آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بپرجوائے سے پاکستان میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا، متاثرین کو حکومتی ہدایات تک واپسی کی اجازت نہیں ہو گی

پاکستان کی وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کے مطابق سمندری طوفان بپرجوائے سے ملک کے ساحلی علاقوں میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ادھر انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کی شدت میں ایک درجہ کمی آئی ہے اور شام تک مزید کمزور ہونے کا امکان ہے۔

لائیو کوریج

  1. بپر جوائے کے باعث دوارکا گمٹی گھاٹ میں سمندری لہریں اونچی ہونا شروع

    سمندری طوفان بپر جوائے شدید نوعیت کے طوفان کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے اور این ڈی ایم اے کے مطابق 15 جون کی سہ پہر پاکستان کی ساحلی پٹی اور انڈین ریاست گجرات سے گزرے گا۔

    تاہم اس وقت انڈیا کی ریاست گجرات کی دوارکا گمٹی گھاٹ پر بپر جوائے کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ اور وہاں پر اس وقت سمندر میں طغیانی ہے اور سمندری لہریں مسلسل اونچی ہو رہی ہیں۔

  2. بریکنگ, سمندری طوفان بپر جوائے کیٹی بندر سے صرف 300 کلومیٹر دور، 15 جون کو پاکستانی ساحلی پٹی سے ٹکرائے گا: این ڈی ایم اے

    پاکستان کے قدرتی آفات سے تحفظ کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق سمندری طوفان پاکستانی ساحلی علاقے کیٹی بندر سے صرف 300 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق سمندری طوفان بپر جوائے کراچی سے 350 جبکہ ٹھٹھہ سے 360 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے۔ طوفان شمال کی جانب رہنے کے بعد 15 جون بعد از دوپہر شمال مشرق کی جانب رخ کرتے ہوئے کیٹی بندر و انڈین ریاست گجرات سے گزرے گا۔

    این ڈی ایم اے نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی ہے۔

    تازہ ترین پیشن گوئی کے مطابق، بپرجوائے 14 جون 2023 کی صبح تک شمال کی جانب رفتار برقرار رکھنے کی توقع ہے اور پھر اس کے مشرق کی طرف مڑنے کا امکان ہے اور یہ کیٹی بندر (جنوب مشرقی سندھ کی ساحلی پٹی) اور انڈیا ریاست گجرات سے گزرے گا۔

    15 جون 2023 کی سہ پہر کو پاکستانی کی ساحلی پٹی اس سمندری طوفان سے متاثر ہو سکتی ہے۔ سمندری طوفان سے ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر، کراچی، میرپورخاص، عمرکوٹ، حیدرآباد، اورماڑہ، ٹنڈو اللہ یار خان اور ٹنڈو محمد خان کے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ان علاقوں میں شدید آندھی، تیز بارش اور سیلابی ریلوں کے بننے کا امکان ہے۔

  3. آندھی، طوفان، بارش اور سیلاب متوقع ہیں، ساحلی علاقوں کے مکین باخبر و محتاط رہیں: این ڈی ایم اے

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان بائپر جوائے کی پیشرفت مسلسل مانیٹر کی جارہی ہے۔

    ممکنہ خطرات کے پیش نظر جس میں آندھی طوفان، بارش اور سیلاب متوقع ہیں، ساحلی علاقوں کے مکین باخبر و محتاط رہیں اور مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔

    این ڈی ایم اے کے مطبق بائپرجوائے کراچی سے 380 جبکہ ٹھٹھہ سے 390 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے۔

    طوفان 14 جون صبح تک شمال کی جانب رہنے کے بعد شمال مشرق کی جانب رخ کرتے ہوئے کیٹی بندر اور انڈین گجرات سے گزرے گا۔

  4. بلڈنگ کنٹرل اتھارٹی نے کراچی میں 578 عمارتیں مخدوش قرار دے دیں, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    بلڈنگ کنٹرل اتھارٹی نے کراچی میں 578 عمارتیں مخدوش قرار دے دی ہیں۔

    کمشنر کراچی نے مخدوش عمارتوں سے متعلق فہرست وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو فراہم کردی ہے۔

    حکام کے مطابق’ کراچی کے ضلع جنوبی میں 456 عمارتیں مخدوش قرار دے دی گئیں،جبکہ ضلع وسطی میں 66 عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا گیاہے۔‘

    کمشنر کراچی کے مطابق ’ضلع کیماڑی کی 23 عمارتوں کو اور ضلع کورنگی کی 14 عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا گیا ہے۔‘

    حکام کے مطابق ’ضلع شرقی میں 13 عمارتیں، ضلع ملیر کی 4 عمارتیں اور ضلع غربی کی 2 عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا گیاہے۔‘

    تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مخدوش عمارتیں خالی کروانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر عمارتیں پہلے سے ہی خالی ہیں تو ان کو بند یا سیل کردیں۔‘

    کمشنر کراچی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر شہر میں کمزور پول بھی ہٹائے جا رہے ہیں۔

  5. متوقع تیز ہواؤں اور گردوغبار کی وجہ سے پروازوں کا رخ متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا جائے گا: پی آئی اے

    سمندری طوفان بپر جوائے کے متوقع خطرے کے پیش نظر قومی ایئرلائن پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق ’طوفان کے اثرات، ہوائی اڈوں اور ہوائی گزرگاہوں پر کل صبح 3 بجے شروع ہوں گے۔‘

    سمندری طوفان کے کراچی اور سندھ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے خطرے کے پیش نظر پی آئی اے نے حفاظتی ٹیمیں بھی ترتیب دے دیں۔

    ترجمان کے مطابق ’کراچی اور سکھر کی پروازوں کیلئے خراب موسم ہونے کی صورت میں لاہور یا ملتان کو متبادل ائیر پورٹس کی حیثیت سے استعمال کیا جائے گا۔ تیز ہواو اور جھکڑ کے باعث آج کراچی سکھر کراچی پرواز منسوخ کردی گئی ہے جبکہ بدھ کی پرواز کا فیصلہ موسم کی مناسبت سے کیا جائے گا۔‘

    بیان کے مطابق’پی آئی اے نے کسی بھی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی ریسپانس سنٹر کو فعال کردیا ہے جو لمحہ بہ لمحہ صورتحال کا جائزہ لے گا۔۔ ریمپ سیفٹی ٹاسک فورس آپریشنل ایریا پر موجود آلات اور جہازوں کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرے گی۔‘

    ترجمان نے بتایا کہ ’ رن وے اور ایپرن کے اطراف کنٹنرز، ٹرالیز، ڈالیز، انجنیرنگ آلات اور ریمپ پر چلنے والی گاڑیوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا جارہا ہے۔ زمین پر کھڑے تمام جہازوں کو پارکنگ چاکس لگائے جائیں گے تاکہ وہ ہواوں اور آندھی سے محفوظ رہ سکیں۔‘

  6. اورماڑہ میں سمندرکا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے کا معاملہ ذیادہ سنگین نہیں: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ میں سمندری طوفان بپرجوائے کے باعث سمندرکا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوا ہے لیکن سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ زیادہ سنگین نہیں ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اورماڑہ میں جن علاقوں کو زیادہ خطرہ ہے ان میں اڈ گور، طاق اور بل شامل ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اورماڑہ شہرکے مشرقی حصے میں دوبارہ پانی چڑھ چکا ہے۔ اس علاقے میں پیر کے روز بھی پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوا تھا اور آج بھی داخل ہوا۔ اورماڑہ میں خطرات کے باعث مختلف علاقوں میں کیمپ قائم کئے گئے ہیں لیکن ابھی تک اورماڑہ سے آبادی کا انخلا نہیں ہوا ہے۔‘

    اے سی پسنی کے مطابق ’پاکستان نیوی کی مدد سے اورماڑہ میں ماہی گیروں کے ڈیڑھ سو کشتیوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پسنی میں کلمت کے علاقے کو خطرہ ہے جس کی آبادی 700 افراد پر مشتمل ہے ۔ خطرہ بہت زیادہ بڑھ جانے کی صورت میں کلمت سے آبادی کے انخلاء کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔‘

    دراِیں اثناء گوادر شہرمیں ماہی گِیروں کی کشتیوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    گوادرکے صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ گوادرشہر میں کشتیوں کو گوادرپورٹ اتھارٹی کی کرینوں کے زریعے محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جارہا ہے۔

  7. دنیا کے سمندروں میں کتنے غرقاب بحری جہاز ہیں؟

  8. مراد علی شاہ کا بل بورڈز، نیون سائنز اور دیگر کمزور انسٹالیشنز ہٹائے جانے کے حوالے سے مختلف مقامات کا دورہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 15 جون کو طوفانی ہواوں کے خدشات کے پیش بل بورڈز، نیون سائنز، ٹریفک سائن بورڈز اور دیگر کمزور نصب شدہ انسٹالیشنز کے ہٹانے کو یقینی بنانے کے لیے کراچی کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔

    کمشنر کراچی نےوزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’طوفان کے دوران متاثر ہونے والی آبادی کا تخمینہ 40 ہزار کے قریب ہے اور تقریباً پانچ سے 10 ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو ریسکیو پوائنٹس پر منتقل کیا جاچکا ہے۔`

    کمشنر کراچی اقبال میمن نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہوائیں مسلسل سسٹم سینٹر کے ارد گرد 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےچلنا شروع ہو گئی ہیں اور سمندری لہروں کی 30 فٹ بلندی پر ہیں۔‘

    بریفنگ کے مطابق ’بپر جوائے کا 14 جون کی صبح تک مزید شمال کی جانب بڑھنے کا امکان بڑھ گیا ہے جس کے بعد شمال مشرق کی جانب مڑ کر کیٹی بندر اورانڈین گجرات کے ساحل سے 15 جون کی دوپہریا شام کو ٹکرائے گا۔‘

    بریفنگ کے مطابق ’جنوب مشرقی سندھ کے ساحل کے ساتھ، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر ، میرپور اور عمر کوٹ میں 13 سے 17 جون کے دوران 80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں کے ساتھ شدید اورموسلادھار بارش کے امکانات ہیں‘

    مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ ’کراچی، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، بینظیر آباد اور سانگھڑ کے اضلاع میں 14 سے 16 جون تک تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ گردو غبار اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔‘

    بریفنگ کے مطابق’طوفان کی شدت 3 سے 3.5 میٹر متوقع ہے ، جس سے کیٹی بندر اور دیگر نشیبی علاقوں کے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔سندھ کے ساحل کے ساتھ سمندری لہریں بہت شدت اختیار کرکے، جن کی بلندی دو سے ڈھائی میٹر کے ساتھ بلوچستان کے ساحل کو بُری طرح متاثر کرسکتے ہیں۔‘

    دوسری جانب کمشنر حیدرآباد نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کی متاثرہ آبادی 85 ہزار کے قریب ہے جن میں سے 24 ہزارسے ذیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ انخلاء کا عمل جاری ہے

  9. ساحلی علاقوں سے لوگوں کا مکمل انخلاء یقینی بنایا جائے: وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سمندری طوفان بپر جوائے سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال پر جائزہ اجلاس کی اسلام آباد میں صدارت کی۔

    اجلاس کو سمندری طوفان بپرجوائے کے راستے اور ممکنہ ساحلی علاقوں سے ٹکراؤ پر بریفنگ دی گئی.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سمندری طوفان بپرجوائے کے پیش نظر تمام تر وسائل کو بروئے کار لا ک لوگوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

    اعلامیے کے مطابق ’وزیر اعظم نےسندھ حکومت،این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کو مل کر ساحلی علاقوں میں موبائل اسپتالوں کے قیام کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی طبی امداد کا خاطر خواہ انتظام یقینی بنایا جائے.‘

    وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ’سمندری طوفان کے بعد بجلی کے ترسیلی نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی فوری مرمت کرکے بجلی کی بحالی یقینی بنائی جائے.‘

    وزیرِ اعظم نے سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمیٹی قائم کردی.

    کمیٹی میں وزیرِ موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن کی صدارت میں وزیر توانائی خرم دستگیر، وزیرِ غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، حکومت سندھ اور بلوچستان کے نمائندے، محکمہ موسمیات اور این آئی ایچ کے نمائندے شامل ہیں۔

    وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق کمیٹی سمندری طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تسلسل کے ساتھ اپنی مشاورت جاری رکھے گی اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے عوام کو آگاہ رکھے گی۔

    وزیرِ اعظم نے ساحلی علاقوں سے لوگوں کا مکمل انخلاء یقینی بنانے اور طوفان سے ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

    اجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق ’وزیر اعظم نے طوفان کے پیش نظر نقل مکانی کرنے والے افراد کے کیمپس میں پینے کے صاف پانی اور خوراک کا خصوصی انتظام یقینی بنانے کے احکامات دیے اور وزیر توانائی خرم دستگیر خان کو جنوبی سندھ کے اضلاع میں سمندری طوفان کے اثرات ختم ہونے تک موجود رہنے کی ہدایت کی۔‘

    اجلاس کو بتایا گیا کہ طوفان کی موجودہ صورتحال کے مطابق طوفان 15 جون کو ممکنہ طور پر کیٹی بندر سے ٹکرائے گا اور تین دن تک مکمل طور پر ختم ہونے کی پیش گوئی ہے.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ساحلی علاقوں سے اس وقت 50 ہزار سے زائد لوگوں اور مجموعی طور ہر تقریباً نو ہزار گھرانوں کی نقل مکانی کروائی جا رہی ہے جو 90 فیصد تک مکمل کر لی گئی ہے.

    نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو سرکاری عمارتوں اور عارضی کیمپوں میں قیام کروایا جا رہا ہے

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے تمام ادارے ہائی الرٹ پر ہیں.

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ سمندر میں پہلے سے موجود ماہی گیروں کا انخلاء بھی کیا جا رہا ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ طوفان سے ممکنہ طور پر کراچی میں بارشیں متوقع ہیں۔

  10. کراچی میں سمندری طوفان ’بپرجوائے‘ سے بچنے کے لیے اقدامات

  11. ٹھٹھہ میں 300 ملی میٹر جبکہ کراچی میں 113 ملی میٹر بارش متوقع ہے: شیری رحمان

    وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ سندھ میں اس وقت تمام ہسپتال الرٹ پر ہیں تمام اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔‘

    سائیکلون بپرجوائے کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران شیری رحمان نے بتایا کہ ’کراچی میں بھی ہنگامی حالات ہیں۔ ٹھٹھہ میں 300 ملی میٹر بارش متوقع ہے جو بہت ذیادہ ہے جبکہ کراچی میں 113 ملی میٹر بارش متوقع ہے جو کراچی جیسے گنجان آباد شہر کے لیے بہت ذیادہ ہے۔‘

    شیری رحمان نے سائیکلون کے دوران تیز ہواؤں کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں جہاں سولر پینل لگے ہیں ان سے خصوصا دور رہیں ۔ سندھ حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے آپ سے ہماری بار بار گزارش ہے کہ احتیاط کریں اور تعاون کریں۔‘

    وفاقی وزیر کے مطابق ’سندھ میں کیٹی بندر، ٹھٹھہ اور بدین وغیرہ کے علاقے ذیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہی جہاں پچھلے سیلاب کی تباہ کاروں کی محرومیاں ابھی تک موجود ہیں۔ این ڈی ایم اے کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔‘

    شیری رحمان نے بتایا کہ اب تک 25 ہزار افراد انخلا کر چکے ہیں۔ طوفان کی شدت نسبتا کچھ کم ہوئی ہے مگر ابھی مکمل چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو ان علاقوں سے نکلنا ہو گا ۔‘

  12. کراچی میں 14 جون سے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان

  13. کراچی میں ساحل سمندر پر دفعہ 144 کے نفاذ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    کراچی میں سائیکلون بپرجوائے کی وجہ سے شدید بارشوں کی پیشنگوئی کے بعد شہر میں پولیس افسران کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے تمام فیلڈ کمانڈرز کو اپنے علاقوں میں موجود رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کراچی پولیس کو ساحل سمندر پر دفعہ 144 کے نفاذ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہے جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے پولیس کو شہری انتظامیہ کیساتھ رابطے میں رہنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ عوام کی بروقت مدد کو یقینی بنایا جا سکے۔

    پولیس کی جانب سے عوام سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بجلی کے تاروں، کھمبوں، درختوں اور سائن بورڈز سے دور رہیں اور تیز بارش میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عوام کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پولیس مددگار 15 اور ٹریفک معلومات و راہنمائی کیلئے 1915 پر فوری رابطہ کریں۔

  14. طوفان کا خطرہ اور ساحلِ سمندر پر کھدائی, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    کراچی میں جہاں سمندری طوفان بپر جوائے کے نتیجے میں شدید بارش کی پیشنگوئی کی گئی ہے وہیں شہر کے ساحلی علاقے ڈی ایچ اے میں متعدد علاقے ایسے ہیں جہاں تعمیراتی کاموں کی وجہ سے سڑکیں کھودی گئی ہیں۔ یہ کھدائی بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے لائن بچھانے کے سلسلے میں کی گئی جس کی وجہ سے کئی مقامات پر گڑھے موجود ہیں

  15. بپرجوائے: گورنر ہاﺅس کی ہیلپ لائن 1366 چوبیس گھنٹے فعال رہے گی

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ بپرجوائے طوفان کے پیش نظر ممکنہ حالات کی پیش بندی کی جا رہی ہے اور طوفانی بارشوں کے پیش نظر کراچی میں ہنگامی اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔

    منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ساحلی پٹی کے متاثرین میں 10ہزار راشن بیگ تقسیم کیے جائیں گے جبکہ گورنر ہاﺅس سے متاثرین کو ایک ماہ کا راشن دیا جائے گا۔

    کامران ٹیسوری نے کہا کہ گورنر ہاﺅس کی ہیلپ لائن 1366 چوبیس گھنٹے فعال رہے گی اور مشکلات میں گھرے افراد ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔

  16. بریکنگ, بپر جوائے کی شدت میں کچھ کمی، سندھ کے چھ اضلاع حساس قرار

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے تاہم یہ کیٹی بندر اور انڈین ریاست گجرات کے درمیان 150 کلومیٹر کے علاقے سے ٹکرائے گا۔ محکمہ موسمیات نے سندھ کے چھ اضلاع حساس قرار دیے ہیں۔

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طوفان ایکسٹریم سویئر (انتہائی شدید) سے سوئیر (شدید) میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ اس کی رفتار میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔

    ’اس وقت یہ طوفان کراچی سے 450 کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے، جو شمالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بدھ کے روز سے یہ شمال مشرق کی سمت میں رخ اختیار کرے گا۔ 15 جون یعنی جمعرات کی دوپہر کے قریب کیٹی بندر اور گجرات کے درمیان 150 کلومیٹر کی رینج میں لینڈ کرے گا، اس سے یہ ہی لگتا ہے کہ یہ سویئر صورتحال برقرار رکھے گا۔‘

    سردار سرفراز کے مطابق ٹھٹہ، سجاول اور بدین میں خاص طور پر آندھی اور تیز بارش ہو گی اور اس بارش کا پھیلاؤ تھر پارکر، عمرکوٹ اور میرپورخاص تک ہوگا۔ سندھ کے یہ چھ اضلاع اس وقت حساس ہیں۔ چونکہ تیز ہوائیں اور سمندری لہروں کی اونچائی زیادہ ہوتی ہے تو ساحلی پٹی کے نشیبی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    کراچی کی صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ یہاں مٹی کے طوفان اور درمیانے درجے کی بارش کا امکان ہے۔

  17. بریکنگ, بپر جوائے: کراچی کے ساحلی علاقوں میں ہواؤں کی رفتار میں تیزی، سمندر کی طرف جانے والے راستے بند

    کراچی میں ساحل سمندر کے قریب واقع رہائشی علاقوں کو رضاکارانہ طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی درخواست کی گئی ہے، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جب تک صورتحال معمول پر نہیں آجاتی رہائشی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔

    ڈیفنس ہاؤسنگ اٹھارٹی کے فیز 5، فیز 6 اور فیز 8 کے رہائشی افراد کو افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی قیمتیں اشیا کو گھروں کے بیسمنٹ سے نکال لیں اور چھتوں کی صفائی کر لیں، اس کے علاوہ لوگوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ ضرورت کے تحت راشن اور فرسٹ ایڈ کٹس دستیاب رکھیں۔

    دوسری جانب سمندر کے قریب ماہی گیروں کی بستیوں ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ، لٹھ بستی اور چشمہ گوٹھ کے ماہی گیروں کے کھلے سمندر پر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم ان کو نقل مکانی کے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں ہوئی۔

    ابراہیم حیدری سے ماہی گیر رہنما کمال شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہواؤں میں تیزی آئی ہے، ماہی گیر نیٹی جیٹی پر موجود ہیں تاہم انتظامیہ کی جانب سے فی الحال کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔

    دریں اثنا ساحل سمندر پر سمندر میں نہانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے بعد سمندر جانے والے راستوں کو پولیس نے رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا ہے۔

    طوفانی ہواؤں کے پیش نظر حکومت سندھ نے اونچی عمارتوں پر موجود بل بورڈ بھی ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں تاہم مرکزی شاہراوں ایم اے جناح روڈ، شاہراہ فیصل سمیت کئی علاقوں میں انھیں ہٹانے کا کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔

    سویل ایوی ایشن اتھارٹی اور کراچی پورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ طیارے اور بحری جہاز کے روٹس اور روٹین میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، تاہم بندرگاہوں اور ایئرپورٹس پر حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

  18. بریکنگ, سمندری طوفان بپر جوائے کہ پیش نظر انتظامیہ نے کیٹی بندر شہر خالی کرانا شروع کر دیا

    صوبہ سندھ کے ساحلی علاقے کیٹی بندر میں مقامی انتظامیہ نے سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر شہر خالی کروانا شروع کر دیا ہے۔

    گاڑھو اور بگھان کے علاقوں میں ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔

    کیٹی بندر شہر کہ رہائشیوں کو انتظامیہ نے گاڑھو ہائی سکول کیمپ میں منتقل کر دیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے قائم کردہ کیمپوں میں سہولیات کا فقدان ہے اور ساحلی علاقوں اور چھوٹے جزیروں سے انخلا کرنے والے افراد کو پریشانی کا سامنا ہے۔

    جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ ساحلی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور لوگوں کی محفوظ مقامات تک نقل مکانی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے اب سے کچھ دیر قبل ابراہیم حیدری کے علاقے کا دورہ کیا۔ اس کے قبل انھوں نے یوسی چشمہ اور ریڑھی گوٹھ کے علاقوں کا دورہ بھی کیا اور لوگوں کی جلد از جلد نقل مکانی کی ہدایت کی۔

    انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں بصورت دیگر موسم کی خرابی کے باعث کسی جانی نقصان کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

  19. بپر جوائے طوفان سے کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

  20. ساحلی علاقوں کے عوام انتظامیہ سے تعاون کرے اور ماہی گیر سمندر میں جانے سے گریز کریں: وزیر اعلیٰ بلوچستان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ساحلی علاقوں کے عوام اور ماہی گیروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام انتظامیہ سے تعاون کریں جبکہ ماہی گیر سمندر میں جانے سے گریز کریں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سمندری طوفان بپر جوائے سے متعلق تازہ ترین صورتحال پر حکام سے بریفنگ لی ہے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کی ہدایات پر متعلقہ تمام صوبائی محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سمندر ی طوفان بپر جوائے سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو خطرات لاحق ہیں اور حکومت ساحلی علاقوں کے عوام کے جان مال کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکمے مشینری اور دیگر وسائل کے ساتھ ساحلی علاقوں میں تعینات ہیں۔

    جبکہ صوبائی حکومت کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    جبکہ ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان اور دیگر حکام نے اورماڑہ کا دورہ کیا اور پاکستان بحریہ کی اورماڑہ بیس کے کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں نیوی کے حکام سے ماہی گیروں کی کشتیوں کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    نیوی کے حکام کی جانب سے ماہی گیروں کی کشتیوں کو ساحلی پٹی پر تحفظ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔