آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں‘: جسٹس فائز عیسی کا وضاحتی بیان

آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمان میں منعقدہ کنونشن میں شرکت کرنے کے حوالے سے اپنا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کا بنایا جانا ہماری تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ہے جسے منانا ضروری ہے، آج سے پچاس سال قبل اسی آئین ہی کہ کمی کے سبب ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔

لائیو کوریج

  1. اسٹیبلشمنٹ بیٹھے، حکومت بیٹھے اور ہم بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سپیس دے کر آگے بڑھیں: فواد چوہدری

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے تمام ججز ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ اصل واقعات سے توجہ ہٹانے کے لیے چیف جسٹس کے استعفی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’ بات چیت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ہم نے پہلے بھی کہا تھا میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ بیٹھے، حکومت بیٹھے اور ہم بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سپیس دے کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’اس کی ایک بنیاد ہے کہ آپ کو الیکشن کا حق تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم الیکشن چھوڑ دیں اور باقی باتوں پر بات کریں۔ آپ ہمارے ساتھ بیٹھ کر الیکشن کے اوپر ہمارے اختلافات پر بات کریں اور رول آف دا گیم بنائیں۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں محسن نقوی کی تعیناتی کے خلاف درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کر دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے 372 اراکین میں سے صرف 42 اراکین نے قرارداد منظور کی۔ جس میں رانا ثنا اللہ، وزیر اعظم خواجہ آصف سمیت ان کے اہم اراکین شامل ہی نہیں بلکہ غیر مستقل ممبران نے دستخط کیے۔

    فواد چوہدری نے دعوی کیا کہ ’جس جس نے قرارداد پر دستخط کیے وہ اس سے لاتعلقی کا اظہار کرے ورنہ اگلے 48 گھنٹوں میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا اور وہ سب نااہل ہوں گے۔‘

    فواد چوہدری کے مطابق ’ملک کو سیاسی بحران کی جانب دھکیلا جا ہا ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل صرف انتخابات ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کل جو اعلامیہ آیا اس میں کہا گیا کہ ہم دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں اس لیے الیکشن نہیں کرواسکتے۔ اور کہا گیا کہ 10 ملین ڈالرز بھی نہیں کہ انتخابات ہو سکیں۔ یہ (حکومت) بے شرمی کے ساتھ یہ ڈھونڈورا پیٹ رہے ہیں کہ ہماری یہ حالت ہے۔

  2. عمران خان کی اسلام آباد میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    عمران خان کی اسلام آباد میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق 12 اپریل کو عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کریں گے۔

    عدالت نے وزارت داخلہ ، قانون و انصاف آئی جی اور دیگر سے جواب طلب کر رکھا ہے۔ عدالت نے گزشتہ ہفتے رجسٹرار آفس کو درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    عمران خان نے سلمان اکرم راجہ، فیصل چوہدری کے ذریعے درخواست سیکیورٹی تھریٹ کی بنیاد پر دائر کی تھی

  3. صدر علوی نے ثابت کیا کہ وہ ملک کے صدر نہیں بلکہ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل ہیں: شیری رحمان

  4. بریکنگ, صدر عارف علوی نے عدالتی اصلاحات بل نظرثانی کے لیے پارلیمان کو واپس بھیج دیا

    صدر پاکستان عارف علوی نے عدالتی اصلاحات سے متعلق بل نظرثانی کے لیے واپس بھیج دیا ہے۔

    عارف علوی نے عدالتی اصلاحات سے متعلقہ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023‘ کو آئین کےآرٹیکل 75 کے تحت نظرثانی کے لیے پارلیمنٹ واپس بھجوا دیا ہے۔

    صدر پاکستان نے اس ضمن میں سلسلہ وار ٹویٹس بھی کی ہیں اور ساتھ ہی وزیرِ اعظم پاکستان کو ایک خط بھی لکھا ہے۔

    عارف علوی کے مطابق ’بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنے اور دوبارہ غور کرنے کے لیے واپس کرنا مناسب ہے۔‘

    صدر عارف علوی نے مزید کہا کہ آئین سپریم کورٹ کو اپیل، ایڈوائزری، ریویو اور ابتدائی اختیار سماعت سے نوازتا ہے، مجوزہ بل آرٹیکل 184/3، عدالت کے ابتدائی اختیار سماعت سے متعلق ہے، مجوزہ بل کا مقصد ابتدائی اختیار سماعت استعمال کرنے اور اپیل کرنے کا طریقہ فراہم کرنا ہے۔

    صدر مملکت نے سوال اٹھایا کہ ’یہ خیال قابل تعریف ہو سکتا ہے مگر کیا اس مقصد کو آئین کی دفعات میں ترمیم کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے؟‘

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو عدالتی کارروائی اور طریقہ کار ریگولیٹ کرنے کے لیے قوانین بنانے کا اختیار دیتا ہے، آئین کی ان دفعات کے تحت سپریم کورٹ رولز 1980 بنائے گئے جن کی توثیق خود آئین نے کی، سپریم کورٹ رولز 1980 پر سال 1980 سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

    ’اس لیے جانچ شدہ قواعد میں چھیڑ چھاڑ عدالت کی اندرونی کارروائی، خود مختاری اور آزادی میں مداخلت کے مترادف ہو سکتی ہے۔‘

    عارف علوی نے کہا کہ آرٹیکل 142اے کے تحت پارلیمنٹ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی بھی معاملے پر قانون بنا سکتی ہے، فورتھ شیڈول کے تحت پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے علاوہ تمام عدالتوں کے دائرہ اختیار اور اختیارات پرقانون سازی کا اختیار ہے، فورتھ شیڈول کے تحت سپریم کورٹ کو خاص طور پر پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار سے خارج کیا گیا ہے، بل بنیادی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، بل کے ان پہلوؤں پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر نامی اس بل کے مسودے کے مطابق اب از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی، جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔ اس سے قبل یہ اختیار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس ہوا کرتا تھا۔

    یہ بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ملک میں سیاسی تناو کو ختم کرنے کے لیے تمام نگاہیں سپریم کورٹ کی جانب ہیں تاہم ملک کی سب سے بڑی عدالت کے اندر ججوں کے درمیان اختلاف رائے بھی سامنے آیا ہے۔

  5. آٹا مہنگا خودی سستی: محمد حنیف کا کالم

  6. توشہ خانہ کیس کی سماعت 11 اپریل تک ملتوی: ’نہ عمران خان کو نہ سینیئر وکلا کو نوٹس ملا‘

    توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کیس کی سماعت کی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجدپرویز عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ عمران خان کی جانب سے ان کے جونیئر وکیل پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا کی کہ ’ نہ ہمارے کسی سینئر وکیل کو نوٹس کی تعمیل ہوئی نہ عمران خان کو نوٹس ملا۔

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس کی سماعت 11 اپریل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس کی آئندہ سماعت 29 اپریل مقرر تھی تاہم الیکشن کمیشن نے عدالتی کارروائی تاخیر کا شکار ہونے کے باعث سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی اس درخواست پر عدالت نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔

    دوسری جانب عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ طور پر غیرقانونی نکاح کے الزام پر کیس کی سماعت بھی آج ہوگی۔

    اس کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نصراللہ بلوچ کی عدالت میں ہوگی۔

    درخواست گزار محمد حنیف نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدت کے دوران نکاح کرنے پر چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف سیکشن 496 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔

  7. ایسے موقف کے بعد وزیر اعظم کو ناکامی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے:فواد چوہدری

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے قومی سلامتی کمیٹی میں حکومت کے سیکیورٹی صورتحال پر موقف پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ حکومت کا یہ موقف حیران کن ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے اور ہماری معیشت اور سیکیورٹی حالات اتنے خراب ہیں کہ ملک میں انتخابات تک ممکن نہیں۔

    فواد چوہدری نے مطالبہ کیا کہ ایسے موقف کے بعد وزیر اعظم کو ناکامی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہئے۔

    فواد چوہدری نے مزید لکھا ’آئین کے آرٹیکل 190 کے مطابق تمام ادارے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں، سیکیورٹی فراہم کرنا اور انتخاب کے لیے فنڈز کی فراہمی اہم قانونی فریضہ ہے اور حکومتی ادارے اس ضمن میں اقدامات کریں۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا ’قومی سلامتی کمیٹی کا بنیادی مقصد سلامتی کی صورتحال پر غور کرنا ہے، یہ بات خوش آئند ہے کہ اس فورم نے اپنے اعلامیہ میں خود کو سیکیورٹی معاملات تک محدود رکھا ہے اورحکومتی سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے۔

    واضح رہے کہ جمعے کو پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

  8. حکمراں اتحاد کے رہنماؤں کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    حکمراں اتحاد پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ ’عدالتیں قوموں کو بحرانوں سے نکالتی نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں۔

    ’چیف جسٹس نے نہ جانے کون سا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کر دی۔ اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے‘

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر چیف جسٹس عدالتی معاملات کو حل نہیں کر سکتے تھے ’کسی اور کو چیف جسٹس کی ذمہ داری دے دیں۔‘

    ’یہ واضح ہے کہ چیف جسٹس کی رائے اقلیتی فیصلہ ہے۔‘

  9. اہم خبریں۔۔۔

    • وفاقی حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے
    • پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے
    • پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان پر اور جماعت کے دیگر رہنماؤں پر مقدمات انتخابات سے قبل ان کی صلاحیت کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں
    • سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے انتخابات سے متعلق درخواست پر اختلافی نوٹ میں لکھا کہ سیاسی نوعیت کے مقدمات میں عدالت کے انتظامی و عدالتی اقدامات شفافیت پر مبنی ہونے چاہیے
    • سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کروائی گئی ہے۔ شکایت مقامی وکیل راجہ سبطین خان کی جانب سے دائر کی گئی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’چیف جسٹس مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار پائے ہیں، چیف جسٹس کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے۔‘
  10. پاکستان کی سپریم کورٹ میں ’تقسیم‘ کیوں؟

    حال ہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال، کے لیے ’ون مین شو‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات کے ’غیر منصفانہ‘ استعمال پر چیف جسٹس اپنے ہی ساتھی ججز کی تنقید کی زد میں آئے اور الزامات کا سامنا بھر کرنا پڑا۔ آخر سپریم کورٹ میں ہو کیا رہا ہے؟ یہ جاننے کے لیے دیکھیے فرحت جاوید اور نئیر عباس کی یہ ویڈیو