جون کو احتجاج کیا جائے گا۔ سراج الحق کے مطابق کراچی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنا وقار ختم کر دیا ہے۔

    سراج الحق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی خواہش تھی کہ کراچی کا میئر ایک جیالا ہونا چاہیے۔ انھوں نے الزام عائد ہے کہ ’یہ اغوا برائے تاوان کی طرح کارروائی کی گئی ہے۔ سوا تین کروڑ کی آبادی پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’بلاول بھٹو کہتا ہے کہ ہم نے ایک مذہبی جماعت کو شکست دی ہے۔‘

    سراج الحق نے کہا ہے کہ وہ کراچی والوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے کراچی کے حقوق اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر کراچی کے لوگوں نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا ہے۔