آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کور کمانڈرز کانفرنس: عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا عزم

آئی ایس پی آر کے مطابق ناقابل تردید شواہد کی بدولت افواج پاکستان عسکری تنصیبات پر حملوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے واقف ہے جن کے خلاف کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس میں پاکستان کے قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کی عزم کا اظہار کیا گیا۔

لائیو کوریج

  1. انتخابات نظرثانی درخواست پر سماعت: ’آج تو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر ہی سوال کر دیا،‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پنجاب میں انتخابات سے متعلق نظر ثانی درخواست پر آج سماعت کر رہا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ پہلے الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے فنڈز اور سکیورٹی سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا تھا مگر آج تو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا دیا ہے۔

    یاد رہے کہ نظر ثانی درخواست میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے پنجاب میں پولنگ کی تاریخ 14 مئی واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے پاس انتخابات کی تارہخ دینے کا اختیار نہیں اور یہ کہ الیکشن کے لیے 14 مئی کی تاریخ دے کر عدالت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ انھیں اپنی درخواست پر دلائل دینے کے لیے کتنا وقت چاہیے ہو گا، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے تین سے چار گھنٹوں کا وقت طلب کیا۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں ’ہم تمام فریقین کو سُنیں گے۔‘ سپریم کورٹ نے اب اس معاملے پر تمام فریقین بشمول وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سیاسی جماعتوں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    دوران سماعت پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے نظرثانی درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے اور یہ کہ نظرثانی کیس میں وہ دلائل نہیں دیے جا سکتے جو مرکزی کیس میں نہ دیے گئے ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی آدھی آبادی (پنجاب اور خیبرپختونخوا) نمائندگی کے بغیر ہیں اور اس وقت بہتر یہ ہو گا کہ عدالت اس وقت اپنے احکامات (پنجاب میں الیکشن) پر عمل کے لیے حکم جاری کرے۔

    تاہم اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نظرثانی درخواست پر دلائل کی تیاری کے لیے وقت ملنا چاہیے۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو مرکزی پٹیشن میں چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔

  2. قومی اسمبلی کے اراکین پر مشتمل کمیٹی چیف جسٹس کے کنڈکٹ کا جائزہ لے اور شواہد کے ساتھ ریفرنس دائر کیا جائے: خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے وفاقی وزیر قانون کے تجویز پیش کی ہے کہ قومی اسمبلی کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو چیف جسٹس کے کنڈکٹ کا جائزہ لے، اور مس کنڈکٹ کے شواہد کے ساتھ آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے تاکہ ایک مثال قائم ہو کہ آئندہ پاکستان کے آئین کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جا سکے۔

    قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمان کو سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنا چاہیے، وقت آ گیا ہے کہ پارلیمان آئین کے تحت اپنے کردار کو منوائے۔

    ’اس کردار کو بہت پامال کیا جا چکا ہے۔ لیکن آج یہ ایوان اپنا تاریخی کردار ادا کرے۔‘ انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عدل کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

    ’آپ کس قسم کے منصف ہیں، آپ کا کام انصاف کرنا ہے، پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کبھی انصاف اتنا رسوا نہیں ہوا جتنا اب ہے۔‘

  3. ’ریڈ زون میں ٹریفک کے بہاؤ میں تعطل پیدا ہوسکتا ہے‘

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا کہ پی ڈی ایم کے احتجاج کے باعث ریڈ زون میں ٹریفک کے بہاؤ میں تعطل پیدا ہوسکتا ہے جبکہ ڈپلومیٹک انکلیو اور ریڈ زون میں واقع دفاتر میں آمد و رفت کے متبادل راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

    اس بیان میں پولیس نے کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں، کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع پکار 15 پر دیں۔ اسلام آباد کے باقی راستے آمدورفت کے لیے کھلے ہیں اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔‘

  4. بریکنگ, سپریم کورٹ میں پنجاب میں انتخابات سے متعلق درخواست پر سماعت شروع

    پنجاب میں انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ نظرثانی کی اس درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔

  5. ڈاکٹر شیریں مزاری کو علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کی علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے وفاقی دارالحکومت کے پمز ہسپتال منتقلی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ شیریں مزاری کو گذشتہ ہفتے اسلام آباد پولیس نے نقضِ امن کے پیش نظر گرفتار کر کے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیا تھا۔ شیریں مزاری کی ہسپتال منتقلی کی درخواست ایمان مزاری کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اُن کی والدہ ہائی بلڈ پریشر ، فوڈ پوائزننگ اور پاؤں پر سوجن جیسے عارضوں میں مبتلا ہیں اور انھیں علاج کی فی الفور ضرورت ہے۔

    ایمان مزاری نے آج ہی اس درخواست پر سماعت کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیریں مزاری 72 سال کی ہیں اور اڈیالہ جیل میں ان کا علاج ممکن نہیں۔

    ایمان مزاری نے دعویٰ کیا کہ ان کی اپنی والدہ سے ملاقات ہوئی ہے اور انھیں جیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے۔

  6. ریڈ زون میں پی ڈی ایم کے احتجاجی دھرنے پر سیاستدانوں کا ردعمل

    پی ڈی ایم کے کارکنان ریڈ زون میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں جس پر متعدد سیاستدان ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

    رہنما مسلم لیگ ن حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ ’مظاہرین تمام رکاوٹیں عبور کر کے سپریم کورٹ پہنچ گئے، اب حساب برابر ہوگا۔‘

    ادھر تحریک انصاف کے حماد اظہر کہتے ہیں کہ نو مئی کی تو پھوڑ کے اصل کردار آج سپریم کورٹ پر دھاوے کے بعد کھل کر منظر عام پر آگئے۔ نو مئی کو گلو بٹوں کے ذریعے آگیں لگوائیں گئیں اور پھر عام عوام پر فائرنگ کی۔ آج باقاعدہ پولیس کے پروٹوکول میں سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا۔‘

  7. ’دہشت گردی کے خدشات ہیں، مظاہرین پُرامن رہیں‘

    اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون میں داخل ہونے والے مظاہرین سے ’دہشت گردی کے خدشات‘ کے باعث ’پُرامن‘ رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’عوام سے گزارش ہے کہ اجتماع والے مقامات سے دور رہیں۔‘

  8. بریکنگ, پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے کارکن ’ریڈ زون میں داخل ہو گئے ہیں‘: اسلام آْباد پولیس

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم سے منسلک سیاسی جماعتوں کے کارکن اسلام آباد کے ہائی سکیورٹی ریڈ زون میں داخل ہو گئے تاہم تاحال صورتحال پُرامن ہے۔

    یاد رہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں اور پاکستان پیپلز پارٹی نے آج (پیر) سپریم کورٹ کے سامنے پرُامن احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے سلسلے میں سینکڑوں کارکن، جن میں بظاہر بڑی تعداد جمعیت علمائے اسلام ف کے کارکنوں کی ہے، اسلام آباد پہنچے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ریڈ زون میں پولیس اور رینجرز نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پی ڈی ایم کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کے قافلے مختلف شہروں سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔

    خیال رہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ نے گذشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’کل سپریم کورٹ کے سامنے پُرامن احتجاجی دھرنا ہوگا۔‘

    پاکستان کی حکمران جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کے پیش نظر سرینا چوک سے تھوڑا آگے واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے تاکہ ریلی کی صورت میں آنے والے افراد کی گاڑیاں باہر روک کر انھیں پیدل جانے کے لیے ان واک تھرو گیٹس سے گزارا جائے۔

    اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر آنے والے راستوں پر عدلیہ مخالف بینرز آویزاں کیے گئے ہیں جبکہ شاہراہ دستور پر فوج کے حق میں بینرز آویزاں ہیں۔

    سپریم کے اندر اور باہر پولیس، ایف سی اور رینجرز کے دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ حکومتی وزرا کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو احتجاج ریڈ زون سے باہر ڈی چوک پر منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تاہم مولانا فضل الرحمان نے حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے اور مظاہرین کی ریڈ زون میں داخل ہو گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم کے علاوہ پیپلز پارٹی اور اے این پی نے بھی حکمران اتحاد کے احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

  9. پاکستان میں کاروں کی فروخت میں گذشتہ مالی کے مقابلے میں 54 فیصد کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں کاروں کی فروخت میں جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران 54 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2021 سے اپریل 2022 تک کی مدت کے دوران ملک میں 88 ہزار 620 گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 54 فیصد کم ہے۔

    گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1 لاکھ 91 ہزار238 گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی۔

  10. تحریک انصاف کا نیب اور رینجرز کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سربراہی میں پارٹی کے مرکزی قائدین کے اجلاس کے دوران نیب اور رینجرز کے خلاف مقدمے کے اندراج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک میں اتوار کی شام ہونے والے اس اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال، تحریک انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی اور آئندہ کے اہداف پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے چیئرمین عمران خان کے نیم فوجی دستوں (رینجرز) کے ذریعے اغوا کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نو مئی کے واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ریاست کی سطح پر کیا جانے والا ’جھوٹا، لغو اور بے بنیاد پراپیگنڈہ‘ مسترد کرتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی مکمل طور پر ’پُرامن، جمہوری سیاسی جماعت اور قانون کے دائرے میں سیاست کرنے کی قائل ہے۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’مشکل سے مشکل ترین حالات میں بھی تحریک انصاف اور چیئرمین عمران خان نے قانون کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جبکہ اس جماعت کی 27 سالہ تاریخ تشدد و اشتعال سے بالکل خالی ہے۔ ‎ تین نومبر کے قاتلانہ حملے کے بعد تحریک انصاف نے ملک بھر میں ہزاروں مقامات پر احتجاج کیا مگر ایک پتھر تک نہیں اچھالا گیا جبکہ کنٹرولڈ میڈیا اور جھوٹے پراپیگنڈے کی آڑ میں ملک گیر فساد کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

    تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل اعلیٰ سطحی بااختیار کمیشن 9 مئی کو پرتشدد واقعات میں شہریوں کی ہلاکت اور انتشار پھیلانے کی کوششوں کی تحقیقات کرے۔‘

    تحریک انصاف کے ان واقعات میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے قتل کے مقدمات میں وفاقی وزیر داخلہ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نگران وزرائے اعلیٰ اور آئی جیز سمیت دیگر پولیس افسران کو نامزد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    تحریک انصاف نے کہا کہ ’پی ڈی ایم کی اپنے سربراہ فضل الرحمان کی سرکردگی میں مدارس کے بچوں کے ذریعے سپریم کورٹ پر یلغار کی شدید الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے جبکہ پی ٹی آئی سپریم کورٹ آف پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق پنجاب کی نگران حکومت کے پاس اب برقرار رہنے کا کوئی قانونی و آئینی جواز باقی نہیں لہذا اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پنجاب و خیبرپختونخوا کی نگران حکومتوں کے مستقبل کے حوالے سے قانونی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

    تحریک انصاف نے کہا کہ ’ملک بھر میں صاف شفاف انتخابات کا فوری انعقاد داخلی استحکام اور سیاسی و معاشی بحرانوں کے مؤثر حل کا واحد آئینی راستہ ہے۔‘

  11. سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ آج الیکشن کمیشن کی انتخابات سے متعلق نظرثانی درخواست پر سماعت کرے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پنجاب میں انتخابات سے متعلق نظر ثانی درخواست پر آج سماعت کرے گا۔

    یاد رہے کہ نظر ثانی درخواست میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے پنجاب میں پولنگ کی تاریخ 14 مئی واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے پاس انتخابات کی تارہخ دینے کا اختیار نہیں اور یہ کہ الیکشن کے لیے 14 مئی کی تاریخ دے کر عدالت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے مگر قانون کو دوبارہ لکھ نہیں سکتی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلے میں حاجی سیف اللہ کیس میں آرٹیکل 254 کو پری میچور استعمال کیا اس سے قطع نظر کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے جس میں لارجر بینچ نے الیکشن کو اپنے مقررہ وقت سے چار ماہ آگے بڑھانے کی اجازت دی۔

    نظر ثانی درخواست میں الیکشن کمیشن نے ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے انھیں پنجاب میں الیکشن کے انعقاد کے لیے سکیورٹی اور مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے جبکہ دو صوبوں میں پہلے انتخابات کے انعقاد کے باعث آئندہ ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن کی اس نظرثانی درخواست پر آج سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجازالاحسن شامل ہوں گے۔

    دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بھی آج ہو گا جس میں چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت کے لیے اقبال حمید الرحمان کا نام زیر غور آئے گا۔ اقبال حمید الرحمان اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورت کے جج رہ چکے ہیں۔

  12. لندن پلان کے تحت مجھے دس سال قید کرنے اور تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ ہے: عمران خان کا دعویٰ

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کا منصوبہ بغاوت کے کسی قانون کی آڑ میں ان کو دس برس قید کرنے اور ان کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف، پر پابندی عائد کرنا ہے (جیسے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں عوامی لیگ پر عائد کی گئی تھی)۔

    اتوار کی شب سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ ’اب لندن پلان کُھل کر سامنے آ چکا ہے۔ میں قید میں تھا تو تشدد کی آڑ میں انھوں نے خود ہی جج، جیوری اور فیصلے پر عملدرآمد کرنے والے کا کردار اپنا لیا۔‘

    ’اب ان کا منصوبہ یہ ہے کہ بشریٰ بیگم کو مقید کر کے مجھے اذیت پہنچائیں اور بغاوت کے کسی قانون کی آڑ لے کر مجھےآئندہ دس برس کے لیے قید کر دیں اور اس کے بعد تحریک انصاف کی بچی کھُچی قیادت اور کارکنان کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیں اور بلآخر پاکستان کی سب سے بڑی اور وفاقی جماعت پر پابندی لگا دیں (جیسے انھوں نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ پر لگائی۔)‘

    چیئرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ یقینی بنانے کے لیے کہ عوام کی جانب سے کوئی ردّعمل نہ آئے، انھوں نے دو کام کیے ہیں: پہلا یہ کہ محض تحریک انصاف کے کارکنان ہی کو خوفزدہ نہیں کیا جا رہا بلکہ عام شہریوں کے دلوں میں بھی خوف بٹھایا جا رہا ہے۔ دوسرا: میڈیا پر پوری طرح قابو پایا جا چکا ہے اور بزورِ جبر اس کی آواز دبائی جا چکی ہے۔‘

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’ان کا منصوبہ انٹرنیٹ سروسز اور سوشل میڈیا، جو پہلے ہی جزوی طور پر چل رہا ہے, کو پوری طرح بند کرنے کا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ لوگوں کے دلوں میں اتنا خوف بٹھانا چاہتے ہیں کہ جب یہ مجھے گرفتار کرنے آئیں تو لوگ باہر نہ نکلیں۔ سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم جماعتوں کے احتجاج کا واحد مقصد بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو مرعوب کرنا ہے تاکہ وہ آئینِ پاکستان کےمطابق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے باز رہیں۔ پاکستان پہلے ہی 1997 میں سپریم کورٹ پر حملہ آور ہو چکی ہے کہ جس کے نتیجے میں اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹایا گیا تھا۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ ’حقیقی آزادی‘ کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔

  13. پشاور پولیس سابق ارکان اسمبلیوں کے گھروں پر آج رات چھاپے مار رہی ہے: سابق وزیرخزانہ تیمور خان جھگڑا

  14. حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سپریم کورٹ کے خلاف دھرنے کی جگہ کا تعین پیر کی صبح ہو گا: وزیرداخلہ

    وزیرداخلہ رانا ثناللہ خان نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اتحاد فیصلے کے مطابق کل سپریم کورٹ کے خلاف دھرنا دے گا۔ انھوں نے کہا کہ جگہ کا تعین پیر کی صبح تک ہو جائے گا۔

    وزیرداخلہ نے کہا کہ دھرنے کی جگہ کا تعین تمام پارٹی کے سربراہان کی موجودگی میں پی ڈی ایم کے اجلاس میں ہوا تھا۔ البتہ اب صبح تک مکمل مشاورت کے بعد تعین کریں گے کہ دھرنا کہاں ہوگا۔

    وزیرداخلہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں ایجنسیوں سے موصول ہونے والی اطلاعات پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق ان اطلاعات کی بنیاد پر اب خصوصی انتظامات بھی کیے ہیں۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ تحریک انصاف کے احتجاج میں چند سو شرپسندوں نے توڑ پھوڑ کی اور تاریخی عمارات کی توڑ پھوڑ شرمناک ہے۔

    ان کے مطابق ہمارا دھرنا پرامن ہو گا۔ ان کے مطابق آج کے مذاکرات میں کامیابی ہوئی ہے اور پیر کو ہونے والے دھرنے میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل وزیرداخلہ نے ایجنسیوں کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینے کی صورت میں حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے نجی ٹی وی چینل کو اس سے قبل بتایا تھا کہ یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک چیف جسٹس عمر عطا بندیال استعفیٰ نہیں دیتے۔

  15. پرتشدد مظاہروں میں ملوث گرفتار افراد کی تعداد 3190 ہو گئی: پنجاب پولیس, فرقان الہٰی، بی بی سی اردو، لاہور

    پنجاب پولیس کی طرف سے سرکاری و نجی اداروں پرحملوں، توڑ پھوڑ، تشدد، جلاؤ گھیراؤ میں ملوث گرفتارمبینہ شرپسند افراد کی تعداد 3190 تک جا پہنچی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے جاری اعلامیے کے مطابق ’شرپسند عناصر کی پرتشدد کارروائیوں میں پنجاب بھر میں 162 پولیس افسران اور اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ پنجاب پولیس کے زیر استعمال 94 گاڑیاں توڑ پھوڑ اور نذر آتش کی گئیں۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’شرپسند عناصر کے ہاتھوں پولیس سٹیشنز اور دفاتر سمیت 22 سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب کے مطابق نجی و سرکاری املاک، گاڑیوں کو تباہ و نذر آتش، شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے شرپسند عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے۔

  16. جے یو آئی نے ڈی چوک پر احتجاج سے متعلق درخواست ڈپٹی کمشنر کے پاس جمع کروا دی

    جمیعت العلما اسلام کی جانب سے سپریم کورٹ کے سامنے پیر کے روز احتجاجی مظاہرے سے متعلق درخواست ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر میں جمع کروا دی گئی ہے۔

    درخواست سنیٹر کامران مرتضی اور مفتی عبداللہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

    درخواست کا متن کے مطابق ’پی ڈی ایم پیر کے روز ڈی چوک پر سپریم کورٹ کے سامنے ایک عوامی اجتماع کا انعقاد چاہتی ہے۔ اس احتجاج کے لیے سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات فراہم کیے جائیں۔

  17. سیف اللہ خان نیازی کو اسلام آباد پولیس نےگرفتارکرلیا: تحریک انصاف

    تحریک انصاف کی سینٹرل میڈیا ٹیم کے رکن صبغت اللہ ورک نے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ’سینیٹرسیف اللہ خان نیازی کو اسلام آباد پولیس نےگرفتارکرلیا ہے۔‘

    ٹویٹ کے مطابق ’سیف اللہ خان نیازی کوبھی کسی جرم کے بغیراٹھایا گیا اور کچھ بتائے بغیرنامعلوم مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

  18. کور کمانڈر ہاوس لاہور آج رات نو بجے تک عوام کے لیے کھول دیا گیا

    کور کمانڈر ہاوس کو آج عام عوام کے لیے کھولا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق یہ فیصلہ سول سوسائٹی کی درخواست پر کیا گیا جس میں سول سوسائٹیز کور کمانڈر ہاوس کو جلانے کے خلاف وہاں اظہار یک جہتی کے لیے جمع ہونا اور شمعیں روشن کرنا چاہتی ہیں۔

    حکام کے مطابق عوام کے لیے آج شام چھ بجےسے رات نو بجے تک کور کمانڈر ہاوس کھلا رہے گا۔

  19. ’کل کے احتجاج کے لیے اطلاعات الارمنگ ہیں ایجنسیوں نے اچھی رپورٹ نہیں دی‘

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’پی ڈی ایم کے ریڈ زون میں احتجاج کے معاملے پر اچھی اطلاعات نہیں اس لیے مولانا فضل الرمان سے مقام تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے جس پر وہ ہمیں رات تک دیگر جماعتوں سے مشورہ کر کے آگاہ کریں گے۔ ‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہم پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے کل کے احتجاج کے حوالے سےبات چیت کی۔ اس احتجاج کے لیے ایجنسیوں نے الارمنگ اطلاعات دی ہیں کیونکہ اس میں بہت بڑی تعداد میں لوگ آئیں گے اور ان کے اندر غم و غصہ ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ احتجاج اگر شاہراہ دستور یا ریڈ زون میں ہوا تو انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اس کو کنٹرول کرنا کافی مشکل کام ہو گا۔‘

    وزیر داخلہ نے کہا کہ’عمران خان نے کل اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں دوبارہ سے اداروں کے اوپر حملہ آور ہو کر فرمایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو سیاسی جماعت بنا دینی چاہیے تو اس طرح تو آپ کو بھی کلعدم جماعت بنا دینا چاہیے جو کچھ آپ نے کر دیا ہے۔ ‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’چیف جسٹس نے اس سارے عمل پر ان کو شرم دلانے اور مذمت کرنے کے بجائے انھوں نے ساتھی ججوں کو بھی سوال کرنے سے روک دیا بلکہ اپنی خواہشات کا اظہار کیا کہ آپ ان واقعات کی مذمت کریں اور عمران خان نے اب تک ان کی خواہش پر مزمت کا اظہار نہیں کیا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت اگر عمران خان قتل بھی کر دیں تو ان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس کے بیسٹ آف لک کے باوجود وہ ایک ادارے پر حملہ آور ہوئے منصوبے کے تحت ان کے گھروں کو جلایا لوٹا یہ ساری صورت حال بیان کرنے کے بعد وہ کس طرح قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

  20. مظاہروں میں 25 کروڑ روپے کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچا،مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد کی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے دوران ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اسلام آباد میں 25 کروڑ روپے کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

    اپنی ٹویٹ میں اسلام آباد پولیس نے نقصانات کے حوالے سے بتایا ’ مظاہرین نے ایس پی انڈسٹریل ایریا کے دفتر سمیت 12 گاڑیوں اور 34 موٹر سائیکل نذر آتش کیے۔ تھانہ ترنول، تھانہ سنگجانی اور تھانہ رمنا پر مسلح مظاہرین حملہ آور ہوئے۔‘

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ’11 ایف سی اہلکار اور 71 پولیس افسران و جوان پر تشدد مظاہروں میں زخمی ہوئے۔ شر پسند عناصر کے خلاف 26 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔‘

    اسلام آباد پولیس نے پر تشدد کارروائیوں میں ملوث 564 افراد کو حراست میں لینے کا دوعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔