لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک آپریشن روکنے کے حکم میں آج تین بجے تک توسیع کی ہے۔
آج جسٹس طارق سلیم کی عدالت میں زمان پارک کے باہر پولیس آپریشن روکنے سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی ہے۔
اس موقع پر رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے بتایا کہ ان کی جماعت پیر کو لاہور میں جلسہ کرے گی۔ ’ہم نے کل آئی جی پنجاب سے ملاقات کی اور تین ایشوز پر بات کی۔ پولیس عمران خان کو سکیورٹی دینے کے لیے تیار ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ سکیورٹی دینا ہمارا فرض ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم عدالت کی اتوار کے روز جلسے منسوخ کرنے کے حکم کا احترام کرتے ہیں۔ ہم عمران خان کی حفاظتی ضمانت دائر کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب سے درخواست ہے کہ ہمارے کارکنان کو گرفتار نہ کرے۔‘
جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’میں پولیس کو کارروائی سے نہیں روکوں گا۔ اگر آپ کی طرف سے زیادتی ہوئی ہے اس میں مداخلت نہیں کروں گا۔ کیمرے لگے ہیں، پولیس تفتیش کر لیں جس کا قصور ہے اس کو قانون کے مطابق دیکھیں۔‘
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی ساری باتوں میں ایک لیگل ایشو ہے۔ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ میں ہے۔ اس سٹیج پر ہم کیسے حفاظتی ضمانت سن سکتے ہیں۔‘
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان حفاظتی ضمانت کے لیے آپ کے پاس آئیں‘ جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے وہ کیس میرے پاس نہ بھی آئے۔‘
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم نے کسی علاقے کو نو گو ایریا نہیں بنانا‘ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’یہ مسائل اس لیے ہو رہے ہیں، ہم قوائد پر نہیں ہیں۔ صرف رولز کو فالو کریں۔ جلسے سے پہلے آپ درخواست دیں گے۔‘
جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’کینٹیرز لگانا مناسب نہیں، یہ ہمیں ایکسپورٹ کے لیے استعمال کرنے چاہیے۔ آپ جو بھی چاہتے ہیں اس کے طریقہ کار سے کریں اور باقاعدہ درخواست دیں۔‘
وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ’کچھ دیر بعد آپ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔‘
’عدالت جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت دے‘
سماعت کے دوران ایک موقع پر آئی جی پنجاب نے عدالت سے استدعا کی کہ ’کیا ہمیں جائے وقوعہ پر جا کر شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہے۔ کیا ایس ایس پی یا ڈی آئی جی آپریشنز کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت ہے۔ عدالت یہ حکم جاری کر دے تاکہ ہم جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرسکیں۔‘
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ’سرچ وارنٹ آنے کے بعد ہمیں قانونی کارروائی کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر سرچ وارنٹ آتا ہے تو ہم ان کی (پی ٹی آئی کی) کمیٹی سے بات کریں گے اور انھیں عملدرآمد کی ہدایت کی جائے۔‘
عدالت نے بتایا کہ ’قانون میں آپ کے تمام تحفظات کا حل موجود ہے۔ جو مہذب دنیا میں ہوتا ہے، معاملہ عدالت کے سامنے لایا جائے۔‘
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’اگر ہمیں سرچ وارنٹ کی تعمیل کرانی ہے تو اس پر بھی عدالت حکم جاری کرے۔‘ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ’پولیس کو قانونی معاملات پورے کرنے کے لیے زمان پارک تک رسائی نہیں ہے۔‘
آئی جی پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ’میرٹ پر تفتیش ہوگی، کسی بے گناہ کو ملوث نہیں کریں گے۔ میں گارنٹی دیتا ہوں، انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔‘
آج تین بجے تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے زمان پارک آپریشن روکنے کے حکم میں تین بجے تک توسیع کی ہے۔ جبکہ عدالت نے زور دیا کہ ’فریقین آپس میں بیٹھ کر حل نکالیں۔‘