بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع قلعہ سیف اللہ میں فرنٹیئرکور (ایف سی) کے ایک کیمپ پر حملے میں کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دو حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آرکی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں کے ایک گروہ نے علی الصبح مسلم باغ میں ایف سی کے کیمپ پرحملہ کیا۔
مسلم باغ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ اندازاً رات دو بجے کے بعد کیا گیا۔
اہلکار کے مطابق کیمپ سے نہ صرف زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں بلکہ شدید فائرنگ کی آوازیں بھی آتی رہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ فائرنگ کی آوازیں صبح ساڑھے گیارہ بجے تک بھی سنائی دیتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صبح ہونے کے بعد فوجی ہیلی کاپٹر مسلم باغ پہنچ گئے اور فضا میں چکر لگاتے رہے۔
مسلم باغ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا کہ ایف سی کیمپ پر ہونے والے حملے کے باعث شہر میں کاروباری مراکز بند ہیں۔
شہری کے مطابق ایف سی کے کیمپ کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا اور شہری آبادی میں خوف ہے۔
وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور وزیر داخلہ بلوچستان نے ایف سی کیمپ مسلم باغ پر شدت پسندوں کے حملے کی مذمت کی ہے۔
اپنے الگ الگ بیانات میں انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ دن دورنہیں، جب دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو گا ۔
واضح رہے کہ مسلم باغ افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل ہے۔
مسلم باغ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں اندازاً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ قیام پاکستان سے قبل مسلم باغ کا نام ہندو باغ تھا۔