’لگ رہا ہے سپریم کورٹ آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو رہی ہے، عدلیہ ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے‘: عمران خان
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے یوٹیوب پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ’ایسا لگ رہا ہے ملک کی سپریم کورٹ آہستہ آہستہ طاقتور کے سامنے اپنی طاقت کھو رہی ہے۔ میں آج پوری قوم اور اپنی جماعت کی طرف سے اپیل کرتا ہوں کہ ان حالات میں ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔‘ ادھر وفاقی وزرا نے تحریک انصاف کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔
لائیو کوریج
عمران خان کا انتظامیہ پر پی ٹی آئی رہنما علی نواز کے گھر کو نقصان پہنچانے کا الزام اور شدید مذمت
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, عمران خان نے سات رکنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی
،تصویر کا ذریعہPTI
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے حکومت کے ساتھ
مذاکرات کے لیے سات رکنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
مذاکراتی ٹیم میں شامل تمام سات افراد کے نام سے
نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے تشکیل
دی گئی سات ممبران پر مبنی ٹیم انتخابات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ لائحہ عمل طے
کرےگی۔
ان مذاکراتی ٹیم میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک،
اسد عمر ،حلیم عادل شیخ، عون عباسی بپی، مراد سعید اور حماد اظہر شامل ہیں۔
بریکنگ, عمر ایوب خان پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل مقرر
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اسد عمر کی جانب سے استعفے کے بعد عمر ایوب خان کو پارٹی کا نیا سیکریٹری جنرل مقرر کردیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے ٹوئٹر پر نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس میں تمام عہدیداروں، کارکنوں اور ارکان سے ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے عمر ایوب کے ساتھ تعاون کرنے کا کہا گیا ہے۔
بریکنگ, مجھے نااہل کیا گیا تو شاہ محمود قریشی پارٹی چلائیں گے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے نااہل کیا گیا
تو شاہ محمود قریشی پارٹی چلائیں گے۔
سنیچر
کو لاہور زمان پارک میں اپنی رہائشگاہ پر صحافیوں سے ملاقات کے دوران عمران خان کا
کہنا تھا کہ اگر مجھے نااہل کیا گیا تو شاہ محمود قریشی پارٹی چلائیں گے، جبکہ مراد
سعید مستقبل کا لیڈر ہے۔
انھوں
نے ایک بار پھر الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ ’مجھے پتہ ہے مجھے گرفتار ،نااہل کرنے
اور جان سے مارنے تک کی پلاننگ ہو چکی ہے۔‘ ان
کا کہنا تھا کہ گرفتار ہوا تو شاہ محمود قریشی ،پرویز خٹک جیسے سئنیر معاملات دیکھیں
گے۔
خیال
رہے کہ شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین ہیں اور ان دنوں گرفتار ہیں۔
انھوں
نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی فوج سے کوئی لڑائی نہیں یہ فوج میری ہے، جلد وقت
تبدیل ہونے والا ہے اور آنے والے دنوں میں بڑے سرپرائز دوں گا۔‘
عمران
خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، الیکشن کے
علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔ عمران
خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں کچھ مجبور اور کچھ بے نقاب
ہوئے ہیں۔ پارٹی کے لیے نوجوان بہترین سرمایہ ہیں آئندہ ٹکٹ ان کا حق ہے۔
انھوں
نے کہا کہ عارف علوی آئین کے مطابق کام کر یں گے اور آیندہ الیکشن پی ٹی آئی ہی جیتے
گی۔ آج بھی ریفرنڈم کروا کے دیکھ لیں نتیجہ سامنے آ جائے گا۔
انھوں
نے کہا کہ اس چیز پر حلف دیتا ہوں تشدد اور توڑ پھوڑ کے حوالے سے کبھی نہیں کہا۔ اگر
مجھے گولیاں لگنے پر توڑ پھوڑ نہیں ہوتی تو اب کیسے ممکن تھا۔ سب کچھ پلاننگ کے
تحت ہمارے خلاف کیا گیا۔
ان
کا کہنا تھا کہ جب ہم عوامی طور پر جیت رہے ہیں تو ہم کیوں توڑ پھوڑ کی طرف جائیں
گے۔
بریکنگ, رہائی کے بعد سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کا تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان: ’خان صاحب آپ کو خدا حافظ کہتا ہوں‘
،تصویر کا ذریعہ@ImranIsmailPTI
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق گورنر سندھ
عمران اسماعیل نے بھی پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سنیچر کو انھوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے
ہوئے کہا کہ شائد آج میری آخری سیاسی پریس کانفرنس ہے۔ ’میں پی ٹی آئی کے تمام عہدوں
سے مستعفی ہوتا ہوں، میں پی ٹی آئی سے مستعفی ہوتا ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’آج میں عمران
خان کو خدا حافظ اور پی ٹی آئی کو اللہ حافظ کہتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی کے بانی ارکان
میں سے ہوں، ہم نے 27 سال پہلے ترقی، خوشحالی والے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم 27 سال کی جدوجہد کے بعد پونے
چار سال کے لیے حکومت میں آئے۔ اس وقت ہم ناتجربہ کار تھے کچھ کام کر سکے اور کچھ
وعدے ہم پورے نہ کر سکے۔
ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد ہم نے دوبارہ سیاسی
جدوجہد شروع کی اور اس دوران ایک ایسا بیانیہ بن گیا کہ پی ٹی آئی فوج کے خلاف ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی لڑائی فوج سے ہے۔ پارٹی میں بہت سے لوگوں نے عمران خان کو
مشورہ دیا کہ یہ نامناسب ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے انھیں غلط گائیڈ کیا۔ آج انھیں یہ
سوچنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری
کے بعد ملک میں غدر شروع ہو گیا۔ نو مئی کو جو واقعات ہوئے اس کی جتنی مزمت کی
جائے اتنا کم ہے۔ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ایک فوجی جوان اس لیے جان دیتا
ہے کہ ملک محفوظ رہے۔
یاد رہے عمران اسماعیل کو آج ہی انسداد دہشت گردی
کی عدالت نے ضمانت پر رہائی دی ہے۔ جبکہ پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں انھیں نو
مئی کے واقعات کے حوالے سے کراچی میں ہونے والے واقعات میں ملوث قرار نہیں دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما ہاشم ڈوگر نے دیگر ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا
پی
ٹی آئی کے رہنما ہاشم ڈوگر، رائے تیمور بھٹی اور دیگر نے بھی نو مئی کے واقعات کے
بعد پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نو مئی کی
مذمت بہت کم ہے، ملوث لوگوں کو سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو۔
اسلام
آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کی
مذمت کرتے ہیں، اپنی سیاست کو سیاست تک رکھنا چاہیے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے،
نو مئی کی مذمت بہت کم ہے، ملوث لوگوں کو سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو۔
ریاست پر حملہ کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے، مذاکرات نہیں کیے جاتے: مریم اورنگزیب
،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان کی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے
کہا ہے کہ ریاست پر حملہ کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے ان سے مذاکرات نہیں کیے
جاتے، عمران خان صاحب یہ مذاکرات کی نہیں این آر او کی اپیل ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ایک بیان میں ان
کا کہنا تھا کہ 60 ارب روپے کا ڈاکہ ڈالنے والے فارن ایجنٹ توشہ خانہ چور سے
مذاکرات نہیں بلکہ اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جی ایچ کیو، قومی عمارات اور فخر کی علامات
پر حملے کرنے والوں سے مذاکرات نہیں ہوتے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے
والوں سے مذاکرات کرنا شہدا کی بے حرمتی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایمبولسنز، ہسپتال، سکول جلا کر ملک
میں فساد، توڑپھوڑ اور انتشار پھیلا کر نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر انڈیل کر اب
کہتے ہو کہ مذاکرات کرنے ہیں؟
قوم، وطن اور شہدا کے مجرموں، دہشت گردوں کے سرغنہ سے
مذاکرات نہیں ہوتے۔
بریکنگ, سابق ایم این اے راجا خرم نواز کا بھی پی ٹی آئی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان
نو
مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے راجا خرم نواز نے ضلع راولپنڈی
سے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام
آباد میں پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میرے تمام ساتھی اور میں،
تمام پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دیتے ہیں۔
انھوں
نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن تھے اور ثہ اس سے مستعفی
ہوتے ہیں۔
انھوں
نے مزید کہا کہ وہ فی الحال سیاست سے استعفیٰ دے رہے ہیں اور اپنے حامیوں سے
مشاورت کے بعد اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔
بریکنگ, پی ٹی آئی رہنما و سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہ@ImranIsmailPTI
کراچی
کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما و ساق گورنر سندھ عمران اسماعیل
کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔
سندھ
پولیس نے عمران اسماعیل کو نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے پر بے گناہ قرار دے دیا،
تفتیشی افسر نے عدالت میں رپورٹ جمع کرواتے ہوئے موقف اپنایا کہ عمران اسماعیل کے
خلاف شواہد نہیں ملے۔
عمران اسماعیل اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں اور سنیچر کی شام تک انھیں جیل سے رہائی ملنے کا امکان ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی رپورٹ منظور کرتے ہوئے عمران اسماعیل کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
عدالت کے حکمنانے میں کہا گیا ہے کہ اگر عمران اسماعیل کسی اور مقدمہ میں ملوث نہیں تو رہا کر دیا جاۓ۔عمران اسماعیل کو 50 ہزار روپے کے زر ضمانت جمع کرانے کا حکم۔
جبکہ سابق گورنر عمران اسماعیل شام پانچ بجے پریس کانفرنس کر کے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
پشاور سے سابق ایم این اے شوکت علی کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان
پشاور سے سابق ایم این اے حاجی
شوکت علی نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے
ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ملک نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوگا، عوام فوج کے ساتھ
شانہ بشانہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان وجوہات کی
بنا پر میں پی ٹی آئی اور اس کی ایڈوائزری کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں،
ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی سیٹ پر امیدوار تھا، اس کا ٹکٹ بھی
واپس کرتا ہوں۔
گلگت بلتستان: وزیر اعلیٰ کا متعلقہ محکموں کو فوری ریسکیو آپریشن شروع کرنے کا حکم
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے گلگت میں استور شونٹر ٹاپ پر برفانی تودہ گرنے کے حادثہ میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ، ریسکیو 1122، اور دیگر متعلقہ محمکوں کو دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلی نے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی جی بی ڈی ایم اے، و دیگر اعلی حکام کو فوری طور استور پہنچنے اور کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلی نے ہدایت کی ہے کہ دبے افراد کے سرچ اینڈ ریسکیو کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گلگت بلتستان: برفانی تودہ گرنے سے کم از کم دس افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہgettyimages
ریسیکو 1122 گلگت بلتستان کے مطابق ضلع استور کے علاقے شونٹر پاس کے ٹاپ پر برفانی تودہ گرنے سے خانہ بندوشوں کے تودے تلے دب جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ریسیکو 1122 استور کے ترجمان وزیر اسد علی کے مطابق اب تک مقامی لوگوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق برفانی تودے سے کم از کم دس لاشوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ مقامی آبادی ابھی تک امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
واقعہ کے اطلاع ملتے ہی استور ہیڈ کوارٹر سے امدادی ٹیمیں روزانہ ہوچکی ہیں جنھیں جائے وقوعہ تک پہچنے میں کم از کم چھ گھنٹے لگیں گے۔
وزیر اسد علی کے مطابق امدادی ٹیموں کو چار گھنٹے گاڑی کا راستہ جبکہ روڈ بند ہونے کی وجہ سے دو، تین گھنٹے پیدل راستہ طے کرنا پڑے گا۔
وزیر اسد علی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ برفانی تودے تلے کتنے افراد دبے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق جس مقام پر حادثہ ہوا ہے اس مقام پر اس دونوں خانہ بندوش اپنے مال مویشیوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔
16 مرتبہ وفاقی وزیر رہا ہوں، ایٹمی ٹیکنالوجی کی خدمت کی اور ملک سے نہیں بھاگا لیکن آج میرا پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا: شیخ رشید احمد
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ میں 16 مرتبہ وفاقی وزیر رہا ہوں، اقوامِ متحدہ میں خطاب کیا اور پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کی خدمت کی اور ملک سے نہیں بھاگا لیکن آج میری شہریت پاسپورٹ منسوخ کردیے گئے۔
،تصویر کا ذریعہShkhRasheed
پی ٹی آئی کے 10 رہنماؤں کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ منسوخ کر دیے گئے
پاکستان تحریک انصاف کے 10 رہنماؤں کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ منسوخ کردیے گئے ہیں۔
ان رہنماؤں میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، پرویز خٹک، اعظم سواتی، علی امین گنڈا پور، فرخ حبیب، شیخ رشید، عون عباس بپی، زرتاج گل اور علی محمد خان شامل ہیں۔
آڈیو لیکس کمیشن: عدالتی فیصلے کے بعد جوڈیشل کمیشن کی کارروائی ملتوی کی جاتی ہے، تحریری حکمنامہ
آڈیو لیکس کمیشن کا دوسرا اجلاس ختم ہو گیا ہے جس کے بعد آج کی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔
ایک صفحے پر مشتمل حکمنامے پر تینوں ممبران (جسٹس قاضی فائز عیسی، بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق) کے دستخط ہیں۔
مختصر حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے گذشتہ روز کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کو بذریعہ سیکرٹری کل کے کیس میں فریق بنایا گیا۔
اس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد جوڈیشل کمیشن کی کارروائی ملتوی کی جاتی ہے۔
بریکنگ, کمیشن نے اپنی کارروائی شروع ہی نہیں کی تو اس کو کام کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد
سپریم کورٹ آف پاکستان میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جاری ہے جس میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی موجود ہیں۔
انکوائری کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہمیں زندگی میں ایسے کام کرنا پڑتے ہیں جو ہمیں ذاتی حیثیت میں پسند نہیں ہوتے۔
انھوں نے کہا کہ یہ انکوائری کمیشن ایک قانون کے تحت بنایا گیا تھا تو اس پر بھی تو عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ صرف اللہ کے غلام ہیں کسی اور کے غلام نہیں ہیں۔
انکوائری کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کمیشن نے اپنی کارروائی شروع ہی نہیں کی تو اس کو کام کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پڑیشنرز آ کر بتاتے ہیں کہ عدالت نے انھیں حکم امتناعی دیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کوئٹہ میں وکلا کی شدت پسندی کے واقع کی تحقیقات کر رہے تھے لیکن وہاں پر تو ایسے تحفظات کا اظہار تو نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری کی آڈیو ٹیپ کا معاملہ ہے تو وہ خود کیسے اس بارے میں وضاحت دے سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سڑکوں پر جو سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں وہاں سے اگر کسی قتل کے شواہد ملے ہوں تو کیا عدالت ان شواہد کو تسلیم نہیں کرے گی؟ انھوں نے کہا کہ پرائیویسی یہ ہوتی ہے کہ کسی کے گھر میں جھانکا نہیں جا سکتا۔
اس انکوائری کمیشن نے سنیچر کو چار افراد کو طلب کیا تھا جس میں سے صرف ایک مقامی صحافی عبدالقیوم صدیقی پیش ہوئے جبکہ دیگر تین افراد پیش نہیں ہوئے۔
جسٹس قاضی فائز نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن ابھی مزید کارروائی جاری نہیں رکھ رہا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ انکوائری کمیشن کی آج کی کارروائی کا حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔
بریکنگ, آڈیو لیکس کمیشن: ’یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی جج پر الزام ہو اور اس کی تحقیقات کیے بغیر ایسا ہی چلنے دیں‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ آف پاکستان میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جاری ہے جس میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی موجود ہیں۔
سماعت شروع ہونے سے پہلے عدالت میں اٹارنی جنرل نے کل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی طرف سے جاری ہونے والے عبوری حکمنامے کو پڑھ کر سنایا جس میں اس کمیشن کو مزید کارروائی سے روک دیا گیا تھا۔
کمیشن کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت کی طرف سے انھیں پیش ہونے کا کہا گیا تھا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انھیں تحریری طور پر نہیں بلکہ زبانی طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ انکوائری کمیشن کو کام کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے جبکہ انکوائری کمیشن کو تو نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سننے کے بعد ہی کوئی مناسب حکم جاری کیا جاتا ہے لیکن یہاں پر ایسا نہیں کیا گیا۔
انکوائری کمیشن کا کہنا تھا کہ پرائیویسی گھر کی ہوتی ہے لیکن جب آپ کسی اہم پوزیشن پر ہوں تو اس معاملے کو الگ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر کسی جج پر الزام ہو تو اس کی تحقیقات کیے بغیر ایسا ہی چلنے دیں۔
انکوائری کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ انکوائری کمیشن ایک قانون کے تحت بنا ہے۔
انھوں نے اٹارنی جنرل کو جج کا حلف پڑھنے کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے جج کا حلف نامہ پڑھا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ وہ اس حلف پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
یاد رہے گذشتہ روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کو مزید کام سے روک دیا تھا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن بھی معطل کر دیا تھا۔
فوج کے حوالے کیے گئے پی ٹی آئی کارکن: ’ریاست کو نوجوانوں کی اصلاح کرنی چاہیے انھیں دہشت گرد نہ بنائیں‘
’نو مئی کے واقعات نے تحریک انصاف کے سیاسی فلسفے سے دور ہونے پر مجبور کیا‘ خسرو بختیار
سابق وفاقی وزیر خسرو بختیار نے نو مئی کے واقعات کی روشنی میں تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’ایک سال قبل میں نے پارٹی قیادت سے کہا تھا کہ تحریک انصاف کی قومی اداروں کے ساتھ مہاز آرائی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اسی لیے میں نے پاکستان تحریک انصاف کی سیاست سے دوری اختیار کر لی اور کور کمیٹی کی رکنیت اور جنوبی پنجاب کی صدارت کے فرائض سے دوری اختیار کر لی۔
’نو مئی کے واقعات نے مجبور کر دیا کہ تحریک انصاف کے سیاسی فلسفے سے دور ہوجاؤں اور میں اس سیاسی فلسفے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اب پاکستان کا مستقبل تقسیم، بٹوارے اور محاز آرائی کی سیاست ہرگز نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’وہ جانتے ہیں میں جیل میں بھی رہا تو میری پارٹی الیکشن جیت جائے گی‘
،تصویر کا ذریعہPTI
سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کو پیغام دیا ہے کہ ’میری جماعت کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے بجائے آئیں بیٹھ کر مذاکرات کریں، مجھے مذاکرات کی میز پر سمجھائیں کہ کیسے میں اس ملک کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہوں۔‘
فرانس 24 کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے تنہا کر دیا گیا ہے کیونکہ میری جماعت کی بقیہ قیادت کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 10 ہزار ورکر گرفتار کیے گئے۔ پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کر لیا جاتا ہے یا وہ انڈر گراؤنڈ چلا جاتا ہے۔۔۔ میں آئسولیٹ ہو کر رہ گیا ہوں۔
’حکومت اور اسٹیبلشمنٹ الیکشن سے خوفزدہ ہیں، میری جماعت الیکشن جیت جائے گی، اس لیے مکمل کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ میری جماعت ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ فوجی عدالتوں کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں کیونکہ عام عدالتوں میں جھوٹے الزامات پر سزائیں دلانا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ فوجی عدالتوں کا مطلب ہماری جمہوریت کا خاتمہ ہے۔‘
حکومت سے مذاکرات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’آئیں بیٹھیں اور بات چیت کریں، بجائے اس کے کہ میرے ورکرز پر تشدد کریں۔ جماعت کی قیادت جیلوں میں ہے، وہ صرف پی ٹی آئی چھوڑنے کے اعلان کی شرط پر باہر آسکتے ہیں۔‘
’مجھے مذاکرات کی میز پر سمجھائیں کہ میں کیسے ملک کے لیے خطرہ ہوں۔ اکتوبر میں بھی الیکشن نہ ہوئے تو اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا؟‘
عمران خان نے کہا کہ ’مجھے ڈر ہے کہ یہ اکتوبر میں بھی الیکشن نہیں ہونے دیں گے، اگر انھیں ڈر رہا کہ میری جماعت جیت جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔۔۔ وہ جانتے ہیں میں جیل میں بھی رہا تو میری پارٹی الیکشن جیت جائے گی۔‘