عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ
سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘
لائیو کوریج
شہر کی کشیدہ صورتحال، پی ایس ایل کی ٹیموں کی قذافی سٹیڈیم میں پریکٹس منسوخ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, عمران خان کی رہائش گاہ پر آنسو گیس کی شیلنگ
عمران خان کی گرفتاری کی کوشش کے دوران زمان پارک میں کارکنان کے پتھراؤ کے جواب میں۔۔۔
پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی
اس دوران نے آنسو گیس کے کچھ شیل عمران خان کے گھر کے احاطے میں بھی گرے۔
،ویڈیو کیپشنزمان پارک کے احاطے میں آنسو گیس کی شیلنگ
بریکنگ, زمان پارک میں پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس میں شدید جھڑپیں
لاہور میں زمان پارک کے علاقے میں پاکستان تحریک انصاف کے
چیئرمین عمران ان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے رینجرز کو بھی طلب کر
لیا گیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق زمان پارک کے
باہر سینکڑوں پولیس اہلکار موجود ہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں جاری
ہے۔ پولیس کی جانب سے زمان پارک پر سوئی گیس کی شدید شیلنگ کی جا رہی ہے۔ جبکہ
زمان پارک کے اندر سے اور ارد گرد سے پولیس پر پتھراؤ کیا جا رہا ہے۔
پولیس کی مدد کے لیے آنے والے رینجرز اہلکار تاحال پچھلی
صفوں میں موجود ہیں۔
زمان پارک کے علاقے کی مسلسل فضائی نگرانی کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں کا پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج
لاہور کے علاقے زمان پارک میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر
مین عمران حان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائی کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں
میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔
بریکنگ, زمان پارک میں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، عمران خان کی گرفتاری کے لیے جلد کارروائی کا امکان
بی بی سی کی نامہ نگار تریب اصغر کے مطابق کا کہنا ہے کہ پولیس
کی بھاری نفری زمان پارک پہنچ چکی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار پھر عمران خان کی گرفتاری کے
لیے کارروائی شروع کی جانے والی ہے۔
علاقے میں انٹر نیٹ کی سروس معطل کر دی گئی ہے۔
پہلے ترازو کے دونوں پلڑے برابر کرو اور صبح الیکشن کروا دو، مسلم لیگ ن کو اعتراض نہیں: مریم نواز
،تصویر کا ذریعہPMLN
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ کہ ’الیکشن
آنے والا ہے اور مسلم لیگ ن الیکشن لڑنے کے لیے نہیں بلکہ جیتنے کے لیے میدان میں
اتر چکی ہے۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہوسکتا ہے نواز شریف سزائیں
بھگتتا رہے اور عمران خان بھاگتا پھرے۔‘
انھوں نے کہا ’پہلے ترازو کے دونوں پلڑے برابر کرو اور صبح
الیکشن کروا دو۔ مسلم لیگ ن کو اعتراض نہیں‘۔
انھوں نے اس سے پہلے عمران خان کی جانب سے گرفتاری کے لیے
پس و پیش سے کام لینے پر تنقید کرتے ہوئے انھیں بزدل قرار دیا۔
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے شیخو پورہ میں پارٹی کنونشن
سے خطاب میں کہا ہے کہ ’ جتنا کڑا وقت نواز شریف پر چند سالوں میں آیا ، اس نے
کارکنوں کو اپنی ڈھال نہیں بنایا۔ اس نے آپ کو آپ کو ڈنڈے کھانے کے لیے سڑکوں پر
نہیں چھوڑا۔‘
’وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر پاکستان آیا اس نے کہا کوئی گرفتاری دے گا تو نوز
شریف دے گا۔‘
مریم نواز نے اپنی تقریر میں کہا کہ نواز شریف نے گرفتاری
سے بچنے کے لیے اپنی عمر، صحت یا جان کو خطرے کا بہانہ نہیں بنایا۔
مریم نواز نے کہا نواز شریف کے خلاف قائم مقدمات جھوٹےتھے۔
بریکنگ, زمان پارک کے اردگرد انٹرنیٹ سروس متاثر، علاقے کی فضائی نگرانی جاری, ترہب اصغر، بی بی سی اردو
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور عمران خان کی رہائش گاہ کے احاطے سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا ہے۔
جواب میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے اور شیل عمران خان کی رہائش گاہ کے باغ میں بھی گرے ہیں۔
زمان پارک کے اردگرد کے علاقے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے جبکہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے علاقے کی فضائی نگرانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
بریکنگ, عمران خان کے وارنٹ کی منسوخی پر سماعت کل ہو گی، فوری سماعت کی درخواست مسترد
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کل ہو گی۔
چیف جسٹس عامر فاروق کل عمران خان کی درخواست پر سماعت کریں گے۔
عمران خان کے وکلا کی جانب سے اس درخواست کی فوری سماعت کی درخواست دی گئی تھی جو مسترد کر دی گئی۔
عمران خان کے وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ درخواست کو اعتراضات کے ساتھ ہی بدھ کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
عمران خان کو آج گرفتار کریں گے اور عدالت میں پیش کریں گے: رانا ثنااللہ
پاکستان کے وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پولیس آج عمران خان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرے گی۔
شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے گھر میں چھپ کر بیٹھے ہیں اور آج انھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
بریکنگ, رینجرز کی نفری زمان پارک پہنچ گئی
زمان پارک میں پولیس کے پی ٹی آئی کے کارکنوں سے تصادم کے بعد حکام نے پنجاب رینجرز کو طلب کیا ہے اور رینجرز اہلکار زمان پارک پہنچ گئے ہیں۔
بریکنگ, میں جیل جاتا ہوں یا مار دیا جاتا ہوں آپ تب بھی جدوجہد کریں گے: عمران خان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان کا کہنا ہے کہ
اگر وہ گرفتارہو بھی جاتے ہیں تو قوم اپنی جدوجہد جاری رکھے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’پولیس مجھے جیل میں لے جانے کے لیے آئی ہے۔
ان کا خیال ہے کہ عمران خان جیل چلا جائے گا تو قوم سو جائے گی۔ آپ نے انھیں غلط
ثابت کرنا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ نے اپنے حقوق کے لیے اور حقیقی
آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہے اور باہر نکلنا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ اگر میں
جیل جاتا ہوں یا مار دیا جاتا ہوں تو آپ نے ثابت کرنا ہے کہ عمران خان کے بغیر بھی قوم
جدوجہد کرے گی۔ آپ ان چوروں کی اور فیصلے
کرنے والے ایک آدمی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔‘
زمان پارک کے باہر ایک بار پھر کشیدگی
زمان پارک میں پولیس کی جانب سے ایک بار پھر آنسو گیس کی
شیلنگ شروع ہو گئی ہے۔
جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے پولسی پر پتھراؤ کیا
جا رہا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کی کوشش: پولیس کے پی ٹی آئی کارکنوں سے جھڑپوں کے مناظر
،ویڈیو کیپشنزمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں جھڑپیں
بریکنگ, پولیس زمان پارک میں داخل، کارکنوں کا اہلکاروں پر شدید پتھراؤ, ترہب اصغر، بی بی سی اردو
توشہ خانہ کیس میں عدالت کے احکامات پر عمران خان کو گرفتار کرنے کے لیے آنے والی پولیس پارٹی کے ارکان اب زمان پارک میں داخل ہو چکی ہے۔
جب یہ اہلکار عمران خان کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے تو انھیں اندر سے شدید پتھراؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس آپریشن کے دوران اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن شہزاد بخاری بھی زخمی ہوئے ہیں۔
بریکنگ, زمان پارک کے باہر کی صورتحال پر بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو
کسی پولیس افسر یا جوان کو گزند پہنچی تو ذمہ دار عمران ہوگے: مریم نواز
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ آج اگر زمان پارک میں کسی پولیس کے افسر یا جوان کو کوئی گزند پہنچی تو ذمہ دار عمران ہوں گے۔‘
سماجی رابطی کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’قوم کے بیٹے فالتو نہیں، وہ اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, آئیں بات کریں، ہو سکتا ہے ہم خود گرفتاری کے لیے تیار ہو جائیں: شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے
کہ عمران خان کو کو عدالت سے حفاظتی ضمانت حاصل ہے اور انھیں گرفتار نہیں کیا جا
سکتا۔
زمان پارک سے باہر ان کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا
کہ ’میں سمجھنا چاہتا ہوں کہ اس ضمانت کے باوجود کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ آج ہی
گرفتاری کرنی ہے۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ ان کا ایجنڈا
کیا ہے، وہ یہاں لاشیں گرانے آئے ہیں؟ یا الیکشن رکوانا چاہتے ہیں؟ یا مینار پاکستان
کے جلسے سے خائف ہیں۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں پارٹی کا وائس چیئرمین ہوں اس لیے
آئیں مجھ سے بات کریں۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے کہ ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ انھیں لاشیں گرانے کے منصوبے سے نکلنے کا راستہ دے دیں۔ ہو سکتا ہے ہم خود گرفتاری کے لیے تیار ہو جائیں۔‘
’ہماری قانونی ٹیم کے مطابق جسے حفاظتی ضمانت حاصل ہو اس کی گرفتاری نہیں ہو سکتی۔ اگر ان کی انڈر سٹینڈنگ مختلف ہے تو ہمیں سمجھائیں۔‘
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ’ہم کھلے ذہن سے سننے کے لیے تیار ہیں۔ ہم یہاں لاشیں نہیں گراوانا چاہتے۔ اس بنیاد پر الیکشن ملتوی نہیں کروانا چاہتے۔‘
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ’ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے۔
پولیس کارکنوں کو مشتعل کر رہی ہے، شیلنگ اور لاٹھی چارج بند کریں: شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ
پولیس اہلکار شیلنگ اور لاٹھی چارج بند کریں اس کا کوئی جواز نہیں ’ہم بات کرنے کے
لیے تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں وارنٹ دیکھنے کے بعد عمران خان سے
بات کر کے آپ کو بتاؤں گا۔ ‘
میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ’کارکنوں
کو بتایا گیا ہے کہ ہم نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا لیکن پولیس کارکنوں کو
مشتعل کر رہی ہے۔ وہ لاٹھی چارج، واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کر رہے ہیں۔ ‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جو بھی قانونی وارنٹ ہے وہ دکھائیں۔ ڈی
آئی جی مجھ سے بات کریں۔ کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔ ان کا نقطہِِ نظر سُن کر خان صاحب
سے میٹنگ کروں گا، کوئی راستہ نکالتے ہیں۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر کوئی جانی نقصان ہوا تو اس کی
ذمہ دار پولیس اور انتظامیہ ہوگی۔ ‘
بریکنگ, عمران خان کے وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیے: فواد چوہدری
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال اور کارکنوں کی گرفتاریاں
عمران خان کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس لاہور میں
زمان پارک میں موجود ہے۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کے بعد انھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر
کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔
پولیس پی ٹی آئی کے کارکنان کو پیچھے دھکیلتی ہوئی عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر پہنچ گئی ہے۔