سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کی جانب سے حافظ قرآن کو میڈیکل داخلہ میں اضافی نمبر دینے کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں ان کے فیصلے پر کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین سپریم کورٹ کے بنچ یا ججوں کو اختیار نہیں دیتا کہ سپریم کورٹ کے کسی حکم کے خلاف اپیل کا فیصلہ کریں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تحریر کردہ چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے لکھا کہ مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو عوام کا اعتماد عدلیہ پر نہیں ہو گا۔
اپنے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے وفاقی حکومت کی جانب سے عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود 6 رکنی بنچ کی تشکیل کے روسٹر پر دستخط کرکے مس کنڈکٹ کیا۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ سو موٹو اختیارات پر کہا تھا کہ شہریوں کے مفاد کے لیے ضروری ہو گا کہ ایسے تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کی جائے جن کا نوٹس آئین کی دفعہ 184 تین کے تحت لیا گیا ہو جب تک آئین کی دفعہ 191 کے تحت ضروری قوائد نہ بنائے جائیں۔
تاہم بعد میں رجسٹرار سپریم کورٹ نے وضاحت کی تھی کہ اس فیصلے میں شامل نوٹ سپریم کورٹ کی قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔
تاہم جسٹس قاضی فائز عیسی نے ہفتے کے دن جاری کردہ فیصلے میں کہا کہ رجسٹرار سپریم کور ٹ نے ازخود نوٹس کیسز کی سماعت روکنے کے فیصلے کو غیر قانونی طور پر سرکلر سے ختم کیا اور جب یہ اندازہ ہوا کہ رجسٹرار کا سرکلر غیر قانونی غیر آئینی ہے تو 6 رکنی لارجربینچ تشکیل دیا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا کہ غیر قانونی سرکلر پر چیف جسٹس کو بھی خط لکھا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق دائرہ اختیار کے بغیر جاری کردہ فیصلے کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ متکبرانہ آمریت کی دھند میں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ عدلیہ کی ساکھ کو مجروح کیا گیا تو عدلیہ اور پاکستان کی عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔