وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سمندری طوفان بپر جوائے سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال پر جائزہ اجلاس کی اسلام آباد میں صدارت کی۔
اجلاس کو سمندری طوفان بپرجوائے کے راستے اور ممکنہ ساحلی علاقوں سے ٹکراؤ پر بریفنگ دی گئی.
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سمندری طوفان بپرجوائے کے پیش نظر تمام تر
وسائل کو بروئے کار لا ک لوگوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اعلامیے کے مطابق ’وزیر
اعظم نےسندھ حکومت،این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کو مل کر ساحلی علاقوں میں
موبائل اسپتالوں کے قیام کو یقینی بنانے
کی ہدایت کی اور کہا کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی طبی امداد کا خاطر خواہ
انتظام یقینی بنایا جائے.‘
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ’سمندری
طوفان کے بعد بجلی کے ترسیلی نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی فوری مرمت کرکے
بجلی کی بحالی یقینی بنائی جائے.‘
وزیرِ اعظم نے سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمیٹی قائم کردی.
کمیٹی میں وزیرِ موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن کی صدارت میں وزیر توانائی خرم دستگیر، وزیرِ غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، حکومت سندھ اور بلوچستان کے نمائندے، محکمہ موسمیات اور این آئی ایچ کے نمائندے شامل ہیں۔
وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق کمیٹی سمندری طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تسلسل کے ساتھ اپنی مشاورت جاری رکھے گی اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے عوام کو آگاہ رکھے گی۔
وزیرِ اعظم نے ساحلی علاقوں سے لوگوں کا مکمل انخلاء یقینی بنانے اور طوفان سے ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔
اجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق ’وزیر اعظم نے طوفان کے پیش نظر نقل مکانی کرنے والے افراد کے کیمپس میں پینے کے صاف پانی اور خوراک کا خصوصی انتظام یقینی بنانے کے احکامات دیے اور وزیر توانائی خرم دستگیر خان کو جنوبی سندھ کے اضلاع میں سمندری طوفان کے اثرات ختم ہونے تک موجود رہنے کی ہدایت کی۔‘
اجلاس کو بتایا گیا کہ طوفان کی موجودہ صورتحال کے مطابق طوفان 15 جون کو ممکنہ طور پر کیٹی بندر سے ٹکرائے گا اور تین دن تک مکمل طور پر ختم ہونے کی پیش گوئی ہے.
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ساحلی علاقوں سے اس وقت 50 ہزار سے زائد لوگوں اور مجموعی طور ہر تقریباً نو ہزار گھرانوں کی نقل مکانی کروائی جا رہی ہے جو 90 فیصد تک مکمل کر لی گئی ہے.
نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو سرکاری عمارتوں اور عارضی کیمپوں میں قیام کروایا جا رہا ہے
اجلاس کو بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے تمام ادارے ہائی الرٹ پر ہیں.
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ سمندر میں پہلے سے موجود ماہی گیروں کا انخلاء بھی کیا جا رہا ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ طوفان سے ممکنہ طور پر کراچی میں بارشیں متوقع ہیں۔