بریکنگ, توشہ خانہ کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
توشہ خانہ کیس میں سیشن کورٹ کی جانب سے عمران خان کے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
عمران خان کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے اور درخواست کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنےکی استدعا کی گئی ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل علی بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ عدالت کے جج ظفر اقبال کے دو آرڈرز کو ہم نے چیلنج کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کل بھی عدالت میں درخواست دی تھی کہ ناقابل ضمانت وارنٹ کو خارج کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں آرڈر چیلنج کیے ہیں اور عمران خان کا پہلے سے ہی بائیو میٹرک ریکارڈ موجود ہے۔
عمران خان کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ ’کل یہ درخواست دائر کرنے کی کوشش کی لیکن آفس ٹائم ختم ہو گیا تھا، آج جج ظفر اقبال نے فرد جرم عائد کرنی ہے لہذا ہائیکورٹ میں سماعت آج ہی ہونی چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کیس میرٹ پر ہے اور تینوں عدالتیں جہاں عمران خان پیش ہوئے وہ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت سے بڑی ہیں۔‘
یاد رہے کہ 28 فروری کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عدم پیشی پر عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، عدالت نے اسلام آباد پولیس کو احکامات جاری کیے تھے کہ عمران خان کو گرفتار کر کے سات مارچ کو عدالت میں پیشی یقینی بنائی جائے۔
گذشتہ روز عدالت نے عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست کو مسترد کیا تھا، عدالت نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ عمران خان جان بوجھ کر سیشن عدالت پیش نہیں ہوئے۔