روس سے خام تیل کا پہلا کارگو پاکستان پہنچ گیا

روس سے درآمد کیے جانے والے خام تیل کا پہلا کارگو پاکستان میں کراچی کی بندرگاہ پر اتوار کو پہنچ گیا ہے جس میں 45 ہزار ٹن خام تیل ہے۔ روسی خام تیل کے جہاز کی آمد سے متعلق خبر کی تصدیق کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. معاشی ترقی اور اصلاحات کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے، شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی اور ضروری اصلاحات کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ معیشت کو اصلاحات کی ضرورت ہے جو سیاسی طور پر مستحکم ماحول میں ہی کی جا سکتی ہیں کیوں کہ معاشی ترقی سیاسی استحکام سے جڑی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ترقی کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو چارٹر آف اکانومی طے کرنا ہو گا۔

    وفاقی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ مشکلات کے پیش نظر، جن میں سیلاب، عالمی رسد کی فراہمی میں رکاوٹیں اور جیو سٹریٹیجک مسائل شامل تھے، بجٹ کی تیاری کافی مشکل کام تھا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بجٹ ملک کی معیشت کو درپیش مسائل کے حل کی جانب آغاز ہے۔

    مہنگائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کیا گیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش کرنا ناممکن تھا جس میں کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا۔

  2. جہانگیر ترین سے ملاقات نہیں ہوئی، کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں، پرویز خٹک

    پرویز خٹک

    تحریک انصاف کے سابق رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے واضح کیا ہے کہ ان کا کسی اور سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’میری جہانگیر ترین سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔‘

    واضح رہے کہ پرویز خٹک نے حال ہی میں پارٹی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

    ان کی اس پریس کانفرنس سے پہلے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ پرویز خٹک اور اسد قیصر مذاکرات کے نام پر ایجنسیوں سے ملنے گئے تھے، ’وہاں پر ان کو نظر بند کیا گیا ہے اور ان سے پارٹی چھوڑنے کے اعلان پر اصرار کیا جا رہا ہے۔‘

    پرویز خٹک نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے بارے میں میڈیا میں چلنے والی خبریں بلکل غلط ہیں۔

  3. نئے آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ الیکشن کے بعد اگلی حکومت کرے گی: اسحاق ڈار

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ بجٹ کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کا نواں ریویو رواں ماہ مکمل ہوجائے گا تاہم اگلے پروگرام میں جانے سے متعلق فیصلے الیکشن کے بعد اگلی حکومت کو کرنے ہوں گے۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران کہا کہ وہ 25 سال سے آئی ایم ایف سے ڈیل کر کر رہے ہیں مگر انھوں نے کبھی اتنی تاخیر نہیں دیکھی۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایسا ’جیو پولیٹیکل معاملات‘ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’جو بجٹ آئی ایم ایف کو (وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر) دکھایا، یہ نمبرز اس سے ذرا بہتر ہیں۔‘

    وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے چار ارب ڈالر فنانسنگ کا بندوبست کر لیا تھا، آئی ایم ایف مزید دو ارب ڈالر کی فنانسنگ کا بندوبست کرنے کا کہہ رہا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ابھی سے دوست ممالک سے قرض کو ری سٹرکچر کرنے کے لیے بات کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ ہم اُن کے مکمل پیسے واپس کریں گے مگر قرض واپسی کا دورانیہ بڑھانے پر مذاکرات کریں گے۔‘

    اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ ستمبر کے بعد بھی آئی ایم ایف کے بغیر ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جانے کا فیصلہ الیکشن کے بعد آنے والی حکومت کرے گی۔

  4. رجیم چینج آپریشن نے قوم کو اتنا نقصان پہنچایا جتنا کبھی کسی دشمن نے نہیں پہنچایا: عمران خان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چند معاشی اعداد و شمار کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’رجیم چینج آپریشن نے ایک سال میں پاکستانی قوم کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا جتنا کبھی کسی دشمن نے بھی نہیں پہنچایا۔‘

    سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سے بھی بڑھ کر ستم تو یہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں کے خلاف اس (سنگین) جرم کے ارتکاب پر کوئی محاسبہ نہیں کیا جا رہا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. بجٹ میں بتائے گئے تمام اہداف مصنوعی ہیں اور پچھلے سال کی طرح حقیقت پر مبنی نہیں: حماد اظہر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2023-24 میں تجویز کردہ تمام اہداف مصنوعی ہیں اور پچھلے سال کی طرح حقیقت پر مبنی نہیں۔

    ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’معاشی ترقی، ٹیکس کلیکشن، مہنگائی کی شرح، درآمدات اور ترسیلات زر کے ہدف صرف بجٹ بیلنس کرنے لے لیے لکھے گئے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے ملک میں مہنگائی کم کرنے یا ڈوبتی معیشت کو بچانے کا کوئی منصوبہ نہیں دیا۔

    حماد اظہر کے مطابق بجٹ میں 8.5 ارب ڈالر کے نئے بیرونی قرضوں کا ہدف ہے۔ ’لیکن آئی ایم ایف کے نہ ہوتے ہوئے اس ہدف کا حصول بھی ممکن نہیں ہو گا۔ لگتا ہے پی ڈی ایم حکومت کا موثر فیصلہ سازی کو کوئی ارادہ نہیں۔ ان کو معیشت کی نہیں صرف عمران خان کو مینج کرنے کی پرواہ ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. بریکنگ, وفاقی حکومت کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک کا ایڈہاک ریلیف الاؤنس, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت کیجانب سے نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا اعلان کیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال میں ایک سے سولہ گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    گریڈ سترہ سے اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تیس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں پنشن میں 5۔17 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

  7. موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی ا ثرات کم کرنے کے سماجی شعبے کے لیے 244 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    پاکستان کے اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے کے لیے ملک کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے ترتیب دیے گئے۔

    فریم ورک کے تحت وضع کردہ حکمت عملیوں اور سماجی شعبے کی ترقی کے لیے 244 ارب روپے مختص کی گئے ہیں۔تعلیمی شعبے کے لیے بیاسی ارب روپ اور صحت کے شعبے کے لیے چھبیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  8. اگلے مالی سال میں دفاع کے اخراجات کے لیے 1804 ارب مختص کرنے کی تجویز

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے 14460 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جب کہ ریونیو کا ہدف 9200 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے اگلے مالی سال کی بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں ملک کے ذمے واجب الادہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7303 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت کے نئے مالی سال کی بجٹ دستاویز کےمطابق اگلے مالی سال میں دفاع کے لیے 1804 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ دستاویز کےمطابق گرانٹس کی مد میں 1464 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    حکومت کی جانب سے بجٹ میں سبسڈی دینے کے لیے 1074 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سول ایڈمنسٹریشن کے اخراجات کے لیے حکومت کی جانب سے 714 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت نے نئے مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 950 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  9. بریکنگ, حکومت کی امیر طبقات پر سپر ٹیکس لگانے کے لیے تین نئی انکم سلیبز متعارف کرانے کی تجویز, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ کے لیے سپر ٹیکس کی وصولی کے لیے تین نئی سلیب متعارف کروانے کی تجویز دی ہے۔

    وفاقی حکومت کیجانب سے قومی اسمبلی میں متعارف کروائے گئے فنانس بل کےمطابق فی الوقت اس وقت پندرہ کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے افراد پر یکساں طور پر سپر ٹیکس لگتا ہے تاہم اب حکومت کی جانب سے اس میں مزید تین سلیب متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    تجویز کردہ تین نئے سلیب کے مطابق پینتیس کروڑ سے چالیس کروڑ کمانے والے افراد پر چھ فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

    چالیس کروڑ سے پچاس کروڑ کمانے والے افراد پر سپر ٹیکس کی شرح آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے جبکہ پچاس کروڑ سے زائد آمدن والے افراد پر دس فیصد کے حساب سے سپر ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

  10. انفراسٹرکچر کی تعمیر میں 491 ارب روپے مختص، صحت کے شعبے کے لیے23 ارب روپے مختص

    وفاقی حکومت کے اگلے مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 491 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انرجی کے شعبے کے لیے 86 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور کمیونکیشن کے شعبے کے لیے 263 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    صحت کے شعبے کے لیے تقریباً 23 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم بشمول اعلی تعلیم کے شعبے میں 82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں پانی کے شعبے کے لیے سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  11. بریکنگ, سولر پینل اور اس سے جڑے آلات کی تیاری کے لیے سامان پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز, تنویر ملک، صحافی

    سولر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت نے بجٹ 2023-24 میں ملک میں سورج کی روشنی سے بجلی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے سولر پینل کی اندرون ملک تیاری کے لیے آلات کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی ہے۔

    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے فنانس بل کے مطابق سولر پینل، انونٹرز اور بیٹریوں کی پیداوار کے لیے مشینری، آلات اور دوسرے خام مال کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

    حکومت کی جانب سے نان فائلرز کے لیے کیش نکالنے پر ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ود ہولڈنگ ٹیکس کو اعشاریہ چھ فیصد دوبارہ لاگو کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

  12. سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز

    second

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت کی جانب سے غریب افراد کو سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی فراہمی کے لیے اس کی درآمد کو ریگولیٹری ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

  13. وفاقی بجٹ میں جی ڈی پی کی شرح ساڑھے تین فیصد، مہنگائی کی شرح اکیس فیصد رہنے کا ہدف

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں ملکی معاشی ترقی کا ہدف ساڑھے تین فیصد اور مہنگائی کی شرح اکیس فیصد تک رہنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

    اگلے مالی سال کی بجٹ دستاویز کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی کی شرح ساڑھے آٹھ فیصد سے زائد کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ چھ ارب ڈالر رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  14. تعلیم: لیپ ٹاپ سکیم کے لیے پانچ ارب روپے مختص

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGovt. of Punjab

    وفاقی بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے موجودہ اخراجات کی مد میں 65 ارب اور ڈیویلپمنٹ اخراجات کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    تعلیم کی شعبے میں مالی معاونت کے لیے پاکستان انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لائے جانے کی تجویز ہے، جس کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈ میرٹ کی بنیاد پر ہائی سکول اور کالج کے طلبا و طالبات کو وظائف فراہم کرے گا۔

    لیپ ٹاپ سکیم کے تحت حکومت آئندہ مالی کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپس کی میرٹ کی بنیاد پر طلبا کو دیے جانے کی تجویز ہے۔ اس سکیم کے لیے 10 ارب کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    وویمن امپاورمنٹ کے لیے پانچ ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔

  15. بریکنگ, ملک میں آئی ٹی کے شعبے کے فروغ کے لیے بجٹ میں ٹیکس رعایت کے اقدامات کی تجویز

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کے لیے انکم ٹیکس کی رعایتی شرح جو اعشاریہ پچیس فیصد ہے اسے تیس جون 2026 تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    حکومت کی جانب سے چوبیس ہزار ڈالر تک سالانہ برآمدات پر فری لانسرز کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا آئی ٹی اور اس کی خدمات فراہم کرنے والوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر کو بغیر کسی ٹیکس کے درآمد کر سکیں گے ان درآمدات کی حد پچاس ہزار ڈالر سالانہ مقرر کی گئی ہے آئی ٹی کی سیلز ٹیکس کی شرح پندرہ فیصد سے پانچ فیصد کر دی گئی ہے۔

  16. بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے اقدامات

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی بجٹ 2023-24 میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر کی مد میں بھیجی جانے والی رقوم کی مدد سے غیرمنقولہ جائیداد خریدنے پر موجودہ دو فیصد ’فائنل ٹیکس‘ کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ ترسیلات زر کارڈز کی کیٹیگری میں ایک نئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجرا کیا گیا ہے جو کہ سالانہ 50 ہزار ڈالرز سے زائد ترسیلات بھیجنے والوں کو جاری کیا جائے گا۔

    اس کیٹیگری کے لیے مندرجہ ذیل مراعات دی جائیں گی: ایک غیرممنوعہ بور لائسنس، پاسپورٹ کی سہولت، پاکستانی سفارتخانوں میں ترجیحی بنیادوں پر رسائی، پاکستانی ایئرپورٹس پر فاسٹ ٹریک ایمگریشن کی سہولت۔

    ریمیٹینس کارڈ ہولڈرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے بڑے انعامات دینے کے لیے سکیم کا اجرا کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

  17. نئے مالی سال کے لیے9200 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف، ضروری اشیا کی درآمد پر ڈیوٹی نہ بڑھانے کی تجویز

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 9200 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔

    حکومت کی جانب سے اس ریونیو کو اکٹھا کرنے کے لیے سیلز ٹیکس کی مد میں 3538 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا۔

    انکم ٹیکس کی مد میں 3713 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف ہے۔

    کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1178 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت نے 868 ارب روپے اکٹھا کرنےکا ہدف رکھا ہے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے فنانس بل کے مطابق ضروری اشیا کی درآمد پر ڈیوٹی نہ بڑھانے یا لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔

    ڈالر باہر لے جانے کے لیے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے ڈالر میں ادائیگیاں کرنے پر ٹیکس ایک سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    آف شور ڈیجٹل خدمات پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    قرآن پاک کی اشاعت کیلئے کاغذ کے درآمد پر ٹیکس مکمل ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کو بڑھانے کےلیے انکم ٹیکس 25۔0 فیصد کی رعایتی شرح کی سہولت کو تیس جون 2026 تک بڑھا دی گیا ہے۔

  18. اگلے مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کا 14460 ارب روپے کا بجٹ پیش، بجٹ خسارہ 7574 ارب روپے رہنے کا تخمینہ, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے 14460 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جب کہ آمدن کا ہدف 9200 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    نئے مالی سال میں وفاقی بجٹ کا خسارہ 7574 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے جو موجودہ مالی سال کے نظر ثانی تخمینے میں 6400 ارب ہے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے اگلے مالی سال کی بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں ملک کے ذمے واجب الادہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7303ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت کے نئے مالی سال کی بجٹ دستاویز کے مطابق اگلے مالی سال میں دفاع کے لیے 1804 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    بجٹ دستاویز کےمطابق گرانٹس کی مد میں 1464 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ میں سبسڈی دینے کے لیے 1074 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سول ایڈمنسٹریشن کے اخراجات کے لیے حکومت کی جانب سے 714 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت نے نئے مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 1150 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  19. بریکنگ, زرعی قرضوں کو بڑھا کر 2200 ارب تک بڑھانے، درآمدات میں ریلیف کی تجویز: وزیرِ خزانہ

    agri

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آئندہ سال میں ذراعت کے شعبے کو بڑا ریلیف دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے ذراعت کے شعبے کو مختلف سبسڈیز دی جا رہی ہیں جن میں مختلف درآمدات پر ریلیف دیا جا رہا ہے جبکہ کم مارک اپ پر قرضہ دینے کی بھی تجویز ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ زرعی قرضوں کو بڑھا کر 2200 ارب تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، پچاس ہزار زرعی ٹیوب ویلز کو سول پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے رقم مختص کرنے کی بھی تجویز ہے۔

  20. صنعتی شعبے پر آئندہ سال میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا: اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار نے اپنی تقریر کے دوران بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صنعتی شعبے پر آئندہ سال میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خام مال کی ایل سی کھولنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ صنعتوں کو خام مال درآمد کرنے میں آسانی ہو سکے۔