پارلیمان پر قدغن لگانی ہے تو آئین سازی بھی سپریم کورٹ ہی کر لے: راجہ پرویز اشرف

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیاسی معاملات خود طے کیے جانے چاہیے کیونکہ اگر آپ عدالتوں میں جائیں گے تو اس سے عدلیہ کا نقصان ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست میں تقسیم ضروری ہے لیکن سپریم کورٹ میں تقسیم خطرناک ہے۔

لائیو کوریج

  1. اِن کیمرا اجلاس میں آرمی چیف نے پارلیمان کی بالادستی کی بات کی جو خوش آئند ہے: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سرکاری چینل پی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کے اِن کیمرہ اجلاس میں عسکری قیادت نے قومی سلامتی کے امور سے متعلق بریفنگ دی اور آرمی چیف نے شرکا کو اہم امور پر اعتماد میں لیا۔

    پی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ’ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ آئین کے مطابق اختیارات منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوں گے۔‘

    اجلاس کے دوران شرکا نے ’ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت۔‘

    ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’آرمی چیف نے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ کے دوران پارلیمنٹ کے حوالے سے جو بیان دیا وہ خوش آئند ہے۔ آرمی چیف نے اس ادارے کی بالادستی کی بات کی۔ اس ادارے کے سربراہ، موجودہ وزیر اعظم، کے عہدے کے بارے میں۔۔۔ یہ بیان شہباز شریف کے بارے میں نہیں وزیر اعظم کے عہدے کے بارے میں تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے۔ ہماری تاریخ کا نیا موڑ ہمارے سامنے آ رہا ہے۔ یہ الزام وزرائے اعظم پر آتا تھا کہ اپنے اختیارات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔ اب سپریم کورٹ اپنے اختیارات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی مخالفت کر رہی ہے۔ وہاں اپنے اختیارات کو ایک فرد تک رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

  2. بریکنگ, انتخابی اخراجات کے لیے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کریں، سپریم کورٹ کا سٹیٹ بینک کو حکم

    سپریم کورٹ

    پنجاب اور خیبر پختونخوا کے الیکشن کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کے کیس میں سپریم کورٹ نے سٹیٹ بینک کو یہ حکم دیا ہے کہ اس کے اکاؤنٹ سے 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو جاری کیے جائیں۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے نو صفحات پر مشتمل اِن چیمبر سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک سے 21 ارب روپے وصول کرنے کے بعد الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے سلسلے میں فنڈز کے اجرا کا عمل شروع کرے گا۔

    سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو 18 اپریل تک حکم کی تعمیل پر رپورٹ جمع کرائیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن 18 اپریل کو سپریم کورٹ کو رپورٹ میں بتائے کہ اسے الیکشن کے انعقاد کے لیے 21 ارب روپے موصول ہوچکے ہیں۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ الیکشن کی آئینی ذمہ داری کے لیے 21 ارب روپے کی ادائیگی سے وفاقی حکومت پر مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا ہے کہ رقم کی ادائیگی کی منظوری کے لیے عدالت عظمیٰ کا حکم کافی سمجھا جانا چاہیے جبکہ وفاقی حکومت آرٹیکل 84 کے تحت بادی النظر میں قومی اسمبلی سے منظوری لے سکتی ہے۔

  3. سوشل میڈیا پر ججز کے درمیان ہاتھا پائی کی خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے: سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے ایک پیغام میں عدالت عظمیٰ کے ججز کے درمیان ہاتھا پائی اور جھگڑے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

    سپریم کورٹ کی پی آر او کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا کہ 13 اپریل کی شب چہل قدمی کے دوران ججز رہائش گاہ سے منسلک کالونی پارک میں ججز کے درمیان ہاتھا پائی کی خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔ ’سوشل میڈیا پر ان اطلاعات کی سخت الفاظ میں تردید کی جاتی ہے۔ یہ جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی اطلاعات ہیں۔‘

    سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ ’سپریم کورٹ کے ججز سے متعلق جعلی رپورٹنگ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    اس پیغام میں کہا گیا کہ ’سپریم کورٹ کے ججز سے متعلق ایسی جعلی رپورٹنگ کا مقصد سپریم کورٹ کے ججز کے احترام کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔‘

    خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے انھیں ’مصدقہ اطلاعات‘ قرار دیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. چمن میں ’ہینڈ گرینیڈ‘ سے کھیلنے کے باعث تین بچے ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    چمن

    ،تصویر کا ذریعہChaman admin

    بلوچستان کے افغاننستان سے متصل سرحدی ضلع چمن میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دو بھائیوں سمیت تین بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

    یہ واقعہ جمعے کو چمن شہر کے نواح میں رحمان کہول کے علاقے میں ہوا۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن عبدالسلام نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک گھرمیں پھٹ گیا جو کہ کچھ عرصے سے بند تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تینوں بچے شاید کھیلنے کی غرض سے اس کا دروازہ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے تھے جہاں انھوں نے کسی دھماکہ خیز مواد کو چھیڑا تھا، جس کے پھٹنے سے ان میں سے دو بچے ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمی بچے کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں وہ زخموں کی تاب نہ لا کرچل بسے۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 6 سال سے 12 سال کے درمیان تھیں۔ ان میں سے دوحقیقی بھائی تھے جبکہ ہلاک ہونے والا تیسرا بچہ بھی ان کا رشتہ دارتھا۔

    عبدالسلام نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد کا تعین کرنے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیم کوئٹہ سے طلب کی گئی ہے اور جائزے کے بعد ہی بتایا جاسکے گا کہ آیا پھٹنے والی چیز ’ہینڈ گرینیڈ‘ تھی یا کچھ اور۔

    ان کا کہنا تھا کہ مکان میں دیگر دھماکہ خیز مواد بھی موجود تھے جبکہ اس بارے میں تحقیقات جاری ہے کہ یہ مکان کن لوگوں کے استعمال میں تھا اور دھماکہ خیز مواد کس کا ہے۔

  5. تحریک انصاف کو توڑنے کی کوشش ہوئی تو اس کے سخت نتائج ہوسکتے ہیں: سردار تنویر الیاس, ایم اے جرال، صحافی

    سردار تنویر الیاس

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں قائد ایوان کا انتخاب آج کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’قائد ایوان کے انتخاب کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے ممبران سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہیں مگر کچھ عناصر پارٹی کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں پارٹی کے اندر سے کچھ لوگ بھی ملوث ہوسکتے ہیں، اس میں جو بھی ملوث ہوں گے یا کوئی فاروڈ بلاک یا لوٹا گروپ بنائے گا اس کا عوام بھی پیچھا کریں گے اور عدالتوں میں بھی جائیں گے اور دیکھیں گے ان کی اسمبلی رکنیت رہتی بھی ہے یا نہیں۔‘

    سرادر تنویر الیاس خان نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے کی کوشش کی گئی اس کے ’سخت نتائج ہوسکتے ہیں، اس لیے پارٹی کو ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ ہم جمہوری اور سیاسی طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس وقت خطے کے ماحول میں سیاسی اضطراب اور بے سکونی و بے چینی ہے۔ ’کہیں معاشرے کے اندر یہ فساد کا باعث نہ بن جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’غدار عناصر اگر پارٹی کے ساتھ غداری کریں گے تو ان کا قانون کے راستے پیچھا کریں گے۔‘

    دوسری جانب قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے وجہ سے کل دن دو بج کر 15 منٹ تک ملتوی کر دیا ہے ۔

  6. سکیورٹی معاملات پر قومی اسمبلی کا اِن کیمرا اجلاس جاری، سول و عسکری قیادت کی شرکت

    پاکستان کی قومی اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس جاری ہے جس میں عسکری حکام ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔

  7. سپریم کورٹ کو بطور ادارہ تحلیل کرنے کے اقدامات ہو رہے ہیں: فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے احکامات پر فی الفور عمل ہونا چاہیے۔ پارلیمان آرٹیکل 81 کے تحت الیکشن کے اخراجات روک نہیں سکتی۔

    ’سپریم کورٹ کو بطور ادارہ تحلیل کرنے کے اقدامات ہو رہے ہیں، یہ کسی صورت قبول نہیں۔ وکلا اور عوام سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. ’سنا ہے کل ہاتھا پائی تک بات جا پہنچی‘

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ کہتے ہیں کہ ایسی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ آٹھ رکنی بینچ کے غیر قانونی حکم کے بعد گذشتہ شب ججز کے درمیان بدسلوکی کا واقعہ ہوا۔

    ’(ججز کے درمیان) گروہ بندی ملک میں لاقانونیت کا باعث بنے گی۔ اب تک چیف جسٹس فُل کورٹ کا اجلاس نہیں بلا سکے۔ سنا ہے ہاتھاپائی تک بات جا پہنچی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. ’یہ حکومتی پیسہ ہے، سٹیٹ بینک خود سے کسی کو پیسے جاری نہیں کر سکتا‘

    سپریم کورٹ کی جانب سے سٹیٹ بینک کو صوبائی الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کے حکم کے بارے میں جب بی بی سی نے ماہر معاشی امور اور وزرات خزانہ کے سابق ترجمان ڈاکٹر نجیب خاقان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مرکزی بینک ایک خودمختار ادارہ ہے لیکن وہ حکومتی اجازت کے بغیر پیسے کسی ادارے کو جاری نہیں کر سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کا پیسہ ہوتا ہے اسے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کہا جاتا ہے اور یہ وزیر خزانہ کے دستخط کے بنا جاری نہیں ہو سکتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں زیرو بوروئنگ کی پالیسی ہے اس لیے سٹیٹ بینک کسی ادارے کو ادھار بھی جاری نہیں کر سکتا۔

  10. بریکنگ, سپریم کورٹ کا سٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دینے کا حکم

    سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے سٹیٹ بینک کو حکم دیا ہے کہ صوبائی الیکشن کے اخراجات کے لیے 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو جاری کر دیے جائیں۔

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے یہ رقم دینے کا کہا ہے اور الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ پیر تک اس رقم کی وصولی کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروائے۔

  11. پاکستان میں سالانہ مہنگائی کی شرح میں 44 فیصد سے زائد اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    price

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 44 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جمعے کے روز وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں تاہم 0.60 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ہفتہ وار بنیادوں پر آلو، چکن، انڈوں اور دال ماش کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ ٹماٹر، پیاز، ادرک، آٹا اور کچھ دوسری چیزوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

  12. پنجاب اسمبلی انتخابات فنڈز فراہمی معاملہ: ’پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز فراہم کرنے سے روک دیا ہے اور حکومت اب کچھ نہیں کر سکتی‘

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر نے سماعت کی۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن، وزارت خزانہ و سٹیٹ بینک کے نمائندے پیش ہوئے اور اٹارنی جنرل اور وزارت خزانہ و سٹیٹ بینک کی جانب سے عدالت کو بریفنگ دی گئی۔

    اٹارنی جنرل نے حکومتی مئوقف پیش کیا۔

    اٹارنی جنرل نے دورانِ بریفنگ بتایا کہ پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز فراہمی سے روک دیا ہے اور حکومت اب اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتی۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بھی عدالت کو پنجاب اسمبلی انتخابات سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ حکومت نے فنڈز فراہم نہیں کیے، نگران حکومت پنجاب نے سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی نہیں کروائی۔

    سماعت آایک گھنٹہ 20منٹ تک جاری رہی

  13. چیف جسٹس کے چیمبر میں سماعت خوشگوار ماحول میں ہوئی، سیکرٹری الیکشن کمیشن

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اِن چیمبر سماعت کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے چیمبر۔میں سماعت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا مئوقف پیش کیا اور ملک میں مردم شماری کے معاملے ہر بھی بات ہوئی۔

    ان کا کہنا ہے کہ مردم۔شماری کے بعد حلقہ بندیوں کے لیے چار سے پانچ ماہ درکار ہوتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ عدالت کچھ دیر میں حکم جاری کرے گی۔

  14. پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات کے لیے فنڈز: وفاقی کابینہ نے فنڈز کی منظوری دی تھی، مگر بل پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا، وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ کو جواب

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اِن چیمبر سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جواب میں کہا گیا ہے کہ:

    وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے 9 مارچ کو منعقدہ اجلاس میں فنانس ڈویژن کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے لیے بھیجا گیا بل منظور کر لیا تھا۔

    لیکن ان فنڈز کے اجرا کے لیے ایکٹ آف پارلیمنٹ (پارلیمان کی منظوری) ضروری تھی لہذا اسے قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا تاہم پارلیمنٹ کے 10 اپریل کے اجلاس میں اسے مسترد کر دیا گیا۔

    جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ سے بل مسترد ہونے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس فنڈ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت سٹیٹ بنک کو فنڈ جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتی اور وفاقی حکومت نے عدالتی حکم کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔

    Govt of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

    Govt of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

  15. قومی اسمبلی کا 26 اپریل کو منعقد ہونے والا اجلاس آج طلب کر لیا گیا

    ببث

    سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کا 26 اپریل کو منعقد ہونے والا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔

    اجلاس آج شام پانچ بجے شروع ہو گا۔

    اطلاعات کے مطابق سپیکر نے 26 اپریل کو بلائے گئے اجلاس کا شیڈول تبدیل کرتے ہوئے آج اجلاس طلب کیا ہے اور اراکین اسمبلی کو اسمبلی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

  16. آج پاکستان کو چین سے تیس کروڑ ڈالر مل جائیں گے، اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آج پاکستان کو چین سے تیس کروڑ ڈالر مل جائیں گے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ چین کے بینک آئی سی بی سی نے پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر قرض کی منظوری دی تھی اور آج ملنے والی رقم اس کی تیسری اور آخری قسط ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس رقم سے پاکستان کے ذرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے کمی, تنویر ملک، صحافی

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر دینے کی یقین دہانی اور اس کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے امکانات کے بعد پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں اب تک دو روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور اس وقت ڈالر 290 روپے کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں اب تک 66 پیسے کی کمی دیکھی گئی ہے اور اس وقت ڈالر 284.25 روپے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  18. بریکنگ, چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔

    یہ ریفرنس میاں داود ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔

    ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعہ تین تا چھ اور نو کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

    چیف جسٹس بندیال کے علاوہ آٹھ ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بھی ریفرنس میں بطور فریق شامل ہیں۔

    ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ:

    • چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کے لیے مقرر کے اختیارات سے تجاوز کیا۔چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کیلئے مقرر کے اختیارات سے تجاوز کیا
    • چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کے بل کی سماعت کے لیے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پر8 رکنی بنچ تشکیل دیا
    • چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کے لیے بنچ کی خود سربراہی کر کےمس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے
    • آٹھوں ججز پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے
    • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف حکم امتناعی ڈاکٹر مبشر حسن کیس اور اعتزاز احسن کیس کی خلاف ورزی ہے
    • ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بنچ بل کے خلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کر چکا ہے
    • کم تعداد کے حامل آٹھ ججز نے پارلیمنٹ کا بل معطل کرکے ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کیس کی خلاف ورزی کی
    • چیف جسٹس بندیال نےاپنے ذاتی، سیاسی اور مفادات کا تحفظ کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی
    • جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس شاہد وحید نے مستقبل میں ممکنہ چیف جسٹس بننا ہے
    • آٹھ رکنی بنچ میں شامل ہو کر مستقبل کے چاروں ممکنہ چیف جسٹسز بھی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے
    • چیف جسٹس پاکستان بندیال نے کرپشن الزامات کا سامنا کرنیوالے جسٹس مظاہر نقوی کو تحفظ فراہم کیا
    • جسٹس مظاہر نقوی کو تحفظ فراہم کر کے چیف جسٹس بندیال نے اپنے حلف، آئین اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی
    • جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس مظاہر نقوی نے غیرقانونی طور پر خود کو اسمبلیوں کے الیکشن تنازع میں بھی ملوث کیا
    • چیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن ازخود نوٹس کیس کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا
    • چیف جسٹس عمر عطابندیال انتظامی اختیارات کے بدترین ناجائز استعمال کےمرتکب ہوئے ہیں
    • تمام متنازع بنچوں کی تشکیل کے مرکزی ذمہ دار چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہی ہیں
    • چیف جسٹس بندیال جونیئر ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کرکے الجہاد ٹرسٹ اور ملک اسد کیس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے
    • چیف جسٹس بندیال سمیت اٹھ ججز اعلی معیار پر مبنی ایماندار کردار برقرار رکھنے میں ناکام رہے
    • چیف جسٹس بندیال سمیت آٹھ ججزمفادات کے ٹکراؤ کے اصول پر عملدرآمد میں بھی ناکام رہے
    • چیف جسٹس بندیال سمیت آٹھ ججزذاتی سیاسی دلچسپی کے مقدمات کی سماعت کے مرتکب ہوئے
    • سپریم کورٹ کے آٹھ ججز خود کو مقدمات پر اثررسوخ استعمال کرنے کیلئے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے
    • چیف جسٹس بندیال سمیت آٹھ ججز باقی ججز کے ساتھ باہمی تعلقات بہتررکھنے میں ناکام ہوئے
    • چیف جسٹس بندیال سمیت آٹھ ججز سپریم کورٹ کی عوام میں بدنامی کا باعث بنے ہیں
    • سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت آٹھ ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے

    ججز کے خلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔

    چیف جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کے خلاف ریفرنس آنے کے بعد ان کی جگہ ممکنہ اگلے ممبر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس منصور علی شاہ ہوں گے۔

    ریفرنس کی کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔

  19. پنجاب اور خیبر پختونخوا انتخابات کے لیے فنڈز کی فراہمی: سپریم کورٹ میں اِن چیمبر سماعت جاری

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اِن چیمبر سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال ان چیمبر سماعت کر رہے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی سماعت میں موجود ہیں۔

    وزارت خزانہ کے حکام، اٹارنی جنرل، وزارت خزانہ کے حکام چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئے ہیں۔

    ‏سپیشل سیکریٹری فنانس اویس منظور، ایڈیشنل سیکریٹری فنانس عامر محمود، ایڈیشل سیکریٹری فنانس تنویر بٹ اور سٹیٹ بینک کی قائم مقام گورنر سیمہ کامل بھی عدالت میں موجود ہیں۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان اور الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا محمد ارشد بھی چیف جسٹس کے چیمبرمیں پیش ہوئے ہیں۔

    عدالت نے سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے سیکنڈ سینیئر ترین افسران کو بھی طلب کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق سیکرٹری خزانہ یعقوب حامد امریکہ دورے پر ہیں۔

    رجسٹرار کے مراسلے میں تمام افسران کو انتخابات اور فنڈز سے متعلق ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات دئیے گئے تھے۔

    تمام فریقین کو اپنی اپنی رپورٹس چیف جسٹس چیمبر میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

  20. متحدہ عرب امارات کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی کے بعد کیا پاکستان کے لیے قرض پروگرام بحال ہو جائے گا؟, تنویر ملک، صحافی

    متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کو پاکستان کو ایک ارب ڈالر دینے کی یقین دہانی کر دی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق کی جانب سے ایک ٹویٹ میں اس کی تصدیق کی گئی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے آئی ایم ایف کو دی جانے والی یقین دہانی عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کو اپنے دوست ممالک سے مالی امداد کی یقین دہانی حاصل کر کے آئی ایم ایف کو یقین دلانا ہے کہ وہ موجودہ مالی سال میں پاکستان کے جاری کھاتوں کو خسارے کو کم کرنے میں مدد دیں گے۔

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے معطل شدہ پروگرام کی بحالی کے لیے دوست ممالک سے امداد ایک اہم شرط ہے۔

    وزارت خزانہ کے سابق مشیر اور ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے بی بی سی کو اس سلسلے میں بتایا کہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت فنانسنگ پلان کے لیے سعودی عرب سے دو ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر کی یقین دہانی حاصل کرنا تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک نے یہ یقین دہانی کرا دی ہے۔

    ان کے مطابق اب فنانسنگ پلان حتمی ہو جائے گا تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے پاکستان نے آئی ایم ایف پر حکومت کی جانب سے تجویز کردہ پٹرول سبسڈی پر ابھی مطمئن کرنا ہے کہ اس کا بجٹ پر منفی اثر نہیں ہوگا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس پر بھی آئی ایم ایف کو مطمئن کر لیا جائے گا تاکہ قرض پروگرام کی بحالی کا معاہدہ ہو جائے۔