یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
17 اپریل اور اس کے بعد کی خبروں اور تجزیوں کے لیے ہماری نئی لائیو کوریج کا رُخ کریں۔۔۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیاسی معاملات خود طے کیے جانے چاہیے کیونکہ اگر آپ عدالتوں میں جائیں گے تو اس سے عدلیہ کا نقصان ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست میں تقسیم ضروری ہے لیکن سپریم کورٹ میں تقسیم خطرناک ہے۔
17 اپریل اور اس کے بعد کی خبروں اور تجزیوں کے لیے ہماری نئی لائیو کوریج کا رُخ کریں۔۔۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے اور اگر قدغن لگا دی جائے گی کہ صرف وہی قانون سازی ہوگی جو کوئی اے بی سی ڈی یا سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کہے گی ’پھر تو پارلیمنٹ کی آئینی بالادستی ختم ہوگئی۔‘
وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں راجہ پرویز اشرف نے کہا ’سپریم کورٹ کے ججز پر بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ غور کریں کہ کہیں ان کے طرزِ عمل کی وجہ سے ملکی مفاد کو تو نقصان نہیں پہنچ رہا۔ کہیں ہم اپنی پارلیمان کو خود ہی بے وقت تو نہیں کر رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم الیکشن کی بات کریں ہم تو ذاتی انا کی طرف جا رہے ہیں کہ انا کا معاملہ بن گیا ہے۔ سننی تو سب کی چاہیے اسی طرح حکومت کو بھی اس پر ہٹ دھرمی نہیں کرنا چاہیے۔ ان کو اپنے سیاسی معاملات کبھی کورٹ میں نہیں لے جانے چاہیے بلکہ خود حل کریں۔‘
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ’سیاسی معاملات عدالت میں لے جانے سے ملک کی عدلیہ کمزور ہو گی۔ سیاست میں تقسیم ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر سیاست نہیں چل سکتی مگر سپریم کورٹ میں تقسیم خطرناک بات ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں مداخلت کرے گی تو پھر دوسرے ادارے بھی حدود سے تجاوز کریں گے۔
’پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار کو تسلیم نہیں کرنا تو پھر انتخابات کا مذاق بھی ختم کر دیں۔ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے۔ قدغن لگا دی جائے گی تو صرف وہی قانون سازی ہوگی جو سپریم کورٹ کہے گی۔‘
’آرمی چیف نے (سکیورٹی بریفننگ کے موقع پر) آئین سے وابستگی کا اظہار کیا۔ پارلیمان کی سربلندی پر یقین کا اظہار کیا، یہ ہم سب کے لیے باعث تقویت تھا۔ اس قسم کے خیالات کی آج پاکستان کو ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے خلاف کوئی نیا آپریشن ہونے نہیں جا رہا لیکن شرپسندوں اور دہشتگردی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ’یہ سازش، ہائبرڈ وار، کہاں تیار ہوئی؟ اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آرمی چیف کا بیان ’باعث اطمینان تھا۔‘
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے کارکن وقاص امجد کے مبینہ طور پرلا پتہ کیے جانے کی شدید مزمت کی ہے۔
اپنی ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ ’ سوشل میڈیا کارکنوں کے مسلسل اغوا کی شدید مذمت کرتے ہیں، جن میں اب تازہ کڑی وقاص امجد ہیں۔
عمران خان نے لکھا ’ہمارا پاک` میں آج کل جنگل کا قانون ہے۔ ان کے مطابق ’ احکامات ایک اعلیٰ اتھارٹی کی طرف سے آتے ہیں جو کہ تمام قوانین سے بالاتر ہیں جن میں پہلے اغوا کیا جاتا ہے ، پھر جعلی ایف آئی آر درج کی جاتی ہیں۔
عمران حان نے لکھا کہ ’یہاں تک کہ زمان پارک میں کھانا فراہم کرنے والوں کو بھی اٹھایا جا رہا ہے اور دہشت زدہ کیا جا رہا ہے۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’ہمیں مین سٹریم میڈیا سے بلیک آؤٹ کر دیا گیا ہے اور اب سوشل میڈیا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان جتنا مرضی زور لگالیں، 14 مئی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔
فیصل آباد میں اپنے حلقے میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کے دوران رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’انتخابات اکٹھے ہوں گے اور مقررہ وقت پر اسی سال ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 4 سال میں عمران خان نے جو کیا آپ کے سامنے ہے،ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا کہا گیا کہاں ہیں نوکریاں اور گھر۔‘
وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ جیسے ہی الیکشن شروع ہوگا نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے پیر کے روز دن گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ 13 اپریل کے بعد سے معمول کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باعث منعقد نہ ہوسکا جس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جانا تھا۔
یاد رہے اس خطے سابق وِزیراعظم سرادر تنویر الیاس خان کو ہائی کورٹ کی جانب سے نااہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ کو دی جانے والی درخواست مسترد ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا متفقہ امیدوار سامنے نہیں لا سکے۔
سابق وزیرراعظم راجہ فاروق حیدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’قانون ساز اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اس وقت اکثریت پارٹی ہے۔‘
راجہ فاروق حیدر کے مطابق ’قائد ایوان کے حوالے سے متفقہ فیصلہ انکو کرنا ہے مگر پی ٹی آئی تاحال کوئی متفقہ امیدوار سامنے لانے میں ناکام ہے۔‘
تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے علی حیدر زیدی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سندھ کے صدر اور ہمارے سینیئر رہنما علی زیدی کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’افسوس کہ حکمران اور طاقتور حلقے معاملات کے سلجھاؤ اور ملکی مسائل کے حل کی بجائے تحریک انصاف کو توڑنے کی مسلسل ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے مطابق انھوں مے موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے کل چئیرمین عمران خان اور سراج الحق صاحب کی ملاقات کے بعد جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے تحریک انصاف کی تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
کمیٹی کے رکن پرویز خٹک، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید ہوں گے۔
یاد رہے گذشتہ روز جماعت اسلامی کے وفد نے چئیرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی تھی۔
وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ 10 روپے کے اضافے کے ساتھ پیٹرول کی نئی قیمت 282 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔
رواں سال وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اب تک 67.2 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے اور یہ ملک کی تاریخ میں پیٹرول کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔
جولائی 2022 میں پیٹرول کی قیمت 248.74 فی لیٹر تھی جو اُس وقت تاریخی اعتبار سے بلند ترین سطح تھی۔ رواں سال جنوری میں پیٹرول کی قیمت میں 35 روپے کا اضافہ کیا گیا جو کہ ملک کی تاریخ میں ایک بار کیا جانے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔
جون 2022 میں برینٹ خام تیل کی قیمت 123 ڈالر تھی جبکہ اپریل 2023 کے وسط میں یہ 86 ڈالر کے قریب ہے۔
صحافی شہباز رانا کے مطابق روپے کی قدر میں حالیہ گراوٹ کے پیش نظر اوگرا نے پیٹرول کی قیمت 301 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی سمری بھیجی تھی۔ ’یکم مئی کو قیمتیں دوبارہ بڑھائی جاسکتی ہیں۔‘
پیٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ
15 اپریل 2023 کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 10 روپے اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 282 فی لیٹر ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کو 293 اور لائٹ ڈیزل آئل کو 174.68 فی لیٹر پر برقرار رکھا گیا ہے۔
جبکہ پانچ روپے کے اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 186.07 فی لیٹر ہے۔ اعلامیے کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق 16 اپریل سے ہوگا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گذشتہ 15 روز میں بڑھی ہیں۔ اس کے ساتھ روپے کی قدر کے حوالے سے اوگرا کی تجاویز تھیں، ان (قیمتوں) کو جتنا کم کیا جاسکتا تھا، اس کو کم کیا گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں رواں سال فروری کے دوران 22.2 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔ جبکہ 30 جنوری کو پیٹرول کی قیمت میں تاریخ کا سب سے بڑا 35 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا عبدالشکور سڑک حادثہ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق ’مولانا عبدالشکور اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل سے سیکرٹریٹ چوک کی طرف جارہے تھے۔ اس دوران ہائی لکس ریوو، جس میں پانچ آدمی سوار تھے، نے مولانا عبدالشکور کی گاڑی کو ٹکر ماری۔‘
پولیس کے مطابق ’مولانا عبدالشکور کو پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔‘ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی اور سوار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر عارف علوی نے مولانا عبدالشکور کے حادثے میں ہلاک ہونے پر اپنے پیغامات میں ان کے اہل خانہ سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ’میرے دوست، ساتھی اور کابینہ کے اہم رکن مفتی عبدالشکور صاحب کی اچانک موت کا سن کا شدید دکھ اور تکلیف ہوئی۔ وہ ایک باعمل عالم، نظریاتی سیاسی کارکن اور نیک انسان تھے۔‘
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے رہنما پی ٹی آئی علی زیدی کی گرفتاری کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کراچی سے ہمارے ایک اور سینئر رہنما علی زیدی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
عمران خان کے مطابق ’لندن پلان میں نواز شریف کو پی ٹی آئی کو کچلنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے تحت پی ٹی آئی کے 3000 سے زائد کارکن گرفتار اور اغوا کئے گئے اور اسی سلسلے میں پہلے علی امین اور اب علی زیدی کو اٹھایا گیا۔
عمران خان نے دعوی کیا کہ اب مزید ایک نئے منصوبہ پر کام جاری ہے جس کے تحت 27 رمضان کے بعد یا عید کے بعد زمان پارک میں پولیس کے غیر قانونی ایکشن کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کے مطابق ’ان کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے یہ انتخابات ہونے کی صورت میں ہمیں کمزور کر دیں گے۔
عمران خان نے دعوی کیا کہ ’میں دو ٹوک الفاظ میں بتانا چاہ رہا ہوں کہ ان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا۔ ان حربوں سے عوام کا غصہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور وہ لندن منصوبے کا خمیازہ انتخابات میں بھگتیں گے۔
تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی کے خلاف مقدمہ فضل الہی نامی شخص کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ابراہیم حیدری تھانے میں درج مقدمے کے مطابق ’علی زیدی ریئل اسٹیٹ کا کام کرتے تھے۔ علی زیدی نے 2013 میں مدعی سے 18 کروڑ لیے اور ایک پراپرٹی کے جعلی کاغذات ضمانت کے طور پر دیے۔
مقدمے کے مطابق فضل الہی کو نا پیسے ملے اور نا ہی پراپرٹی، بلکہ الٹا دھمکایا گیا۔
علی زیدی کے خلاف مقدمہ جعلسازی،دھوکہ دہی ، دھمکیاں دینے و دیگر دفعات کی تحت درج کی گیا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے علی زیدی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’علی زیدی کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کیا گیا ہے، ظلم اور جبر کا یہ نظام کسی طور قبول نہیں۔‘
سابق گورنر سندھ اور رہنما پی ٹی آئی عمران اسماعیل نے اپنی ٹویٹ میں دعوی کیا ہے کہ علی زیدی کو سندھ پولیس نے بغیر وارنٹ گرفتار کر لیا ہے۔
ں
عمران اسماعیل نے مزید لکھا ہے کہ ’پاکستان میں یہ غنڈہ راج زیادہ نہیں چلے گا- جبر کے دن تھوڑے ہیں۔‘
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے بھی علی زیدی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں دعوی کیا ہے کہ ’سندھ آفس سے پارٹی کے صوبائی صدر علی حیدر زیدی کوسندھ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔‘
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی جس میں ملک کو درپیش بیرونی اور داخلی سلامتی کے چیلنجز اور خطے کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فورم نے اس بات کی توثیق کی کہ عسکری قیادت چیلنجز کی نوعیت کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور وہ پاکستان کے عوام کی حمایت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا عزم رکھتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف منظور شدہ انسداد دہشت گردی کی مہم سے ایک مکمل نظام کے ذریعے ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کے عوامل کا خاتمہ کیا جائے گا۔‘
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمےکے لیے قوم اور حکومت کو مشترکہ مؤقف اپنانےکی ضرورت ہے،
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کا عزم کرتے ہوئے انتہاپسندی کے سدباب کے لیے جلد ہی نیشنل ایکشن پلان دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ’آئی ایم ایف نے دوست ممالک سے پیسے لانے کی شرط رکھی، جس کے لیے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیرخارجہ بلاول بھٹو اور وزیر خزانہ سمیت سب نے کوششیں کیں۔‘
لاہور میں تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نےکہا کہ ’اب آئی ایم ایف کے پاس کوئی بہانہ نہیں رہ گیا ہے۔ مشکل وقت میں مدد کرنے پر چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے شکر گزار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط ماننےکے علاوہ کوئی راستہ نہیں لیکن پاکستان جلد مشکلات سے نکلے گا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’2018 میں جب انتخابات کے لیے کئی مہینے باقی تھے تو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان تمام منصوبوں پر پابندیاں لگائی تھیں تاکہ مسلم لیگ ن جیت نہ سکے۔ ثاقب نثار الیکشن سے تین دن قبل شیخ رشید کے حلقے میں کیوں گئے تھے؟‘
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے مارشل لگا لگانے کے اشارے دیے تھے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹالک میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد سے قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ نے ان کو بلایا جہاں ’وہ باڈی لینگوئیج سے مارشل لگانے کے اشارے دے رہے تھے۔‘
آصف زرداری نے حامد میر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو یاد نہیں آپ کو انھوں نے کہا کہ میں پانچ منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں؟‘ جس کے جواب میں حامد میر نے ’ہاں‘ میں جواب دیا۔
آصف زرداری نے کہا کہ ’ہم نے اس کو کہا کہ بسم اللہ کر بھائی، ہمیں بھی چھوڑ ہم جا کر کھیتی باڑی کریں اور تو جا کر ملک چلا۔‘
آصف زرداری نے کہا کہ ’جنرل باجوہ نے ہمیں بلایا اور کہا کہ میں اس (عمران خان) سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ابھی مستعفی ہو جائے گا اور آپ ابھی الیکشن میں چلے جائیں۔ اس پر میں نے اور مولانا فضل الرحمان نے منع کیا۔‘
آصف زرداری نے دعوی کیا کہ ’ہمیں پتہ تھا کہ یہ 2035 تک رہنے کا پلان بنا کر آ رہے ہیں، اپنا چیف لا کر جو کہ تھرڈ تھا یا فورتھ تھا۔‘
آصف زرداری نے کہا کہ ’اس پلان کو ناکام بنانے کے لیے ہم تحریک عدم اعتماد لے کے آئے۔‘
سیاسی مزاکرات پر سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہم اپنے اتحادیوں سے بات کریں گے کہ ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تحریک انصاف سے مزاکرات ہوئے تو کس آفر کے ساتھ ہوں گے تو آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہمیں الیکشن پر اعتراض نہیں، تاریخ سے مسئلہ ہے۔‘
’ابھی حالات صحیح نہیں ہیں، آئی ایم ایف کا قرضہ آنا ہے، ہمیں کچھ وقت چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’الیکشن اکتوبر سے آگے لے جانا ممکن نہیں ہو گا۔‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ساری جماعتیں بیٹھ کر طے کریں لیکن ایک دن الیکشن ہوں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری فواد حسین کا کہنا ہے کہ عوام سے ووٹ کا حق لینے سے ریاست اور شہریوں کا بنیادی رشتہ ختم ہو جائے گا۔
ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ سپریم کورٹ پر تنقید کر رہے ہیں دراصل عوام کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں، ریاست اور عوام کا بنیادی رشتہ ووٹ کا ہے کہ عوام ریاست کو ٹیکس دیں گے اس کے بدلے ریاست پر حکمرانی عوام کے ووٹ سےمنتخب نمائندوں کا حق ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بنیادی حق کو غصب کیا جاتا ہے تو ریاست سے شہریوں کا بنیادی رشتہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔‘
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر اور وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار چوہدری یاسین نے دارلحکومت مظفرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہماری تمام اپوزیشن جماعتوں جس میں مسلم لیگ ن اور جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کے ساتھ بات چیت ہوچکی ہے۔ ہم سب اکٹھے ہیں انشا اللہ تیس کا فگر کراس کریں گے اور سب کو سرپرائز دیں گے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ پی ٹی آئی کا ایک بڑا گروپ فاروڈ بلاک کی صورت میں ہمارے رابطے میں ہے جس بنا پر ہم آپ کو بڑا سرپرائز دیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کے امیدوار کے لیے میری نامزدگی ایک اعزاز ہے جس پر میں پارٹی صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اس خطے کی انچارج فریال تالپور صاحبہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘
سرکاری چینل پی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پارلیمنٹ میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر ہمارے پاکستان کی بات کرنی چاہیے۔‘
پی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں آرمی چیف اور عسکری حکام نے اہم قومی امور پر ایوان کو اعتماد میں لیا۔ آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ ’ریاستی رٹ تسلیم کرنے کے علاوہ دہشتگردوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ دہشتگردوں سے مذاکرات کا خمیازہ ان کی مزید گروہ بندی کی صورت میں سامنے آیا۔۔۔ (تاہم) اسوقت پاکستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں۔ پاک فوج ملکی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔‘
قومی اسمبلی نے آرٹیکل 184/3 کے تحت فیصلوں پر اپیل کے حق کے لیے ’سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز بل 2023‘ منظور کیا ہے۔
اس بل کے مطابق نظر ثانی اپیل کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل ہو گا اور نظرثانی درخواست دائر کرنے کی مدت 60 دن ہو گی۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’آئین میں تمام اداروں کی حدود متعین ہیں۔ پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
’آرٹیکل 184 تین کے تحت درخواستوں پر فیصلوں پر اپیل کا حق دینے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔‘