سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات بل 2023 کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔۔۔
درخواست گزار راجہ عامر کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ موجودہ حالات میں یہ مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ قاسم سوری کیس کے بعد سیاسی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابات کروانے پر آمادہ نہیں، عدالت کو انتخابات نہ کروانے ہر از خود نوٹس لینا پڑا۔
امتیاز صدیقی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے کا حکم دیا، تین اپریل کو عدالت نے دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا۔ آئین پر عمل کرنے کے عدالتی حکم کے بعد مسائل زیادہ پیدا کیے گئے۔
امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ عدالت اور ججز ہر ذاتی تنقید کی گئی، حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ اس کے ذمہ دار ہیں۔ مجوزہ قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل صدر کو بھجوایا گیا، صدر مملکت نے اعتراضات عائد کر کے بل اسمبلی کو واپس بھیجا مگر سیاسی اختلاف پر صدر کے اعتراضات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔
امتیاز صدیقی کا مزید کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد دس دن میں بل قانون بن جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ اپنے رولز خود بناتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بل کے تحت از خود نوٹس اور بینچز کی تشکیل کا فیصلہ تین رکنی کمیٹی کرے گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ بل قانون بننے کے لائق ہے؟
امتیاز صدیقی نے دلائل دیے کہ کابینہ کی جانب سے بل کی توثیق کرنا غیر قانونی ہے۔ بل کابینہ میں پیش کرنا اور منظوری دونوں انتظامی امور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کو اسمبلی میں پیش کرنا اور منظوری لینا بھی غیر آئینی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ بل زیر التوا نہیں بلکہ مجوزہ ایکٹ ہے اور صدر منظوری دیں یا نہ دیں ایکٹ قانون کا حصہ بن جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کو کالعدم قرار دے سکتی ہے، چیف جسٹس کے بغیر سپریم کورٹ کا کوئی وجود نہیں اور چیف جسٹس کی تعیناتی سے ہی سپریم کورٹ مکمل ہو کر کام شروع کرتی ہے، چیف جسٹس کے بغیر دیگر ججز موجود ہوں بھی تو عدالت مکمل نہیں ہوتی۔