آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں‘: جسٹس فائز عیسی کا وضاحتی بیان

آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمان میں منعقدہ کنونشن میں شرکت کرنے کے حوالے سے اپنا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کا بنایا جانا ہماری تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ہے جسے منانا ضروری ہے، آج سے پچاس سال قبل اسی آئین ہی کہ کمی کے سبب ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عدالتی اصلاحات کا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور، پی ٹی آئی سینیٹرز کا احتجاج

    عدالتی اصلاحات سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

    سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظوری کے لیے پیش کیا۔

    اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا، صدر نے بل واپس بھیج دیا، صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا پاس کردہ بل پاس واپس بھیجا ہے، دونوں ایوانوں نے اس بل پر بحث بھی کی تھی۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا صدر مملکت نے اپنے خط میں سوالات اٹھائے ہیں، صدر نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ نامناسب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بل پارلیمان کی صوابدید ہے، صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں کسی سیاسی جماعت کے رکن نہ بنیں۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد کا تعین بھی ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہی ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، آئین پاکستان کے تحت قانون ساز ایوان پارلیمنٹ ہے، یہ 22 کروڑ عوام کا نمائندہ ایوان ہے، امپیریل کورٹ کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے یہ بل لایا گیا ہے، تمام تر اختیارات اکیلے چیف جسٹس سے لے کر سینئیر تین ججوں کو دیے گئے ہیں۔

  2. بریکنگ, کوئٹہ میں پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکا، پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک متعدد زخمی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شاہراہ اقبال پر پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    کوئٹہ سول ہسپتال کے ترجمان وسیم بیگ کے مطابق قندھاری بازار دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 15 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

    ترجمان ہسپتال وسیم بیگ کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں دو افراد کی حالت نازک ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا ہے، تاحال دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ بتایا نہیں گیا ہے۔

  3. بریکنگ, چیف الیکشن کمشنر کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی تجویز، انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہونا چاہیے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پارلیمان کو ملک میں انتخابات کروانے اور انتخابی شیڈول جاری کرنے سے متعلق الیکشن ایکٹ کی شقوں (1)57 اور 58 میں ترامیم کرنے کی تجویز دی ہے۔

    پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں آئینی طور پر صدر کا انتخابات کی تاریخ دینے کا کوئی آئینی اختیار نہیں ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہونا چاہیے۔ ملک میں پرامن اور شفاف انتخابات کروانے کی ذمہ داری صرف الیکشن کمیشن کی ہے اور کوئی ادارہ اس ضمن میں ادارے کے اختیارات میں مداخلت کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے خط میں لکھا کہ اہم کیسز میں الیکشن کمیشن کی رٹ کو ختم کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب میں انتخابات کروانے کے فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسی صورتحال میں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری کیسے پوری کر سکتا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے خط میں کہا ہے کہ مجوزہ ترمیم میں سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔

  4. بریکنگ, آئین پاکستان کی اہمیت کو پہچاننا اور اس پر عمل کرنا چاہیے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت کو پہچاننا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔

    آئینِ پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے پر قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں منعقدہ کنونشن میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں یہاں کوئی سیاسی تقریر کرنے نہیں آیا بلکہ میں اپنے اور اپنے ادارے کی طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، اللہ کے سائے کے بعد اس کتاب کا سایہ ہمارے سر پر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت کو پہچاننا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔

    انھوں نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کا سیاسی میدان ہے لیکن میں قانونی نقطہ نظر سے چیزوں کو دیکھتا ہوں، آپ ہم پر تبصرے اور تنقید کرسکتے ہیں، ہم نے تنقید سنی بھی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمان کا وجود اور مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہونی چاہئیں، ہمارا کام یہ ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق جلد فیصلے کریں، آپ کا کام ہے کہ ایسے قوانین بنائیں جو لوگوں کے لیے بہتر ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ آج یہاں (ایوان) میں بہت سی سیاسی باتیں بھی ہوئیں، میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں آج یہاں ہونے والی تمام باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، آج آئین کے گولڈن جوبلی تھی، میں صرف اس کے جشن میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم، علامہ اقبال اور ان کے ساتھیوں نے ایک خواب دیکھا اور پھر ایک تحریک چلی جس نے دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک بنایا۔

    ان کا کہنا تھا بدقسمتی سے آج پاکستان اپنا وہ مقام کھو چکا ہے اور انڈونیشیا کو یہ مقام حاصل ہے۔

    ایوان میں خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انھوں نے ایوان سے سوال کیا کہ اگر ماضی میں جائیں اور مولوی تمیز الدین کے مقدمے کو دیکھے تو اس وقت کے ججز نے جس دستور ساز اسمبلی کو بحال کیا تو میں بطور قانون دان اور قانون کے طالبعلم کے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا پاکستان دو ٹکڑوں میں ہوتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئین کو پچاس برس ہو گئے ہیں ہمیں اس کو اپنے دل سے لگانا چاہیے کیونکہ اس میں عوام کے بنیادوں حقوق کا تذکرہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آئین کو اپنے سکولوں میں پڑھانا چاہیے۔ جب بچپن سے ہی ہم آئین اور ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں گے تو معاشرے میں بہت بہتری ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں بہت سی اچھی چیزیں ہیں جو دیگر ممالک میں نہیں ہے جس میں معلومات کی رسائی کا حق ہے۔

    انھوں نے کہا کہ میں ایک بار دوبارہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں ایوان میں ہونے والی سیاسی باتوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور میں اور میرا ادارہ آئین کا محافظ ہے۔

  5. حج 2023: عام پاکستانی کے لیے حج پہنچ سے باہر، کیا مدت میں کمی سے اخراجات کم ہو سکتے ہیں؟

  6. ڈالر کی قدر میں دو روپے سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں سوموار کے روز ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت دو روپے چوالیس پیسے اضافے کے بعد 287.09 روپے پر بند ہوئی۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت 293 روپے کی سطح پر بند ہوئی ۔

    کرنسی مارکیٹ ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر ہے۔

    کرنسی مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق گزشتہ ہفتے اس پروگرام سے متعلق تھوڑی سی مثبت پیش رفت کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی تھی تاہم اس کے بارے میں دو بارہ کسی پیش رفت کی اطلاع نہ ہونے نے روپے کی قدر پر منفی اثر ڈالا ہے۔

  7. اپوزیشن کو مزاکرات کے لیےوزیر اعظم کے پاس آنا ہو گا: سابق صدر آصف علی ذرداری

    سابق صدر آصف علی ذرداری نےآئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہم نے کبھی سیاست میں مذہب کا استعمال نہیں کیا۔ میرے پاس سارے راز ہیں کچھ شیئر کر سکتا ہوں اور کچھ نہیں کر سکتا۔ ‘

    آصف ذرداری کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ یہاں کوئی بھی ایسا شخص بیٹھا ہے جس نے 14 سال جیل کاٹی ہو۔‘

    آصف ذرداری نے کہا ’یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ عدالت نے نوٹس دیا ہومیرے حلاف بھی از خود نوٹس ہوئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا ’بی بی صاحبہ(بے نظیر بھٹو سابق وزیر اعظم) کہتی تھیں کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو قبر تک ساتھ جاتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ’بے نطیر کی شہادت پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا، اگر یہ نعرہ نہ لگاتا تو ملک ٹوٹ جاتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کو مزاکرات کے لیےوزیر اعظم کے پاس آنا ہو گا۔ ڈائیلاگ کا اِختیار وزیر اعظم کے پاس ہے۔ ہم نے تحریک انصاف کو نہیں کہا کہ وہ ریزائن کر جائیں۔‘

  8. ’سیلیکٹڈ وزیر اعظم کو نکالنے کا مطلب یہ نہیں کہ سازش ختم ہو گئی‘

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی تاریخ میں ایسے بھی ججز موجود ہیں جنھوں نے ہر آمر کی آمریت کو رد کیا ہے اور ایسے بھی ججز گزرے جنھوں نے آئین کا احترام نہیں کیا۔‘

    پارلیمنٹ میں جاری خصوصی تقریب سے خطاب میں بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ وہی ججز تھے جنھوں نے قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا کے فیصلے سے اختلاف اور مشرف کو سیلوٹ دینے سے انکار کیا۔‘

    بلاول بھٹو کےمطابق ’بہادر اور نڈر ججز ہمیشہ ہماری تاریخ میں موجود رہے تاہم ان کے برعکس ایسے ججز بھی ہیں جنھوں نے آئین کا احترام نہیں کیا۔ جو لوگ اس وقت کی سازش میں موجود تھے وہ آج بھی عدلیہ میں موجود ہیں جو ہر آمر کا ساتھ دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سیلیکٹڈ وزیر اعظم کو نکالنے کا مطلب یہ نہیں کہ سازش ختم ہو گئی اور اسی سازش کو ناکام بنانا ہے۔‘

  9. ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حالات اتنے مشکل ہیں: شہباز شریف

    پارلیمنٹ ہاوس میں آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’آئین آج بھی زندہ ہے آج سے ایک سال کی اپوزیشن نے پاکستان کو مشکل حالات سے بچانے کی کوشش کی اور آئین کا سہارا لیا۔‘

    شہباز شریف کے مطابق ’ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حالات اتنے مشکل ہیں۔ ایک صاحب نے مبارکباد دی کہ یہ اتحادی حکومت ایک ماہ سے ذیادہ نہیں چل سکتی تھی لیکن اپ نے کمال کر دیا۔‘

    شہباز شریف نے کہا ’ آج اس اتحادی حکومت کو ایک سال ہو گیا ہے۔ تمام جماعتوں نے اپنے اپنے منشور کے مطابق الیکشن میں جانا ہے لیکن جب طے کر لیں کہ مل کر چلنا ہے تو بڑے بڑے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔‘

  10. جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس پر دوبارہ نظر ثانی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر ریفرنس پر نظر ثانی کی اپیل (کووارنٹوریویو ) پر آج سماعت چیف جسٹس پاکستان کے چیمبر میں ہوئی۔سماعت مکمل ہونے پر چیف جسٹس نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    اٹارنی جنرل ان چیمبر پیش ہوئے اور حکومت کی نمائندگی کی جبکہ ایف بی آر اور وفاقی حکومت کے توسط سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ انیس محمد بھی چیمبر میں پیش ہوئے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر نظر ثانی درخواستیں 26 اپریل 2021 کو خارج ہوئیں تھیں۔

    پی ٹی آئی نے نظر ثانی درخواستیں خارج ہونے دوبارہ نظر ثانی کی اپیل دائرکی تھی۔ موجودہ حکومت نے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد کیوریٹیو ریویو واپس لینے کی درخواست دائر کی تھی۔

    اٹارنی جنرل نے فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد صحافی مطیع اللہ جان کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’چیف جسٹس کے چیمبر میں کیوریٹو ریویو اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ ہماری استدعا میں کہا گیا تھا کہ آئین میں ہمارے ہاں اس وقت سیکینڈ ریویو یا کووارنٹو ریویو کی گنجائش نہیں ہے۔‘

    اٹارنی جنرل کے مطابق ’انڈیا میں ایک ججمنٹ کے بعد آیا تھا جس پر سیکنڈ ریویو فائل ہوا تھا جس پر انڈیا نے اپنے رولز میں تبدیلی کر کےاب سیکنڈ ریویو (دوبارہ نظر ثانی) کی گنجائش بنائی گئی ہے اور وہ ججمنٹ جیوڈیشل پروسیڈنگ پر آیا تھا۔‘

    اٹارنی جنرل کے مطابق ’ہمارے پاس انتظامی سطح پر رجسٹرار کے فیصلے پر اعتراض تھا اجس پر ہم نے اپیل کی۔‘

  11. سینیٹ میں تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک دن کرانے کی قرارداد منظور

    پاکستان کے ایوان بالا نے تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک دن کرانے کی قرارداد منظور کر لی ۔

    قرارداد سینیٹر طاہر بزنجو نے پیش کی۔

    قرارداد کے مطابق ’معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے، آئین کے تحت تمام اسمبلیوں کے انتخابات، نگران سیٹ اپ میں اکھٹے ہوں۔‘

    قرار داد کے مطابق ’ پنجاب میں علیحدہ روز پر انتخابات ، عام انتخابات کے آوٹ کم کو متاثر کرے گا اس سے وفاق میں چھوٹے صوبوں کا کرداد متاثر ہو گا، اسی لیے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات ایک روز کرائیں۔‘

    قرارداد کے مطابق سیاسی قیادت اور شراکت دار کی زمہ داری ہے کہ باہمی مشاورت سے جتنی جلدی ہو الیکشن تاریخ کا اعلان کیا جائے۔

  12. آئین کو قراردادوں سے نہیں بدلا جا سکتا: فواد چوہدری

    تحریک انصاف کے رہمنا فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین کو قراردادوں سے نہیں بدلا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے خلاف قررداد پیش کرنے والے ائین کی خلاف کام کر رہے ہیں۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر عمل درامد کروائے گی اور تحریک انصاف اس کےپیچھے کھڑی ہو گی۔‘

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعلی پنجاب کے خلاف توہین عدالت میں جارہے ہیں ۔نگران وزیر اعلیٰ ایسے اختیارات کا استعمال کررہے ہیں جیسےیہ منتخب وزیر اعلیٰ ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرانسفر پوسٹنگ میں بھی نگران وزیر اعلیٰ اپنے اختیارات استعمال کررہا ہے۔‘

  13. الیکشن ایک ہی وقت میں نگران حکومتوں کے زیرِ اہتمام ہوں گے تو بچت یقینی بنائی جا سکے گی: اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’ملک میں الیکشن کا منعقد ہونا آئینی و قانونی ذمہ داری ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن ایک ہی وقت میں نگران حکومتوں کے زیرِ اہتمام کروانے جائیں۔

    ’اس مجموعی طور پر بچت یقینی بنائی جا سکتی ہے اور انتخابات کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آئینِ پاکستان کے تحت پارلیمان کی بالادستی ایک حقیقت ہے اور عدلیہ سمیت دیگر اداروں کے حدود کا تعین کر دیا گیا ہے۔

    ’الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں غیر جانبدارانہ انتخابات کروائے، لیکن گذشتہ حکومت کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے باعث موجودہ ملکی صورتحال میں فی الحالی ملک میں انتخابات نہیں کروائے جا سکتے۔‘

  14. بریکنگ, اسحاق ڈار نے الیکشن اخراجات بل پارلیمان میں پیش کر دیا

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں الیکشن اخراجات بل پییش کر دیا ہے۔

    انھوں نے اس دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ساتھ اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان کی معیشت کو دوبارہ ترقی کی طرف لے کر جائیں گے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ جلد کر لیا جائے گا۔

    انھوں نے بتایا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص رقم 360 سے 400 ارب کر دی گئی ہے۔

  15. شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نےسابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ کھنہ میں دو درج مقدمات میں 29اپریل تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے دوران سماعت تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی کو کیسز سے ڈسچارج کرنا ہے؟

    انھوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ پراسیکیوشن سے پوچھ لیں کہ ’اس مقدمے میں اللہ کے علاوہ اور کون گواہ ہے۔ سابق وزیرخارجہ کو کٹہرے میں کھڑاکیا ہوا ہے، وجہ تو بتائیں۔‘

    اس موقع پر ملزم شاہ محمود قریشی نے عدالت کو بتایا کہ ’میں جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا‘ جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا معلوم آپ کی روح جائے وقوعہ پر موجود ہو۔جج کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے بھی بلند ہوئے۔

    عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ شاہ محمود اور عمران خان کے حکم پر پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کیاتو کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟

    انھوں نے تفتیشی افسر سے کہا ’کیا آپ کو یقین ہےکہ ایس ایچ او کی موجودگی میں شاہ محمود اور عمران خان نے کارکنان کو حکم دیا۔ جس پر پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اور شاہ محمود نے کارکنان کو احتجاج کا حکم دیا اور کارکنان نے اگے پیغام پہنچایا۔

    شاہ محمود قریشی نے عدالت کو بتایا ’ماہ رمضان ہے، روزے کی حالت میں ہوں، پراسیکیوشن جھوٹ کہہ رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ میں نے کسی کو کبھی اکسایا، نہ 40 سال میں ایسا کوئی حکم دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پراسیکیوشن سے حلف لے کر کہیں کہ مجھ پر الزام سچ لگا رہے ہیں اور میں عدالت کا حکم ماننے کے لیے تیار ہوں۔

    مقدمے کے پراسیکوٹر نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق ایسے کیسز میں حلف پر بیان نہیں لیا جاسکتا ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سیاسی بنیادوں پر انتقام لینے کے لیے کیسز دائر کیے گئے۔

  16. عمران خان کا ایس ایچ او عامر شہزاد کی موت پر تحقیقات کا مطالبہ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ حال ہی میں دل کا دورہ پڑنے کے نتیجے میں وفات پانے والے ایس ایچ او عامر شہزاد کی موت کی باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’وزیر آباد میں مجھ پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج کیا گیا چنانچہ قتل کے اس منصوبے، جس کی تحقیقات جے آئی ٹی کر رہی ہے کے پیچھے کار فرما عناصر کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے ایس ایچ او عامر شہزاد ایک کلیدی کردار تھے۔‘

  17. بریکنگ, وفاقی کابینہ کا پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کا معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ نے پنجاب میں انتخابات کے لیے 20 ارب روپے جاری کرنے کے معاملے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کی منظوری دے دی۔

    شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں منطور ہونے والی وزارت خارجہ کی سمری اب پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی اور اس بارے میں پارلیمنٹ کی رائے کو فوقیت دی جائے گی۔

  18. چیف جسٹس پاکستان سمیت چار ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجازالاحسن کے خلاف شکایت دائر کی گئی ہیں جبکہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف بھی ایک اور شکایت دائر کر دی گئی۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ غلام محمود ڈوگر اور صوبائی انتخابات کیس میں ججز نے مس کنڈکٹ کیا ہے

    سردار سلمان ڈوگر ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر شکایات میں استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت چاروں ججز کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

    درخواست کے مطابق ’چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت چاروں ججز مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، چاروں ججز نے آرٹیکل 209 کی خلاف ورزی کی۔‘

    ججز کے خلاف شکایت کی کاپیاں سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر ممبران کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔

  19. امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم میں بڑا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موجودہ مالی سال میں مارچ کے مہینے میں ملک بھیجی جانے والی رقوم میں فروری کے مہینے میں 27 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 2.5 ارب ڈالر رہیں۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ’بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں اگست 2022 کے بعد یہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘

    سٹیٹ بینک کے مطابق ’مارچ کے مہینے میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سب سے زیادہ 56 کروڑ چار لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے گئے جو فروری کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہیں۔امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم 44 فیصد زیادہ رہیں۔‘

    سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یو اے ای، برطانیہ اور یورپی یونین میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھی رقوم بھیجنے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق رمضان کے مہینے میں بیرون ملک پاکستانی رقوم زیادہ بھیجتے ہیں جس کی وجہ سے یہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا

  20. وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں جاری،پنجاب میں انتخابات کے لیے20 ارب روپے جاری کرنے کا معاملہ زیر بحث, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں جاری ہے جس میں اتوار کے روز کابینہ کے اجلاس میں پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے20 ارب روپے جاری کرنے کے معاملے کو زیر بحث لایا جارہا ہے۔

    وفاقی کابینہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے 20 ارب روپے جاری کرنے کے معاملے پر فیصلہ کرے گی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ 10اپریل تک الیکشن کمیشن کو 20 ارب روپے جاری کرے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو وفاقی کابینہ کی طرف سے فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ 11 اپریل کو سپریم کورٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔

    حکومتی ذ رائع کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ وفاقی کابینہ اس معاملے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں لے کر جائے گی اور وہاں سے اس بارے میں ارکان قومی اسمبلی کے رائے لےکر اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔