روس سے درآمد کیے جانے والے خام تیل کا پہلا کارگو پاکستان میں کراچی کی بندرگاہ پر اتوار کو پہنچ گیا ہے جس میں 45 ہزار ٹن خام تیل ہے۔ روسی خام تیل کے جہاز کی آمد سے متعلق خبر کی تصدیق کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
لائیو کوریج
اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر کا گذشتہ حکومت پر تنقید سے آغاز
،تصویر کا ذریعہPMO
وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز گذشتہ حکومت سے معاشی صورتحال کے تقابلی جائزے سے کیا ہے۔
اس سے قبل، وفاقی کابینہ نے تفصیلی مشاورت کے بعد بجٹ 2023-24 تجاویز قومی اسمبلی میں آئین کے مطابق پیش کرنے کی منظوری دے دی تھی۔
معیشت اور جمہوریت: پاکستان کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی معیشت گذشتہ کچھ عرصے سے بڑی مشکلات کا شکار ہے، اور خاص کر گذشتہ ایک سال پاکستان کے لیے معاشی محاذ پر کافی تباہ کن رہا ہے۔
اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ایک کامیاب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بیدخلی کے بعد جنم لینے والی سیاسی صورتحال نے موجودہ معاشی بحران کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔
پاکستان اپنی گرتی ہوئی معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مسلسل بیل آؤٹ پیکج کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن پی ڈی ایم حکومت کی بظاہر کئی ماہ سے جاری یہ کوششیں ثمرآور ثابت نہیں ہو پا رہی ہیں۔
ایسے میں یہ سوالات اب شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان واقعی ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے؟ کیا پاکستان میں جمہوریت خطرے میں ہے؟ اور موجودہ حالات کی بنیاد پر ملک کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟
گروسری بل کیلکولیٹر: پاکستان میں مہنگائی نے آپ کے سودا سلف پر خرچ کو کتنا متاثر کیا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی نے سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر (ایس پی آئی) کے ذریعے سودا سلف اور روزمرہ خریداری میں شامل اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ مہنگائی نے آپ کی گروسری باسکٹ کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔
تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کی تجاویز ہیں: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے آج پیش ہونے والے بجٹ میں تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کی تجاویز ہیں۔
ان کے مطابق ان تجاویز کو کابینہ اور قومی اسمبلی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو من و عن تسلیم کر لیا گیا ہے اور اُن کی آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر سے فون پر تقریباً ایک گھنٹے بات ہوئی ہے۔ اُن کے مطابق انھوں نے ایک، دو اور چیزیں بھی بتائیں جس حوالے سے اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ انھوں نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے زبانی یقین دہانی حاصل کی ہے کہ اگر ہم تمام شرائط مان لیں گے تو پھر آئی ایم ایف بورڈ پاکستان کے لیے پروگرام کی منظوری دے دے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی تک سٹاف لیول معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اس وقت ملک میں بہت مہنگائی ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل خراب کی اور ہم نے آ کر معاملات بہتر کیے۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس کے سیلاب میں پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔
وزیراعظم نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پاکستان کی معاشی مدد پر خصوصی طور پر ذکر کیا۔
’ریاست پاکستان اور تمام ادارے ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے یکسو ہیں: شہباز شریف‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں گذشتہ سوا سال میں بھرپور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے تحت ملک میں ایک سیاسی طوفان آیا، جس نے معیشت کے پہیے کو جام کر دیا۔
ان کے مطابق فارن انویسٹمنٹ بند ہوئی اور ملک کے اندر سرمایہ کار بھی رُک گئی۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی استحکام لانے کے لیے ریاست پاکستان اور ادارے یکسو ہیں کہ سیاسی استحکام لائیں گے تو یہ معاملہ آگے چلے گا۔
آئی ایم ایف کے لیے ’حقیقت پسندانہ‘ اور عوام کے لیے ’ریلیف‘ بجٹ دینے کے درمیان حکومتی کشمکش
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مئی کا مہینہ سیاسی افراتفری اور عدم استحکام پر مبنی رہا اور مقامی و بین الاقوامی میڈیا سمیت پوری قوم کی نظریں اس دوران لمحہ بہ لمحہ بدلتی سیاسی صورتحال پر جمی رہیں۔ تاہم اس سب کے بیچ پاکستان کو درپیش بلاشبہ سب سے بڑا بحران کچھ دیر کے لیے میڈیا کی توجہ سے دور ہوا جس کے اثرات ہر روز عام عوام کو جھیلنے پڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں مئی میں مہنگائی کی شرح ریکارڈ 38 فیصد تک جا پہنچی ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مہینوں میں اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت آئی ایم ایف کی جانب سے ’حقیقت پسندانہ‘ بجٹ بنانے کے مطالبے کے برعکس ’عوام دوست‘ بجٹ دینے کے وعدے پر پورا اتر سکے گی؟
وفاقی بجٹ 2023-24 پر بی بی سی کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید
پاکستان میں آج وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ بجٹ 2023-24 کا اعلان کیا جائے گا جسے پاکستان میں موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔
اب سے کچھ دیر بعد وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے قومی اسمبلی میں بجٹ کا اعلان کیا جائے گا۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کیا اہم تبدیلیاں ہیں جو آپ کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کریں گے، یہ تمام معلومات اس لائیو پیج میں پیش کی جائے گی۔
بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں اور مسائل کے حل کے لیے کمیٹی قائم، عوامی پارٹی بجٹ اجلاس میں شریک ہو گی
،تصویر کا ذریعہPMO
وزیراعظم شہباز شریف سے بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد کی چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی قیادت میں ملاقات کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کا بجٹ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’باپ نے حکومت کی بھرپور حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ باپ حکومت کی ایک اتحادی جماعت ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں اور مسائل کے حل کے حوالے سے بلوچستان عوامی پارٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی قائم کر دی ہے۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، خالد حسین مگسی، مولانا غفور حیدری، آغا حسن بلوچ، اسحاق ڈار، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ اور منظور کاکڑ کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ کمیٹی آئندہ ہفتے میں تفصیلی مشاورت کے بعد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے مشروط ہے، بلوچستان عوامی پارٹی سے مشاورت اور ان کی رائے کے بغیر یہ سب ممکن نہیں ہے۔
ملک بھر میں جنگلات کی کٹائی اور مارگلہ ہلز پر قائم مونال ریستوران کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر, شہزاد ملک بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہ@THEMONALRESTAURANTISLAMABAD
جنگلات کی کٹائی کے معاملے پر سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس درخواست پر 12 جون کو سماعت کرے گا۔
توہین عدالت اور جنگلات کی کٹائی کے خلاف درخواستیں نجی ٹرسٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ عدالت نے چاروں صوبائی حکومتوں کو بذریعہ ایڈووکیٹ جنرلز نوٹس جاری کر دیے۔
مار گلہ ہلز پر قائم موبائل ریسٹورنٹ سیل کرنے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 13 جون کو اس درخواست پر سماعت کرے گا۔ عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کو حکم امتناع پر بحال کر دیا تھا۔ وائلڈ لائف بورڈ اور سی ڈی اے کی جانب ریسٹورنٹ کو نیشنل پارک میں ہونے کی وجہ سے سیل کیا گیا تھا۔
’عادی درخواست گزار‘ حنیف راہی کی بازیابی سے متعلق اداروں سے رپورٹ طلب, شہزاد ملک بی بی سی اردو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے وکیل ریاض حنیف راہی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں سے پیر تک جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے اس ضمن میں وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیے ہیں جبکہ آئندہ سماعت پر ایس ایس پی آپریشن پیر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے حنیف راہی کے بیٹے کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھ جون کو حنیف راہی آخری دفعہ ایف ایٹ میں دیکھے گئے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ حنیف راہی آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے تین ارکان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تو اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے تمام جگہوں پر پولیس سے چیک کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا شک کس طرف جا رہا ہے ؟ جس پر درخواست گز ار کے وکیل نے بتایا کہ حنیف راہی ہائی پروفائل کیسز کی ان دنوں پیروی کر رہے تھے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے والد جس روز لاپتہ ہوئے اس روز کہہ رہے تھے کسی کے ساتھ پانچ بجے میٹنگ ہے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ ان کی
کس کے ساتھ میٹنگ تھی؟
تاہم مبینہ مغوی کے بیٹے نے کہا کہ ان کے والد نے یہ بتایا نہیں میٹنگ کس کے ساتھ ہے۔
عدالت نے تمام اداروں سے جواب طلب کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت 12 جون تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ حنیف راہی ایک ’عادی درخواست گزار‘ ہیں جو مختلف مقدمات میں فریق بن جاتے ہیں۔ انھوں نے اس سے قبل سابق آرمی چیف قمر باجوہ کی مدت ملازمت کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
نئی کنگ پارٹی کا قیام محض ایک نفسیاتی آپریشن تھا: تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر
تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے جہانگیر ترین کی سرپرستی میں بننے والی نئی جماعت کو کنگ پارٹی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سائیکالوجیکل آپریشن تھا جس کا مقصد عمران خان اور عوام کو یہ پیغام دینا تھا کہ عمران خان کے قریبی ترین ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں یا پھر انھیں زبردستی ان کا ساتھ چھڑا دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق کچھ مبصرین نئی کنگ پارٹی اور تحریک انصاف میں موازنہ کر رہے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ ان کے مطابق سنہ 2011 میں 30 اکتوبر کو مینار پاکستان کے نیچے ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے کے بعد الیکٹیبلز جوق درجوق تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ ان کے مطابق ان کا ایک بڑا حصہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ہی رہ گیا، جن کا کوئی ووٹ بینک نہیں تھا بالخصوص پنجاب میں۔
ان کے مطابق یہ تحریک انصاف اور عمران خان کی مقبولیت اور کسی حد ان الیکٹیبلز کے مقامی نیٹ ورکس کی بدولت وہ انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے مطابق کسی بھی رہنما کو تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے پر دھمکی نہیں دی گئی تھی اور نہ انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ابھی بھی 14 جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان کو ملک بھر میں عوامی پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان پانچویں مرتبہ گرفتار، عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑنے کا عزم, عزیزاللہ خان بی بی سی اردو پشاور
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کو اینٹی کرپشن پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
علی محمد خان کو گذشتہ روز پشاور ہائی کورٹ نے رہائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد انھیں انسداد دہشتگردی کے ایک مقدمے میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ جمعے کو جب انسداد دہشتگردی کی عدالت نے علی محمد خان کو اس مقدمے سے بری کر دیا اور یہ حکم دیا کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو پھر انھیں گرفتار نہ کیا جائے۔
جب علی محمد عدالت سے باہر نکلے تو انھیں اینٹی کرپشن کے مقدمے میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ علی محمد کے وکیل ندیم شاہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے دس مئی کو علی محمد خان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی تھی، جس مقدمے میں ان کی آج گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
علی محمد خان نے گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے مطابق اگر کچھ لوگوں نے غلط کیا ہے تو اس کی انھیں سزا دینی چاہیے مگر اتنی بڑی جماعت کو اس طرح اس کا قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ علی محمد خان کو پولیس نے پانچویں بار گرفتار کیا ہے جبکہ دو بار عدالتوں نے ان کی رہائی کے احکامات دیے۔ پولیس نے ہر بار انھیں کسی مختلف مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔ پہلی بار کی ان گرفتاری نقص امن کے خدشے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ مگر جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔
پولیس نے انھیں نو مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا۔ جب انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا تو پھر ایسے میں اینٹی کرپشن کے ایک مقدمے میں پولیس نے انھیں عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت کا بھی تحریک انصاف کے رہنما علی محمد کی رہائی کا حکم, عزیزاللہ خان بی بی سی اردو پشاور
،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan
پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کو نو مئی کو توڑ پھوڑ کے واقعات سے متعلقہ ایک مقدمے میں ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز پشاور ہائی کورٹ نے بھی علی محمد خان کی رہائی کا حکم دیا تھا تاہم انھیں دوبارہ نقض امن کے خدشے کے پیش نظر گرفتار کیا گیا تھا۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق انسداد دہشتگردی کی عدالت سے رہائی کے حکم کے بعد اس وقت تک علی محمد کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ ان کے مطابق عدالت کے باہر اس وقت اینٹی کرپشن پولیس بھی موجود ہے۔
خیال رہے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اپنے تحریری حکمانے میں یہ کہا ہے کہ اگر علی محمد کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کیا جائے۔
پانامہ کیس: تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں سپریم کورٹ تحقیقات کیسے کرا سکتی ہے؟ جسٹس سردار طارق, شہزاد ملک بی بی سی اردو
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک مرتبہ پھر پانامہ پیپرز مقدمے پر سماعت کی۔ یہ مقدمہ عدالت کے سامنے سات سال سے زیرالتوا ہے اور اس میں صرف اس وقت سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اعوان کی نااہلی ہوئی۔
پانامہ پیپرز میں عمران خان کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی درخواست دے رکھی تھی۔ جماعت اسلامی نے متعدد بار سپریم کورٹ سے یہ استدعا کی کہ پانامہ مقدمے میں شامل تمام 436 افراد کے خلاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔
جمعے کو ایک بار پھر پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل نے پانامہ کیس کے لیے جوڈیشل کمیشن کی استدعا کی۔ تاہم اس سماعت پر جسٹس طارق مسعود نے سماعت مزید ایک ماہ تک ملتوی کرے سے قبل جماعت اسلامی کے وکیل سے متعدد ریمارکس دیے اور سوالات بھی اٹھائے۔
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنسات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا، کیا صرف ایک خاندان کے خلاف کیس چلوانا تھا؟ جسٹس طارق مسعود
سپریم کورٹ جج نے کہا کہ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے وہ کمپنی بنائی کیسے گئی۔ 436 بندوں کے خلاف ایسے آرڈر جاری کر دینا انصاف کے خلاف ہوگا۔
جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، اس وقت کیا مقصد صرف ایک ہی فیملی کے خلاف پانامہ کیس چلانا تھا، وہ بھی پانامہ کا معاملہ تھا یہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے؟ اُس وقت عدالت کے سامنے کیوں نہ کہا یہ سب لوگوں کا معاملہ ہے ساتھ سنا جائے؟ وکیل جماعت اسلامی بتائیں اب اس معاملہ کا کیا کرنا ہے؟
سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا، کیا صرف ایک خاندان کے خلاف کیس چلوانا تھا؟
سات سال سے آپ کو اس کیس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی؟
پہلے وکیل جماعت اسلامی بتائیں کہ اپنا درخواست کو ڈی لنک کیوں کروایا، جماعت نے سات سال میں کسی ادارے کے سامنے شکایت نہیں کی؟سارے کام اب یہاں سپریم کورٹ ہی کرے؟ 436 بندوں کو نوٹس دیے بغیر ان کے خلاف کارروائی کا حکم کیسے دیں؟
ایف بی آر، سٹیٹ بنک، نیب سمیت تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں سپریم کورٹ تحقیقات کیسے کرا سکتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ نے تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تو یہ کام کیسے کریں گے؟
سپریم کورٹ کے پانچ ججز کی جانب سے 3 نومبر 2016 کو پانامہ کیس قابل سماعت قرار دیا گیا تھا، سپریم کورٹ بتایا جائے کہ پانامہ پیپرز میں نامزد افراد کے خلاف نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن سمیت اداروں سے رجوع کیوں نہیں کیا؟
جسٹس سردار طارق ان 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی ہوں گے، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟
اس معاملے پر عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں۔ اس وقت یہ معاملہ آپ کی استدعا پر ڈی لیسٹ کیا گیا؟ وہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے یہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے۔ اس وقت آپ کے اس عدالت کے سامنے کیوں نہ کہا یہ سب لوگوں کا معاملہ ہے ساتھ سنا جائے؟
بریکنگ, سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں تقریباً اٹھارہ کروڑ ڈالر کی کمی، چار ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران سترہ کروڑ نوے لاکھ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر اس کمی کے بعد 3.91 ارب ڈالر رہ گئے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 5.42 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
ملک کے پاس مجموعی طور پر 9.33 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
بریکنگ, وفاقی حکومت بجٹ آج پیش کرے گی، قومی اسمبلی کا اجلاس چار بجے ہو گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی
وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 24-2023 کا بجٹ آج پیش کریں گے، اتحادی
حکومت اور وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ دوسرا بجٹ ہو گا۔
بجٹ
اجلاس سے پہلے وفاقی کابینہ اپنے خصوصی اجلاس میں بجٹ 24-2023 کی منظوری دے گی،
وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں دوپہر دو بجے ہو گا۔
قومی
اسمبلی کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار سینیٹ میں بھی بجٹ دستاویزات پیش کریں گے، سینیٹ
کا اجلاس شام چھ بجے ہو گا۔
سینیٹ
اجلاس میں بجٹ، سفارشات کے لیے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوایا جائے گا لیکن
بجٹ کے حوالے سے سینیٹ سفارشات پر حکومت عمل درآمد کی پابند نہیں ہوتی۔
ملکی معاشی ترقی 0.29 فیصد رہی: اکنامک سروے
پاکستان کی معاشی ترقی
موجودہ مالی سال میں 0.29 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال میں 6.1 فیصد تھی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق
ڈار کی جانب سے پیش کیے جانے والی مالی سال 23-2022 کے اکنامک سروے کے مطابق
موجودہ مالی سال زرعی شعبے میں ترقی 1.55 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال 4.27 فیصد رہی۔
صنعتی شعبے کی ترقی
موجودہ مالی سال میں منفی 2.94 رہی جو گذشتہ مالی سال میں 6.83 فیصد رہی۔ موجودہ
مالی سال میں خدمات کے شعبے میں 0.86 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال میں 6.19 فیصد تھی۔
اکنامک سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ
کے شعبے میں ترقی منفی 3.91 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال میں 10.86 فیصد تھی۔ تعمیراتی
شعبے میں میں گروتھ 5.53 فیصد منفی رہی جو گذشتہ مالی سال میں میں 1.90 فیصد سے
بڑھی تھی۔
بریکنگ, میں نے ایک دن میں 20 مقدمات میں پیش ہو کر نیا عالمی ریکارڈ بنایا ہے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین
پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ آج انھوں نے کرکٹ کے کھیل میں نہیں
بلکہ ایک ہی دن میں قتل اور دہشت گردی سے لے کر بغاوت جیسے 20 مختلف مقدمات میں
عدالتوں کے سامنے پیش ہو کر نیا عالمی ریکارڈ بنایا ہے۔
سماجی
رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے
ہوئے، میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک دوسرے سے دوسری جگہ دوڑتا رہا ہوں کہ
میں اپنے اوپر بنائے گئے 150 مقدمات کی ایک بھی عدالتی سماعت میں پیش ہونے سے
محروم نہ رہوں۔‘
انھوں
نے اس حد درجے ظلم نے ’امپورٹڈ حکومت‘ کی قلعی مکمل طور پر کھول کر رکھ دی ہے اور
اب یہ واضح ہے کہ یہ سب پی ٹی آئی سے الیکشن ہارنے کے خوف میں مبتلا ہیں۔
عمران
خان نے کہا کہ ’بدقسمتی سے یہ ہمارے نظام انصاف پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ جس طرح
سے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔
انھوں
نے کہا کہ آزاد اور جمہوری معاشروں میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی اس طرح خلاف ورزی
ناقابل فہم ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزارت داخلہ نے امریکی سفارتخانے کی درخواست پر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہFacebook
وزارت
داخلہ نے امریکی سفارتخانے کی درخواست پر نو مئی کے پرتشدد واقعات میں مبینہ طور
پر ملوث ہونے کے باعث گرفتار ہونے والی معروف ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو قونصلر رسائی دینے
کی منظوری دے دی ہے۔
خدیجہ
شاہ کے معاملے پر امریکی سفارتخانے نے وزارت داخلہ کو درخواست کی تھی وزارت خارجہ
کے ذریعے وزارت داخلہ کو قونصلر رسائی کی درخواست موصول ہوئی تھی۔
خیال
رہے کہ خدیجہ شاہ پولیس سے بچنے کے لیے کئی روز روپوش بھی تھیں۔ وزارت داخلہ کا
ہوم ڈپارٹمنٹ پنجاب کو امریکی کونسلیٹ لاہور سے تعاون کرنے کی ہدایات جاری کر دی
ہے۔
بریکنگ, بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ کوریج کے حوالے سے بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔