آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری
پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔
لائیو کوریج
سرکاری خرچ پر بھرتی سوشل میڈیا انفلوئنسرز جن کے ’ایک ہزار فیس بُک فرینڈز ہونا لازم تھا‘
نواز شریف، بلاول بھٹو کا چیف جسٹس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
حکمراں اتحاد پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ ’عدالتیں قوموں کو بحرانوں سے نکالتی نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں۔
’چیف جسٹس نے نہ جانے کون سا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کر دی۔ اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے‘
وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر چیف جسٹس عدالتی معاملات کو حل نہیں کر سکتے تھے ’کسی اور کو چیف جسٹس کی ذمہ داری دے دیں۔‘
’یہ واضح ہے کہ چیف جسٹس کی رائے اقلیتی فیصلہ ہے۔‘
بریکنگ, قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری
پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔
قومی سلامتی کونسل کا اکتالیسویں اجلاس جمعے کو وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی ، سروسز چیفس اور متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس نے جامع قومی سلامتی پر زور دیا جس میں عوام کے ریلیف کو مرکزی حیثیت قرار دیا گیا اورفورم کو بتایا گیا کہ حکومت اس ضمن میں اقدامات کررہی ہے۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس نے قوم کو پائیدار امن کی فراہمی کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کاوشوں کا اعتراف کیا۔ فورم نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ لہر کو ٹی ٹی پی ( دہشت گردقرار دی جانے والی تنظیم)کے ساتھ نرم گوشہ اور عدم سوچ بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بلا رکاوٹ واپس آنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ ٹی ٹی پی کے خطرناک دہشت گردوں کو اعتماد سازی کے نام پر جیلوں سے رہا بھی کر دیا گیا۔‘
’واپس آنے والے اِن خطرناک دہشت گردوں اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے مدد ملنے کے نتیجے میں ملک میں امن واستحکام منتشر ہوا جو بے شمار قربانیوں اور مسلسل کاوشوں کا ثمر تھا۔‘
اعلامیے کے مطابق اجلاس نے ’پوری قوم اور حکومت کے ساتھ مل کر ہمہ جہت جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی جو ایک نئے جذبے اور نئی عزم و ہمت کے ساتھ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرے گا۔ ‘ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان سے ہر طرح اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اِس مجموعی،ہمہ جہت اور جامع آپریشن میں سیاسی، سفارتی سکیورٹی، معاشی اور سماجی سطح پرکوششیں بھی شامل ہوں گی۔ اس سلسلے میں اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل بھی دی گئی جودو ہفتوں میں اس پر عمل درآمد اور اس کی حدود و قیود سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔ ‘
مقدمات پارٹی کی انتخابات لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں: عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے اور ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں پر مقدمات انتخابات سے قبل ان کی انتخابی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے ہیں۔
ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خلاف غداری کے مقدمات، میرے خلاف 144 واں مقدمہ ہے اور ہمارے سینیئر لیڈرعلی امین کو بھی قید کیا گیا ہے، یہ صرف ہماری پارٹی کی انتخابات لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوششیں ہیں۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سب لندن پلان کا حصہ ہے جس میں نواز شریف کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پی ٹی آئی کو جعلی مقدمات اور اس کی قیادت کو قید کے ذریعے انتخابات سے پہلے کچل دیا جائے گا۔‘
’چیف جسٹس کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے‘: سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کروائی گئی ہے۔
شکایت مقامی وکیل راجہ سبطین خان کی جانب سے دائر کی گئی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’چیف جسٹس مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار پائے ہیں، چیف جسٹس کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے۔‘
چیف جسٹس کیخلاف شکایت پنجاب کے پی انتخابات کیس کی بنیاد پر دائر کی گئی۔
شکات میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انتخابات ازخود نوٹس سے سپریم کورٹ متنازع بنی ہے، زبان زدعام ہے کہ چیف جسٹس نے عدلیہ میں گروپنگ قائم کر رکھی ہے۔‘
شکایت ک متن کے مطابق ’چیف جسٹس نے گروپنگ مدنظر رکھتے ہوئے بنچ تشکیل دیا تاکہ فیصلہ اکثریت سے حاصل کیا جا سکے۔‘
بریکنگ, چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مستعفی ہو جانا چاہیے: مریم نواز
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کے حق میں قانون اور آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔ ‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اختیارات کے اس کھلم کھلا غلط استعمال کی وجہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بے مثال بغاوت جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، بے داغ ججوں نے چیف جسٹس کے طرز عمل اور تعصب پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ’کسی بھی چیف جسٹس پر اس طرح کی بدانتظامی کا الزام نہیں لگایا گیا۔ پی ٹی آئی کی طرف ان کا جھکاؤ واضح ہے۔ چیف جسٹس بندیال کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ ‘
ہمارا بنیادی مسئلہ الیکشن ہیں جج یا بنچ نہیں: چوہدری فواد حسین
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت انتخابات چاہتی ہے اور انھیں ججوں یا عدالت کے بینچ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے اختلافی نوٹ میں نوے دن کے اندر انتخابات کے اصول کو تسلیم کیا ہے اور اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا بنیادی مسئلہ الیکشن ہیں جج یا بنچ ہمارا مسئلہ نہیں ہیں۔‘
اگر فل کورٹ یہ کیسز سنتا تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا: اطہر من اللہ
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’اس عدالت کی جانب سے جس انداز میں اس کیس کی سماعت کی گئی ہے اس نے عدالت کو بلاوجہ سیاسی تنازعات کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پہلے سے ہی منقسم سیاسی ماحول میں اس نے سیاسی جماعت کو اس پر اعتراضات لگانے کا موقع دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس سے لوگوں کا عدالت پر اعتماد اور اس کے غیر جانبدار ہونے کے تصور کو ٹھیس پہنچے گی۔ سو موٹو سے متعلق عدالت کے اختیارات کے بارے میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں سوالات ابھر سکتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر فل کورٹ یہ کیسز سنتا تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا، اس سے سماعت کی قانونی حیثیت بھی یقینی بنائی جا سکتی۔
سپریم کورٹ نے اپنے تاریک ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا: اطہر من اللہ
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ ’یہ مضحکہ خیز اور ناقابلِ تصور ہے کہ سیاست دان اپنے سیاسی مسائل کے حل کے لیے عدالت کا سہارا کیوں لیتے ہیں جب اس مقصد کے لیے آئین کے مطابق متعلقہ فورمز موجود ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیاسی جماعتوں کا رویہ خطرناک ہے اور ان کی سیاسی حکمتِ عملیاں ملک میں سیاسی بحران اور عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’سیاسی استحکام معاشی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے عوام کو ایک طویل عرصے سے ان کے بنیادی حقوق نہیں دیے جا رہے۔
’اس میں غیر جمہوری ادوار جنھیں اس عدالت سے منظوری ملی تھی ان کے باعث اس ملک اور اسے کے عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ ادارے جو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ان کی جڑیں مضبوط نہیں ہونے دی گئیں۔ پاکستان کے قیام کے 75 برس بعد بھی ادارے کمزور ہیں۔ ملک اس وقت ایک سیاسی اور آئینی بحران کے دہانے پر ہے اس لیے یہ اہم ہے کہ ادارے، بشمول یہ سپریم کورٹ پیچھے ہٹیں اور اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر خود احتسابی کریں اور اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں اگر اپنے ادارے کے بارے میں بات کروں تو ہم نے اپنے تاریک ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہم لا رپورٹس سے فیصلے تو مٹا نہیں سکتے لیکن عوامی اعتماد بحال کر سکتے ہیں تاکہ ہمیں ماضی کو کسی حد تک بھلا سکیں۔‘
انتخابات ازخود نوٹس کیس چار تین سے مسترد کیا گیا: جسٹس اطہر من اللہ
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ’انتخابات التوا کیس سے متعلق لیے گئے ازخود نوٹس کو چار تین سے مسترد کیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں ہوتا اس لیے مناسب ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ کو معاملہ سننے دیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے سماعت سے معذرت کی نہ ہی بنچ سے الگ ہونے کی کوئی وجہ تھی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز نے آئین کے تحفظ کا ایک جیسا ہی حلف اٹھا رکھا ہے۔
’سیاسی نوعیت کے مقدمات میں عدالت کے انتظامی اور عدالتی اقدامات شفافیت پر مبنی ہونے چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی سیاسی فریق کو عدالتی عمل کی غیرجانبداری اور شفافیت پر شک نہیں ہونا چاہیے۔‘
پنجاب الیکشن فیصلہ: پی ٹی آئی کی درخواست پر کارروائی سے عدالت سیاسی تنازعے کا شکار ہوئی، جسٹس اطہر من اللہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس طرح کارروائی شروع کی گئی، اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی۔
واضح رہے کہ جسٹس اطہر من اللہ سپریم کورٹ کے اس نو رکنی بینچ کا حصہ تھے جس کو الیکشن کے معاملے کی سماعت کے لیے چیف جسٹس نے تشکیل دیا تھا تاہم بعد میں وہ اس بینچ سے الگ ہو گئے تھے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ اس درخواست پر کارروائی شروع کرنے سے پولیٹیکل سٹیک ہولڈرز کو عدالت پر اعتراض اٹھانے کی دعوت دی گئی۔
انھوں نے مذید لکھا کہ اس قسم کے اعتراضات سے عوام کے عدالت پر اعتماد پر اثر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی درخواست پر قبل از وقت کارروائی شروع کی گئی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے نوٹ میں لکھا کہ سو موٹو کی کارروائی شروع کرنے سے ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کرنے والے سائلین کے حقوق متاثر ہوئے۔
انھوں نے لکھا کہ اگر فل کورٹ تشکیل دیا جاتا تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا جس کی تجویز 23 فروری کو اپنے نوٹ میں بھی دی تھی۔
انھوں نے لکھا کہ ہر جج نے آئین کے تحفظ اور اسے محفوظ بنانے کا حلف اٹھا رکھا ہے اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بہت زیادہ آلودہ ہے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، سول و عسکری قیادت بھی شریک
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے۔
اجلاس میں افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل عاصم منیر، چیئرمین چیف آف سٹاف جنرل ساحر شمشاد اور بری و بحری افواج کے سربراہان کے علاوہ وفاقی وزرا شریک ہیں۔
ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر 44 فیصد سے زائد اضافہ, تنویر ملک ، صحافی
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر 44.49 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ہفتہ وار بنیاد پر بھی اس مہنگائی میں تقریباً ایک فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر مخلتف اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جن میں چکن، چینی، آٹے، آلو، انڈوں، کیلے اور دودھ کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملکی زرمبادلہ ذخائر میں پانچ کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی, تنویر ملک ، صحافی
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران پانچ کروڑ 61 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جو نو ارب 81 کروڑ 59 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر نو ارب 75 کروڑ 98 لاکھ ڈالر کی سطح تک آ گئے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ذخائر تین کروڑ 64 لاکھ ڈالر کمی سے چار ارب 20 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں جب کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر ایک کروڑ 97 لاکھ ڈالر کمی کے بعد پانچ کروڑ 55 لاکھ 19 لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں۔
سپریم کورٹ میں ’تقسیم‘: وہ کیس جس نے پاکستان میں نئے بحران کو جنم دیا
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس: ’یہ اجلاس مسلح افواج کو عدلیہ ہی نہیں قوم کے سامنے لا کھڑا کرے گا‘ عمران خان
وزیراعظم شہباز شریف نے آج جمعے کے روز دن 11 بجے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے جس میں سول و عسکری قیادت بھی شریک ہو گی۔
اجلاس میں افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل عاصم منیر، چیئرمین چیف آف سٹاف جنرل ساحر شمشاد اور بری و بحری افواج کے سربراہان کے علاوہ دفاع، خزانہ اور اطلاعات کے وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
اس پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن سے فرار کے لیے حکومت کے اقدامات مسلح افواج کو عدلیہ اور قوم کے سامنے لا کر کھڑا کر رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’اب پوری طرح سے واضح ہوچکا ہے کہ پی ڈی ایم ہر حال میں انتخابات سےفرار ہی چاہتی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے حوالے سےایک غیرآئینی قانون لے کر آئے اور انھوں نےعدلیہ کے خلاف قومی اسمبلی سےایک قرارداد منظور کی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب انتخابات کو التوا میں ڈالنےکی کوشش کرنے اور سیکیورٹی کو اس کے ایک جواز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ان کا یہ اقدام مسلح افواج کو عدلیہ ہی نہیں بلکہ براہِ راست قوم کے سامنے لاکھڑا کرے گا۔‘
ڈیرہ اسماعیل خان میں سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور گرفتار، دفعہ 144 نافذ
اپنے خلاف مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت کے لیے ڈی آئی خان کی ایک عدالت پہنچنے والے سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو پولیس کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کی ایف آئی آر میں درج ہے کہ علی امین خان گنڈاپور کو پولیس نے عدالت کے گیٹ پر گرفتار کیا۔ تھانہ کینٹ میں ایف آئی آر 144، 147، 149 اور 188 درج ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق علی امین گنڈا پور نے سکول اوقات میں روڈ کو بلاک اور نعرے بازی کی تھی۔ دوسرا مقدمہ 2022 میں اشتعال انگیز تقریر پر درج کیا گیا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’علی امین نے عمران خان کی گرفتاری پر اسلام آباد پر قبضہ کا آڈیو بیان جاری کیا تھا۔‘
ضلعی انتظامیہ نے ڈی آئی خان میں 10 روز کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق علی امین گنڈاپور کو کئی گھنٹوں ہائی کورٹ ڈیرہ بینچ کے احاطے میں موجود رہنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے وقت ڈی پی او ڈیرہ بکتر بند گاڑی اور پولیس نفری کے ساتھ موجود رہے اور افطاری کے بعد علی امین گنڈاپور نے گرفتاری دی۔
اس موقع پر سابق وزیر نے کہا کہ ’میں نے تمام ایف آئی آرز میں ضمانت کرائی ہوئی ہے۔ پولیس کے پاس کوئی وارنٹ موجود نہیں ہے۔‘
’پولیس مجھے اور میرے دوستوں کے گھر چھاپے مارتی ہے۔ مجھے پولیس نے نامعلوم ایف آئی آرز میں نامزد کیا ہوا ہے۔ ہمیں عدالتوں پر اعتماد ہے، اس لیے عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی جنگ قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ ہے۔ یہ کیسی آزادی ہے جس میں شہری کو بات کرنے کا حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ میں اس جنگ میں عمران خان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔‘
گرفتاری پر ردعمل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’آج پاکستان پوری طرح جنگل کے قانون کی گرفت میں ہے۔پی ڈی ایم اور اس کے سرپرست تحریک انصاف کے کارکنان اور قائدین کے تعاقب کے یک نکاتی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔
’ضمانتوں کے باوجود علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرنے کا فیصلہ پہلے ہی سے کیا گیا تھا۔ مگر اس سب کے باوجود انھیں انتخابات میں شکستِ فاش کی دھول چٹائیں گے۔‘
بریکنگ, قومی سلامتی کا اجلاس مسلح افواج کو عدلیہ ہی نہیں قوم کے سامنے لا کھڑا کرے گا: عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن سے فرار کے لیے حکومت کے اقدامات مسلح افواج کو عدلیہ اور قوم کے سامنے لا کر کھڑا کر رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’اب پوری طرح سے واضح ہوچکا ہے کہ پی ڈی ایم ہر حال میں انتخابات سےفرار ہی چاہتی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے حوالے سےایک غیرآئینی قانون لے کر آئے اور انھوں نےعدلیہ کے خلاف قومی اسمبلی سےایک قرارداد منظور کی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب انتخابات کو التواء میں ڈالنےکی کوشش کرنے اور سیکیورٹی کو اس کے ایک جواز کے طور پر استعمال کرنےکیلئےکل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ان کا یہ اقدام مسلح افواج کو عدلیہ ہی نہیں بلکہ براہِ راست قوم کے سامنے لاکھڑا کرے گا۔‘
بریکنگ, قرعہ اندازی نہیں ہوگی بلکہ رواں برس تمام درخواست گزاروں کو حج کے لیے بھیجا جائے گا: اسحاق ڈار
حکومت پاکستان نے رواں برس حج کے لیے درخواستین جمع کروانے والے تمام زائرین کو حج پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی جانے والی ٹویٹ کے مطابق ’اس سال حج کے لیے ریگولر سکیم کے تحت 44190 کا کوٹہ تھا، 72869 درخواستیں جمع کرائی گئیں‘
تاہم وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ ’وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر تمام حجاج کو بغیر قرعہ اندازی حجاز مقدس بھیجا جائے گا۔‘