آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کور کمانڈرز کانفرنس: عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا عزم

آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان عسکری تنصیبات پر حملوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس میں پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔

لائیو کوریج

  1. ’عمران خان نے سکیورٹی کے لیے تعاون نہیں کیا، اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہوں گے اور کسی دوسرے شخص یا ادارے کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکیں گے‘ اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ’تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سکیورٹی کے لیے تعاون نہیں کیا اور اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہوں گے اور کسی دوسرے شخص یا ادارے کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکیں گے۔‘

    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے حکم پر اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے عمران خان کو مکمل سکیورٹی فراہم کی۔ تمام انتظامات فول پروف سکیورٹی کے لیے کئے گئے تھے۔

    ’تاہم سکیورٹی دوطرفہ معاملہ ہے جسے سیکیورٹی مہیا کی جاتی ہے اس کا تعاون ناگزیر ہوتا ہے اور عمران خان نے سکیورٹی کے لیے تعاون نہیں کیا لہذا اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہوں گے۔‘

  2. ’عمران خان کا بیان فوج کے خلاف ان کی ذہنیت کا ایک اور ثبوت ہے‘ وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے متعلق الزام تراشی کی شدید مذمت کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا بیان فوج کے خلاف ان کی ذہنیت کا ایک اور ثبوت ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ بیان 9 مئی کے المناک واقعات کے ماسٹر مائنڈ کا اعتراف جرم ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی ذہنیت ہے جس نے محب وطن آرمی افسران پر اپنے قتل کے جھوٹے الزامات لگائے، سائیفر اور بیرونی سازش کی جھوٹی کہانیاں گھڑیں۔

    شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ ملک دشمنی اور دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ کے اصل عزائم کا اظہار ہے۔ بیان اعتراف ہے کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ عمران خان کے کہنے پر ہوا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بیان ثبوت ہے کہ شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی اور حساس تنصیبات اور عمارتوں پر حملے کے پیچھے منصوبہ بندی عمران خان کی تھی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ سید عاصم منیر سے تکلیف یہ ہے کہ وہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی عمران نیازی، ان کی اہلیہ، فرح گوگی اور پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کی بدترین کرپشن سے آگاہ ہیں۔

    شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آرمی کے انتہائی ڈیکوریٹڈ، رینک اینڈ فائل میں ہردلعزیز اور میرٹ پر آرمی چیف بننے والے جنرل سید عاصم منیر کے خلاف ہرزہ سرائی بدنیتی کے سوا کچھ نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ شمشیر اعزاز اور حافظ قرآن ایماندار آرمی چیف سے عمران نیازی خوفزدہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی بہادر فوج کے سپہ سالار کے خلاف اس نوعیت کی ’گفتگو دہشت گردوں کی حمایت ہے اور پوری قوم مسلح افواج اور آرمی چیف کے ساتھ کھڑی ہے۔

  3. بریکنگ, آئی ایس پی آر کی فوج میں استعفوں کی تردید ’مارشل لا کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے مارشل لا کے حوالے سے افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مارشل لا کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج آرمی چیف کی قیادت میں متحد ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج میں کسی نے استعفیٰ نہیں دیا اور اس حوالے سے گردش کرے والی افواہوں کی تردید کی گئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اندرونی اور بیرونی پروپیگنڈوں کے باوجود فوج متحد ہے اور رہے گی، آرمی چیف سمیت پوری عسکری قیادت کا جمہوریت پر یقین ہے، فوج متحد ہے اور متحد رہے گی۔

  4. بریکنگ, عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ سے روانہ

    عمران خان کو آئی جی اسلام آباد کی گاڑی میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے روانہ کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ٹول پلازہ پر عمران خان کی گاڑی اور ان کی سکیورٹی موجود ہے، جہاں سے وہ لاہور کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

    اس سے قبل ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ تین گھنٹے سے انھوں نے مجھے عدالت میں یرغمال بنا رکھا ہے اور مجھے جانے نہیں دے رہے اور مخلتف قسم کے بہانے بنا رہے ہیں۔

    ’میں آج ساری قوم کو کہہ رہا ہوں کہ مجھ پر اب کوئی کیس نہیں ہے اس کے باوجود مجھے اغوا کرکے یہاں زبردست رکھا ہوا ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہ پھر سے کچھ کرنا چاہتے ہیں، یہ ان کی بدنیتی ہےت میں ساری قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ساری قوم تیار ہو جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جس ملک میں عدالتوں کی حیثیت ختم ہو گئی ہو، میں ساری قوم کو بتا رہا ہوں کہ پرامن احتجاج کے لیے تیار ہو جائے۔‘

  5. عمران خان: ’ضمانت ملنے کے بعد دو گھنٹے سے راستے کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں‘

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد دو گھنٹے سے راستے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ راستے کلیئر ہوں گے تو لاہور کے لیے روانہ ہو سکوں گا۔

    عمران خان نے ضلعی انتظامیہ کو جلد از جلد روٹ کلیئر کرنے کا کہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

    اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور ڈی آئی جی سکیورٹی نے کمرہ عدالت میں عمران خان سے ملاقات کی ہے اور انھیں شہر میں سکیورٹی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

    عمران خان نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔

  6. سیکٹر جی الیون اور جی 13 میں پولیس پر فائرنگ کی گئی: اسلام آباد پولیس کا دعویٰ

    وفاقی دارالحکومت کی پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون اور جی 13 میں پولیس پر فائرنگ کی گئی ہے، جس کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  7. نواز شریف: ’یہ بھی کہہ دیتے کہ قوم کے پیسے لوٹ کر آئے ہیں، مل کر خوشی ہوئی‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے عمران خان کی سپریم کورٹ میں پیشی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، یہ بھی کہہ دیتے کہ قوم کے پیسے لوٹ کر آئے ہیں مل کر خوشی ہوئی۔‘

    نواز شریف نے لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس ’یہ بھی کہہ دیتے کہ 60 ارب لوٹنے پر بھی خوشی ہوئی۔‘

  8. ’عمران خان اس وقت تک ہائیکورٹ کے احاطے سے باہر نہیں جائیں گے، جب تک انکے سکیورٹی گارڈ نہیں پہنچ جاتے‘

    عمران خان کے وکلا کی ٹیم میں شامل شعیب شاہین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ہم عدالت کے تحریری حکم نامے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کی ذاتی سکیورٹی میں شامل افراد کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان اس وقت تک اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے باہر نہیں جائیں گے جب تک ان کے سکیورٹی گارڈ ہائی کورٹ نہیں پہنچ جاتے۔

  9. ’ہم دیکھیں گے‘: فیض کی نظم پر انڈین فلم ڈائریکٹر کا دعویٰ، عمران خان پر غیر قانونی استعمال کا الزام

  10. بریکنگ, پیر کے روز سپریم کورٹ کے آگے دھرنا دیں گے، پی ڈی ایم کا اعلان

    پی ڈی ایم حکومت نے سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

    جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ اور صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پیر کے روز سپریم کورٹ کے آگے دھرنا دیں گے۔

    انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پیر کو پوری قوم سپریم کورٹ کے باہر پر امن احتجاج کے لیے جمع ہو گی۔

  11. پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں 48 فیصد کا اضافہ: آلو، آٹے، چائے کی پتی میں 100 فیصد سے زائد اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی میں 48.02 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق یہ اضافہ گزشتہ سال مئی کے مہینے کے اس ہفتے کے مقابلے میں موجودہ ہفتے میں اشیائے خوردونوش اور روز مرہ استمعال کی دوسری چیزوں کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے ریکارڈ کیا گیا۔

    ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار کے مطابق آلو کی قیمت میں 112 فیصد، چائے کی پتی کی قیمت میں 106 فیصد، آٹے کی قیمت میں 101 فیصد، کیلے کی قیمت میں 98 فیصد، باسمتی چاول کی قیمت میں 90 فیصد، انڈوں کی قیمت میں 89 فیصد، دال مونگ کی قیمت میں 66 فیصد ، ڈبل روٹی کی قیمت میں 58 فیصد، سگریٹ کی قیمت میں 140 فیصد، ڈیزل کی قیمت میں سو فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 87 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 39 فیصد کمی ریکارڈ کیا گئی۔

  12. بلوچستان: افغانستان سے متصل ضلع قلعہ سیف اللہ میں ایف سی کیمپ پر حملہ، دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع قلعہ سیف اللہ میں فرنٹیئرکور (ایف سی) کے ایک کیمپ پر حملے میں کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دو حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آرکی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں کے ایک گروہ نے علی الصبح مسلم باغ میں ایف سی کے کیمپ پرحملہ کیا۔

    مسلم باغ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ اندازاً رات دو بجے کے بعد کیا گیا۔

    اہلکار کے مطابق کیمپ سے نہ صرف زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں بلکہ شدید فائرنگ کی آوازیں بھی آتی رہیں۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ فائرنگ کی آوازیں صبح ساڑھے گیارہ بجے تک بھی سنائی دیتی رہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ صبح ہونے کے بعد فوجی ہیلی کاپٹر مسلم باغ پہنچ گئے اور فضا میں چکر لگاتے رہے۔

    مسلم باغ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا کہ ایف سی کیمپ پر ہونے والے حملے کے باعث شہر میں کاروباری مراکز بند ہیں۔

    شہری کے مطابق ایف سی کے کیمپ کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا اور شہری آبادی میں خوف ہے۔

    وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور وزیر داخلہ بلوچستان نے ایف سی کیمپ مسلم باغ پر شدت پسندوں کے حملے کی مذمت کی ہے۔

    اپنے الگ الگ بیانات میں انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ دن دورنہیں، جب دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو گا ۔

    واضح رہے کہ مسلم باغ افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل ہے۔ مسلم باغ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں اندازاً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ قیام پاکستان سے قبل مسلم باغ کا نام ہندو باغ تھا۔

  13. بریکنگ, عمران خان کو پیر تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو پیر تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس مقدمے کا علم نہ ہو اس میں بھی گرفتار نہ کیا جائے۔

  14. پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کےخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی طرف سے قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف دائر درخواست 16 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نیب ترامیم کیس کی سماعت کرے گا جس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی گزشتہ سماعت 16 مارچ کو ہوئی تھی۔

    گذشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی طرف سے ترامیم کے خلاف دائر درخواست میں قومی احتساب بیورو (نیب) سے آج 16 مارچ تک برآمد کی گئی رقم کی تفصیلات طلب کر لیں تھیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو 15 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔

    دوسری جانب چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔

    یاد رہے کہ 4 اپریل کو عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صوبہ پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کو فنڈز کی مد میں 10 اپریل تک 21 ارب جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن 11 اپریل کو فنڈ کی وصولی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے، فنڈز نہ جمع کروانے کی صورت میں عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔

  15. جب تک عمران خان محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتے پرامن احتجاج جاری رہے گا: پی ٹی آئی

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک چیئرمین عمران خان محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتے پرامن احتجاج جاری رہے گا۔

    اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر علاقے میں آج شام حقیقی آزادی کی جہاد میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی اور انصاف وکلا فورم گرفتار کارکنان کو قانونی معاونت فراہم کرے گا۔

  16. ’عمران خان عدالت سے بنی گالہ جائیں گے‘

  17. بریکنگ, اس طرح کے عدالتی فیصلوں کی مثال نہیں ملتی لیکن عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی: رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کی ضمانت اور انھیں نو مئی کے بعد درج ہونے والے کسی بھی کیس میں 17 مئی تک گرفتار نہ کرنے کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔

    وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’ہم کوشش کی جائے گی کہ ان کی ضمانت منسوخ کروائی جائے۔ جو کچھ ہوا عمران خان کے ایما پر ہوا ہے اور حکومت کی جانب سے انھیں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔‘

    رانا ثنا اللہ کا انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے ہم دو، تین روز تک انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں سوچ رہے تھے لیکن اب کیونکہ یہ معاملہ 17 مئی تک چلا گیا ہے اس لیے ہم وزیرِ اعظم سے اس بارے میں تجویز لیں گے اور اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں، وہ بھی موجود ہیں، لیکن اکثر افراد کو اس کی بندش سے نقصان ہو رہا ہے اس لیے اس پر نظرِ ثانی کریں گے۔

  18. سپریم کورٹ کی غیرمعمولی مداخلت ’مس کنڈکٹ ہے۔ وفاقی کابینہ کا اعلامیہ

    پاکستان وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعے کو وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔

    وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کو بتایا کہ عمران خان کی القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں قانونی طور پر گرفتاری کی گئی اور پھر سپریم کورٹ کے حکم پر رہائی سے متعلق حقائق پر کابینہ کو بریف کیا۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خاں نے 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے حساس ریاستی اداروں، عمارتوں، جناح ہاؤس میں توڑ پھوڑ، قومی نشریات رکوانے، سوات موٹروے، ریڈیو پاکستان سمیت دیگر سرکاری ونجی املاک اور گاڑیوں کو جلانے، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں پر تشدد جیسے تمام واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اسے آئینی وجمہوری احتجاج نہیں کہا جاسکتا۔

    اجلاس نے 9 مئی کے واقعات کے خلاف مسلح افواج کے ترجمان کے بیان کی تائید وحمایت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ’ریاست، آئین، قانون اور قومی وقار کے خلاف منظم دہشت گردی اورملک و ریاستی دشمنی کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے اور آئین وقانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کرکے ملوث عناصر کو عبرت کی مثال بنایاجائے۔‘

    اجلاس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ یک جہتی کرتے ہوئے واضح کیا کہ لاقانونیت میں ملوث عناصر کے خلاف اُن کے اقدامات کے ساتھ ہیں۔

    اجلاس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کے ’اوپن اینڈ شٹ‘ کیس میں آئین، قانون اور مروجہ قانونی طریقہ کار کے مطابق گرفتاری پرغیرمعمولی مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے ’مس کنڈکٹ‘ قرار دیتے ہوئے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

    اجلاس نے چیف جسٹس کی جانب سے ’آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی‘ سمیت دیگر کلمات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدل کی اعلی ترین کرسی پر بیٹھے شخص کا ایک کرپشن کے مقدمے میں یہ اظہار خیال ’عدل کے ماتھے پر شرمناک دھبہ ہے۔‘

    اجلاس نے صدر عارف علوی کے وزیراعظم شہبازشر یف کو خط کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط ثبوت ہے کہ صدر عارف علوی ریاست کے سربراہ سے زیادہ پارٹی کے ورکر نظر آرہے ہیں۔

  19. بریکنگ, عمران خان کو کسی نئے مقدمے میں 17 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو نو مئی کے بعد درج ہونے والے کسی بھی مقدمے میں 17 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    نو مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں حراست میں لیے جانے کے بعد عمران خان پر لاہور میں کورکمانڈر کی رہائش گاہ پر حملے کی منصوبہ بندی سمیت کم از کم تین نئے مقدمے درج کیے گئے تھے۔

    ان مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے ان کے وکلا نے جمعے کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے سماعت کے بعد فیصلہ دیا کہ عمران خان کو ان کی حراست کے بعد درج کیے گئے کسی بھی مقدمے میں 17 مئی تک گرفتار نہ کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہی جمعے کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں بھی دو ہفتے کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ عدالت کے دو رکنی بینچ نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر دلائل سن کر ضمانت کی منظوری یا خارج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

  20. آج جب نیب نے عمران خان کے خلاف کرپشن کے کیسز بنائے، اس پر عدلیہ آہنی دیوار بنی ہے: شہباز شریف

    کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے پاکستان کی صورتحال خراب کرنے میں کردار ادا کیا ہے وہ ایک گھناؤنا کردار بن گیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کیا عدالت نے کبھی عمران خان کے جھوٹے دعوؤں کا کبھی نوٹس لیا، لیکن آج نیب نے کرپشن کے کیسز بنائے ہیں اس پر عدلیہ آہنی دیوار بنی ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نو مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر 1971 کے بعد سے المناک ترین دن تھا۔

    ’بینظیر کی شہادت پر بھی کسی فوجی تنصیب کی طرف کسی نے رخ نہیں کیا اور صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور قائد کا پاکستان بچ گیا۔‘