فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل: وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ بینچ سے علیحدہ
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد خود کو بینچ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔
لائیو کوریج
فوجی عدالتوں پر فیصلہ ملک کے لیے نئی سمت کا تعین کرے گا: تحریک انصاف
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے کہا ہے کہ آج پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جب سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا جن میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو چیلنج کیا گیا ہے۔
اُن کے مطابق ’ایک جمہوری معاشرے میں سویلین بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلہ ملک کی نئی سمت کا تعین کرے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فواد چوہدری کے خلاف حتمی فیصلہ دینے سے روک دیا, شہزاد ملک بی بی سی اردو
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فواد چوہدری اور دیگر رہنماؤں کے خلاف جاری توہین الیکشن کمیشن کیس کا حتمی فیصلہ دینے سے روک دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کارروائی جاری رکھے حتمی فیصلہ نہ دے۔‘ فواد چوہدری کو شوکاز نوٹس جاری کرنے پر بھی عدالت نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے اس مقدمے میں جولائی کے پہلے ہفتے تک جواب طلب کیا ہے۔
فواد چودھری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی معطل کرنےکی استدعا کی تھی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے۔
فواد چودھری کے وکیل کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور مجاز کمشنرکے پاس کارروائی کا اختیار ہے۔ وکیل کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس خلاف قانون ہے۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے یہ کہا ہے کہ ’چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو توہین عدالت کارروائی شروع کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ کیس کی آئندہ سماعت جولائی کے پہلے ہفتے میں ہو گی۔‘
پارٹی اراکین کو علیحدگی کی ترغیب دینے کا الزام: پی ٹی آئی نے پرویز خٹک سے وضاحت مانگ لی
تحریک انصاف کی جانب سے سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک پر پارٹی اراکین کو جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کی ترغیب دلوانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔
تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی جانب سے پرویز خٹک کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دن میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’پارٹی کو معلوم ہوا ہے کہ آپ پارٹی کے اراکین سے رابطہ کر رہے ہیں اور انھیں جماعت چھوڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔‘
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جواب تسلی بخش نہ ہونے یا اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے جواب سے گریز کرنے پر قوائد و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پرویز خٹک، جو خیبر پختونخوا میں پارٹی کے صوبائی صدر تھے، نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پارٹی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہPTI
فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کیخلاف مقدمات: سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف
جسٹس نے سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق دائر درخواستوں کی
سماعت کے لیے نو رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو جمعرات کو ان درخواستوں کی سماعت کرے
گا۔
سویلین
کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے سابق چیف
جسٹس جواد ایس خواجہ کے علاوہ سابق وزیر اعظم عمران خان اوروکیل اعتزاز احسن نے درخواستیں دائر کر رکھی
ہے۔
حکومت
نے نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا
تھا۔
بینچ میں نامزد جج کون کون ہیں؟
چیف
جسٹس عمر عطا بندیالکی سربراہی میں قائم
ہونے والے نو رکنی بینچ میں نامزد چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق
مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ
آفریدی ، جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔
جسٹس
قاضی فائز عیسیٰ کو کافی عرصے کے بعد کسی لارجر بینچ کا حصہ بنایا
گیا ہے۔
حکومت
کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیارات کم کرنے سے متعلق جس
قانون سازی کے خلاف جو آٹھ رکنی بینچ بنایا گیا تھا اس میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو
شامل نہیں کیا گیا تھا اور اس میںاکثریت جونئیر
ججز کی تھی ۔
جسٹس
قاضی فائز عیسی 13اپریل کے بعد سپریم کورٹ کےکسی بینچ کا حصہ نہیں رہے۔
،تصویر کا ذریعہSCP
’ملٹری کورٹس کے ذریعے سویلینز کا ٹرائل غیر آئینی قرار دیا جائے‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ملٹری کورٹس کے خلاف درخواست دائر کردی ہے اور اس درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عام عدالتیں ہوتے ہوئے ملٹری کورٹس کے ذریعے سویلینز کا ٹرائل غیر آئینی قرار دیا جائے۔
ان کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی ون اور ٹو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں جنھیں کالعدم قرار دیا جائے۔ سابق چیف جسٹس کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے لیے حوالے کیے گئے افراد کو کہاں رکھا گیا ہے اس کا ڈیٹا طلب کیا جائے اور ملٹری کورٹس میں عام شہریوں کے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورٹ مارشل کی کاروائی صرف مسلح افواج کے اہلکاروں کے خلاف کی جا سکتی ہے اور کورٹ مارشل کا مقصد افواج میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر وہ حاضر سروس ملازم ہو اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا آئین پاکستان کے تحت سویلین کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے۔
’ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے‘
اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کیس کے فیصلے کا فوری طور پر بنیادی حقوق پر براہِ راست اثر پڑے گا اور حکومت اور فوج نے واضح کیا ہے کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کا ملٹری کورٹس میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
سابق چیف جسٹس کا اپنی درخواست میں یہ بھی کہنا ہے کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ کوئی جرم سرزد ہونے کی صورت میں ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہےاور کورٹ مارشل کی صورت میں آئین میں دیئے گئے اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوگی اور شفاف ٹرائل اسی صورت ممکن ہوگا جب مقدمے کی کھلی سماعت ہو اور ملزمان کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہو جبکہ کورٹ مارشل کی صورت میں ان اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی دستیاب نہیں ہوگا۔
اس درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے لیے بھیجے جانے والے ملزمان کو فوجداری عدالتوں میں ٹرائل کے لیے سول اتھارٹیز کے حوالے کرنے کا حکم جاری کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ملٹری کورٹس کی تمام کاروائی روکنے اور کوئی بھی حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دیا جائے۔
جناح ہاؤس حملہ کیس: عمران خان سمیت سمیت پانچ ملزمان شام 7 بجے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے آفس طلب
جناح
ہاؤس حملہ کیس میں ملزمان کی طلبی کے سمن جاری کیے گئے ہیں۔
سمن میں
کہا گیا ہے کہ ایس پی سول لائنز اور ماڈل ٹاون چیئرمین پی ٹی آئی سمیت 5 ملزمان کی
حاضری یقینی بنائیں۔
ملزمان
میں عمران خان، بشری بی بی، حماد اظہر ، حسان خان نیازی اور مراد سعید کو آج شام
7بجے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے آفس طلب کیا گیا ہے۔
دوسری
جانب سابق سپیکر قومی
اسمبلی اسد قیصر اور پی ٹٰی آئی کے سابق رکن قومی
اسمبلی انور تاج کو پشاور ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں درج مقدمات میں 3 جولائی تک
گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
تحریک
انصاف کے مرکزی رہنما سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پی ٹٰی آئی سابق رکن قومی
اسمبلی انور تاج نے ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کر دیے۔
پشاور
ہائی کورٹ کے حکم میں بتایا گیا ہے کہ 3 جولائی تک متعلقہ عدالت میں پیش نہ ہونے کی
صورت جاری کردہ آرڈر واپس تصور ہوگا۔
پی ٹٰی
آئی کے دونوں رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات میں گزشتہ روز اسلام آباد کے عدالت نے
ضمانت خارج کی تھی۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں 180 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کل تک مؤخر
انسداد
دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے خدیجہ شاہ، عالیہ حمزہ سمیت گرفتار 180 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کل تک مؤخر کر دیا۔
عدالت
کا کہنا تھا کہ ’ملزمان کی تعداد زیادہ ہے تمام فائلز کا جائزہ لینا ہے، کل تمام
ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا جائے گا۔‘
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی۔
سپیشل پراسیکیوٹر فریاد علی شاہ نے ملزمان کی ضمانتیں خارج ہونے کی استدعا کی۔
جناح ہاؤس کیس میں 158
مرد اور 22 خواتین نے ضمانت کی درخواست دائر کی۔ 158 مرد ملزمان میں عباد فاروق
سمیت دیگر کارکنان شامل ہیں۔ 22 خواتین میں
خدیجہ شاہ ، صنم جاوید اور عالیہ حمزہ ملک سمیت دیگر شامل ہیں۔
ملزمان کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔ وکلا کا مؤقف تھا کہ
جیو فینسنگ میں راستے سے گزرنے والوں کو گرفتار کیا گیا۔ جن ملزمان کیخلاف شواہد
نہیں انھیں ضمانت دی جائے۔
سپیشل پراسیکیوٹر فریاد علی شاہ نے ملزمان کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا ’ملزمان شناخت پریڈ میں شناخت ہوئے
ملزمان جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہیں۔ جلاؤ گھیراؤ کی فوٹیج موجود ہے ملزمان کا فون
کال ریکارڈ موجود ہے۔
ملزمان جناح ہاؤس حملہ کے مقدمہ نمبر 96/23
تھانہ سرور روڑ میں نامزد ہیں۔
اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نو مئی کے واقعات پر پی ٹی آئی رہنماؤں اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کہاں ہیں؟ جس پر اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وہ دونوں باہر باہر گاڑی میں موجود ہیں ۔
’باہر پولیس نے ناکہ لگایا ہوا ہے، وہ گاڑی سے نکلے تو گرفتار ہو جائیں گے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کیا کوئی عدالتی نظیر موجود ہے کہ کسی کو بغیر پیش ہوئے ضمانت ملی ہو؟
جس پر وکیل نے بتایا کہ حمزہ شہباز کو پیش ہوئے بغیر ضمانت ملنے کی نظیر موجود ہے۔ ’آپ اس درخواست کو حمزہ شہباز کیس کی طرح حفاظتی ضمانت میں تبدیل کردیں۔‘
عدالت نے کہا کہ ہم کل تک کا وقت دے دیتے ہیں درخواست گزار پیش ہو جائیں۔ ’پٹیشنر عدالت کے سامنے آ گئے تو کیس سن لیں گے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی عدالت کے اندر آنے کے لیے پروٹیکشن دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی اور کہا کہ کیا اس قسم کا غیر معمولی ریلیف عام شہری کو بھی دیا جاتا ہے۔
سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی بازیابی کی درخواست، ایس ایچ او تھانہ کوہسار ذاتی حیثیت میں طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست میں ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت دفاع، وزارت قانون، نیب، آئی جی اور ایف آئی اے کو بھی جواب کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔
گذشتہ روز اعظم خان کے بھتیجے سعید خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل قاسم ودود عدالت پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ 15 جون شام تقریباً سات بجے اعظم خان گھر سے باہر نکلے اور تب سے لاپتہ ہیں۔
وکیل کے مطابق اعظم خان کی تلاش کے لیے مختلف فورمز پر ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہیں ملے۔
وکیل نے یہ بھی کہا کہ ’ایف آئی اے بھی ماضی میں اعظم خان کو ہراساں کرتی رہی ہے جبکہ نیب نے القادر ٹرسٹ کیس میں بطور گواہ اعظم خان کو طلب کیا ہے۔‘
درخواست میں استدعا کی گئی کہ اعظم خان کی بازیابی کے لیے متعلقہ اداروں کو حکم دیا جائے، جس کے بعد عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔
عثمان مرزا سمیت پانچ مجرموں کی عمر قید کی سزائیں برقرار
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عثمان مرزا سمیت پانچ مجرموں کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تمام مجرموں کی عمر قید کی سزائیں برقرار رہیں گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون کے ایک فلیٹ میں ایک جوڑے کو جنسی طور پر ہراساں کرنے، ان کی برہنہ ویڈیو بنانے اور انھیں جنسی عمل پر مجبور کرنے کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے پانچ مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان غالب، انڈیکس میں 400 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز مندی کا رجحان غالب رہا جب انڈیکس میں 432 پوائنٹس
کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سٹاک
مارکیٹ میں کاروبار معاشی محاذ پر منفی خبروں کی وجہ سے دباؤ کا شکار رہا۔
پاکستان
کے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے معدوم ہونے والے امکانات کی وجہ سے ملک کے لیے
معاشی مشکلات نے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو سائیڈ لائن پر رکھا۔
سٹاک
مارکیٹ بروکرز کے مطابق اگرچہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں امریکہ سفیر سے
ملاقات میں آئی ایم ایف پروگرام کے لیے حمایت مانگی تاہم ابھی تک پروگرام بحالی کے
امکانات زیادہ واضح نہیں ہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ: عمران خان کے خلاف سنگین غداری سے متعلق درخواست پر فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری
بلوچستان
ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف سنگین غداری سے متعلق
درخواست پر عمران خان ، سیکریٹری قومی اسمبلی اور وفاقی سیکریٹری قانون سمیت دیگر
فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکُم صادر کیا۔
اس
سلسلے میں پہلے ایک آئینی درخواست عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی جنھیں
رواں ماہ کے اوائل میں کوئٹہ میں قتل کیا گیا تھا۔
درخواست
میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے عمران خان نے قومی اسمبلی
کو غیر آئینی طور پر توڑا جو کہ سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
درخواست
میں ہائیکورٹ سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی کو غیر آئینی طور پر توڑنے پر
عمران خان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کرانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
مقتول
درخواست دہندہ کے وکیل امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے بتایا چونکہ مدعی کے قتل کے
بعد یہ درخواست غیرمؤثر ہوگئی تھی اس لیے انھوں اس سلسلے میں اپنی جانب سے درخواست
دائر کی ہے۔
امان
اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر
افغان اور جسٹس عامر نواز رانا پر مشتمل بینچ نے تمام فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری
کرنے حکم دیتے ہوئے
درخواست کی سماعت 25 جون تک ملتوی کی۔
جسٹس فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری
،تصویر کا ذریعہSCP
صدر پاکستان عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
صدر مملکت نے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے تین کے تحت کی۔
جسٹس فائز عیسیٰ ملک کے موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ کے بعد 17 ستمبر 2023 سے یہ عہدہ سنبھالیں گے۔
وزارت قانون کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عمومی طور پر کسی بھی چیف جسٹس کی مدت ملازمت پورے ہونے سے ایک ماہ قبل نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کی سمری صدر مملکت کو بھجوائی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ انھیں واضح ہدایات دی گئیں تھیں کہ تین ماہ پہلے نئے چیف جسٹس کی سمری صدر مملکت کو بجھوا دی جائے۔
،تصویر کا ذریعہMinistry of Law
سرمایہ کاری میں سہولت کاری پر خصوصی کونسل کی تشکیل: کیا محض وعدوں کی بنیاد پر بیمار پاکستانی معیشت کی بحالی ممکن ہے؟
نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات: عمران خان کی دو مقدمات میں سات جولائی تک عبوری ضمانت منظور, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہورکی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے دو مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سات جولائی تک عبوری ضمانت منظورکر لی ہے۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں عمران خان کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
عمران خان کے خلاف تھانہ نصیر آباد میں پولیس نے کنٹینر جلانے کا مقدمہ درج کررکھا ہے جبکہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے عمران خان کے خلاف مسلم لیگ ن کے آفس میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ درج کررکھا ہے۔
دونوں مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔
بریکنگ, عمران خان کی کوئٹہ میں درج قتل کے مقدمے میں تین جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور, ترہب اصغر، بی بی سی اردوڈاٹ کام، لاہور
،تصویر کا ذریعہIKOfficial
لاہورہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کوئٹہ میں درج قتل کے مقدمے میں تین جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ عمران خان اپنے وکیل اشتیاق اے خان کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث چیئرمین پی ٹی آئی کوئٹہ نہیں جا سکے۔عدالت کوئٹہ کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کرے۔
اس پر سرکاری وکیل غلام سرور نہنگ نے درخواست کی مخالفت کی تاہم لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی استدعا منظور کرتے ہوئے تین جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔
پرویز الہی منی لانڈرنگ کیس میں کیمپ جیل لاہور سے گرفتار
،تصویر کا ذریعہSocial Media
سابق وزیراعلی پنجاب اور تحریک انصاف
کے صدر چوہدری پرویز الہی کو پانچ کمپنیوں کےذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ایف آئی
اے گرفتار کیا ہے۔
پرویز الہی کو ایف آئی ٹیم نے کیمپ جیل لاہور سے مقدمہ نمبر 18/23 میں گرفتار کیا گیا ہے۔
گرفتاری کے بعد چودھری پرویز الہی کو سروسز اسپتال لا کر طبی معائنہ کرایا گیا۔
ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد پرویز الہی کو صحت مند قرار دے دیا جس کے بعد ایف آئی اے نے انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت پیش کردیا۔
پرویز الہی کوجوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک کی عدالت پیش کیا گیا ہے۔ اس موقع پر کمرہ عدالت کے باہر سکیورٹی کےسخت انتظامات کئے گئے اور پولیس نے وکلا اور سائلین کا بھی کمرہ عدالت میں داخلہ بند کردیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان آج لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان آج تھانہ نصیرآباد اور تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درج مقدمات میں عبوری ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔
عمران خان کے ہمراہ ان کی اہلیہ بشری بی بی بھی آج لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوں گی۔
گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے دونوں مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
دورہ فرانس میں عالمی مالیاتی اداروں کی تنظیم نو کی ضرورت پر موقف پیش کروں گا: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیو گلوبل
فنانسنگ پکِٹ سمٹ وہ موقع ہے جس میں عالمی مالیاتی نظام میں جامع اصلاحات اور اقدامات پراتفاق
کیا جا سکتا ہے، اپنے دورہ فرانس میں عالمی
مالیاتی اداروں کی تنظیم نو کی ضرورت پر پاکستان کا موقف پیش کروں گا۔‘
شہبازشریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات طویل عرصے سے اہم مطالبہ رہا ہے، یہ مطالبہ،عالمی ماہرین، رہنما مختلف فورمز پرکرتے رہے ہیں۔ سربراہ اجلاس عالمی مالیاتی نظام میں جامع اصلاحات کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر اعظم کے مطابق ’ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، بڑھتےقرض،توانائی جیسے چیلنج خطرے کی گھنٹی ہیں‘
انھوں نے کہا کہ جی 77 پلس چائنا گروپنگ میں پاکستان اہم اور فعال رکن ہے۔‘
وزیراعظم کے مطابق ’موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے بری طرح متاثر ہونے والے ملک کے طور پر پاکستان اپنا موقف بہتر طور پر پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘
سابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان گرفتار: راولپنڈی پولیس
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
راولپنڈی پولیس نے سابق وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق غلام سرور کے ساتھ ان کے بیٹے اور بھتیجے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ غلام سرور خان اسلام آباد میں ایک دوست کے گھر میں پناہ لیے ہوئے تھے‘
غلام سرور اوران کے بیٹے اور بھتیجے پرٹیکسلا میں نو مئی کے واقعات میں ملوث تھے۔
پولیس کے مطابق ’ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ غلام سرور خان کے خلاف ٹیکسلا، اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقدمات درج ہیں۔ ‘
واضخ رہے غلام سرور خان کے بیٹے منصورحیات خان سابق ایم این اے رہے ہیں۔
پاکستان میں موجودہ مالی سال میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 21 فیصد کی کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے 11 مہینوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 21 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق زیرجائزہ مہینوں میں پاکستان میں ایک ارب 32 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی جو گزشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں ایک ارب 66 کروڑ ڈالر تھی۔
سٹیٹ بینک کےمطابق مئی کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں چھ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ملکوں میں چین سر فہرست رہا تاہم 11مہینوں میں اس کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکہ اور فرانس سے آنے والی سرمایہ کاری میں بالترتیب 73 فیصد اور 21 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم پاکستان میں برطانیہ سے آنے والی سرمایہ کاری میں 10 فیصد اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے سے سرمایہ کاری میں 15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔