وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سمندری
طوفان کے پیش نظر ساحلی پٹی کے شہروں اور علاقوں سے لوگوں کا انخلا رات بھر جاری
رہا۔
کیٹی بندر کی 13000 آبادی خطرے میں ہے جس میں سے 3000 افراد
کو رات بھر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے جاری کردہ بیان
کے مطابق گھوڑا باڑی کے علاقے میں 5000 افراد کی آبادی طوفان سے خطرہ ہے جس میں
100 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
جبکہ ساحلی علاقے شہید فاضل راہو کی 4000 افراد پر مشتمل آبادی
کو طوفان کا خطرہ ہے جس میں سے 3000 افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔ اسی طرح بدین کی
2500 افراد کی آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 540 افراد ابھی تک محفوظ مقام پر منتقل
ہو چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے جاری کردہ بیان کے مطابق شاہ بندر کی 5000 افراد
پر مشتمل آبادی سمندری طوفان کی زد میں آنے کا خطرہ ہے اس لیے 90 لوگوں کو رات
منتقل کیا گیا ہے۔
اسی طرح ساحلی علاقے جاتی کی افراد کی 10,000 آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے اور
گذشتہ رات 100 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ کھاروچھان کی 1300 کی
آبادی میں سے صرف چھ افراد منتقل کیے گئے۔
وزیر اعلیٰ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ابھی تک 40800 میں
سے 6836 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ باقی افراد کی منتقلی
کا سلسلہ جاری ہے۔
ٹھٹھہ، بدین، اور سجاول کے اضلاع سے بھی لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے
جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگ اپنے گھر چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو
محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ وزیراعلیٰ نے لوگوں کو اپیل کی
کہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔
اس سے قبل پیر کے روز بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم اقدام لوگوں کو پاکستان کے ساحلی علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرنا ہے اور پر کام جاری ہے جبکہ کراچی اور دیگر شہری علاقے جو طوفان کے دوران آنے والی ممکنہ بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں وہاں پمپنگ مشینیں لگائی جا رہی ہیں تاکہ نکاسی آب کا کام بروقت ہو سکے۔
انھوں
نے کہا کہ لگ بھگ 60 ہزار افراد کا مختلف علاقوں اور ساحلی آبادیوں سے انخلا کیا
جائے گا جبکہ کراچی شہر میں انتہائی خستہ اور پرانی 60 عمارتوں سے بھی لوگوں کو
نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔
مراد
علی شاہ کے مطابق ’اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا انخلا آسان کام نہیں۔ تیز ہواؤں
اور بارشوں کا بھی خدشہ ہے اور اس ضمن میں اگلے تین، چار دن اہم ہیں۔
انھوں
نے شہریوں سے اپیل کی کہ بارش اور تیز ہواؤں کے دوران عوام بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں
جبکہ ان علاقوں سے جانب سے مکمل گریز کیا جائے جہاں تعمیراتی کام جاری ہے یا سڑکیں
کھدی ہوئی ہیں۔