سندھ میں سائیکلون سے ’بنیادی مسائل کی وجہ سے‘ نقصان کا خدشہ, سحر بلوچ/بی بی سی اردو، کراچی
پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ سائیکلون بپر جوائے کی رفتار کم ہوئی ہے مگر اس کی شدت برقرار ہے اور امکان ہے کہ یہ سندھ کے ساحلی علاقوں کی جانب آدھی رات کو پہنچے گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق سمندری طوفان کا انڈین ریاست گجرات کی طرف جھکاؤ زیادہ ہے مگر سندھ میں انفراسٹرکچر اور بنیادی مسائل کی وجہ سے نقصان کا خدشہ ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے ساحلی علاقوں میں 75 ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں مگر بدین، ٹھٹہ، ملیر، کورنگی اور کیماڑی میں ایسے کئی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے گھر نہیں چھوڑے، لہذا ریلیف کیمپوں میں اتنے لوگوں کی تعداد موجود نہیں جس کی توقع تھی۔