پارلیمان پر قدغن لگانی ہے تو آئین سازی بھی سپریم کورٹ ہی کر لے: راجہ پرویز اشرف

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیاسی معاملات خود طے کیے جانے چاہیے کیونکہ اگر آپ عدالتوں میں جائیں گے تو اس سے عدلیہ کا نقصان ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست میں تقسیم ضروری ہے لیکن سپریم کورٹ میں تقسیم خطرناک ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سپریم کورٹ ریاست کے ہر ادارے کے اقدامات کا جائزہ لے سکتی ہے، امتیاز صدیقی

    سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات بل 2023 کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران درخواست گزار راجہ عامر کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل جاری ہیں۔۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اور ججز کے اختیارات کم نہیں کیے جاسکتے، چیف جسٹس کا آفس کوئی اور جج استعمال نہیں کر سکتا۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر سپریم کورٹ کئی فیصلے دے چکی ہے اور ریاست کے ہر ادارے کے اقدامات کا سپریم کورٹ جائزہ لے سکتی ہے۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ قاسم سوری کیس میں قرار دے چکی ہے کہ پارلیمنٹ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں عدالت قرار دے چکی ہے کہ بل کو پاس ہونے سے نہیں روکا جاسکتا اور بل پاس ہوجائے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے مطابق صدر کی منظوری سے پہلے بھی مجوزہ ایکٹ کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

  2. بریکنگ, مجوزہ قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی، درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی

    سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات بل 2023 کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔۔۔

    درخواست گزار راجہ عامر کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ موجودہ حالات میں یہ مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ قاسم سوری کیس کے بعد سیاسی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔

    ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابات کروانے پر آمادہ نہیں، عدالت کو انتخابات نہ کروانے ہر از خود نوٹس لینا پڑا۔

    امتیاز صدیقی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے کا حکم دیا، تین اپریل کو عدالت نے دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا۔ آئین پر عمل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد مسائل زیادہ پیدا کیے گئے۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ عدالت اور ججز ہر ذاتی تنقید کی گئی، حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ اس کے ذمہ دار ہیں۔ مجوزہ قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔

    ان کا کہنا ہے کہ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل صدر کو بھجوایا گیا، صدر مملکت نے اعتراضات عائد کر کے بل اسمبلی کو واپس بھیجا مگر سیاسی اختلاف پر صدر کے اعتراضات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔

    امتیاز صدیقی کا مزید کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد دس دن میں بل قانون بن جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ اپنے رولز خود بناتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بل کے تحت از خود نوٹس اور بینچز کی تشکیل کا فیصلہ تین رکنی کمیٹی کرے گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ بل قانون بننے کے لائق ہے؟

    امتیاز صدیقی نے دلائل دیے کہ کابینہ کی جانب سے بل کی توثیق کرنا غیر قانونی ہے۔ بل کابینہ میں پیش کرنا اور منظوری دونوں انتظامی امور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کو اسمبلی میں پیش کرنا اور منظوری لینا بھی غیر آئینی ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ بل زیر التوا نہیں بلکہ مجوزہ ایکٹ ہے اور صدر منظوری دیں یا نہ دیں ایکٹ قانون کا حصہ بن جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کو کالعدم قرار دے سکتی ہے، چیف جسٹس کے بغیر سپریم کورٹ کا کوئی وجود نہیں اور چیف جسٹس کی تعیناتی سے ہی سپریم کورٹ مکمل ہو کر کام شروع کرتی ہے، چیف جسٹس کے بغیر دیگر ججز موجود ہوں بھی تو عدالت مکمل نہیں ہوتی۔

  3. بریکنگ, سپریم کورٹ: عدالتی اصلاحات بل کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع

    سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات بل 2023 کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہو چکی ہے۔

    اس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ کر رہا ہے جس میں ان کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

    یاد رہے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

    ان چار درخواستوں میں پارلیمنٹ سے منظور ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواستیں دو وکلا اور دو شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

    ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں اور سپریم کورٹ کے رولز 1980 میں بنے تھے جبکہ آرٹیکل 183/3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی حق نہیں دیا جا سکتا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے حال ہی میں یہ بل منظور کیا جس کے تحت از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات چیف جسٹس سے لے کر تین رکنی کمیٹی کو دیے گئے تھے۔

    صدر کی جانب سے دوسری بار منظور نہ کیے جانے کے 10 روز بعد، یعنی 20 اپریل کو، یہ بل قانون بن جائے گا۔

  4. تنویر الیاس کی اپیل: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کا ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم, ایم اے جرال، مظفر آباد

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے وکلا کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت ملنے والی سزا کی معطلی و حکم امتناہی کی درخواست اس خطے کی سپریم کورٹ نے خارج کردی ہے۔

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا برقرار رکھتے ہوئے اپیل قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کچھ دیر میں ہو گا۔

    آج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم سرادر تنویر الیاس خان کی نااہلی کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔

    سپریم کورٹ کے فل بیچ نے اس اپیل کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس راجہ سعید اکرم ،جسٹس رضاعلی خاں ،جسٹس خواجہ نسیم شامل ہیں۔

    سردار تنویر الیاس کی جانب سے لیگل ٹیم کی قیادت ایڈوکیٹ رازق خان کر رہے ہیں۔

    ادھر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سپیکر چوہدری انوارلحق نے اس خطے کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کل جمعہ کے روز طلب کر لیا ہے۔

    اجلاس دن گیارہ بجے منعقد ہوگا۔

    قانون ساز اسمبلی کی جانب سے جاری ہونے والے حکم کے مطابق اجلاس سے ْعبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 26 و قواعد انضباط کار قانون ساز اسمبلی کے قاعدے 32 کے تحت اس خطے کے صدر بیرسٹر سطان محمود چوہدری خطاب کریں گے۔

  5. ’پارلیمان کو قانون سازی سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا جاسکتا‘ حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ’پارلیمان کو قانون سازی سے روکنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا جاسکتا‘۔

    ان کا کہنا ہے کہ بل ابھی بنا نہیں اور آٹھ رکنی بینچ بنا دیا گیا جبکہ تمام جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ فل کورٹ بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عجلت میں درخواست دائر ہوئی اور بینچ بنادیا گیا۔

    حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنما اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں۔

    وزیر قانون نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ابھی تک قانوبن بنا نہیں ہے، قانون بن جائے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

  6. حکومتی اتحاد نے عدالتی اصلاحات بل پر سپریم کورٹ کے لاجر بینچ کا قیام مسترد کر دیا

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکمران جماعتوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل 2023 کے حوالے سے قانون سازی کا عمل مکمل ہونے اور اس کے نفاذ سے پہلے ہی متنازعہ بینچ تشکیل دے کر سماعت کے لیے مقرر کرنے کا اقدام مسترد کردیا ہے۔

    جمعرات کو حکمران جماعتوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اس نوعیت کا اقدام پاکستان اور عدالت کی تاریخ میں اس سے قبل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ ملک کی اعلی ترین عدالت کی ساکھ ختم کرنے اور انصاف کے آئینی عمل کو بے معنی کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بینچ بذات خود سپریم کورٹ کی تقسیم کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے حکومت میں شامل جماعتوں کے پہلے بیان کردہ موقف کی ایک بار پھر تائید ہوئی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خود سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اپنے فیصلوں میں 'ون میں شو'، متعصبانہ و آمرانہ طرز عمل اور مخصوص بینچوں کی تشکیل پر اعتراضات کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔ آٹھ رکنی متنازعہ بینچ کی تشکیل سے عدالت عظمیٰ کے ان معزز جج صاحبان کے فیصلوں میں بیان کردہ حقائق مزید واضح ہو کر سامنے آ چکے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک وفاق ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرکے دونوں چھوٹے صوبوں یعنی بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے کوئی جج بینچ میں شامل نہ کرنا بھی افسوسناک ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران جماعتیں اس اقدام کو پارلیمان اوراس کے اختیار پر شب خون قرار دیتی ہیں جس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ انتہائی عجلت میں متنازعہ بینچ کی تشکیل اور اس بل کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے ہی نیت اور ارادے کے علاوہ آنے والے فیصلے کا بھی واضح اظہار ہوجاتا ہے جو افسوسناک اور عدل وانصاف کے قتل کے مترادف ہے۔

    بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت عظمی کے اقدام اور متنازعہ بینچ کی تشکیل پر پاکستان کی بارکونسلز کا بیان اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ یہ اقدام نہ صرف عدل وانصاف کے منافی ہے بلکہ مروجہ عدالتی طریقہ کار اور متعین اصولوں کے بھی صریحاً برعکس ہے۔

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ 12 اکتوبر2019 کو لاہور میں آل پاکستان وکلا کنونشن نے قرارداد منظور کرکے پارلیمان سے مطالبہ کیا تھا کہ یہ قانون منظور کیا جائے۔ ملک بھر کی وکلا برادری کے اس مطالبے پر عمل کرتے ہوئے پارلیمان نے متعلقہ قانون منظور کیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پارلیمان کا اختیار چھیننے اور اس کے دستوری دائرہ کار میں مداخلت کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی، آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمان کے اختیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  7. چیف جسٹس کا ’ازخود نوٹس کا اختیار‘ جو عدلیہ میں تقسیم کی وجہ بنا

    SUPREME COURT OF PAKISTAN

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے بھی عدالتی اصلاحات سے متعلقہ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023‘ آج کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر نامی اس بل کے مسودے کے مطابق اب از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی، جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔

    اس سے قبل یہ اختیار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس ہوا کرتا تھا۔

    یہ بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی تناو کو ختم کرنے کے لیے تمام نگاہیں سپریم کورٹ کی جانب ہیں تاہم ملک کی سب سے بڑی عدالت کے اندر ججوں کے درمیان اختلاف رائے بھی سامنے آ رہا ہے۔

    اس کی ایک مثال الیکشن التوا کیس میں عدالتی بینچ میں شامل ججوں کی جانب سے اختلاف تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس بل کی ٹائمنگ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے اس بل کی منظوری کی ٹائمنگ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، وہیں حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بل کا مقصد چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس حوالے سے مراحل کا تعین کرنا ہے۔ مزید پڑھیے >>

  8. ’غیر مقبول‘ وزیراعظم سے مقبول اپوزیشن لیڈر تک: ’عمران خان کے بیانیے کی مقبولیت میں کلیدی کردار پی ڈی ایم کا رہا‘

  9. سپریم کورٹ میں تقسیم کا تاثر کیوں؟

    حال ہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال، کے لیے ’ون مین شو‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات کے ’غیر منصفانہ‘ استعمال پر چیف جسٹس اپنے ہی ساتھی ججز کی تنقید کی زد میں آئے اور الزامات کا سامنا بھر کرنا پڑا۔

    آخر سپریم کورٹ میں ہو کیا رہا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  10. سپریم کورٹ پریکٹس بل کی سماعت: پاکستان بار کونسل کا ملک بھر کی عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان بار کونسل نے آج سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کی حمایت اور سپریم کورٹ میں سماعت کے خلاف ملک بھر کی عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یاد رہے آج سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے، کاز لسٹ کے مطابق اس کیس کی سماعت آج ساڑھے 11 بجے شروع ہو گی۔

    خیال رہے کہ ان چار درخواستوں میں پارلیمنٹ سے منظور ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواستیں دو وکلا اور دو شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

    ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں اور سپریم کورٹ کے رولز 1980 میں بنے تھے جبکہ آرٹیکل 183/3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی حق نہیں دیا جا سکتا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے حال ہی میں یہ بل منظور کیا جس کے تحت از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات چیف جسٹس سے لے کر تین رکنی کمیٹی کو دیے گئے تھے۔

    صدر کی جانب سے دوسری بار منظور نہ کیے جانے کے 10 روز بعد، یعنی 20 اپریل کو، یہ بل قانون بن جائے گا۔

  11. ڈائریکٹر آئی ایم ایف نے جلد سٹاف لیول معاہدے پر دستخط کی امید ظاہر کی: وزارت خزانہ

    وزارت خزانہ کے ایک بیان کے مطابق ڈائریکٹر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہی میں ایک وفد نے اسلام آباد میں بذریعہ زوم وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت اعلی عہدیداران سے میٹنگ کی ہے جس میں قرض پروگرام کی بحالی اور شرائط پر بات چیت کی گئی۔

    وزارت کے مطابق ڈائریکٹر آئی ایم ایف جہاد ازعور نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی سٹاف لیول معاہدے پر دستخط کر دیے جائیں گے جس کے بعد بورڈ نویں نظرثانی کی منظوری دے گا۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اس میٹنگ میں موجودہ آئی ایم ایف پروگرام میں پیشرفت پر بات کی گئی، خاص جر آئی ایم ایف وفد کے پاکستان دورے اور پیشگی شرائط پر عملدرآمد کے حوالے سے۔

    اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انھیں پاکستان رہنے کا کہا ہے جس کی وجہ سے وہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے اجلاس میں پاکستان سے بذریعہ زوم شرکت کریں گے۔

    اے پی پی کے مطابق جہاد ازعور نے امید ظاہر کی کہ کئی شعبوں میں اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا اور آئی ایم ایف پروگرام مکمل کیا جائے گا۔ ’پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف اپنا کردار ادا کرے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. میری سکیورٹی کے انچارج افتخار گھمن کو اغوا کیا گیا: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’جب علی امین کو اغوا کیا گیا تو ڈی آئی خان میں ڈی پی او نے سیشن جج کو بتایا کہ علی امین کو ’اوپر سے حکم ملنے پر‘ حراست میں لیا گیا ہے۔

    ’آج میری سکیورٹی کے انچارج افتخار گھمن کو اغوا کیا گیا۔ یہ سب لندن پلان کا حصہ ہے جس میں نواز شریف کو تسلی دی گئی کہ پی ٹی آئی کو کچلا جائے گا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’قیادت کے علاوہ میرے قریبی لوگوں سے بدسلوکی، اغوا اور تشدد کیا گیا اور ان کے خلاف آئین و قانون کے خلاف جعلی کیسز بنائے گئے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. پاکستان: مقبول قیادت بمقابلہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ

  14. بریکنگ, وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کل وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال اور قانونی امور پر غور کیا جائے گا۔

  15. ہم خیال بینچ کے سامنے بِل مقرر کرنا پارلیمان کی توہین: عطا تارڑ

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ’ایک قانون جو ابھی نافذ العمل ہوا ہی نہیں اور نہ ہی رائج ہوا ہے اس کو بجلی کی تیزی سے سماعت کے لئے ہم خیال بینچ کے سامنے مقرر کرنا پارلیمان کی توہین ہے۔‘

    جبکہ سینیٹر افنان اللہ کہتے ہیں کہ ’جن جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کیس ہیں ان کو اس اہم بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ افسوس ناک ہے کہ آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

    ’پارلیمان سپریم ہے اور اس طرح کسی قانون کو اگر ختم کیا گیا تو معاملات اور خراب ہوں گے۔ عوام ہم خیال بینچ کے فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  16. آٹھ رکنی لارجر بینچ پر سیاستدانوں کے تبصرے

    سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر 13 اپریل کو سماعت کرنے والے بینچ پر ابھی سے تبصروں کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’اب جب چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ کے اکثریتی جج صاحبان پر بینچ تشکیل دے دیا ہے تو امید ہے ان لوگوں کی تسلی ہو ہو گی جو سمجھتے تھے کہ بڑا بینچ ہی مسائل کا حل ہے۔‘

    ادھر مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ ’بینچ دیکھ کر ہی بتایا جا سکتا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ کیا ہوگا۔۔۔ اللہ ہمارے ملک پر رحم کرے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  17. بریکنگ, سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، آٹھ رکنی لارجر بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی ہیں۔

    اس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ کرے گا جس میں ان کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہوں گے۔

    کاز لسٹ کے مطابق اس کیس کی سماعت 13 اپریل کو صبح ساڑھے 11 بجے ہوگی۔

    خیال رہے کہ ان چار درخواستوں میں پارلیمنٹ سے منظور ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواستیں دو وکلا اور دو شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

    ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں اور سپریم کورٹ کے رولز 1980 میں بنے تھے جبکہ آرٹیکل 183/3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی حق نہیں دیا جا سکتا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے حال ہی میں یہ بل منظور کیا جس کے تحت از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات چیف جسٹس سے لے کر تین رکنی کمیٹی کو دیے گئے تھے۔

    صدر کی جانب سے دوسری بار منظور نہ کیے جانے کے 10 روز بعد، یعنی 20 اپریل کو، یہ بل قانون بن جائے گا۔

  18. موجودہ صورتحال سے سپریم کورٹ بھی متاثر ہو رہی ہے: پاکستان بار کونسل

    پاکستان میں جاری ’سیاسی صورتحال اور اداروں میں کشیدگی‘ پر پاکستان بار کونسل نے 17 اپریل کو وکلا کی کانفرنس بلائی ہہ۔

    بار نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ کانفرنس سپریم کورٹ بلڈنگ میں واقع پاکستان بار کونسل کے دفتر میں منعقد ہوگی اور اس میں پاکستان کی تمام بار کونسلز کے وائس چیئرمین اور ممبران ایگزیکٹو شریک ہوں گے۔

    اس کے مطابق کانفرنس میں سپریم کورٹ بار اور ہائی کورٹ بارز کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ ’کانفرنس میں ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے لائحہ عمل دیا جائے گا۔ ملک میں موجودہ صورتحال زیادہ دیر تک نہیں رہنی چاہیے۔ موجودہ صورتحال سے سپریم کورٹ بھی متاثر ہو رہی ہے۔‘

  19. ’عدالتی حکم عدولی پر احتساب ممکن‘ رجسٹرار سپریم کورٹ کے جاری کردہ نوٹس کا متن

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ طلبی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں الیکشن سے متعلق حکم پر وفاقی حکومت نے عمل نہ کر کے ’نافرمانی‘ کی ہے جس کے نتائج سب کو معلوم ہیں۔ ’کوئی شخص جو عدالت کی حکم عدولی یا اس کی حوصلہ افزائی کرے اس کا احتساب ممکن ہے۔‘

    اس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں انتخابات جیسے آئینی معاملے کے لیے فنڈز کی فراہمی کو فوری توجہ کی ضرورت ہے اور اسے توہین عدالت کی کارروائی سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 10 اپریل تک وفاقی حکومت کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

  20. پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کی ’عدم فراہمی‘ پر سیکریٹری خزانہ، گورنر سٹیٹ بینک طلب

    سپریم کورٹ

    پنجاب میں الیکشن کے لیے فنڈز کی ’عدم فراہمی‘ کے معاملے پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، سیکرٹری خزانہ اور الیکشن کمیشن کو 14 اپریل کو طلب کر لیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق عدالتی حکم عدولی پر چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل، گورنر سٹیٹ بینک، سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کو نوٹسز جاری کیے ہیں اور افسران کو ریکارڈ سمیت اپنے چیمبر میں طلب کیا ہے۔