آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کور کمانڈرز کانفرنس: عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا عزم

آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان عسکری تنصیبات پر حملوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس میں پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔

لائیو کوریج

  1. گینگسٹرز کی شناخت سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے کی جا رہی ہے، کسی کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تحریک انصاف کے مظاہروں اور احتجاج کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ ’نو مئی کو پورے پاکستان میں 40 سے 45 ہزار لوگ احتجاج میں شریک تھے۔ 23 کروڑ لوگوں میں سے 40 سے 45 ہزار لوگ سامنے آئے۔‘

    رانا ثنا اللہ کےمطابق ’ نو مئی کو اسلام آباد میں 12 جگہ پر احتجاج ہوا جس میں سات سو کے قریب مظاہرین شریک ہوئے۔ پنجاب میں نو مئی کو 15000 سے 18000 افراد نے احتجاج میں شرکت کی۔ خیبرپختون خوا میں 9 مئی کو 126 مقامات پر احتجاج ہوا جس میں 19ہزار سے 22 ہزار افراد نے شرکت کی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ 10 مئی کو ان مظاہروں کی تعداد میں کمی ہوئی۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ یہ عوامی رد عمل نہیں تھا بلکہ یہ فسادی ٹولہ تھا جن کو ایک سال سے عمران خان تربیت دے رہے تھے جنھیں پیٹرول بم اور غلیلیں بنانا سکھایا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے شر پسند مسلح افراد کا گینگ بنایا ان گینگز کا پوری طرح سے حکومت محاسبہ کرے گی۔ شر پسندوں نے جو جرم کیا وہ سارا ڈاکیومنٹڈ ہے۔ سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے سب کی شناخت کی جا رہی ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ گینگسٹرز کو شناخت کے بعد چھوڑا نہیں جائے گا اور نہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے قوم کے 60 ارب لوٹے ہیں۔ ان کے کارکنوں نے احتجاج نہیں کیا بلکہ دکانوں اور مویشی منڈیوں کو لوٹا۔ مریضوں کو ایمبولینس سے نکال کر آگ لگائی گئی۔کئی مقامات پر بینکوں کو لوٹنے کی کوشش بھی کی گئی شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کو آگ لگانا احتجاجیوں کا کام نہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاست کی آڑ میں دہشت گردوں کو منظم کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے جیسا ریلیف عمران خان کو ملا ایسا ریلیف آج تک کسی کو نہیں ملا۔

    ’عمران خان کو دیکھ کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس خوش آمدید کریں اور ان کو دیکھ کر خوش دلی کا اظہار کریں تو پھر ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ کورٹ کی کیا مجال رہ جاتی ہے۔ انھوں نے جو مانگا ان کو وہ ملا۔انصاف کے اداروں نے جس طرح عمران خان کو اکوموڈیٹ کیا بڑا لمحہ فکریہ ہے۔‘

  2. عمران خان کا خطاب اب ساڑھے پانچ بجے ہو گا: فرخ حبیب

  3. رجسٹرارسپریم کورٹ کی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو پیر کے دن سیکورٹی پلان اور انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی زیر صدارت سکیورٹی سے متعلق اجلاس ختم ہو گیا۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو پیر کے دن سیکورٹی پلان اور انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے کسی افسر کی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے اظہار تشویش کیا گیا۔

    واضح رہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج اور دھرنے کی کال دے رکھی ہے۔

  4. عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر اس وقت کے مناظر, فرقان الہی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران اس وقت لاہور میں زمان پارک پر واقع اپنی رہائش گاہ میں موجود ہیں۔

    بی بی سی کے فرقان الہی کے مطابق ’عمران خان کی رہائش گاہ کے باہرآج رونق دکھائی دے رہی ہے جہاں نہ صرف پی ٹی آئی کارکنان موجود ہیں بلکہ پی ٹی آئی کے جھنڈے اور بیجز کے سٹالز دوبارہ سجا دیے گئے ہیں۔

    زمان پارک کے باہر اس وقت کھانے پینے کی اشیا کے سٹالز بھی موجود ہیں اور گرمی کے پیش نظر ٹھنڈے مشروبات کی فروخت بھی جاری ہے۔

    واضح رہے پاکستان کے چیئرمین عمران خان آج سہ پہر زمان پارک لاہور سے قوم سے خطاب کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس بارے میں اعلان کیا تھا کہ عمران خان آج سوشل میڈیا پر سہ پہر چار بجے خطاب کریں گے۔

  5. بریکنگ, جناح ہاؤس کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہاہے، مجرموں کو 72 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے گا: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کور کمانڈر ہاؤس جو ایک تاریخی جناح ہاؤس ہے، اس کو آج دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اس پر حملہ کرنے والے مجرموں کو 72 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے گا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا پاکستان سیف سٹی اتھارٹی لاہور کے دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نو مئی کو جو پاکستان کی تاریخ کا بھیانک ترین اور دل خراش واقعہ ہوا، میں ابھی وہاں سے آ رہا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تاریخی جناح ہاؤس مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، 75 سالہ تاریخ میں جو ہمارا ازلی دشمن نہ کر سکا وہ بدقسمتی سے نو مئی کو عمران نیازی کی نگرانی میں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے اکسانے پر مسلح جتھے نے کر دیا اور جناح ہاؤس کو مکمل طور پر راکھ میں تبدیل کر دیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کاش بطور پاکستانی ہمیں یہ دن نصیب نہ ہوتا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس المناک واقعے کے بعد پوری قوم انتہائی غمگین ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مسلح جتھے کسی حوالے سے بھی دہشت گردوں اور پاکستان کے دشمن سے کم نہیں، کیونکہ اس طرح کا کام کوئی پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے اس بدترین حرکت میں حصہ لیا ہے، ان کے لیے آئین اور قانون میں جو سزائیں لکھی گئی ہیں، ہر صورت ان کو یہ سزائیں دی جائیں گی۔

  6. بریکنگ, پی ڈی ایم کا احتجاج: رجسٹرار سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی سکیورٹی سے متعلق اجلاس طلب کر لیا

    رجسٹرار سپریم کورٹ نے سکیورٹی پلان اور انتظامات سے متعلق انتظامیہ کے افسران کو طلب کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، اے آئی جی اسپیشل برانچ اسلام آباد۔ڈی آئی جی آپریشن اور ایس ایس پی آپریشن کو بھی طلب کیا گیا ہے

    اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کو سپریم کورٹ کے سامنے ممکنہ دھرنے اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے طلب کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج اور دھرنے کی کال دے رکھی ہے۔

  7. بریکنگ, عمران خان کے خلاف عدت میں نکاح کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

    سول جج نصرمن اللہ کی عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کے مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

    سول جج کی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدت میں نکاح کے کیس کی درخواست عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

    اس سے قبل اس درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور موقف دیا کہ عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف شکایت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدت کے دوران شادی قانونی نہیں ہے، 2018 کے پہلے دن شادی کریں گے تو وزیراعظم بن جائیں گے یہ فراڈ پر مبنی ہے۔

    وکیل رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عدالتی فیصلے اس کو غیر قانونی اور کچھ اس کو زنا قرار دیتے ہیں۔ جنوری 2018 میں بشری بی بی عدت میں تھیں کیونکہ انھیں طلاق نومبر میں ہوئی تھی۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ اگر شادی قانونی تھی تو دوبارہ شادی کیوں کی۔

    اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ شادی لاہور میں ہوئی اس عدالت کا دائرہ کار کیسے بنتا ہے۔

    جس پر وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ اگر کسی کو گولیاں ایک جگہ لگتیں ہیں اور موت دوسری جگہ واقعہ ہوتی ہے تو دونوں جگہ ٹرائل ہو سکتا ہے۔ فراڈ شادی کے نتیجے میں عمران اور بشری اسلام آباد کی حدود میں رہتے رہے اورنکاح خواں کو بھی اسلام آباد سے نکاح کروانے کے لیے لے جایا گیا۔

    نکاح کا عمل اسلام آباد سے شروع ہوا اس لیے یہ معاملہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ جبکہ عدالت نے دائر اختیار سے متعلق دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

  8. لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد سمیت گرفتار 17 خواتین کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد سمیت گرفتار 17 خواتین کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد نے ذوالفقار کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈاکٹر یاسمین راشد کسی مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔

    جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے گرفتار پی ٹی آئی کی 17 خواتین کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے پی ٹی آئی خواتین ورکرز کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

  9. عمران خان آج سہ پہر چار بجے قوم سے خطاب کریں گے

    پاکستان کے چیئرمین عمران خان سنیچر کی سہ پہر زمان پارک لاہور سے قوم سے خطاب کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس بارے میں اعلان کیا ہے کہ عمران خان آج سوشل میڈیا پر سہ پہر چار بجے خطاب کریں گے۔

  10. بریکنگ, بلوچستان: ایف سی کمپاؤنڈ میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، چھ عسکریت پسند جبکہ شہری سمیت سات فوجی اہلکار ہلاک

    بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمپاؤنڈ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن کے دوران ایک شہری سمیت سات فوجی جوان جبکہ تمام چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان کے مطابق اس کارروائی میں ایک خاتون سمیت چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کمپاؤنڈ میں موجود تمام چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کلیئرنس آپریشن گزشتہ شام ایف سی کیمپ پر دہشت گردوں کے ابتدائی حملے کو پسپا کرنے کے بعد شروع ہوا تھا جو 13 مئی کی صبح مکمل ہوا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پیچیدہ کلیئرنس آپریشن میں یرغمالیوں کو بچانے اور ساتھ ہی ایک رہائشی بلاک سے تین خاندانوں کو بحفاظت نکالنے کی کوششیں شامل تھیں، عسکریت پسندوں نے اپنے خوفناک عزائم سے بچوں کو بھی نہیں بخشا۔

    تاہم دہشت گردوں کے روابط کا پتا لگانے، سہولت کاروں کو گرفتار کرنے اور ان کے اسپانسرز کو بے نقاب کرنے کے لیے ضروری انٹیلی جنس فالو اپ جاری رکھا جائے گا۔

    بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  11. عمران خان اور بشریٰ بی بی کا عدت میں نکاح کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان اوربشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کے مقدمے کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    سول جج نصرمن اللہ کی عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کے مقدمے کی سماعت کی۔

    عدالت نے عمران خان کے خلاف عدت میں نکاح کرنے کے الزام کا کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو سنیچر کی دوپہر دو بجے سنایا جائے گا۔

  12. پاکستان میں سوشل میڈیا کی بندش کے باوجود مظاہرے کیوں نہ تھم سکے؟

  13. بریکنگ, القادر ٹرسٹ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں عبوری ضمانت دینے کا تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان تفتیش میں رکاوٹ ڈالیں تو نیب ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتا ہے۔

    عدالت عالیہ کے حکمنامے میں کہا گیا کہ تفتیشی کو جب بھی ضرورت ہو عمران خان ان کے سامنے پیش ہوں۔

    حکمنامے میں ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی کے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے عدالت میں کہا تھا کہ آرٹیکل 245 کا نفاذ ہے لہذا عمران خان کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی کا یہ موقف جارحانہ ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ اس موقف کا مطلب وہ بنیادی حقوق غصب کرنا ہے جو جمہوری اور اسلامی ریاست کی بنیاد ہیں۔تصور نہیں کیا جا سکتا ایک ذمہ دار حکومت شہریوں کے لیے انصاف کی رسائی میں یہ رکاوٹ ڈالے گی۔

    حکمنامے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے آرٹیکل 245 کے نفاذ میں عدالت تک رسائی کے نکتے پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اہم آئینی نکتے پر معاونت طلب کی ہے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے متعلقہ فورم احتساب عدالت ہونے کا اعتراض بھی اٹھایا۔ ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا اعتراض درست نہیں۔ ہائیکورٹ کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی سیکشن 561اے کے تحت بھی کیس سننے کا اختیار رکھتی ہے۔

  14. بریکنگ, پاکستان کی فوج کے خلاف بیانات دینے والا ریاست کا دشمن ہے: نگران وزیر اعلی پنجاب

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی پاکستان کی فوج اور اس کے جنرلوں کے خلاف بیانات دے رہا ہے وہ ریاست کا دشمن ہے۔

    نگران وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس ریاست مخالف پروپیگنڈا کا شکار نہیں بننا چاہیے۔

    واضح رہے کہ جمعہ کو پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیرپر الزامات عائد کیے تھے۔

  15. جنرل عاصم منیر نے عمران خان کی کرپشن کا پردہ فاش کیا: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اس لیے بدنام کر رہے ہیں کہ انھوں نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی عمران خان اور پی ٹی آئی کی کرپشن کا پردہ فاش کیا تھا۔

    شہباز شریف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آرمی چیف کے بارے میں عمران نیازی کا بیان ان کی بیمار اور جنونی ذہنیت کا عکاس ہے۔ بطور ڈی جی آئی ایس آئی، جنرل عاصم منیر نے نیازی کے کرپشن سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کیا اور اسی وجہ سے وہ پہلے دن سے آرمی چیف کو بدنام کر رہے ہیں۔

  16. بریکنگ, پنجاب کا عسکری و سول تنصیبات میں توڑ پھوڑ اورجلاؤ گھیراؤ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے کور کمانڈ ہاؤس (جناح ہاؤس)، عسکری و سول تنصیبات میں توڑ پھوڑ اورجلاؤ گھیراؤ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ہیڈ آفس کے دورے کے دوران امن وامان کی صورتحال پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    جے آئی ٹی واقعات کی تحقیقات کر کے جامع رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ توڑ پھوڑ والے تمام مقامات کی جیو فینسنگ کرائی جائے گی۔ جبکہ شرپسندوں کے خلاف تمام کیس انسدادہشت گردی کی عدالت میں چلائے جائیں گے۔

    نگران وزیر اعلیٰ نے تمام شرپسندوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔

    نگران وزیر اعلیٰ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی گناہ گار کو نہیں چھوڑا جائے گا، شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ ہر شرپسند کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ‘

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بیان میں کہا کہ ’جناح ہاؤس سمیت عسکری، سول و نجی املاک پر حملہ کرنے والے عناصر عبرتناک سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ شرپسندوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔‘

    جبکہ محکمہ پبلک پراسیکیوشن کو تمام کیسوں کا فوری ٹرائل یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    نگران وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال اور شرپسندوں کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

    اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، سی سی پی او لاہور،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سیکرٹری قانون، سیکرٹری پبلک پراسیکیوشن، ایم ڈی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی،کمشنر لاہور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

  17. پنجاب بھر میں نافذ دفعہ 144 میں توسیع کر دی گئی

    دفعہ 144 میں توسیع کا نوٹیفکیشن صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے جاری کیا، جس کے مطابق صوبے بھر میں جلسے ،جلوس، ریلیوں اور ہر قسم کے اجتماع پر پابندی ہو گی۔

    واضح رہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر متعدد لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

  18. ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

    اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق میڈیا میں چلنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہوا۔

  19. کور کمانڈر کا مور اور ہمارا مور چور: محمد حنیف کا کالم

  20. پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے کاروبار زندگی متاثر: ’سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں ڈال سکے تو آرڈر بھی نہیں ملے‘