لاہور کے علاقے زمان پارک میں آج دوپہر سے پولیس پاکستان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پارٹی کارکنان اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد
اس وقت علاقے کا گھیراؤ کیا گیا ہے اور وہاں بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی
ہے۔ تاکہ مزید کارکنوں کی رسائی کو روکا جا سکا۔
پارٹی کے مزید کارکن زمان پارک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم
پولیس مزید لوگوں کو علاقے تک جانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وہاں موجود بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق دوپہر
کے بعد سے کارکنان کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جا رہی ہے۔ پولیس نے
واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔ آج شام ایک موقعے پر پولیس عمران خان کے گھر کے گیٹ
تک پہنچ گئی تھی تاہم اندر سے کارکنوں کی جانب سے شدید مزاحمت کی گئی اور پولیس پر
پتھراؤ کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے چند اہلکار پتھراؤ
سے زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے بعد پیچھے ہٹ جاتی ہے
تاہم پولیس نے متعدد بار اندر جانے کی کوثشش کی جسے کارکنوں نے ناکام بنایا۔ زمان پارک میں اسلام آباد پولیس کی مدد کے لیے
پنجاب پولیس اور رینجرز اہلکار بھی موجود ہیں۔
زمان پارک اور اس کے قریبی علاقوں میں صورتحال اس وقت بھی
کشیدہ ہے۔
پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی عمران حان کی ممکنہ گرفتاری
کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔