پارلیمان پر قدغن لگانی ہے تو آئین سازی بھی سپریم کورٹ ہی کر لے: راجہ پرویز اشرف

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیاسی معاملات خود طے کیے جانے چاہیے کیونکہ اگر آپ عدالتوں میں جائیں گے تو اس سے عدلیہ کا نقصان ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست میں تقسیم ضروری ہے لیکن سپریم کورٹ میں تقسیم خطرناک ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکی رکن کانگریس کا امریکی وزیر خارجہ کو خط: پاکستان میں ’سیاسی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں‘ پر تشویش

    امریکی رکن کانگریس بریڈ شرمین نے سیکریٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن کو خط میں پاکستان میں ’جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی‘ کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    11 اپریل کو لکھے گئے خط میں شرمین نے بلنکن سے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی حمایت امریکی مفاد میں ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دیں کہ وہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

    انھوں نے خط میں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی مبینہ مقدمات کا ذکر کیا ہے جن میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف مقدمات اور میڈیا پر ان کی تقاریر پر پابندی، مظاہرین کی حراست، پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اور صحافی جمیل فاروقی پر مبینہ تشدد اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور کی حالیہ گرفتاری شامل ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بشریٰ بی بی کی بشارت, محمد حنیف، صحافی و تجزیہ کار

    و

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    نوٹ: محمد حنیف کا یہ کالم یکم اکتوبر 2018 کو شائع کیا گیا تھا جسے آج دوبارہ پیش کیا گیا ہے

    چشم نظارہ تاب لا سکے تو ذرا تصور کریں کہ اسلام آباد کے بنی گالہ کی ایک سرسبز پہاڑی پر ایک ایچی سن کالج اور آکسفورڈ کا پڑھا ہوا شہزادہ اور اس کے پہلو میں پاک پتن کی عبادت گزار مہارانی (اللہ نے مجھے ہمییشہ مہارانیوں کی طرح رکھا ہے) ایک ساتھ کھڑے ہو کر درود شریف پڑھ رہے ہیں اور بارش کی دعا مانگ رہے ہیں۔

    کیا اسلام آباد جیسے بابرکت شہر نے روحانیت اور رومانویت سے بھرا ہوا ایسا منظر پہلے کبھی دیکھا ہے؟ یہ قدرت اللہ شہاب کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ یہ بانو قدسیہ کے فلسفے کی عملی تفسیر ہے۔ یہ ایک ایسی حسین تصویر ہے جو حضرت مولانا طارق جمیل کے سارے بیانات سے زیادہ پرتاثیر ہے۔

    روحانی معاملات میں دل تھوڑا کمزور ہے۔ کسی ماٹھے بریلوی مولوی کو بھی سن لوں تو آنکھیں بھر آتی ہیں۔ آج کل حضرت خادم رضوی کو نہیں سنتا کہ کہیں طیش میں آکر اکیلا ہی کسی کافر ملک کو فتح کرنے نہ نکل پڑوں۔ اب بھی اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ کراچی کے محافظ پیر عبداللہ شاہ غازی کا ہمسایہ ہوں اور کچھ لوگ شاید ہمیں بدعتی سمجھیں میں تو غازی کے مزار پر ڈھول بجانے والے اور اسی ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈالنے والے کو بھی عبادت گزار مانتا ہوں۔

  3. ’عمران خان نے بتایا کہ بشریٰ بی بی سے نکاح کرنے پر پیشگوئی تھی کہ وہ وزیراعظم بن جائیں گے‘ مفتی محمد سعید کا بیان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    INSTAGRAM/F.KHAN211

    ،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/F.KHAN211

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت میں نکاح کا کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔

    جس کے بعد اب سے کچھ دیر قبل عمران خان اور بشری بی بی کے نکاح خواں مفتی محمد سعید اپنا بیان قلمبند کروانے اپنے وکیل راجہ رضوان عباسی کے ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سینئر سول جج نصرمِن اللہ کی عدالت پہنچے تھے۔

    نکاح خواں مفتی محمد سعید احمد نے عدالت میں بیان دیا کہ ’میری 62 سال عمرہے، مدرسے میں پرنسپل ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے عمران خان سے اچھے تعلقات تھے، ان کی کور کمیٹی کا ممبر تھا اور یکم جنوری 2018 کو عمران خان نے مجھ سے کال پر رابطہ کیا۔‘

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان نے مجھ سے کہا میرا نکاح بشریٰ بی بی سے پڑھوا دو اور یہ بھی بتایا کہ نکاح کے لیے لاہور جانا ہے۔‘

    مفتی محمد سعید خان کا کہنا تھا کہ عمران خان مجھے اپنے ساتھ لاہور کے علاقے ڈیفینس کی کوٹھی میں لے گئے جہاں بشریٰ بی بی کے ساتھ ایک خاتون نے خود کو بشریٰ بی بی کی بہن ظاہر کیا۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’خاتون سے میں نے پوچھا کہ کیا بشریٰ بی بی کا نکاح شرعی طور پر ہوسکتا ہے؟ جس پر خاتون نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کے نکاح کی تمام شرعی شرائط مکمل ہیں اور خاتون نے بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔‘

    مفتی محمد سعید خان کا کہنا تھا کہ ’یکم جنوری 2018 کو خاتون کی یقین دہانی پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح پڑھا دیا اور نکاح کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی اسلام آباد میں ساتھ رہنے لگے۔‘

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان نے مجھ سے فروری 2018 کو دوبارہ رابطہ کیا اور عمران خان نے درخواست کی کہ بشریٰ بی بی سے دوبارہ نکاح پڑھانا ہے۔‘ مفتی محمد سعید خان نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان نے کہا کہ پہلے نکاح کے وقت بشریٰ بی بی کا عدت کا دورانیہ مکمل نہیں ہوا تھا۔‘

    انھوں نے بیان دیا کہ ’عمران خان نے کہا کہ نومبر 2017 میں بشریٰ بی بی کو طلاق ہوئی تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان نے مجھے بتایا کہ بشریٰ بی بی سے نکاح کرنے پر پیشگوئی تھی کہ وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔‘

    مفتی محمد سعید نے بیان دیا کہ ’عمران خان نے بتایا کہ پہلا نکاح غیرشرعی تھا۔‘ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سب جانتے ہوئے بھی نکاح اور شادی کی تقریب منقعد کی۔‘

    مفتی محمد سعید خان نے بیان دیا کہ ’رمضان المبارک کا چوتھا دن تھا، تراویح کے بعد درخواست گزار محمد حنیف میرے پاس آئے۔ درخواست گزار محمد حنیف سے میرے تعلقات دوستانہ ہیں اور انھوں نے مجھ سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی کے حوالے سے پوچھا۔‘

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے درخواست گزار کو تمام تفصیلات بتا دیں۔

    انھوں نے بیان دیا کہ ’اگر قانونی اور شرعی لحاظ سےدیکھا جائے تو یکم جنوری 2018 کا نکاح غیر شرعی اور غیر قانونی تھا۔‘

    یاد رہے یہ درخواست پہلے 28 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر تھی۔ درخواست گزار نے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف کیس کی جلد سماعت کرنے کی استدعا کی تھی، جسے منظور کرتے ہوئے آج ہی سماعت ہوئی۔

    مفتی محمد سعید کا بیان قلمبند کرنے کے بعد عدالت نے اس درخواست کی سماعت 19 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

    مفتی سعید کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے وقت ان کے موکل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے انھیں کہا تھا کہ بشری بی بی نے نکاح کرنے کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ اگر سنہ 2018کے پہلے دن نکاح ہونے کی صورت میں وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت میں بیا ن ریکارڈ کرواتے وقت مفتی سعید نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے فروری سنہ 2018میں دوبارہ رابطہ کیا اور انھیں بتایا تھا کہ پہلے نکاح کے وقت بشری بی بی کی عدت کا دورانیہ مکمل نہیں ہوا تھا۔

    انھوں نے کہا جس وقت مفتی سعید نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا اس وقت پی ٹی آئی یا عمران خان کا کوئی وکیل کا نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔

  4. فواد چوہدری کی کراچی میں مردم شماری کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ پر تنقید

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے متحدہ قومی موومنٹ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایم کیو ایم نے کراچی کے عوام کی نمائندگی مزید کم کرنے میں گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔‘

    انھوں الزام عائد کیا کہ 95 فیصد مردم شماری مکمل ہونے کے بعد جس پر 45 ارب روپے لگ گئے شہری سندھ اور خصوصاً کراچی کی آبادی میں نمایاں کمی دکھائی گئی ہے جس کے نتیجے میں کراچی دو قومی نشستوں سے محروم ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھا کہ کراچی کے لوگ ان جماعتوں کا احتساب کریں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. تنویر الیاس کی نااہلی کے خلاف اپیل: ’سابق وزیراعظم کو موجود وزیراعظم کیوں لکھا؟‘ سپریم کورٹ کا اعتراض

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی نااہلی کے خلاف دائر کی گئی اپیل سپریم کورٹ نے اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔

    دورانِ سماعت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم نے سابق وزیراعظم کے وکلا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب آپ کو رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہہ دیا تھا تو اسکی بات کیوں نہیں مانی گئی۔ اپیل کے ٹائٹل پر آپ نے وزیراعظم تنویر الیاس لکھا ہے، جب تک نااہلی کا آرڈر معطل نہیں کیا جاتا انھیں وزیراعظم نہیں لکھا جا سکتا۔

    چیف جسٹس راجہ سعید اکرم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اس معاملہ پر سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں ہوتا تو ہائیکورٹ کا فیصلہ قائم رہے گا وہ سابق وزیر اعظم ہی تصور ہوں گے۔

    عدالت نے سابق وزیراعظم کی لیگل ٹیم کو دوبارہ فریش اپیل جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

    ادھر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی کے تمام ممبران کو آج زمان پارک لاہور میں طلب کر لیا ہے۔

    قانون ساز اسمبلی کے ممبران کی میٹنگ رات دس بجے زمان پارک میں ہو گی جس کی سربراہی پارٹی چئیرمین عمران خان کریں گے۔

    اجلاس میں سرادر تنویر الیاس خان کو نااہل کیے جانے کے بعد پیدا ہونی والی صورتحال اور آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

  6. اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاندانہ گلزار کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں, شہزاد ملک، بی بی سی ادو اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں شاندانہ گلزار کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے۔

    وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میری موکل کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ ہم قانون کے مطابق پیش ہو سکیں۔

    عدالت نے پولیس اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

    عدالت نے حکم دیا کہ فریقین 19 اپریل تک درخواست گزار کے خلاف درج مقدمات اور زیر التوا انکوائریوں کی رپورٹ پیش کریں۔

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 19 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

  7. عمران خان کی بغاوت کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت، فریقین کو نوٹس جاری

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی تھانہ رمنا میں درج بغاوت کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مدعی مقدمہ اور علاقہ مجسٹریٹ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔

    دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، انھوں نے عدالت سے آئندہ سماعت تک ایف آئی آر پر آپریشن روکنے کی درحواست کی۔

    جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نوٹس کر دیا ہے، جواب آنے دیں پھر دیکھ لیں گے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے فیصل چوہدری سے سوال کیا کہ کیا یہ اخراج مقدمہ کی درخواست ہے، جس پر فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ دائرہ اختیار پر بات کرنا چاہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ لاہور میں ہوا، پرچہ اسلام آباد میں ہو گیا۔ واقعہ کراچی میں ہوتا ہے اور پرچہ کہیں اور ہوتا ہے۔

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

  8. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: نئے قائد ایوان کے انتخاب تک خواجہ فاروق احمد وزیراعظم کے فرائض سرانجام دیں گے

    President Office

    ،تصویر کا ذریعہPresident Office

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں خواجہ فاروق احمد، نئے قائد ایوان کے انتخاب تک وزیراعظم کے امور سرانجام دیں گے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے خواجہ فاروق احمد کو وزیراعظم کے امور سرانجام دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

    پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے خواجہ فاروق احمد دارالحکومت مظفرآباد سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

    وہ اس سے قبل بھی قانون ساز اسمبلی کے ممبر اور وزیر رہ چکے ہیں۔

    خواجہ فاروق احمد کے خاندان کا آبائی تعلق مظفرآباد کی وادی کوٹلہ سے ہے اور ان کے والد خواجہ عثمان قیام پاکستان سے قبل مظفرآباد شہر کی سیاسی و سماجی شخصیت رہ چکے ہیں۔

  9. سپریم کورٹ نے بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

    فیصلے کے متن کے مطابق دیوانی مقدمات میں بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ شخصی آزادی اور نجی زندگی کے خلاف ہے، آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 شخصی آزادی اور نجی زندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تاج دین اور زبیدہ بی بی کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا گیا وہ کیس میں فریق ہی نہیں۔

    فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نجی زندگی کا تعلق انسان کے حق زندگی کے ساتھ منسلک ہے، مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ نجی زندگی میں مداخلت ہے، فوجداری قوانین کی بعض شقوں میں مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت ہے۔

    علاوہ ازیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون شہادت کے مطابق شادی کے عرصے میں پیدا بچے کی ولدیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم خیال رہے کہ جائیداد کے تنازع میں لاہور ہائیکورٹ نے تاج دین، زبیدہ اور محمد نواز کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا تھا۔

  10. ’شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں‘: جسٹس فائز عیسی کا وضاحتی بیان

    SUPREME COURT OF PAKISTAN

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری منفی پراپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں۔

    انھوں نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمان میں منعقدہ کنونشن میں شرکت کرنے کے حوالے سے اپنا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کا بنایا جانا ہماری تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ہے جسے منانا ضروری ہے، آج سے پچاس سال قبل اسی آئین ہی کہ کمی کے سبب ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔

    ترجمان سپریم کورٹ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کی دعوت صرف مجھے ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو بھی دی گئی تھی۔ یہ دعوت قبول کرنے سے پہلے میں نے معلومات حاصل کی تھیں کہ آیا اس تقریب میں سیاسی باتیں ہونی ہیں یا آئین پر بات ہو گی۔

    ان کے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ڈپٹی ڈائریکٹر قومی اسمبلی اور سپیکر قومی اسمبلی نے مجھے اور میرے سٹاف کو بتایا کہ اس تقریب میں صرف آئین اور اس کے بنانے سے متعلق بات کی جائیگی۔ جس پر میں نے یہ دعوت قبول کی۔ میرے لیے یہ امر باعث حیرت ہے کہ کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ میں ایوان میں کہاں بیٹھا تھا حالانکہ بیٹھنے کی جگہ کا انتخاب قطعاً میرا نہیں تھا۔ میں شاہد وہاں بات بھی نہ کرتا۔ مگر جب میں نے محسوس کیا کہ یہاں کی جانے والی باتیں سیاسی ہیں اور اگر اس پر میں نے اپنا موقف واضح نہ کیا تو قیاس آرائیاں بڑھیں گیں۔‘

    اپنے وضاحتی بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا ہے کہ آئین کی گولڈن جوبلی تمام شہریوں کے لیے جشن مسرت ہے یہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا ادارے کا تنہا استحقاق نہیں۔ آئین کی اہمیت سب پر واضح کی جانی چاہیے اور ایسا مسلسل کرنا چاہیے۔

  11. حکومت نے فنڈز جاری کرنے کے بجائے معاملے کو پروسیجر میں ڈال دیا ہے: الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں جواب

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں پنجاب و خیبربختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ رپوٹ ایک صفحے پر مشتمل ہے۔

    الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے اور حکومت نے فنڈز جاری کرنے کے بجائے معاملے کو پروسیجر میں ڈال دیا ہے۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21ارب جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کے پرامن انعقاد کے لیے دو لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

  12. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِاعظم سردار تنویر الیاس کو خطے کی ہائی کورٹ نے نااہل قرار دے دیا

    TANVEERILYAS/FB

    ،تصویر کا ذریعہTANVEERILYAS/FB

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے خطے کے وزیرِ اعظم سردار تنویر الیاس کو توہینِ عدالت کیس میں نااہل قرار دے دیا ہے۔

    سردار تنویر الیاس کو ہائی کورٹ کی جانب سے عدالت برخاست ہونے تک سزا سنائی گئی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق گذشتہ روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے 10 اپریل کو ہائی کورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعظم سردار الیاس تنویر کو توہین عدالت کیس میں منگل کے روز طلب کر رکھا تھا۔

    سردار تنویر الیاس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ایک عوامی اجتماع میں عدالتوں کی جانب سے سٹے آرڈرز (حکم امتناع) جاری کرنے کی روش پر کھلے عام تنقید کے بعد شروع کی گئی تھی۔

    پیر کے روز ایک عوامی اجتماع میں سابق وزیر اعظم کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کی طرف سے جاری کردہ حکم میں کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ ججوں کی میٹنگ میں کیا گیا جہاں اس معاملے پر کافی طویل پر بحث ہوئی جس کے اختتام پر ججوں کی رائے تھی کہ وزیر اعظم کا مجموعی طرز عمل توہین آمیز ہے۔

    دو رکنی بینچ نے وزیر اعظم کو توہین عدالت کی کارروائی کے لیے منگل کے روز پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عدالت کے روبرو اپنی پوزیشن واضح کریں جبکہ اس کیس کی آئندہ شنوائی فل بینچ کے سامنے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ سردار تنویر الیاس نے کہا تھا کہ عدالتوں کی جانب سے سٹے آرڈرز جاری کرنے کی روش حکومت کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

  13. سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 میاں محمد حسین ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    میاں محمد حسین ایڈوکیٹ کی جانب سے درخواست میں ایکٹ کو ’غیر قانونی اور غیر آئینی‘ قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درحواست کے مطابق سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہی حاصل ہے اور اس حوالے سے قانونی سازی بدنیتی پر مبنی ہے۔

    ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 70 کے تحت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود نہیں کیے جا سکتے۔‘

  14. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج کر دی ہے۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے آغاز پر عدالت نے سوال کیا کہ توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کی درخواست پر کیا کہتے ہیں؟ اس پر عمران خان کے وکلا نے کہا کہ جلد سماعت مقرر کرنے کا جواز کیا ہے؟ پیسا ضائع ہوتا ہے، الیکشن کمیشن کی مرضی سے 29 اپریل کی تاریخ لی، دو دن بعد الیکشن کمیشن کو خیال آیا ہے کہ تاریخ جلد مقرر کرانی ہے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے اثر و رسوخ کے بغیر ہونا ہے لیکن عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’توشہ خانہ کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی کوشش کیس میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ عمران خان پر فردِ جرم عائد کیا جائے۔‘

    عدالت نے کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا۔