آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا اعلان، اسلام آباد کی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری جاری

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی داتا دربار پہنچ گئی ہے جہاں انھوں نےبلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کو مینار پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔ فارن فنڈنگ کیس میں جب ن لیگ کی فنڈنگ کا سامنے آئی تو سب پتا لگ جائے گا۔ ادھر اسلام آباد کی دو عدالتوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    توشہ خانہ کیس میں سیشن کورٹ کی جانب سے عمران خان کے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

    عمران خان کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے اور درخواست کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنےکی استدعا کی گئی ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل علی بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ عدالت کے جج ظفر اقبال کے دو آرڈرز کو ہم نے چیلنج کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کل بھی عدالت میں درخواست دی تھی کہ ناقابل ضمانت وارنٹ کو خارج کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں آرڈر چیلنج کیے ہیں اور عمران خان کا پہلے سے ہی بائیو میٹرک ریکارڈ موجود ہے۔

    عمران خان کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ ’کل یہ درخواست دائر کرنے کی کوشش کی لیکن آفس ٹائم ختم ہو گیا تھا، آج جج ظفر اقبال نے فرد جرم عائد کرنی ہے لہذا ہائیکورٹ میں سماعت آج ہی ہونی چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کیس میرٹ پر ہے اور تینوں عدالتیں جہاں عمران خان پیش ہوئے وہ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت سے بڑی ہیں۔‘

    یاد رہے کہ 28 فروری کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عدم پیشی پر عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، عدالت نے اسلام آباد پولیس کو احکامات جاری کیے تھے کہ عمران خان کو گرفتار کر کے سات مارچ کو عدالت میں پیشی یقینی بنائی جائے۔

    گذشتہ روز عدالت نے عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست کو مسترد کیا تھا، عدالت نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ عمران خان جان بوجھ کر سیشن عدالت پیش نہیں ہوئے۔

  2. عمران خان عدالتی نظام اور اوقات کار کا مذاق بناتے ہیں: محسن شاہنواز رانجھا

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس دائر کرنے والے محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ ’توشہ خانہ کا مقدمہ چل رہا ہے مگر پانچ ماہ ہو گئے عمران خان پیش نہیں ہو رہے ہیں۔

    منگل کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کے ورانٹ گرفتاری کی منسوخی کے معاملے پر سماعت کے بعد وقفے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایسی سہولت کسی سائل کو حاصل نہیں جو عمران خان کو ملی ہے۔

    انھوں نے چیئرمین پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان عدالتی نظام اور اوقات کار کا مذاق بناتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں یہ اہمنوعیت کا کیس ہے سب کی نظریں اس کیس پر ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیگر ملزمان اگر عمران خان جیسا رویہ اپنا لیں تو عدالتیں بند ہو جائیں گی۔ جو سہولت عدالتی نظام میں عمران خان کو میسر ہے وہ سب سائلین کو میسر ہونی چاہیے۔

    یہ عدالت بنی گالہ ہی منتقل کر دیتے ہیں اور ان کی مرضی سے کیس چلا لیتے ہیں۔

    انھوں نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین اور قانون کا ماننے والا شخص نواز شریف ہے۔ وہ صبح آٹھ بجے جج بشیر صاحب کی عدالت پیش ہوتے تھے۔

  3. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: ’عمران خان آج تک عدالت پیش نہیں ہوئے اگر صورتحال یہی رہنی ہے تو کوئی فیصلہ کر دیتے ہیں‘

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی وقفے کے بعد جاری سماعت میں کہا ہے کہ ’عمران خان ابھی تک ذاتی حیثیت میں عدالت پیش نہیں ہوئے اور اگر صورتحال یہی رہنی ہے تو کوئی فیصلہ کر دیتے ہیں۔‘

    منگل کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں وقفے کے بعد جاری سماعت میں عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ وکالت نامہ ایک دو دن تک دے دیتا ہوں، عمران خان کی لیگل ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود ہے، اگلے ہفتے کی کوئی تاریخ دے دیں۔

    جس پر ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طلبی کے لیے سماعت چل رہی ہے۔

    جس پر وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت خراب ہے، معذوری کی حالت ہے، جس سے عدالت نے وارنٹ دیے ہیں دنیا میں عمران خان سے متعلق تماشہ چل رہا ہے۔

    اس موقع پر وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ضامن کو عدالت نوٹس کرے اور ضمانت کو کینسل کیاجائے، اور کیس کی سماعت نو مارچ تک ملتوی کردی جائے۔

    جس پر مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ نو مارچ کو عمران خان نے ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے۔ اس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے لیے اگلے ہفتے کچہری پیش ہونا آسان ہوگا۔

    جس پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی دوسرے لفظوں میں عمران خان نے نو مارچ کو بھی سیشن عدالت پیش نہیں ہونا۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے انتظار بھی اس لیے کیا کہ شاید اسلام آباد ہائیکورٹ کا کوئی فیصلہ آجائے گا۔

    جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ابھی تک ذاتی حیثیت میں عدالت پیش نہیں ہوئے اور اگر صورتحال یہی رہنی ہے تو کوئی فیصلہ کر دیتے ہیں۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ’ ظاہر ہو رہا ہے کہ عمران خان آج بھی سیشن عدالت پیش نہیں ہوں گے۔ عمران خان دیگر عدالتوں میں پیش ہوئے لیکن سیشن عدالت پیش نہیں ہوئے۔ عمران خان کی ہر بار حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی گئی ہے۔‘

    جبکہ عمران خان کی قانونی ٹیم کے عدالت وقت پر پیش نہ ہونے پر جج نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کے وکیل نہیں آئے، کیا کریں اس کا؟

    جس پر عمران خان کی قانونی ٹیم کے رکن شیر افضل مروت نے عدالت سے کہا کہ 11 بجے تک عمران خان کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروا دیتا ہوں۔

    جس پر سیشن جج نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا وکالت نامہ پہلے آنا چاہیے تھا، بات بعد میں ہونی چاہیے تھی۔ جس پر جج نے عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کو وکالت نامہ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔ جبکہ عمران خان کے وکیل کی جانب سے دو بجے تک سماعت میں وقفہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اس پر محسن نواز رانجھا نے کہا کہ ’میں نے عمران خان کے خلاف ریفرنس دائر کیا، چھ ماہ سے معاملہ چل رہا ہے۔

    اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کے کیس میں قانون سب کے لیے برابر ہو گا، قانون کے مکمل تقاضوں کو پورا کرکے توشہ خانہ کیس کو چلایا جائے گا۔ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے دو بجے تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  4. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: ’ضامن پابند ہیں کہ عمران خان عدالت میں پیش ہوں‘، عدالت

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ ضمانت دینے والے پابند ہیں کہ عمران خان عدالت پیش ہوں۔

    سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔

    جبکہ عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے جونیئر وکیل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔اس کے علاوہ محسن شاہنواز رانجھا اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعدحسن بھی عدالت پیش ہوئے۔

    جج نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ عمران خان آج بھی نہیں پیش ہو رہے کیا؟ جس پر وکیل سردار مصروف خان نے بتایا کہ عمران خان کی پیشی کا مجھے معلوم نہیں لیکن لیگل ٹیم کچھ دیر کے بعد پیش ہو گی۔

    جج نے مزید استفسار کیا کہ آپ کے پاس عمران خان کی کچہری کی پیشی کی کوئی انفارمیشن نہیں؟

    جس پر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان کی سینئر لیگل ٹیم 10 بجے عدالت پیش ہو گی۔

    عدالت نے دریافت کیا کہ عمران خان کے ضامن پیش نہیں ہوئے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ضامن کو کیسے نوٹس کر سکتے؟ طریقہ کار مکمل نہیں ہوا۔

    جج نے ریمارکس دیے کہ ’ضمانت دینے والے پابند ہیں کہ عمران خان عدالت پیش ہوں۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کی پیشی کا صبح بتا دیا کریں، وقت کیوں ضائع کرتے ہیں۔ بعدازاں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کردیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکلا نے اسلام آباد کی سیشن عدالت سے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

    اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے درخواست کو خارج کر دیا۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے چیئرمین تحریک انصاف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھا ہے۔

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔

  5. پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے اور عوامی شارع پر آمدو رفت محں خلل ڈالنے پر مقدمہ درج کیا ہے۔

    لاہور پولیس نے سب انسپکٹر تھانہ ریس کورس کی مدعیت میں ‏مقدمہ درج کیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے خلاف درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری نے زمان پارک میں پریس کانفرنس کی اور پریس کانفرس میں رش کے باعث کینال روڈ بلاک ہو گئی۔

    اس کے علاوہ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری نےاشتعال انگیز تقریر کی۔ فواد چودھری نے عوام کو حکومت کے خلافاکسایا، اور شارع عام پر آمدورفت میں خلل ڈال کر جرم کا ارتکاب کیا۔

    دونوں رہنماؤں کے خلاف درج مقدمے میں روڈ بلاک کرنا، حکومت کو دھمکیاں دینا، اشتعال انگیز تقاریر سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔

  6. بریکنگ, عمران خان کی تقاریر، بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی پیمرا کی جانب سے ان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر عائد پابندی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت آج ہو گی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے گذشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن سماعت کریں گے۔

    قبل ازیں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ان کے وکلا محمد احمد پنجوتہ، اشتیاق اے خان اور حسان خان نیازی نے لاہور ہائی کورٹ میں پیمرا کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

    لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان نے پیمرا کو فریق بنایا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیمرا نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نشریات پر پابندی کا حکم نامہ جاری کیا ہے جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

    عمران خان نے پیمرا کی جانب سے ان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر عائد پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پیمرا نے پیمرا آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذکورہ حکم جاری کیا ہے، نشریات پر پابندی عائد کرنا بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ پیمرا کے پابندی سے متعلق احکامات کالعدم قرار دینے کا حکم دیا جائے۔

    خیال رہے کہ پانچ مارچ کو پیمرا نے عمران خان کی ریکارڈڈ اور لائیو تقاریر یا میڈیا ٹاک نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

  7. پاکستان میں 31 جولائی کے بعد 90 روز میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں: رانا ثنا اللہ

    پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہوسکتے ہیں۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’الیکشن عمران خان کے مطابق ہوئے تو ملک مکمل طور پر عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا، ملک انارکی اور افراتفری کا شکار ہوجائے گا۔ مردم شماری ہونی چاہیے اور اس کی بنیاد پر سیٹیں تقسیم ہونی چاہیے۔ اگر کسی صوبے کی سیٹیں بڑھتی ہیں تو بڑھیں۔ اس کے مطابق یہ الیکشن پورے ملک میں جنرل الیکشن ہونا چاہیے۔ دو اسمبلیوں کا پھر تین کا، یہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مردم شماری 30 مارچ تک مکمل ہوجائے گی۔ اگر 30 مارچ کو مردم شماری مکمل ہونے کے بعد نوٹیفائی ہوگئی تو اس کے بعد آئین کے تحت آپ اگلے چار ماہ تک الیکشن نہیں کروا سکتے۔ اس چار ماہ میں ہر صورت نئی حلقہ بندی کرنا ہوگی اور اس حلقہ بندی کے بعد الیکشن ہوں گے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’31 جولائی تک حلقہ بندی ہوگی لہذا الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ 31 جولائی سے آگے 90 روز میں الیکشن ہوجائیں گے۔‘

    ’اس وقت وہ مردم شماری ہو رہی ہے جس کی منظوری اس کابینہ نے دی تھی جس کے سربراہ عمران خان تھے۔ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگلا الیکشن ڈیجیٹل مردم شماری کے بغیر نہیں ہوگا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے کب کہا ہے کہ الیکشن کرانا میری ذمہ داری ہے؟ الیکشن کرانا چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ اگر مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو یہ تو آئین کہتا ہے، میں تھوڑی کہہ رہا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن تو ہونے ہی ہیں، معاملہ یہ ہے کہ دو مہینے پہلے یا چار مہینے آگے۔ ہم الیکشن میں جا چکے ہیں۔ کارکنان کو یہی پیغام دوں گا کہ آپ سمجھیں الیکشن میں ہیں اور بھرپور تیاری کریں۔ عمران خان کو ووٹ کی طاقت سے مائنس کریں گے۔‘

  8. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    ملک کی بدلتی سیاسی و معاشی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کے لیے بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    چھ مارچ تک کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں

  9. عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا اعلان، اسلام آباد کی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری جاری