وفاقی وزیر برائے موسمیاتی
تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ بپرجوائے سمندری طوفان کی اصل شدت کا کل (جمعرات)
تک واضح ہو سکے گی کیونکہ یہ 15 جون کی صبح گیارہ بجے پاکستان کے ساحلی علاقوں تک
پہنچے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’اس کا لینڈ فال (یعنی سمندر
سے ساحلی علاقوں میں داخل ہونے کا وقت) کیٹی بندر اور انڈین گجرات کے ساحلوں پر ہو
سکتا ہے۔‘
’شام ساڑھے چار بجے موصول ہونے والی تازہ اطلاعات کے مطابق ہوا کی شدت 150
سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے۔ کراچی سے اس کا فاصلہ دور ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی
سے فی الحال اس کا فاصلہ 370 کلومیٹر ہے جبکہ کیٹی بندر سے اس کا فاصلہ کم ہو کر
290 کلومیٹر ہے جبکہ یہ پاکستانی ساحلی علاقوں کی جانب 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی
رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے لینڈ فال (یعنی
زمین سے اس کے ٹکراؤ کے وقت) ہوا کی رفتار 100 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو گی۔‘
شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نیوی نے سمندری طوفان بپرجوائے سے درپیش ممکنہ خطرات کی پیش نظر اپنے اثاثے محفوط جگہوں پر منتقل کر دیے ہیں۔
شیری رحمان کے مطابق گذشتہ چار سے پانچ راتوں سے سندھ کے ساحلی علاقوں سے انخلا جاری ہے اور اب تک 66 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا گیا ہے۔
شیری رحمان نے عوام سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ خود سے واپس اپنے گھروں میں نہ جائیں بلکہ اسی وقت جائیں جب حکومت اور ادارے اس کی اجازت دیں گے۔
شیری رحمان نے کہا ہے کہ رینجرز اور سندھ پولیس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق حکومت نے وہ تمام اقدامات اٹھا لیے ہیں جو طوفان کے آنے سے پہلے اٹھانے ضروری ہوتے ہیں اور اب جب یہ سمندری طوفان سندھ کی ساحلی پٹی سے ٹکرائے گا تو پھر اس کے انقصانات کے بارے میں پتا چل سکے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہ ماحولیاتی اثرات کے شاخسانے ہیں جو سائیکلون کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ شیری رحمان کے مطابق اب ایسے سائیکلون کی تعداد اور شدت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کی آفات کی وجہ قدرت کو قرار دینا مناسب نہیں کیونکہ یہ انسانی سرگرمیوں اور آلودگی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق ترقی یافتہ دنیا میں جس طرح کی ماحول دشمن سرگرمیاں ہو رہی ہیں اس وجہ سے اب ماحول پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔