آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عمران خان وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کے لیے ٹرائل کورٹ سے ہی رجوع کریں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی جانب سے سیشن کورٹ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے انھیں سیشن کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اس معاملے پر چیف جسٹس عامر فاروق نے بدھ کو سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو شام کو سنایا گیا۔

    فیصلے کے مطابق عمران خان کو 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کی یقین دہانی کا بیانِ حلفی توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والی سیشن کورٹ میں ہی جمع کروانے کو کہا گیا ہے۔

    یہ وہی عدالت ہے جس نے عمران خان کو اس کیس میں فردِ جرم عائد کرنے کے لیے طلب کیا ہوا ہے اور عمران خان وہاں پیش نہیں ہو رہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی اپنی درخواست سیشن کورٹ میں دائر کریں اور ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق بیان حلفی کو دیکھے۔

    خیال رہے کہ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے موکل کا ایک بیانِ حلفی پیش کیا تھا جس میں انھوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ 18 مارچ کو لازماً اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

  2. کیا عمران خان کے خلاف کوئی ’لندن پلان‘ موجود ہے؟

  3. بریکنگ, ہم گرفتاری کے آپریشن میں لاشیں نہیں گرانا چاہتے اور اسے ہماری کمزوری سمجھنا ہے تو سمجھیں: عامر میر

    پنجاب کے نگران وزیرِ اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے عدالتی حکم پر عملدرآمد مشکل نہیں لیکن حکومت لاشیں گرانا نہیں چاہتی اور اسے اگر حکومت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو سمجھتے رہیں۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم لاشیں نہیں گرانا چاہتے اپنی طرف کی نہ ان کی طرف کی۔ اگر یہ ہماری کمزوری ہے تو ٹھیک ہے۔ ہم نگران حکومت ہیں۔ لیکن وہ کسی عدالت کو نہیں مان رہے نہ کسی حکومت کو مان رہے ہیں۔'

    ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی پولیس فورس زمان پارک میں موجود ہے۔ ’انھوں نے گیٹ تک پہنچنے والے پولیس اہلکاروں پر اپنی بندوقیں سیدھی کر لی تھیں۔ جو یہاں سے پولیس والے گئے ان کے پاس صرف ہیلمٹ، شیلڈز اور ڈنڈے تھے۔ انھوں نے دھمکی دی تھی کہ آپ پیچھے نہ ہٹے تو ہم فائر کھول دیں گے۔ اس لیے ان کو واپس آنے کا حکم دینا پڑا۔ '

    ان کا کہنا تھا کہ 'مسئلہ یہ ہے کہ آئی جی نے یہ کہا کہ گرفتار کرنا چاہتے ہیں وہ تو ہم کر لیں گے۔ پانچ، سات لاشیں گریں گی۔ وہ فائر کریں گے ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ یہاں پہلے ایک لاش نہیں سنبھالی جاتی۔'

    نگران وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ' وہ(عمران خان کے حامی) نہ قانون کو مانتے ہیں نہ آئین کو مانتے ہیں۔ عدالتی فیصلے پر عمل کرانے جو ٹیم آئی تھی ان کے ڈی آئی جی کا سر پھاڑ دیا اور ٹانگ زخمی کی۔رینجرز کی گاڑی پر حملہ کیا۔ رینجرز صرف علامتی طور پر پولیس کے ساتھ چلتی ہے۔ یہ اسے بھی نہیں مانتے۔ رینجرز کا مطلب ہے فوج۔ اب تو حالات یہ ہو گئے ہیں۔'

    انھوں نے کہا کہ 'عمران خان اب طالبان کی طرح عمل کر رہے ہیں۔ ان پر جو طالبان خان ہونے کا الزام تھا وہ اس کو ثابت کر رہے ہیں۔ '

    عامر میر کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ہم پی ایس ایل سیمی فائنل اور فائنل کے پیشِ نظر اس آپریشن کو معطل کر رپے ہیں۔' ان کا کہنا تھا کہ 'شاید 19 مارچ کو پی ایل ایل فائنل کے بعد دوبارہ اس کارروائی پر عمل کیا جائے۔ ' ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ 'لاہور پوری طرح جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ نارمل زندگی نہیں ہو گی تو لوگ سٹیڈیم کیسے پہنچیں گے۔'

  4. بریکنگ, لاہور ہائیکورٹ کا زمان پارک میں جاری پولیس آپریشن کل صبح دس بجے تک روکنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو گرفتار کرنے کی غرض سے زمان پارک میں جاری پولیس آپریشن کو فوری روکنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے پولیس کو مال کینال پُل، دھرمپورہ پل اور ٹھنڈی سڑک پر 500 میٹر پیچھے رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ میں پولیس آپریشن کو روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔

  5. زمان پارک میں آج کیا ہوا اور اب کیا صورتحال ہے؟, ترہب اصغر، بی بی سی نامہ نگار

    زمان پارک کے باہر اس وقت وکلا کی بڑی تعداد موجود ہے جو آج صبح ایک ریلی کی صورت میں یہاں پہنچنا شروع ہوئے تھے۔ آج علی الصبح پنجاب پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کے تازہ دستے زمان پارک پہنچے تھے جس کی آمد پر مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جس کے جواب میں پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں پر شدید شیلنگ کی گئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔

    تاہم دوپہر دو بجے کے قریب پولیس اور رینجرز کے اہلکار اچانک زمان پارک سے روانہ ہونا شروع ہو گئے۔ اس آپریشن کے آغاز سے ہی یہ دیکھا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اچانک آپریشن میں شدت لائی جاتی ہے اور اس کے بعد وہ تھوڑے وقت کے لیے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور آج بھی یہی صورتحال جاری ہے۔ پولیس اور رینجرز کے پیچھے ہٹنے اور آنسو گیس شیلنگ میں وقفے کے دوران عمران خان اپنی رہائش گاہ کے احاطے میں گیس ماسک پہنے ہوئے آئے اور یہاں انھوں نے کارکنوں سے مختصر گفتگو کی۔

    زمان پارک میں پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ یہاں موجود سڑکوں پر پتھر بکھرے ہوئے ہیں جو پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے زمان پارک کے اندر سے پولیس پر برسائے گئے۔ جبکہ ایک موٹر سائیکل، پک اپ گاڑی اور ایک واٹر ٹینکر بھی جلی ہوئی حالت میں یہاں موجود ہیں۔

    عمران خان کو گرفتار کرنے کی غرض سے شروع کیے گئے اس آپریشن کو اب 24 گھنٹوں سے زیادہ ہو چکے ہیں تاہم حکام اب تک چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کو ممکن نہیں بنا سکے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہاں موجود کارکنان نے کہا کہ وہ یہاں ڈٹ کر کھڑے رہیں گے اور کسی صورت پولیس کو عمران خان کی رہائش گاہ تک نہیں پہنچنے دیں گے۔

    اس آپریشن کے دوران متعدد شیل عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر بھی آ کر گرے جبکہ اس علاقے کے مکینوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کل سے جاری شیلنگ کے باعث اب اس علاقے میں رہنا ان کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔

  6. زمان پارک ہنگامہ آرائی میں نجی املاک کا نقصان

    گذشتہ ایک روز سے جاری ہنگامہ آرائی کے دوران زمان پارک کے علاقے میں چند گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ سب مظاہرین کی جانب سے کیا گیا ہے۔

  7. پولیس کے پیچھے ہٹنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکن پھر زمان پارک کے باہر جمع

    پولیس اور رینجرز کے زمان پارک سے پیچھے ہٹنے کے بعد ایک مرتبہ پھر تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی ہے۔

    ان میں وکلا کی بھی قابلِ ذکر تعداد شامل ہے۔

  8. عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, پولیس پر حملہ ریاست پر حملہ ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس

    عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ‏کوئی ایسا حل نکالیں گے جس سے تصادم سے بچ جائیں اور عدالتوں کی عزت و تکریم بھی برقرار رہے۔

    سماعت کے دوران خواجہ حارث نے عدالت سے کہا کہ وہ ذاتی طور پر عدالت کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ عمران خان 18 مارچ کو سیشن جج کی عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتوں کی عزت اور وقار بہت اہم ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ قانون سب کے لیے برابر نہ ہو۔ ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔

    اس موقع پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ انھوں نے ٹرائل کورٹ سے کہا تھا کہ پہلے کچھ معاملات پر انھیں سُنا جائے لیکن ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ وارنٹ گرفتاری جاری کرے گی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وارنٹ دوبارہ جاری ہونے کا ایشو نہیں کیونکہ عدالت نے کہا تھا کہ عمران خان 13 مارچ کو پیش ہوں ورنہ وارنٹ بحال ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس جو بھی ہو مگر ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے۔

    ’اگر کسی بھی کریمنل کیس میں سمن جاری ہوں تو کیا عدالت پیش ہونا ضروری نہیں؟‘ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ’اگر ایک آرڈر ہو گیا تو وہ کاالعدم ہونے تک موجود رہتا ہے، عمل ہونا چاہیے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجسٹریٹ کی عدالت ہو یا سپریم کورٹ، فیصلوں پر عمل ہونا چاہیے۔ ’ہمارے آرڈرز دستخط کے ساتھ جاری ہوتے ہیں ہمارے پاس مسل مین نہیں جو جا کر طاقت دکھائیں۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریمانڈ کا آرڈر ہمیشہ سیشن کورٹ میں جاتا ہے اور اس لیے کہ ذمہ دار مجسٹریٹ ہوتا ہے۔ اس کیس میں تو ریمانڈ بھی نہیں ہونا، صرف گرفتار کر کے پیش کرنا ہے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ حکومت عمران خان کو پیشی سے چار دن پہلے گرفتار کر کے کہاں رکھے گی؟ عدالت نے پھر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو روسٹرم پر طلب کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر 18 مارچ کو بھی عمران خان نہیں آئے تو خواجہ صاحب پر تو چارج فریم نہیں ہو گا۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے عدالت کے سامنے کہا کہ ریلیف درخواست گزار کو ملنا ہے اور اس کا کنڈکٹ عدالت کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی اسی طرح کی ایک یقین دہانی کروائی گئی تھی اس وقت بھی ہائیکورٹ آ کر وارنٹ معطل کروائے گئے مگر عمران خان پھر پیش نہ ہوئے۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ لاہور میں جو ہو رہا ہے وہ بدقسمتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’لاہور میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم کیا چہرہ دکھا رہے ہیں، ہم تو سنتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں ایسا ہوتا ہے۔ ہم دنیا کو کیا بتا رہے ہیں کہ قانون پر عمل نہیں کریں گے‘

    چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ لاہور میں جو ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہو رہا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ جو ہو رہا ہے وہ غلط ہو رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکن پولیس پر حملے کر رہے ہیں اور یہ ریاست پر حملہ ہے کیونکہ پولیس والے وہاں ریاست کی طرف سے ڈیوٹی کر رہے ہیں۔

    جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ حملے کرنے والے بھی ہمارے ہی بچے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ پولیس والے جو وہاں آئے ہوئے ہیں وہ بھی متاثرین میں ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا برطانیہ میں کوئی پولیس والے کی وردی کو ہاتھ لگا سکتا ہے؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان کی گذشتہ انڈرٹیکنگ پر عمل ہو جاتا تو آج یہ سب کچھ نہ ہوتا۔

  9. زمان پارک آپریشن: چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ طلب

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کے لیے زمان پارک میں جاری کارروائی روکنے کے لیے درخواست پر سماعت کے بعد آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فوری طلب کر لیا ہے۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کی طرف سے آپریشن کی سربراہی کرنے والے افسر کو بھی طلب کیاہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ بدھ کی شام تین بجے تمام افسر عدالت میں پیش ہوں

  10. وارنٹ گرفتاری منسوخی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت شروع: خواجہ حارث کے دلائل جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست پر سماعت جاری ہے۔ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے سماعت کے آغاز پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا سات مارچ کا آرڈر پڑھ کر سُنایا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش ہونے کو کہا تھا تاہم وہ پیش نہ ہو سکے۔ اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس دن عمران خان کہاں تھے؟ جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ عمران خان گھر پر تھے۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 13 مارچ کو سماعت کے موقع پر انھوں نے سیشن کورٹ کے جج کو بتایا کہ فوجداری مقدمات اور ضمانت کے معاملات میں فرق ہے اور اس پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنا نہیں بنتا۔

    ’ہم نے ٹرائل کورٹ سے کہا تھا کہ وارنٹ گرفتاری جاری نہ کریں جب تک درخواست کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ نہ ہو۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ کے وارنٹ موجود تھے اور ابھی بھی ہیں۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ انھوں نے عدالت سے کہا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کر دیں تو عمران خان پیش ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے کہا کہ عدالت فرد جرم عائد کرنے سے پہلے ان کے اعتراضات پر فیصلہ کر سکتی تھی لیکن ان کے موکل کو پیش ہونا چاہیے تھا۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان سے بات کی ہے اور انھوں نے تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 18 مارچ کو پیش ہوں گے۔

  11. زمان پارک کے باہر موجود پنجاب پولیس اور رینجرز کے اہلکار فی الحال اپنی پوزیشنز سے پیچھے ہٹ گئے ہیں

    زمان پارک میں موجود نمائندہ بی بی سی ترہب اصغر کے مطابق پولیس اور رینجرز اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹے ہیں تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے فی الحال کچھ نہیں بتایا گیا کہ آیا یہ کسی سکیورٹی سٹریٹیجی کے تحت ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔

    اس پیش رفت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے چند ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی رہائش گاہ میں موجود پی ٹی آئی کارکن ’پولیس کے ناکام واپس لوٹنے‘ پر نعرے لگا رہے ہیں اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

    اسی کے ساتھ عمران خان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اور رینجرز کی جانب سے پیچھے ہٹنے اور شیلنگ کا سلسلہ بند ہونے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف اپنے گھر کے احاطے میں آئے ہیں اور انھوں نے کارکنوں سے بات چیت کی ہے۔ اس موقع پر عمران خان نے گیس کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے فیس گیس ماسک لگا رکھا تھا۔

  12. پولیس اور رینجرز کے دستے بدستور زمان پارک میں موجود

    لاہور میں عمران خان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں اور زمان پارک میں موجود تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے پتھراؤ کے جواب میں پولیس نے ایک بار پھر شیلنگ کی ہے۔

  13. زمان پارک کی تازہ ترین صورتحال: تصاویر میں

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو گرفتار کرنے کے سلسلے میں منگل کی دوپہر شروع ہونے والا پولیس اور رینجرز کا آپریشن بدستور جاری ہے اور پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے میں فی الحال ناکام نظر آ رہی ہے۔

    بدھ کی صبح بھی تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس کی پیش قدمی روکنے اور انھیں عمران خان کی رہائش گاہ سے دور رکھنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں وقفے وقفے سے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز شروع ہونے والے اس آپریشن میں اب تک 65 پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے بھی کارکنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک کتنے کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

    لاہور میں آج وکلا بھی عمران خان کے حق میں ریلی نکال رہے ہیں اور ان کی پیش قدمی بھی زمان پارک کی جانب جاری ہے۔

  14. زمان پارک میں گلگت بلتستان فورس کو استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس، رینجرز کو زخمی کیا جا رہا ہے: مریم اورنگزیب کا الزام

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے الزام عائد کیا ہے کہ زمان پارک میں گلگت بلتستان کی فورس کو استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو زخمی کیا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پولیس کے پاس کوئی اسلحہ موجود نہیں ہے اور انھیں آرڈرز ہیں کہ اسلحہ کسی اہلکار کے پاس نہیں ہو گا مگر دوسری طرف جتھوں اور گلگت بلتستان فورس کے استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس پر حملے کیے جا رہے ہیں اور اُن کی رٹ چیلنج کی جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے عدالتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان کو پہلے وارنٹ جاری کر کے بعد میں ریلیف ہی دینا ہے تو پولیس والوں کے سر نہ پھڑوائیں۔ کیونکہ پولیس اور رینجرز عدالت کے ہی احکامات کی تعمیل کے لیے زمان پارک میں موجود ہیں۔

    ’یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف وہ عدالت کے احکامات کی تعمیل کے لیے جائیں اور دوسری جانب آپ ہی کی عدالتوں کو عمران خان کو ریلیف ملتا رہے۔‘

    وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ عمران خان ملک میں خانہ جنگی اور افراتفری چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کا عمران خان کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ہے، عدالتوں نے ان کی مختلف کیسز میں گرفتاری کے وارنٹ نکالے ہوئے ہیں اور پولیس عدالتی احکامات کی تعمیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ’65 پولیس کے اہلکار اب تک عدالتی احکامات کی تعمیل کے چکر میں زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ عدالتیں اگر ان کی ماضی کی قانون شکنی پر انھیں گرفتار کرنے کے احکامات جاری کرتی تو صورتحال آج یہاں تک نہ پہنچتی۔ ’اگر آج عدالتوں سے عمران خان کے وارنٹس گرفتاری کو منسوخ کیا جاتا ہے یا ان میں تاخیر کی جاتی ہے تو عدالتوں کو ایسا ہی ریلیف پھر پاکستان کے ہر شہری کو دینا ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان آج گاڈ فادر کا روپ دھار کر زمان پارک میں بیٹھے ہیں۔

  15. لاہور میں پی ایس ایل کا اہم میچ آج شیڈول کے مطابق ہو گا: پاکستان سپر لیگ

  16. عمران خان کی خواہش ھے کہ جانی نقصان ھو تاکہ وہ لاشوں کی سیاست کرے: خواجہ آصف

  17. کچھ دیر تک عمران خان کی درخواست پر اعتراضات دور کر دیں گے: بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست پر سماعت ڈویژن یعنی دو رکنی بنچ کے بعد ہو گی۔ عمران خان کی قانونی ٹیم کے رکن بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ڈویژن بنچ کے دوران ہم اپنی درخواست پر اعتراضات دور کرلیں گے۔

  18. کیا یہ ہے آپ کی غیرجانبداری؟ عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ سے سوال

  19. لاہور ہائی کورٹ میں زمان پارک میں جاری آپریشن روکنے سے متعلق درخواست دائر کر دی: فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں زمان پارک میں جاری آپریشن روکنے کا حکم دینے کی استدعا سے متعلق باقاعدہ درخواست دائر کر دی ہے۔ فواد چوہدری نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے گھر کا گھیراؤ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    فواد چوہدری کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تحریکِ انصاف کی جانب سے فوری طور پر لاہور میں جاری آپریشن روکنے کا حکم دینے کی استدعا رد کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری بدھ کی صبح جسٹس امیر بھٹی کی عدالت میں پہنچے اور درخواست کی کہ وہ سی سی پی او لاہور کو طلب کریں اور زمان پارک میں جاری آپریشن روکنے کا حکم دیں۔

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بغیر کسی درخواست کے سی سی پی او کو کیسے بلوایا جا سکتا ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ حالات بہت خراب ہیں۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پہلے کبھی ایسا ہوا کہ آپ پٹیشن لائے ہوں اور اس پر آرڈر نہ ہوا ہو۔

    وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ درخواست پر عمران خان سے دستخط کروانا مشکل ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس صورت میں کوئی اور پٹیشن دائر کر دے تاہم بغیر درخواست کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔

  20. زمان پارک میں پولیس آپریشن: تازہ ترین صورتحال پر بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

    زمان پارک میں عمران خان کی گرفتاری کے لیے کل شروع ہونے والا آپریشن ابھی تک جاری ہے۔

    بی بی بی کی نامہ نگار ترہب اصغر اس وقت زمان پارک جانے والی جیل روڈ پر موجود ہیں جو ٹریفک کے لیے بند ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق ایک گھنٹہ پہلے زمان پارک میں دوبارہ گرینڈ آپریشن شروع کیا گیا ہے، جس میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی شریک ہیں۔