’لگ رہا ہے سپریم کورٹ آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو رہی ہے، عدلیہ ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے‘: عمران خان

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے یوٹیوب پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ’ایسا لگ رہا ہے ملک کی سپریم کورٹ آہستہ آہستہ طاقتور کے سامنے اپنی طاقت کھو رہی ہے۔ میں آج پوری قوم اور اپنی جماعت کی طرف سے اپیل کرتا ہوں کہ ان حالات میں ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔‘ ادھر وفاقی وزرا نے تحریک انصاف کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. نو مئی کے پرتشدد واقعات باقاعدہ ترتیب دی ہوئی بغاوت تھی: خواجہ آصف

    خواجہ  آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے جناح ہاؤس لاہور کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ریاست کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی بغاوت تھی۔

    یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہوا یہ جلاؤ گھیراؤ اچانک نہیں ہوا ہے۔ یہ باقاعدہ ترتیب دی ہوئی بغاوت تھی۔

    بانی پاکستان کی تصاویر اور پیانو کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ لوگ شہریت کے اعتبار سے تو پاکستانی تھے مگر دل سے یہ پاکستانی نہیں تھے۔ ان کے مطابق انھوں نے شہدا کی یادگاروں کو توڑا۔

    ان کے مطابق سیاستدانوں اور اداروں میں بھی اختلاف ہوتے رہتے ہیں مگر پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کسی نے ریڈ لائن کو کراس کرنے کے بارے میں نہیں سوچا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ اس شہر میں سویلین سرکاری عمارتیں بھی تھیں مگر انھوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ’تاریخ کے روشن باب کو مسخ کرنے کا جرم ناقابل معافی ہے‘۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ جناح ہاؤس تھا جو ایک سویلین عمارت ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی فوج کے تین سٹارز والے جنرل اس رہائش گاہ میں رہتے تھے جس سے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔

    ان کے مطابق راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ کینٹ، چکدرہ، مردان اور پشاور میں ایک ہی طریقہ کار نظر آئے گا جو تحریک انصاف کے کارکنان نے اس دن اختیار کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ باقاعدہ انھیں تربیت دی گئی کہ اس طرح کرنا ہے۔ ان کو اہداف کی شناخت پہلے سے ہی کرائی گئی تھی۔

    ان کے مطابق اس دن یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ ان رہائش گاہوں اور اہداف کو باآسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

  2. فردوس عاشق اعوان کا تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان: ’عمران خان کا ایجنڈا ملک کے لیے زہرقاتل ہے‘

    فرودس عاشق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نومئی کے واقعات کے تناظر میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا ایجنڈہ پاکستان کے لیے زہر قاتل ثابت ہوا اور اب تحریک انصاف بند گلی میں پہنچ چکی ہے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ نو مئی کے اصل ذمہ داران کو تحقیقات کر کے سزائیں دی جائیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دینا عمران خان کا بہترین مشغلہ ہے۔

    یاد رہے کہ فردوس عاشق اعوان نے مئی 2017 میں پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تحریک انصاف کی جانب سے انھیں سنہ 2018 کے عام انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا تاہم پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد سنہ 2019 میں انھیں وزیراعظم کی مشیر خاص برائے انفارمیشن اور ٹیکنالوجی تعینات کیا گیا تھا۔

    وہ اس عہدے پر سنہ 2020 تک تعینات رہیں۔ اس عہدے کے فراغت کے بعد انھیں ایک مرتبہ پھر سنہ 2020 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر برائے انفارمیشن تعینات کیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے بعد ان سے یہ عہدہ دوبارہ واپس لے لیا گیا تھا اور گذشتہ چند ماہ سے وہ خاموش تھیں۔

  3. نو مئی کے واقعات: مردان کی انسداد دہشت گردی عدالت کا عدم ثبوتوں کی بنا پر چھ افراد کو رہا کرنے کا حکم

    مردان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تناظر میں گرفتار مزید چھ افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اس وقت مردان جیل میں موجود ملزمان کی مجموعی تعداد 120 سے زیادہ ہے۔

    مردان سے رہا ہونے والے افراد کے وکیل ندیم شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے جن چھ افراد کی رہائی کا حکم دیا ہے ان کی کسی بھی واقعہ میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی ویڈیو یا تصویر یا ان کی مظاہروں میں موجودگی کے کوئی شواہد عدالت میں پیش کیے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ مردان پولیس کی جانب سے آج عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ان ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے جس پر کمرہ عدالت میں موجود ملزمان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ سرکار ان لوگوں کے خلاف کسی قسم کے کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں کر سکی ہے چنانچہ انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    فریقین کے دلائل کے بعد عدالت نے تفتیشی افسر سے تحریری رپورٹ طلب کی جس کی بنیاد پر ان چھ افراد کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    وکلا کے مطابق ان افراد کی ابتدائی طور پر 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا لیکن اس بارے میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مردان جیل میں 90 سے زیادہ گرفتار افراد کی مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر کر دی گئی۔

  4. 9 مئی کے واقعات: 499 ایف آئی آر درج کی گئیں جن میں سے چھ کا ممکنہ ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو سکتا ہے، رانا ثنا اللہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر ملک بھر میں مجموعی طور پر 499 ایف آئی آر کاٹی گئیں جس میں سے 88 ایف آئی آر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ہوئی ہیں۔

    جبکہ 411 ایسے مقدمات ہیں جو اس بنا پر درج ہیں جن میں املاک کو آگ لگائی گئی یا قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 3946 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں پنجاب سے 2588 اور خیبرپختونخوا سے 1099 افراد گرفتار کیے گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دوسرے مقدمات میں 5536 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے اکثریت 80 فیصد افراد ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔

    وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ 499 ایف آئی آر میں سے صرف چھ کو پراسس کیا جا رہا ہے (جن میں سے دو پنجاب جبکہ چار کے پی سے ہیں) جن کا ممکنہ ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو سکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پنجاب سے 19 اور خیبرپختونخوا سے 14 ملزمان کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا۔ دیگر ملزمان کا کیس متعلقہ عدالتوں میں چلے گا۔

    Radio Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

  5. بریکنگ, آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت مکمل، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس انکوائری کمیشن پرسماعت مکمل ہو گئی ہے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    سپریم کورٹ اس کیس کا مختصرحکم نامہ جاری کرے گی۔

  6. بریکنگ, بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کے مس کنڈیکٹ کیا ہے: جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین کے دلائل جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے،کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے کہا کہ کمیشن کا قیام آرٹیکل 209کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ افتخار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدراتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے۔ بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کرکے کہ مس کنڈیکٹ کیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے مزید ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی کیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ججز اپنی مرضی سے کیسے کیمشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے خلاف بھی چیف جسٹس کی اجازت سے جوڈیشل کونسل کے علاوہ کسی دوسرے فورم پر جا سکتے ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے مزید ریمارکس دیے کہ میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی کیا حکومت یا پیمرا نے اس کو روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی؟ جس پر شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کاروائی نہیں کی اور حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی بازپرس نہیں کی۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں۔

  7. بریکنگ, کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو ایجینسیوں کو شہریوں کے فون ٹیپ اور پرائیویسی کو مجروح کرنے کا اختیار دیتا ہو: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین کے دلائل جاری ہیں۔

    شعیب شاہین نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فون ٹیپگ اور بگنگ شہری کی پرائیویسی کے خلاف ہیں۔ پاکستان کا آئین اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

    شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اکثریتی فیصلے میں کچھ ایسا اصول طے ہوا تھا۔ججز کی سرویلنس کی ممانعت کی گئی ہے۔

    انھوں نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں جو ایجینسیوں کو شہریوں کے فون ٹیپ اور پرائیویسی کو مجروح کرنے کا اختیار دیتا ہو۔

    ان کا کہنا ہے کہ پرائیویسی مجروح کرنا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ جمہوری حکومت کی ذمہ درای ہوتی ہے کہ آئین کی حکمرانی اور قانون کی پاسداری کے پیش نظر شہریوں کے بنیادی حقوق اور ان کی پرائویسی کے تحفظ کو مقدم رکھے۔

  8. بریکنگ, کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، اس کا تعین کون کرے گا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین کے دلائل جاری ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ ‏جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں نہیں لکھا کہ فون ٹیپنگ کس نے کی؟ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏فون ٹیپنگ ایک غیر آئینی عمل ہے۔

    ‏اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ ناصرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے اور اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے۔

    شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کیے۔ حکومت تاثر دے رہی ہے فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی۔ جس ہر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں بھی اصول طے کیے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، اس کا تعین کون کرے گا؟

    اس پر شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔ جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏مفروضے کی بنیاد پر آڈیوز کو درست مان لیا گیا۔

  9. بریکنگ, حکومت نے ججز کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی: چیف جسٹس

    supreme court of pakistan

    ،تصویر کا ذریعہsupreme court of pakistan

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے دلائل دینا شروع کیے ہیں۔

    شعیب شاہین ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ کو پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے دلائل دیے کہ کسی بھی حاضر سروس جج کو کمیشن میں تعینات کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی مشاورت ضروری ہے۔

    شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ کسی پرائیویٹ شخص کو بھی کمیشن میں لگانے سے پہلے مشاورت ضروری ہے کیونکہ اس نے جوڈیشل کارروائی کرنی ہوتی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ معاملے کی وضاحت دی جا سکتی ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت عدلیہ کے معاملات میں کوارٹرز کا خیال کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن میں حکومت نے خود ججز تجویز کیے۔اس سے پہلے تین نوٹیفیکیشن میں حکومت نے ججز تجویز کیے جنھیں بعد میں واپس لیا گیا۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ایکٹ 2017 کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 1956 ایکٹ آئین کے احترام کی بات کرتا ہے، جسٹس اس نکتے پر بعد میں آئیں گے۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس نکتے پر ابھی تیار ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت سے گزارش ہے کہ آئین کا احترام کریں۔ آئین کا احترام کرتے ہوے روایات کے مطابق عمل کریں۔ انھوں نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معزرت سے کہتا ہوں حکومت نے ججز کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔

  10. بریکنگ, آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت: اٹارنی جنرل نے پانچ رکنی لارجر بنچ پراعتراض اٹھا دیا

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہوتے ہی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے پانچ رکنی لارجر بنچ پراعتراض اٹھا دیا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کے لیے منتخب کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے انھیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے، بہت ہوگیا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ بیٹھ جائیں۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ حکومت کسی جج کو اپنی مرضی کے مطابق بینچ میں نہیں بٹھا سکتی۔ ہم نے سوال پوچھا کہ 184 بی میں لکھا ہے کم از کم 5 ججز کا بینچ ہو۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا ہے کہ اگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا۔ 9 مئی کے سانحے کے بعد عدلیہ کے خلاف بیان بازی بند ہو گئی۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں، ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے۔ حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ بہت ادب سے استدعا ہے کہ لارجر بنچ یہ کیس نہ سنے۔ جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اعتراض کرنا آپ کا حق ہے۔

  11. بریکنگ, سپریم کورٹ میں آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہو گئی

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ آڈیو کمیشن کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

    لارجر بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب، جسٹس شاہد وحید، جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

    عمران خان کی طرف سے ڈاکٹر بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکرٹری بار مقتدر اختر شطیر اور درخواست گزار ریاض حنیف راہی بھی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی عدالت میں موجود ہیں۔

  12. ای سی ایل میں نام ڈالنے پر حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرا بیرون ملک سفر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: عمران خان

    سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میں اپنا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرا بیرون ملک سفر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، کیونکہ میری نہ تو بیرون ملک کوئی جائیدادیں ہیں نہ کاروبار اور نہ ہی ملک سے باہر کوئی بینک اکاؤنٹ ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ جب مجھے چھٹی کا موقع ملا میں ہمارے شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں میں جانا چاہوں گا جو زمین پر میرا پسندیدہ مقام ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. صحافی سمیع ابراہیم کی بازیابی کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے ساڑھے بارہ بجے تک جواب طلب کر لیا

    @samiabrahim

    ،تصویر کا ذریعہ@samiabrahim

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی سمیع ابراہیم کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ساڑھے بارہ بجے تک جواب طلب کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اس درخواست پر سماعت کی۔

    دورانِ سماعت ایس ایچ او آبپارہ نے عداالت کو بتایا کہ سمیع ابراہیم کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کر لیا گیا ہے۔

    اس پر سٹیٹ کونسل نے بتایا کہ ابھی بیانات قلم بند ہو رہے ہیں کارروائی آگے بڑھائیں گے۔

    عدالت نے سوال کیا کہ جہاں سے لاپتہ ہوئے کیا اس کے قریب کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں؟ ایس ایچ او تھانہ آبپارہ کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کیمرے چیک کر لیتے ہیں۔

    سٹیٹ کونسل نے بتایا کہ پولیس، ایف آئی اے کے پاس ابھی تک سمیع ابراہیم کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ سے میری بات نہیں ہو سکی۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صبح سے آپ یہاں بیٹھے ہیں یہ کوئی طریقہ تو نہیں۔

    اس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ کل شام کو پٹیشن کی کاپی ملی، کچھ وقت دے دیں جواب دے دیں گے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ سمیع ابراہیم صحافی ہیں، روزانہ ٹی وی پر آتے ہیں ہر کوئی ان کو جانتا ہے۔ اس کے بعد وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت سے پیر تک کا وقت مانگا کہ پیر تک رپورٹ جمع کرا دیں گے۔

    وکیل راجہ عامر عباس نے عدالت سے استدعا کی کہ صحافی سمیع ابرااہیم بیمار ہیں، ان کی بازیابی کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دے دیں۔

    عدالت نے سماعت میں ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کیا ہے۔

  14. ’اصولی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی مخالفت کرتا ہوں لیکن سیاسی جماعت عسکریت پسند تنظیم بننا چاہ رہی ہے تو قانون اپنا راستہ لے گا‘

    ppp

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زردرای کا کہنا ہے کہ وہ اصولی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں لیکن سیاسی جماعت کو بھی سیاسی جماعت کی طرح رہنا ہو گا، ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ سیاسی جماعت ایک عسکریت پسند تنظیم بننا چاہ رہی ہے اور 9 مئی کے واقعات سے لاتعلق رہنے کو تیار نہیں ہے تو اس صورت میں، میں کیا چاہتا ہوں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور قانون اپنا راستہ لے گا۔

    وہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے حوالے سے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔

    اس سوال کے جواب میں کیا وہ پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت مانتے ہیں؟ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں سیاسی جماعت بننے کی قابلیت ہے۔

    ’میں سمجھتا ہوں کہ 9 مئی کے واقعات جو ہماری تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے، کور کمانڈر ہاؤس اور جی ایچ کیو کے علاوہ ملٹری تنصیابات پر جو حملے ہوئے ان کی تفصیلات (کس طریقے اور منصوبہ بندی کے تحت) جب قوم کے سامنے آئیں گی تو ہر پاکستانی یہ چاہے گا کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں پارلیمان میں ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں سیاست کرتی ہیں اور ریاست کے خلاف پتھر، لاٹھیاں اور بندوقیں استعمال نہیں کرتیں۔

  15. سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ آج مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرے گا

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجز بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ آج مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

    بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس منیب اختر، اعجاز الااحسن، شاہد وحید اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

    یاد رہے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری اور جنرل سیکریٹری نے آڈیو لیکس کمیشن کے قیام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

  16. فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کا قانون کے مطابق صفایا کریں گے: شہباز شریف

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث ’شر پسندوں اور دہشتگردوں‘ نے ایک لیڈر کے بہکانے پر فوجی تنصیبات پر حملے کیے جس پر ان کا قانون کے مطابق صفایا کیا جائے گا۔

    آرمی قبرستان میں یادگار شہدا پر حاضری کے موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ایک لیڈر کے بہکانے پر ایک جتھے نے جس طریقے سے شہدا اور غازیوں کی بے حرمتی کی اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے، تاریخ اس کو کبھی بھلا نہیں پائے گی۔

    ’ہم خدا سے وعدہ کرتے ہیں کہ نہ صرف شر پسندوں اور دہشتگردی کا قانون کے مطابق صفایا کیا جائے بلکہ قیامت تک دوبارہ اس طرح کا موقع نہیں ہونے دیں گے۔‘

  17. مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ کا سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    NPC

    ،تصویر کا ذریعہNPC

    پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما مسرت چیمہ اور ان کے شوہر جمشید چیمہ نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    مسرت جمشید چیمہ وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں پنجاب حکومت کی ترجمان رہ چکی ہیں اور خواتین کی مخصوص نشتوں پر ممبر صوبائی اسمبلی نامزد ہوئی تھیں۔ دوسری جانب جمشید چیمہ ماضی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب لڑ چکے ہیں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ ’جب عمران خان کی گرفتاری کی خبر سنی تو میں جناح ہاؤس کے سامنے پہنچا لیکن اس پر حملے کا کوئی پلان نہیں تھا۔

    ’نو مئی کے مظاہروں کے دوران جلاؤ گھراؤ غلط تھا، ہم ہجوم کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے، یہ ہماری ناکام تھی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے جو بیانیہ بنایا گیا، نو مئی کے واقعات اس کا نتیجہ تھے۔

    مسرت چیمہ کا کہنا تھا کہ ’کاش اگر بس میں ہوتا تو نو مئی کا دن مٹا سکتی۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔‘

  18. عمران خان کی چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر پولیس کے چھاپے کی مذمت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان نے کہا ہے کہ ’چوہدری پرویز الہیٰ کی رہائشگاہ پر پولیس کے ایک اور حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

    ’تحریک انصاف اور اس کے سپورٹرز کے خلاف روا رکھی جانے والی یزیدیت کی کوئی حد نہیں۔ اس ظلم و بربریت کے پیچھے کارفرما ذہن اس خوش فہمی کے شکار ہیں کہ اس سب سے تحریک انصاف کمزور ہوجائے گی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ایک سیاسی جماعت تبھی کمزور ہوتی ہے جب وہ عوام کی تائید (ووٹ بینک) سے محروم ہوتی ہے جیسا کہ پی ڈی ایم جماعتوں کے معاملے میں ہوا۔ ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے تو عوام کے دلوں میں پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں۔‘

  19. ملیکہ بخاری نے بھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    bbc

    رہنما تحریک انصاف ملیکہ بخاری نے اڈیالہ جیل سے رہا ہونے کے بعد اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں کہا کہ میں ’میرے اوپر کوئی زور زبردستی، کوئی دباؤ نہیں تھا۔ میں نے اپنی فیملی کو ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق میرا ایک 13 برس کا بیٹا ہے اور ماں ہے۔ ان کے مطابق میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اب اپنی فیملی اور پروفیشن کووقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ملیکہ بخاری کے مطابق انھوں نے دلیری اور بہادری کے ساتھ جیل کی مشکلات کو برداشت کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں وقت گزارنا بہت مشکل ہے۔

    ملیکہ بخاری نے کہا کہ نو مئی کو ایک سرخ لکیر کو پار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان کو امن کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ ملیکہ بخاری تحریک انصاف کے دور اقتدار میں پارلیمانی سیکریٹری لا اینڈ جسٹس رہ چکی ہیں۔

  20. ارشد شریف کی طرح ایجنسیز مراد سعید کے قتل کے بھی درپے ہیں: عمران خان کا الزام

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ مراد سعید کے لکھے گئے اس خط پر کارروائی عمل میں لائیں جس میں انھوں نے اپنی جان کو لاحق خطرے سے متعلق بتایا ہے۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ ’محترم چیف جسٹس صاحب! سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے اس خط کے ذریعے آپ کو اپنی زندگی کو لاحق سنگین خطرات سے آگاہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس صاحب ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو مراد سعید کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ارشد شریف کی طرح ایجنسیز مراد سعید کے قتل کے بھی در پے ہیں۔ میری (محترم چیف جسٹس صاحب سے) گزارش ہے کہ مراد سعید کی زندگی کے تحفظ کیلئے جو کچھ آپ کے بس میں ہے، ازراہِ کرم کیجیے!‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام