آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں‘: جسٹس فائز عیسی کا وضاحتی بیان
آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمان میں منعقدہ کنونشن میں شرکت کرنے کے حوالے سے اپنا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کا بنایا جانا ہماری تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ہے جسے منانا ضروری ہے، آج سے پچاس سال قبل اسی آئین ہی کہ کمی کے سبب ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔
لائیو کوریج
اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنیں: ’صرف چہرے بدل گئے ہیں قوانین اور پالیسی وہی ہے‘
آئی ڈی اے: وہ ایپ جس کے ذریعے سینکڑوں پاکستانی اپنی ساری جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
12 اپریل اور اس کے بعد کی خبروں کے لیے نئے لائیو پیج کا رخ کریں۔
سپریم کورٹ نے بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
فیصلے کے متن کے مطابق دیوانی مقدمات میں بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ شخصی آزادی اور نجی زندگی کے خلاف ہے، آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 شخصی آزادی اور نجی زندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تاج دین اور زبیدہ بی بی کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا گیا وہ کیس میں فریق ہی نہیں۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نجی زندگی کا تعلق انسان کے حق زندگی کے ساتھ منسلک ہے، مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ نجی زندگی میں مداخلت ہے، فوجداری قوانین کی بعض شقوں میں مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت ہے۔
علاوہ ازیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون شہادت کے مطابق شادی کے عرصے میں پیدا بچے کی ولدیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم خیال رہے کہ جائیداد کے تنازع میں لاہور ہائیکورٹ نے تاج دین، زبیدہ اور محمد نواز کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا تھا۔
بریکنگ, ’شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں‘: جسٹس فائز عیسی کا وضاحتی بیان
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری منفی پراپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں۔
انھوں نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمان میں منعقدہ کنونشن میں شرکت کرنے کے حوالے سے اپنا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کا بنایا جانا ہماری تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ہے جسے منانا ضروری ہے، آج سے پچاس سال قبل اسی آئین ہی کہ کمی کے سبب ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے۔
ترجمان سپریم کورٹ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کی دعوت صرف مجھے ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو بھی دی گئی تھی۔ یہ دعوت قبول کرنے سے پہلے میں نے معلومات حاصل کی تھیں کہ آیا اس تقریب میں سیاسی باتیں ہونی ہیں یا آئین پر بات ہو گی۔
ان کے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ڈپٹی ڈائریکٹر قومی اسمبلی اور سپیکر قومی اسمبلی نے مجھے اور میرے سٹاف کو بتایا کہ اس تقریب میں صرف آئین اور اس کے بنانے سے متعلق بات کی جائیگی۔ جس پر میں نے یہ دعوت قبول کی۔ میرے لیے یہ امر باعث حیرت ہے کہ کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ میں ایوان میں کہاں بیٹھا تھا حالانکہ بیٹھنے کی جگہ کا انتخاب قطعاً میرا نہیں تھا۔ میں شاہد وہاں بات بھی نہ کرتا۔ مگر جب میں نے محسوس کیا کہ یہاں کی جانے والی باتیں سیاسی ہیں اور اگر اس پر میں نے اپنا موقف واضح نہ کیا تو قیاس آرائیاں بڑھیں گیں۔‘
اپنے وضاحتی بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا ہے کہ آئین کی گولڈن جوبلی تمام شہریوں کے لیے جشن مسرت ہے یہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا ادارے کا تنہا استحقاق نہیں۔ آئین کی اہمیت سب پر واضح کی جانی چاہیے اور ایسا مسلسل کرنا چاہیے۔
حکومت نے فنڈز جاری کرنے کے بجائے معاملے کو پروسیجر میں ڈال دیا ہے: الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں جواب
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں پنجاب و خیبربختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ رپوٹ ایک صفحے پر مشتمل ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے اور حکومت نے فنڈز جاری کرنے کے بجائے معاملے کو پروسیجر میں ڈال دیا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21ارب جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کے پرامن انعقاد کے لیے دو لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف ایک اور آپریشن: ’ہم قرآن لے کر ڈاکوؤں کے ڈیرے پر گئے مگر انھوں نے بچے کو رہا نہ کیا‘
وزیر اعظم پاکستان سردار تنویر الیاس کو دی گئی سزا سے سبق حاصل کریں: فواد چوہدری
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی نااہلی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آزاد کشمیر کا وزیراعظم ہو یا پاکستان کا، عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہے، عدالتی نظام کو تباہ کر کے ملک نہیں چل سکتے۔‘
فواد چوہدری نے مزید لکھا ’وزیر اعظم آزاد کشمیر عدالت سے معافی مانگیں، امید ہے انھیں سپریم کورٹ سے ریلیف ملے گا۔ وزیر اعظم پاکستان اس فیصلے سے سبق حاصل کریں گے۔‘
بریکنگ, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِاعظم سردار تنویر الیاس کو خطے کی ہائی کورٹ نے نااہل قرار دے دیا
پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے خطے کے وزیرِ اعظم سردار تنویر الیاس کو توہینِ عدالت کیس میں نااہل قرار دے دیا ہے۔
سردار تنویر الیاس کو ہائی کورٹ کی جانب سے عدالت برخاست ہونے تک سزا سنائی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق گذشتہ روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے 10 اپریل کو ہائی کورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعظم سردار الیاس تنویر کو توہین عدالت کیس میں منگل کے روز طلب کر رکھا تھا۔
سردار تنویر الیاس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ایک عوامی اجتماع میں عدالتوں کی جانب سے سٹے آرڈرز (حکم امتناع) جاری کرنے کی روش پر کھلے عام تنقید کے بعد شروع کی گئی تھی۔
پیر کے روز ایک عوامی اجتماع میں سابق وزیر اعظم کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کی طرف سے جاری کردہ حکم میں کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ ججوں کی میٹنگ میں کیا گیا جہاں اس معاملے پر کافی طویل پر بحث ہوئی جس کے اختتام پر ججوں کی رائے تھی کہ وزیر اعظم کا مجموعی طرز عمل توہین آمیز ہے۔
دو رکنی بینچ نے وزیر اعظم کو توہین عدالت کی کارروائی کے لیے منگل کے روز پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عدالت کے روبرو اپنی پوزیشن واضح کریں جبکہ اس کیس کی آئندہ شنوائی فل بینچ کے سامنے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سردار تنویر الیاس نے کہا تھا کہ عدالتوں کی جانب سے سٹے آرڈرز جاری کرنے کی روش حکومت کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
کچلاک میں پولیس کی ایک کارروائی میں مبینہ شدت پسند سمیت چار پولیس اہلکار ہلاک
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں علی الصبح پولیس کی ایک کارروائی میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ ایک مبینہ شدت پسند بھی مارا گیا ہے۔
کچلاک پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کاروائی کلی لُنڈی کے علاقے میں ایک کمپاونڈ میں کی گی۔
اہلکارکے مطابق ’کارروائی کے موقع پر پولیس پرہونے والی فائرنگ میں چار پولیس اہلکارہلاک ہوگئے جبکہ پولیس کی کارروائی میں ایک مبینہ شدت پسند ہلاک ہوا۔‘
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسند کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔
کوئٹہ میں ایک سینئرپولیس اہلکار نے بتایا کہ کچلاک میں کارروائی تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کی موجودگی پر کی گئی۔
دوسری جانب وزیراعلئ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’دہشت گردی کا مکمل خاتمہ قوم اور حکومت کا مشترکہ عزم ہے۔‘
واضح رہے کہ دو روز قبل بھی کچلاک میں ایک حملے میں پولیس کے ایگل اسکواڈ کے دو اہلکارمارے گئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں ایک مبینہ شدت پسند بھی ہلاک ہوا تھا۔
گزشتہ پانچ روز کے دوران کچلاک میں مجموعی طور پرپولیس اہلکاروں سمیت 8 سیکورٹی اہلکار ہلاک اوردو شدت پسند مارے گئے ہیں۔
بریکنگ, سپریم کورٹ میں پنجاب الیکشن کےمعاملے پر الیکشن کمیشن کی رپورٹ جمع
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں پنجاب الیکشن کے حوالے سے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔
الیکشن کمیشن کاعملہ سربمہر لفافے میں رپورٹ لے کر سپریم کورٹ پہنچا اور پنجاب الیکشن کے حوالے سے رپورٹ رجسٹرار آفس جمع کروا دی ہے۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 سپریم کورٹ میں چیلنج
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 میاں محمد حسین ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
میاں محمد حسین ایڈوکیٹ کی جانب سے درخواست میں ایکٹ کو ’غیر قانونی اور غیر آئینی‘ قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درحواست کے مطابق سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہی حاصل ہے اور اس حوالے سے قانونی سازی بدنیتی پر مبنی ہے۔
ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 70 کے تحت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود نہیں کیے جا سکتے۔‘
افسوس ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے ایسے لوگوں میں تقریر کی جن کے مقدموں کے انھوں نے فیصلے کیے تھے: فواد چوہدری
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کل پارلیمان میں جس طرح سے سپریم کورٹ کی بے توقیری کی گئی اور جس طرح سے پاکستان کے آئین کا مذاق اڑایا گیا شاید ہی دنیا کی کسی پارلیمان میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہو۔
لیکن اس پر افسوس کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک سینیئر جج نے اپنی منشا اور مرضی سیاسی لوگوں کے ساتھ ڈالی۔ وہ دو ایسے لوگوں کے درمیان جا کر بیٹھے اور تقریر کی جن کے مقدموں کے انھوں نے فیصلے کیے تھے۔
آج وکلا تنظیمیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ہم کسی ذاتی تنقید کا حصہ نہیں بنیں گے، لیکن وکلا تنظیموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج کر دی ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر عدالت نے سوال کیا کہ توشہ خانہ کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے کی درخواست پر کیا کہتے ہیں؟ اس پر عمران خان کے وکلا نے کہا کہ جلد سماعت مقرر کرنے کا جواز کیا ہے؟ پیسا ضائع ہوتا ہے، الیکشن کمیشن کی مرضی سے 29 اپریل کی تاریخ لی، دو دن بعد الیکشن کمیشن کو خیال آیا ہے کہ تاریخ جلد مقرر کرانی ہے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے اثر و رسوخ کے بغیر ہونا ہے لیکن عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’توشہ خانہ کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی کوشش کیس میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ عمران خان پر فردِ جرم عائد کیا جائے۔‘
عدالت نے کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی توشہ خانہ کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا۔
خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے لیے پی ٹی آئی پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی
خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق پی ٹی آئی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تحریک انصاف انتخابات کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی، ہائی کورٹ سے دادرسی نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
رجسٹرار سپریم کورٹ نے گذشتہ روز پی ٹی آئی کی درخواست اعتراضات عائد کر کے واپس کر دی تھی۔
قومی آئینی کنونشن میں چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کو مدعو کیا گیا تھا، خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے: ترجمان
قومی اسمبلی قومی اسمبلی کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ پیر کے روز ہونے والا اجلاس، جس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شرکت کی تھی، قومی آئینی کنونشن تھا نہ کہ پارلیمانی اجلاس جسے آئین پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق قومی آئینی کنونشن قومی اسمبلی میں آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کا ایک حصہ تھا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد بشمول سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو مدعو کیا گیا تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت صوبائی عدالتوں کے جج صاحبان کو بھی اس تقریب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق آئین کے تینوں ستونوں یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس قومی سطح کے اجلاس میں مناسب نمائندگی دی گئی۔
یاد رہے کہ اس قومی آئینی کنونشن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شرکت اور تقریر کے بعد مختلف طبقوں کی طرف سے سوالات اٹھائے گئے تھے اور ان کی تقریر کے بعض حصے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ شیئر کیے تھے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس تقریب سے متعلق خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ’ آج یہاں (ایوان) میں بہت سی سیاسی باتیں بھی ہوئیں، میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں آج یہاں ہونے والی تمام باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، آج آئین کے گولڈن جوبلی تھی، میں صرف اس کے جشن میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔‘
انھوں نے اپنی تقریر کے آخر میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی کہ ’میں ایک بار دوبارہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں ایوان میں ہونے والی سیاسی باتوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور میں اور میرا ادارہ آئین کا محافظ ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ردعمل صحافی کامران خان کا کہنا تھا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سیاسی طور پر چارج شدہ پی ڈی ایم کے پارلیمنٹ کے پروگرام میں موجودگی نے قانونی برادری اور سوشل میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔‘
ایک وکیل نے تبصرہ کیا کہ ’آصف زرداری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر گھنٹوں عمران خان اور عدلیہ مخالف تقاریر سننے سے اُن کی غیر سیاسی شبیہہ کو نقصان پہنچایا۔
’واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے کسی اور جج نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی۔ یہ منقسم سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے ایک اور نیا تنازع ہے!
قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خطاب میں کیا کہا؟
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں کوئی سیاسی تقریر کرنے نہیں آیا بلکہ میں اپنے اور اپنے ادارے کی طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، اللہ کے سائے کے بعد اس کتاب کا سایہ ہمارے سر پر ہے۔‘
انھوں نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ آپ سب کا سیاسی میدان ہے لیکن میں قانونی نقطہ نظر سے چیزوں کو دیکھتا ہوں، آپ ہم پر تبصرے اور تنقید کر سکتے ہیں، ہم نے تنقید سنی بھی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عدلیہ اور پارلیمان کا وجود اور مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہونی چاہئیں، ہمارا کام یہ ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق جلد فیصلے کریں، آپ کا کام ہے کہ ایسے قوانین بنائیں جو لوگوں کے لیے بہتر ہوں۔‘
پنجاب میں انتخاب۔۔۔ بوجھیں تو جانیں! عاصمہ شیرازی کا کالم
عمران خان کی ایف ایٹ کچہری میں پیشی پر فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس کے ایک بیان کے مطابق عمران خان کی اسلام آباد آمد کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کےمطابق اسلام آباد میں عمران خان کو آج توشہ خانہ کیس کے علاوہ کئی مقدمات میں طلب کیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے بیان کے مطابق ’عمران خان کی ایف ایٹ کچہری میں پیشی پر فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ عمران خان کے کیسز میں شامل تفتیش ہونے پر بھی مکمل سیکیورٹی مہیا کی جائے گی۔‘
واضح رہےر توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن کی جلد سماعت کی درخواست پر عدالت نے عمران خان کو 11 اپریل کو طلب کیا ہوا ہے۔
کوئٹہ دھماکہ: ’معصوم کلثوم ماموں کے ہمراہ عید کی شاپنگ کر رہی تھی‘