فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔
لائیو کوریج
حکومت فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلے کی صورت میں سپریم کورٹ کا حکم نہیں مانے گی: عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’اگر کسی کے دماغ میں کوئی شبہ تھا بھی کہ پاکستان جنگل کے قانون کے شکنجے میں پھنس چکا ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول ہی کو قانون کی حیثیت حاصل ہے۔
’تو حکومتی وزرا کے حالیہ بیانات جن میں یہ فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلے کی صورت میں سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے مکمل طور پر انکاری ہیں، کے بعد یہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جانے چاہییں۔‘
’اس سب سے پی ڈی ایم کے (دل و دماغ پر قابض) انتخاب سے فرار اور مقتدرہ کے پیچھے چھپنے کی مایوس کن خواہش بھی جھلکتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
محمد حنیف کا کالم: اسد عمر، نبیل گبول اور ہماری بےعزتی پروف اشرافیہ
قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں: چیف جسٹس عمر عطا بندیال
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں صرف قانون کی عمل داری کی بات ہوتی ہے تاہم قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔
اسلام آباد میں منعقد ایک تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ’ماہرین کو قانون کی تشریح کے ذریعے تنازعات کو ختم کرنا چاہیے، ایک قانون کی دو تشریحات مسائل پیدا کرتی ہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججز آسانی سے مارکیٹ میں میسر نہیں ہیں اور کئی امتحانات دینے پڑتے ہیں، ٹریبونل کے نہ بننے سے عدالتوں پر بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق جو بھی ریگولیٹر ہے اس کو ایک ٹریبونل بنانا چاہیےآ چیف جسٹس کے مطابق سروس کے معاملات پر سروس ٹریبونل بنے ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’عدالتوں میں ہم اپنے اختیارات کا استعمال بہت محتاط انداز میں کرتے ہیں۔ ججزر وقت کے ساتھ ساتھ میچیور ہوتے ہیں۔‘
بریکنگ, سٹیٹ بینک نے درآمدات پر پابندیاں ختم کر دیں, تنویر ملک ، صحافی
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملکی درآمدات پر لگائی جانے والی پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
سٹیٹ بینک نے درآمدات پر پابندی دسمبر 2022 میں لگائی تھی جس کے تحت درآمدات کے لیے ترجیحی لسٹ بنائی گئی تھی تاکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر کی بچت کی جا سکے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے درآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرنا تھا۔
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی مدت 30 جون کو ختم ہو رہی ہے اور پاکستان کی جانب سے اس اہم شرط کو بھی پورا کر دیا گیا ہے
سرکاری ملازمین کو بغاوت پر اکسانے کا کیس: فواد چودھری پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
فواد چوہدری کے خلاف سرکاری ملازمین کو بغاوت پر اکسانے کے الزام پر مقدمے کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ہوئی۔
ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے کیس کی سماعت کی۔
فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور استدعا کی کہ فواد چوہدری بیمار ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، اس لیے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔
عدالت نے استفسارکیا کہ فواد چوہدری کو کیا ہوا ہے؟ جس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ موسم کی وجہ سے فواد چوہدری کی طبعیت خراب ہوئی ہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیئے کہ فواد چوہدری پر فرد جرم عائد ہو جائے تو اس کے بعد وہ لمبی چھٹی لے سکتے ہیں، فواد چوہدری اور آپ بھی اپنی صحت کا خیال رکھیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت سات جولائی تک ملتوی کردی۔
فوادچوہدری کو آج سیشن عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے ذاتی حیثیت میں طلب کررکھا تھا۔
شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں 10 جولائی تک توسیع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر آج بغیر کارروائی کے 10جولائی تک توسیع کر دی گئی۔ سماعت آج اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقرر تھی۔
شاہ محمود قریشی اپنے وکیل علی بخاری کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے تاہم انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس کا تبادلہ ہونے کے بعد نئے جج نے ابھی چارج نہیں لیا۔
شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں بغیر کارروائی دس جولائی تک توسیع کی گئی۔ اسلام آباد کے تھانہ کھنہ میں درج مقدمے میں شاہ محمود قریشی پر ہنگامہ آرائی میں ایما کا الزام ہے۔
امریکہ اور انڈیا کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کا حوالہ یکطرفہ اور گمراہ کن ہے، دفتر خارجہ
پاکستان نے امریکہ اور انڈیا کے مشترکہ بیان میں پاکستان سے مخصوص حوالے کو ’یکطرفہ اور گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے سفارتی اقدار کے خلاف قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران انڈیا اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان میں سرحد پار دہشتگردی اور ’پراکسی گروہوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہ کی جائے۔ '
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں اس بات پر حیرانی ہے کہ انسداد دہشت گردی پر امریکہ کے ساتھ تعاون کے باوجود اس حوالے کو بیان کا حصہ بنایا گیا۔‘
دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور ملک کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی جان دے کر مثال قائم کی جبکہ بین الاقوامی برادری بھی بارہا پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کر چکی ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’ہم یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ مشترکہ بیان میں کیے جانے والے دعووں سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عالمی عزم کیسے مضبوط ہو گا۔‘
’اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی عفریت کو ہرانے کے لیے جس تعاون کی ضرورت ہے اسے جیو پولیٹیکل ضروریات کی وجہ سے قربان کر دیا گیا ہے۔‘
دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کے علاوہ انڈیا نے اپنے ملک میں اقلیتوں سے ہونے والے سلوک اور کشمیر میں عوام پر جبر سے توجہ ہٹانے کے لیے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کیا۔‘
یہ بھی کہا گیا کہ ’مشترکہ اعلامیہ میں خطے میں عدم استحکام اور تناو پیدا کرنے والے اہم ذرائع کی نشان دہی نہیں کی گئی نہ ہی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احطہ کیا گیا جو بین الاقوامی ذمہ داری سے روگردانی کے مترادف ہے۔‘
پاکستان نے انڈیا کو جدید عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے اقدامات خطے میں عسکری عدم توازن میں اضافہ کریں گے اور سٹریٹجک استحکام کو متاثر کریں گے۔‘
عدالت عظمیٰ جیسا ادارہ ایک شخص نہیں چلا سکتا: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
جسٹس
قاضی فائز عیسیٰ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں مقدمات بھیجے کے حوالے سے اپنا
نوٹ جاری کردیا ہے۔
اس نوٹ
میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’بطور
سنئیر جج عدالت کی سمت درست رکھنا چاہتا ہوں۔ عدالت عظمیٰ جیسا ادارہ ایک شخص نہیں چلا سکتا۔ ہر
فیصلہ ایک ہی پیمانےسے آئین و قانون کے مطابق پونا چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’9 رکنی بینچ
عدالت کی نہیں کیوں کہ موجودہ قانون کے برعکس بنائی گئی ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ
پروسیجر ایکٹ کو عدالت معطل نہیں کرسکتی مسترد کرسکتی ہے۔ تین تینججز پر مشتمل خصوصی بینچ بلاشبہ ایک خاص فیصلہ
حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا۔‘
جسٹس فائز عیسی نے اپنے نوٹمیں کہا کہ ’خود کو ملٹری ٹرائل کیخلاف مقدمہ سے الگ نہیں
کررہا۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا نوٹ دوسری
مرتبہ اپ لوڈ ہونے کے بعد ویب سائٹ سے ہٹایا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کے نوٹ میں کہا گیا
کہ ’نہ میں نے کبھی کسی چیف جسٹس سےگزارش کی کہ مجھے کسی کام کے لیے کسی رجسٹری بھیجا
جائے، نہ کبھی رجسٹرار آفس کو کسی نوعیت کا مقدمہ لگانے یا نہ لگانے کا کہا جائے۔
‘
سپریم کورٹ میں تعیناتی سے اج تک کسی مقدمے میں بیٹھنے سے انکار نہیں کیا: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
جسٹس
قاضی فائز عیسیٰ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں مقدمات بھیجے کے حوالے سے اپنا
نوٹ جاری کردیا ہے۔ یہ نوٹ 30 صفحات پر مشتمل ہے۔
جسٹس
قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا لیکن کچھ ہی دیر
بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا
گیا۔
جسٹس
قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ اردو اور انگلش میں جاری کیا گیا۔ نوٹ کے ہمراہ انکوائری
کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے۔
نوٹ کے
ہمراہ چیف جسٹس کوبینچز سے الگ ہونے کے
حوالے سے 17 مئی کو لکھا گیا لیڑ بھی جاری کیا گیا ہے۔
نوٹ کے
مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ’سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا
نفاذ صرف چیف جسٹس اور دو سینئر ججز پر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ
کے بعد جسٹس سردار طارق نے بھی بینچز میں بیٹھنے سےکنارہ کشی اختیار کی۔ بعد میں جسٹس سردار طارق
نے صرف 184 تین کے مقدمات میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا، 5 ستمبر 2014 سپریم کورٹ میں
تعیناتی سے اج تک کسی مقدمے میں بیٹھنے سے انکار نہیں کیا۔
سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی میں 34 فیصد اضافہ: آٹے، چائے کی قیمت میں سو فیصد سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی میں 34 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق یہ اضافہ موجودہ ہفتے اور گذشتہ سال جون کے مہینے میں اس ہفتے کے درمیان اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں ریکارڈ کیا گیا۔
جبکہ گذشتہ ہفتے میں بھی اشیاء خورد کی قیمتوں میں 0.33 کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہِ شماریات کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں آٹا کی قیمت 116 فیصد، چائے 113 فیصد، چاول 76 فیصد، آلو 68 فیصد، چکن 57 فیصد، ڈبل روٹی 50 فیصد، ڈال ماش 47 فیصد بڑھی۔
پیاز کی قیمت میں 25 فیصد اور ٹماٹر کی قیمت میں 24 فیصد کمی واقع ہوئی۔
بینچ کے کچھ ممبران کو صحافیوں اور وکلا سے متعلق تحفظات ہیں: چیف جسٹس
وکیل خواجہ احمد حسین کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اتنے ساری شہری کس بنا پر کورٹ مارشل کا
سامنا کرنے جا رہے ہیں، ہمیں نہیں پتہ ان پر کیا چارج لگنے جا رہا ہے، حکومت ہی
بتائے گی تفصیلات کیا ہیں،اور عام عدالتوں میں کیس کیوں نہیں چل سکتا؟ سویلین کا
ملٹری ٹرائل آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’اس بحث میں نہیں جانا چاہیے کہ سویلین
کا آرمی ایکٹ سے کبھی ٹرائل ہو بھی نہیں سکتا، اگر کوئ سویلین کسی آرمی آفیشل سے
مل کر ریاست مخالف کچھ کرے تو یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ایسی صورتحال میں دونوں کے
درمیان تفریق نہیں کی جا سکتی۔‘
اٹارنی
جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کی تحویل میں کوئی شخص گرفتار نہیں
ہے، انھوں نے کہا کہ پشاور میں چار لوگ زیر حراست ہیں، پنجاب میں ایم پی او کے تحت
اکیس افراد گرفتار ہیں۔‘
اٹارنی جنرل کا کہنا تھاکہ ’انسداد دہشت گردی
قانون کے تحت 141 افراد گرفتار ہیں، سندھ میں 172 افراد جوڈیشل تحویل میں ہیں، 345 افراد گرفتار ہوئے اور ستر رہا ہوئے۔
انھوں
نے مزید بتایا کہا کہ ایم پی او کے تحت 117 افراد جوڈیشل تحویل میں ہیں، 102افراد فوج کی تحویل میں ہیں،
اور فوج کی تحویل میں کوئی خاتون اور کم عمر نہیں ہیں اس کے علاوہ کوئی صحافی اور وکیل فوج کی تحویل میں نہیں ہیں۔‘
انھوں
نے کہا کہ ’خیبر پختون خوا میں دو بچے فوج کی تحویل میں تھے، ملٹری کسٹڈی میں ایک
پر شک تھا کہ وہ اٹھارہ سال سے کم ہے۔ اس کا ٹیسٹ کروا رہے ہیں، اگر اٹھارہ سال سے
کم ہوا چھوڑ دیا جائے گا۔ ‘
اٹارنی
جنرل کا کہنا تھا کہ پالیسی فیصلہ ہے کہ بچے اور خواتین آرمی کی حراست میں نہیں
ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی
صحافیوں کے خلاف کاروائی کی کوئی پالیسی نہیں۔
اس
پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت دو
صوبوں میں نگران حکومت ہے، انھوں نے اتارنی جنرل سے کہا کہ مہربانی کر کے صوبائی
حکومتوں سے رابطہ کریں اور صوبائی حکومتوں سے صحافیوں اور وکلاء سے متعلق پالیسی
کا پوچھیں۔ ‘
چیف
جسٹس کا کہنا تھا کہ بینچ کے کچھ ممبران
کو صحافیوں اور وکلاء سے متعلق تحفظات ہیں۔
ان
درخواستوں کی سماعت چھبیس جون تک ملتوی کر دی گئی۔
کیا دیگر ممالک میں بھی سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتے ہیں؟: جسٹس منصور علی شاہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں نو مئی کے واقعات کے بعد گرفتار ہونے والے عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلنے کے خلاف دائر درخواستوں کے دوران سپریم کورٹ کے قیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کِن سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو سکتا ہے؟
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ملٹری پرسنل کے علاؤہ سویلینز کے حقوق کا تحفظ دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا ’سویلینز میں تو ہر شہری آتا ہے کیا ٹرائل صرف مخصوص افراد کا ہو سکتا ہے۔‘
اس پرجسٹس منصور علی شاہ نے کہا ’سویلینز کی تعریف کیا ہو گی کیا ریٹائرڈ آرمی افسران بھی سویلینز میں آئیں گے؟‘
وکیل احمد حسین کا کہنا تھا کہ ’آرمی ایکٹ فئیر ٹرائل یا سویلینز کو مدنظر رکھ کر نہیں بنایا گیا۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا ’کیا دیگر ممالک میں بھی سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتے ہیں۔‘
سابق جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسن کا کہنا تھا کہ ’ہر ملک کا اپنا قانون ہے برطانیہ میں سویلینز کا فوجی ٹرائل ہو سکتا ہے، سینئر کمانڈ کے فیصلوں کے بعد کیا فوجی عدالت میں کوئی افسر فئیر ٹرائل کو فالو کر سکتا ہے؟‘
ان کا مزید کہنا تھا ’آرمی ایکٹ میں جو حصہ سویلین سے متعلق ہے اس پر عدالت فیصلہ کر سکتی ہے،
اس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’آرمی ایکٹ تو آرمی سے متعلق ہی قانون ہے تفریق کیسے کریں گے، آپ کہہ رہے ہیں آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جاتا۔ پھر آپ کہتے ہیں یہ سویلین کی بات بھی کرتا ہے اسے عدالت دیکھے۔‘
وکیل احمد حسین کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہی نہیں کہ وہ سویلین کے کورٹ مارشل کے لیے قانون سازی کر سکے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کورٹ مارشل آئینی ہے یا غیر آئینی۔ فوجی عدالتیں صرف اس وقت کام کر سکتی ہیں جب عام عدالتیں کام نہ کر رہی ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت کو عام عدالتوں پر یقین کیوں نہیں اور صورتحال یہ ہے کہ سویلین لوگوں کی بڑی تعداد کورٹ مارشل ہونے جا رہی ہے۔‘
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا ’آرٹیکل 199 تھری کے تحت ہائی کورٹ کے فوجی عدالتوں کے خلاف اختیارات محدود ہیں۔ ایف بی علی کیس کا فیصلہ 1962 کے آئین کے تحت تھا۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ’عام شہریوں کا تعلق آرمی ایکٹ سے کیسے جوڑیں گے کیسے بنیادی حقوق سے محروم کریں گے۔‘
وکیل احمد حسین کا کہنا تھا کہ ’میرا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ عدالت آرمی ایکٹ کی شقوں کا جائزہ لے سکتی ہے، عدالت نے جائزہ لینا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس کی وضاحت نہیں دی گئی حکومت نے سول عدالتوں کے عدم اعتماد کیوں کیا ؟‘
ان کا ززید کہنا تھا کہ ’ملٹری ٹرائل کے نتیجے میں کئی شہریوں کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
چیف جسٹس نے پوچھا ’ملکی سلامتی کے معاملات براہ راست آرمی کے تحت آتے ہیں، کیا طریقہ کار ہو گا جس کے تحت مقدمات ملٹری کورٹ کو بھیجوائے جائیں گے۔‘
نو مئی کے واقعہ میں ملوث ایک سو دو افراد فوج کی تحویل میں ہیں اٹارنی جنرل کا سپریم کورٹ میں بیان, شہزاد ملک بی بی سی اردو
پاکستان کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس وقت 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں اور فوج کی تحویل میں کوئی خاتون اور کم عمر نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ
کوئی صحافی اور وکیل فوج کی تحویل میں نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پالیسی فیصلہ ہے کہ بچے اور خواتین آرمی کی حراست میں نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ
صحافیوں سے متعلق کیا پالیسی ہے، جس پر اتارنی جنرل نے بتایا کہ نو مئی کے واقعات پر کسی صحافی کو حراست میں نہیں رکھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی صحافیوں کے خلاف کارروائی کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت دو صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے اتارنی جنرل سے کہا کہ مہربانی کر کے صوبائی حکومتوں سے رابطہ کریں
اور صوبائی حکومتوں سے صحافیوں اور وکلاء سے متعلق پالیسی کا پوچھیں ، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بینچ کے کچھ ممبران کو صحافیوں اور وکلا سے متعلق تعفظات ہیں۔
اندیشہ ہے اس بینچ کا فیصلہ بھی پنجاب انتخابات جیسے نتیجے سے دوچار نہ ہو: وزیر داخلہ
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے کل کی سماعت پر ڈرامائی انداز کے الفاظ استعمال ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں اس عدالت کو نہیں مانتا
اگر یہ بات میں کہوں تو توہین عدالت کا مرتکب ہوجاؤں۔ مگر یہ بات سپریم کورٹ کا سینیئر ترین جج کررہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سینیئر ترین جج اور نامزد چیف جسٹس نے خلاف قانون تشکیل کردہ بینچ پر اعراض کیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد دونوں ججز کو فوری طور پر بینچ سے نکال دیا گیا اور جلدی میں دوسرا سات رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پتہ نہیں کس بات کی جلدی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ پارلیمنٹ ایک قانون کے بارے میں سوچ رہی ہو اور آپ سٹے دے دیں، آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے لیکن جو قانون نہیں بنا اس کا اختیار نہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ دو سینئیر ترین وکلا پٹیشن لائے ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اچھا کام کیا
اب مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں اپنی اننگز کھیل چکے ہیں۔ وہ دونوں صاحبان پہلے عمران خان کو ملے پھر چیف جسٹس کو ملے۔
ان کے مطابق کل جب قاضی فائز عیسیٰ نے انکار کیا تو ان کے منھ سے نکلا تو انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ کو پہلے کہہ تھا کہ فُل کورٹ بنا دیں۔۔ انھوں نے کہا کہ ’بھائی آپ کی یہ بات کہاں پر ہوئی تھی۔‘
فیصلوں پر عمل ہونا چاہیے
وزیر داخلہ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل ہونا چاہیے
لیکن اگر ان فیصلوں کے پیچھے یہ عوامل ہوں تو ان کی اخلاقی قوت نہیں ہوتی۔ عدلیہ کے فیصلوں کی طاقت غیر جانبداری، شفافیت اور انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔
ان کے مطابق پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عمل نہ ہوسکا اور اب وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ بار کونسلز، ایسوسی ایشنز نے فل بینچ کی استدعا کی
اس پارلیمنٹ نے بھی فل بینچ کی بات کی لیکن نہیں مانا گیا۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے بھی لارجر بینچ کی ڈیمانڈ کی
چیف جسٹس نے لارجر بینچ کے بجائے تین رکنی بینچ کا فیصلہ صادر کیا
پھر اس فیصلے پر کیا ہوا سب نے دیکھ لیا۔
’آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل نہیں ہو سکتا تو اسے کالعدم قرار دیں‘
وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کسی کا ٹرائل نہیں ہوسکتا تو اسے کالعدم قرار دے دیں۔ یہ اسی لیے ہے کہ کوئی دفاعی نظام پر حملہ اور ہو تو اس کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہوگا۔
یہ باقاعدہ طور پر دفاعی تنصیبات پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ انھوں نے کور کمانڈر ہاؤس میں دستاویزات اور چیزوں کو جلایا گیا۔ اس کی تحقیقات آرمی کی ٹیم ہی کرے گی۔
ان کے مطابق انسانی حقوق کی بات کی جارہی ہے۔ کیا ان لوگوں کی انسانی حقوق ہیں، جنھوں نے شہدا کے مجسموں کو توڑا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاع پر جنھوں نے حملہ کیا ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انڈین کلبوشن جادھو کی اپیل کا خصوصی قانون بنایا گیا: وکیل جواد ایس خواجہ
،تصویر کا ذریعہscreenshot
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین نے فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کو بتایا کہ فیئر ٹرائل ہر ایک کا بنیادی حق ہے، جس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
وکیل احمد حسین نے کہا کہ کورٹ مارشل کارروائی کے فیصلے آسانی سے میسر بھی نہیں ہوتے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی کرتا کون ہے؟
وکیل کے مطابق ایک پینل ہوتا ہے جو یہ کارروائی کنڈکٹ کرتا ہے، ملٹری کورٹ فیصلے میں صرف اتنا لکھتی ہے کہ قصور وار ہے یا نہیں۔ اب فیصلے میں وجوہات کا ذکر ہوتا ہے یا نہیں اٹارنی جنرل بتا سکتے ہیں۔
وکیل کے مطابق ملٹری کورٹس میں اپیل کا تصور بھی آرمی افسران کے پاس ہی ہے۔ آرمی چیف ہی سارے پراسس میں فائنل اتھارٹی ہیں۔
ان کے مطابق انڈین کلبوشن جادھو کی اپیل کا خصوصی قانون بنایا گیا۔
----
وکیل احمد حسین نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کے لیے قانون بنایا گیا کہ دیکھا جائے اس غیر ملکی کے ویانا کنونشن میں حاصل حقوق متاثر تو نہیں ہوئے۔
ان کے مطابق پہلے سے موجود قانون میں سویلین کے لیے فیئر ٹرائل جیسی چیزیں موجود نہیں تھیں۔ آرمی ایکٹ ڈیزائن ہی فوسز کے اندر ڈسپلن کیلئے کیا گیا تھا۔
آرمی کی سینئیر کمانڈ نے پریس ریلیز میں دو نتائج اخذ کیے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا 9 مئی کو ملٹری تنصیبات ہر حملہ کیا گیا۔ پریس ریلیز میں کہا گیا حملے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ یہ نتائج پہلے سے اخذ کرنے کے بعد وہ خود اس معاملے کے جج نہیں ہو سکتے۔
21 ویں آئینی ترمیم میں فوجی عدالتوں کے لیے مخصوص جنگی حالات کا ذکر تھا: جسٹس اعجازالاحسن کے ریمارکس, شہزاد ملک بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین نے دلائل شروع کر دیے ہیں۔
انھوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ کو فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کہا کہ ’سوال یہ ہے کیا سویلین جن کا فوج سے تعلق نہیں ان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟‘
ان کے مطابق میرا مؤقف یہ ہے کہ موجودہ حالات میں سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا۔
سابق چیف جسٹس کے وکیل کے مطابق ہمارا اعتراض یہ بھی نہیں کہ لوگوں کے خلاف کارروائی نہ ہو۔ ہمارا نقطہ فورم کا ہے کہ کارروائی کا فورم ملٹری کورٹس نہیں۔
انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے سویلین کے کورٹ مارشل کی آرمی ایکٹ میں گنجائش کیا ہے۔ آرمی ایکٹ کا مقصد ہے کہ آرمڈ فوسز میں ڈسپلن رکھا جائے۔
ان کے مطابق جن افراد کو مسلح افواج کی کسی کمپنی وغیرہ میں بھرتی کیا گیا ہو ان پر ہی اس ایکٹ کا اطلاق ہو گا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق آئین کے کون سے بنیادی حقوق ملٹری کورٹس میں ٹرائل سے متاثر ہوں گے۔
وکیل احمد حسین نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 25 میں دیے گئے حقوق متاثر ہوں گے۔ واضح رہے کہ یہ آرٹیکل شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ اسی سات رکنی بینچ کو آرمی ایکٹ کی سیکشن 2 ڈی ون کو کالعدم کرنے سے نہیں روکتا۔
سابق چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ ’اگر عدالت سمجھتی ہے 21 ویں ترمیم کے بعد اس کے ہاتھ بندھے ہیں تو فل کورٹ ہی بنا لیں۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’میں تو اسی میں کمفرٹیبل ہوں گا اگر اتنا ہی بینچ بیٹھے جتنے رکنی بینچ نے 21 ویں ترمیم کا فیصلہ دیا تھا۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’اکیسویں آئینی ترمیم کیس میں عدالت نے کہا تھا فوجی عدالتیں مخصوص حالات کے لیے ہیں۔ اس فیصلے میں جنگی حالات جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔
وکیل نے کہا کہ ’میرے علم میں نہیں کہ موجودہ حکومت کا مؤقف ہو کہ آج کل جنگی حالات ہیں۔‘
فوج کے پاس ملزمان کی حوالگی مانگنے کی کوئی وجہ نہیں ہے: وکیل سول سوسائٹی, شہزاد ملک بی بی سی اردو
فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل چلانے کے خلاف دلائل دیتے ہوئے سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں نو اور دس مئی کو واقعات ہوتے ہیں اور 25 مئی کو حوالگی مانگ لی جاتی ہے۔ ملزمان کی حوالگی مانگنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔
اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں تو ہمیں حقائق میں جانے کی ضرورت بھی نہیں۔ ملزمان کی حوالگی مانگنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ بتائیں کہ کیا آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان ملزمان کے خلاف بظاہر کوئی الزام نہیں؟
فیصل صدیقی نے کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں چارج کرنے سے پہلے سخت انکوائری ہونی چاہیے۔ 9 مئی کے ملزمان سے متعلق سخت انکوائری پہلے ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق تاریخ میں کبھی 1998 کے علاوہ سویلین حکومت نے سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں کیا۔ 9 مئی کے ملزمان سے متعلق دوسری عدالتوں میں ٹرائل کا قانونی آپشن موجود ہے۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر کیس کسی آرمی آفیشل پر ہوتا تو بات اور تھی اب کورٹ مارشل کے علاوہ آپشن نہیں۔ آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی۔
آرمی ایکٹ میں ٹرائل کیسے شروع ہوتا ہے، اس کا جواب آرمی رُولز 1954 میں موجود ہے۔ رول 157 کی سب سیکشن 13 میں طریقہ کار درج ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’چارج سے پہلے انکوائری کا ہم اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے۔
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ ’آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل الگ نوعیت کے حالات میں ہو گا۔ آپ یہ بھی پھر واضح کریں کہ وہ الگ نوعیت کے حالات کیا ہوں گے۔ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ محدود معاملات پر ہی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ چیئرمین نیب اختیارات کیس میں 2003 کا ایک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، جس میں عدالت نے کہا تھا عام عدالت سے کیس تب تک نیب کورٹ نہیں جائے گا جب تک چیئرمین کے صوابدیدی اختیارات سٹرکچر نہیں ہوتے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آفیشل سکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل صرف مجسٹریٹ نے کیا ہو؟
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’میں اس حوالے سے فیصلوں کی نظریں پیش کروں گا۔‘
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل سے متعلق ججز کے اہم ریمارکس، سوالات, شہزاد ملک بی بی سی اردو
جسٹس منیب اختر نے فیصل صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہونے والا جرم ضروری نہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت ہوا ہو۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ کن جرائم پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لگتا ہے؟
فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ
انسداد دہشتگردی عدالت میں ملزمان کی فوجی عدالتوں کو حوالگی کی درخواست نہیں دی جاسکتی۔
جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ آپ ابھی تک یہ نہیں بتا سکے کہ کب مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں،
انھوں نے کہا کہ یہ بھی بتائیں کہ کمانڈنگ افسر کیسے سویلینز کی حوالگی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ بتائیں کہ کیسے فوج کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا کہ ان افراد نے جرم کیا ہے،
انہوں نے کہا کہ باربار آپ سے سوال کر رہے ہیں اور آپ جواب نہیں دے رہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ بتا دیں کہ کیسے طے ہوتا ہے کہ کسی کیخلاف آرمی ایکٹ یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر
سول ٹرائل چل رہا ہے تو فوج کیسے فیصلہ کر لیتی ہے کہ اس شخص کو ہمارے حوالے کر دو؟ جسٹس یحی آفریدی نے استفسار کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعات آرمی ایکٹ میں کہاں ہیں؟
جسٹس اعجاز الااحسن نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کب لگتا ہے یہ بتا دیں۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا آرمی اتھارٹیز یہ فیصلہ کر بھی سکتی ہیں کہ کسی سویلین کو ہمارے حوالے کر دو؟
انھوں نے کہا کہ اگر ایک شخص کا سول کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے تو کیا فوج اس کی حوالگی کا مطالبہ کر سکتی ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ
فوج کا اندرونی طریقہ کار کیا ہے جس کے تحت یہ طے ہوتا ہے کہ سویلین کو ہمارے حوالے کر دو؟
فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ
یہی تو میری دلیل ہے کہ فوج سویلینز کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی دستاویزات تو دکھا دیں جس کی بنیاد پر سویلینز کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے،
جسٹس اعجاز الااحسن نے سوال کیا کہ یہ بھی قانون میں ہے کہ اگر فوج سویلین کی حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے تو ریفرنس وفاقی حکومت کو بھیجا جاتا ہے،
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی منظوری پر حوالگی کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے،
جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کب سویلینز کی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی منظوری دی؟ جسٹس یحیٰ افریدی نے سوال کیا کہ
آپ ہمیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا سیکشن 13 نہ پڑھائیں۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ
مسئلہ فورم طے کرنے کا ہے کہ کہاں ٹرائل ہوگا،
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ ٹرائل کا فورم کیسے طے ہوتا ہے یہی سوال ہے،
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ
کسی کی گرفتاری کے لیے آنے سے پہلے فوج اپنے گھر پر کیا تیاری کرتی ہے، یہ بتا دیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ
کامن سینس کی بات ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرائم کا تعین فوج نے ہی کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فوج انسداد دہشتگردی عدالت میں سویلینز کی حوالگی کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فوج کی سویلینز کی حوالگی کی درخواست میں صرف ٹھوس بنیاد نہیں دی گئی، اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے کہ کیوں کوئی ٹھوس بنیاد بنا کر سویلینز کی حوالگی کی درخواست نہیں کی گئی۔
جسٹس یحیٰ آفریدی نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
آپ نے کہا آرمی ایکٹ کو رہنے دیں طریقہ کار کو دیکھیں اور پھر تو ہمیں انفرادی طور پر ایک ایک شخص کی گرفتاری کا معاملہ دیکھنا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ بریک لے لیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اٹھتے ہوئے فیصل صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کافی وغیرہ پئیں سوالات کے جوابات نہ دینے پر آپ کو جرمانہ دینا پڑے گا۔
فوجی حدود کے اندر ہونے والے جرم سے تعلق پر بھی آرمی ایکٹ لاگو ہوتا ہے: جسٹس منصور علی شاہ کے ریمارکس, شہزاد ملک بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرا دوسرا نقظہ فیئر ٹرائل کا ہے کیونکہ ایک الزام پر ٹرائل کے بعد کچھ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہو گا اور کچھ کے پاس نہیں۔
ان کے مطابق سپریم کورٹ کے پانچ فیصلے موجود ہیں، جو آرمی ٹرائل سے متعلق ہیں۔
وکیل فیصل صدیقی کے مطابق سنہ 1998 میں ملٹری کورٹس کے خلاف فیصلہ آیا۔ اس فیصلے میں آرمی ایکٹ کو زیر بحث نہیں لایا گیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ ’دوسرے کیسز میں آرمی ایکٹ سے متعلق کیا اصول سیٹ کیا گیا ہے؟‘
فیصل صدیقی نے کہا کہ ’بہت کم ایسا ہوا کہ سول کورٹس کو ’بائی پاس‘ کیا گیا ہو۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ ’کن وجوہات کی بنا پر سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت کیا جاتا رہا ہے اور ایسے کون سے مخصوص حالات ہیں، جن میں ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟
فیصل صدیقی نے کہا کہ ’عدالتی فیصلے یہ کہتے ہیں کہ واضح تفریق ہونی چاہیے۔‘
ان کے مطابق ہم نہیں کہتے کہ لوگوں کا سخت ٹرائل نہ ہو، انسدادِ دہشت گردی عدالت سے زیادہ سخت ٹرائل کہاں ہو سکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ ملٹری کے اندر کام کرنے والا بندہ ہو تو ہی آفیشل سیکرٹ ایکٹ لگے گا۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ملٹری حدود کے اندر ہونے کے جرم سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ جو آپ کرائم رپورٹ دکھا رہے ہیں اس میں تو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں ہیں اور 9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ سے متعلق دفعات کب شامل کی گئیں؟
جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ ’آپ کے دلائل کی بنیاد یہ ہے کہ کس کے پاس اختیار ہے کہ وہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل کرے؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ نیشل سیکورٹی کے باعث کہا گیا کہ یہ ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ’سٹیٹ سکیورٹی کے حدود میں جائیں گے تو پھر ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہونے کا ذکر ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’ملٹری کورٹس میں کسی کو ملزم ٹھہرانے کا کیا طریقہ کار ہے۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ممنوعہ علاقے، عمارات اور کچھ سول عمارات پر بھی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ ابھی تک بنیادی پوائنٹ ہی نہیں بتا سکے۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات ایف آئی آرز میں کب شامل کی گئیں۔ اگر ایف آئی آر میں افیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات ہی شامل نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ملزمان کی حوالگی مانگ سکتا ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’آپ سے دو سوال پوچھ رہے ہیں اس پر آئیں۔ آپ بتائیں آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہو گا۔ آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے؟
جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ ’آپ نہیں سمجھتے کہ پہلے اٹارنی جنرل سے پوچھا جائے کہ مقدمات کیسے بنے؟
چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ آپ دلائل جاری رکھیں وکلا کے بعد اٹارنی جنرل کو سنیں گے، ہو سکتا ہے اٹارنی جنرل کل مانگی گئی نفصیلات پر آج بیان ہی دیں۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ کل عدالت نے پوچھا تھا کہ یہ درخواستیں پہلے ہائیکورٹ میں نہیں جانی چاہیے تھیں۔ فیصل صدیقی کے مطابق ایک سے زیادہ صوبوں کا معاملہ ہے ایک ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں بن سکتا۔
ان کے مطابق ’یہ درخواستیں سپریم کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہیں۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’نیشل سیکورٹی کے باعث کہا گیا کہ یہ ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا۔‘
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے جن لوگوں کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا ان پر الزامات کی نوعیت الگ ہو، آپ صرف مفروضے پر کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کے خلاف کوئی شواہد موجود نہیں۔ جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ آپ عمومی بحث پر جا رہے ہیں یہ بھی علم نہیں ان لوگوں کو کس کس شق کے تحت ملٹری کورٹس بھجا گیا۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’فرض کریں ان کے خلاف شواہد بھی موجود ہیں تو دکھاوں گا کہ انھیں کیسے ملٹری کورٹس نہیں بھجا جا سکتا ہے۔
عدالت کا شہریوں کے اغوا اور بھتہ وصولی میں ملوث اسلام آباد پولیس کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم, شہزاد ملک بی بی سی اردو
اسلام آباد ہائیکورٹ نے
اسلام آباد پولیس کے خلاف شہریوں کو اغوا کر کے تھانے میں رکھنے اور بھتہ وصولی کیس میں ایف آئی اے کو پولیس اہلکاروں و ملوث افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ڈی ایس پی سی آئی اے اور اے سی آئی اغوا برائے تاوان اور غیر قانونی حراست میں ملوث ہیں۔
عدالت
جسٹس بابر ستار نے خاتون کے بیٹے اور پوتے کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت انھوں نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے کی رپورٹ نے پولیس اہلکار کے شہریوں کے اغوا اور بھتہ وصولی کی تصدیق کی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ غیر قانونی حراست میں رکھے لوگ کہاں ہیں؟
آئی جی اسلام آباد نے کا کہ ریکارڈ کے مطابق وہ لاہور جیل میں ہیں کیونکہ انھیں لاہور پولیس نے گرفتار کیا ہے۔
جسٹس بابر ستار نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے کی رپورٹ دیکھی ہے؟
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ’مجھے تھوڑا وقت دے دیں میں کیس دیکھ کر عدالت کو آگاہ کروں گا۔‘ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کو آپ کے سی سی ٹی وی سے نظر آ سکتا ہے تو آپ کو کیوں نظر نہیں آ سکتا؟
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ’آپ کے اپنے ایس ایس پیز ان غیر قانونی اقدامات کو کور اپ کر رہے ہیں۔‘ آئی جی نے کہا کہ اگر ہم کور اپ کر رہے ہوتے تو ہم ایف آئی اے کو ڈیٹا نہ دیتے۔ عدالت نے پوچھا کہ آپ کیسے حراست میں لیا ؟ کیسے لاہور پولیس کے حوالہ کیا ؟
ایک بندے کو اٹھاتے ہیں بھتہ مانگتے ہیں اگر یہ کرنا ہے تو سب کچھ ختم کر دیتے ہیں، شہریوں کے پرائیویٹ معاملات کو کیسے آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں؟ پولیس نے کب سے عدالتیں لگا لی ہیں۔ جسسٹس فاروق ستار نے ریمارکس دیے کہ یہ بھتے غیر قانونی حراست میں رکھنے کا کیس ہے معصوم لوگوں کو اٹھا کر یہاں لا رہے ہیں۔