پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی اور آئی جی عثمان انور نے تحریک انصاف کے کارکن علی بلال عرف ’ظل شاہ‘ کی موت کو حادثاتی قرار دیا ہے اور تحریک انصاف کی قیادت پر یہ الزام لگایا ہے کہ انھیں اس کا علم تھا مگر اس کے باوجود سیاست کی خاطر حکام کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر پھلائی جانے والی تمام ویڈیوز جعلی ہیں۔ ٹیکنیکل ٹیم کی مدد سے تمام شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ اس شخص کو مارنے کی سازش نہیں تھی بلکہ یہ حادثہ تھا۔
’ظل شاہ کو ٹکر مارنے والی گاڑی کے مالک راجہ شکیل ہیں اور وہ تحریک انصاف کی سینٹرل پنجاب کے رکن ہیں۔‘
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی قیادت بشمول سابق وزیر اعظم عمران خان یہ الزام دہرا چکے ہیں کہ علی بلال پولیس ٹارچر کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے یہ بات نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کے ساتھ اتوار کے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے مزید بتایا کہ ’31 کیمروں کی مدد سے اس گاڑی کو برآمد کیا گیا۔
جب یہ گاڑی 6 بج کر 24 منٹ پر ڈیوائیڈر سے ٹکراتی ہے۔ وہ کریمینل نہیں بلکہ ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ گاڑی پھر مختلف جگہوں سے گزر کر سروسز ہسپتال پہنچتی ہے۔‘
آئی جی پنجاب کے مطابق یہ حادثے کا کیس ہے، ان کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا گیا۔ ’تمام لوگ گرفتار ہو چکے جن کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ وارث شاہ روڈ سے گاڑی برآمد کی گئی۔ ڈرائیور نے حلیہ بدلنے کے لیے داڑھی شیو کر دی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق یہ ایکسیڈینٹ کا کیس ہے ان کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ایک روز قبل مقتول علی بلال کے والد لیاقت علی نے ویڈیو پیغام میں مجھ سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی موت کے بارے میں مکمل معلومات دی جائے، تفتیش کی جائے اور انصاف دیا جائے۔ ہماری یہ ذمہ داری 3 روز قبل ہی شروع ہوگئی تھی جب 6 بج کر 52 منٹ پر ایک کالے رنگ کی ویگو نے علی بلال کی لاش سروسز ہسپتال پہنچائی۔فوری طور پر یہ اطلاعات ہمارے پاس پہنچی اور ہم نے اسے ٹریک کرنا شروع کیا۔‘
آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا فیصلہ کیا گیا کہ جب تک یہ مکمل طور پر وجوہات کنفرم نہ ہوں اس کو میڈیا سے شیئر نہیں کیا جائے گا اور اگر یہ شخص پولیس تشدد سے ہلاک ہوا تو کہ اس کے خلاف کارروائی سخت کی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے کہا کہ ’اس تمام واقعے کی اطلاعات رات کو یاسمین راشد کو دی جاتی ہیں کہ گاڑی سے بندہ ہٹ ہوا ہے۔ یاسمین راشد نے ان کو کہا کہ کل اپ میرے ساتھ زمان پارک چلیں۔ ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر۔ وہ ان کے ساتھ زمان پارک گئے۔ یاسمین راشد نے بھی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ قتل ہوا ہے۔ ہمارا سیاست سے لینا دینا نہیں لیکن جھوٹا الزام نہ لگائیں۔ آپ ہر ایک کو گمراہ کر رہے ہیں۔
مجھ پر الزام لگایا کہ میں نے قتل کی سازش کی ہے۔‘
نگران وزیر اعلی پنجاب کے مطابق یاسمین راشد کو سب پتہ تھا پھر بھی انھوں نے جان بوجھ کر اس کو چھپایا۔ ’یاسمین راشد کو پتا چلا گیا
تھا حادثہ ہے مگر ظل شاہ کی موت کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرایا گیا۔ عمران خان سے اپیل ہے اپنی سیاست
ضرور کریں لیکن جھوٹ نکال دیں۔ یاسمین راشد نے بہت زیاتی کی ہے، اس
سے بڑا جرم کوئی نہیں۔‘
آئی جی پنجاب کے مطابق پوسٹ مارٹم میں ’بلنٹ ٹراما اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت زوردار ٹکر تھی۔ یہ اس طرح نہیں جو عام طور پر پولیس کے لاٹھی یا ڈنڈے سے مخصوص اعضا پر کیا گیا تشدد ہو۔‘