آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا اعلان، اسلام آباد کی عدالتوں سے وارنٹ گرفتاری جاری

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی داتا دربار پہنچ گئی ہے جہاں انھوں نےبلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اتوار کو مینار پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔ فارن فنڈنگ کیس میں جب ن لیگ کی فنڈنگ کا سامنے آئی تو سب پتا لگ جائے گا۔ ادھر اسلام آباد کی دو عدالتوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, انتخابی ریلی کی اجازت کا معاملہ: پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر نے پیر کو اجلاس طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پنجاب حکومت کی طرف سے دفعہ 144 کے نفاذ اور الیکشن ریلیوں پر پابندی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے ڈاکٹر بابر اعوان اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواستوں پر چیف الیکشن کمشنر نے کل (پیر کو) ساڑھے 10 بجے کمیشن کا اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔‘

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے آج لاہور میں دوپہر دو بجے زمان پارک سے داتا دربار تک تحریک انصاف کی انتخابی ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  2. رکن صوبائی اسمبلی ارسلان گھمن کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا: تحریک انصاف کا دعویٰ

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی ارسلان گھمن کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان کے مطابق ’گرفتار کرنے کے لیے کچھ پولیس موبائل، پولیس اہلکار اور کچھ نامعلوم افراد آئے۔‘

    سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ ’ہمیں بتایا جائے اسے کہاں لے کر گئے ہیں۔ اس نے کیا غداری کی تھی کہ اسے گھر سے اٹھا لیا گیا؟‘

    سندھ کے حکام نے تاحال اس گرفتاری کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

  3. عمران نیازی نے نوجوانوں میں عدم برداشت اور انتشار کا زہر بھرا: وزیر اعظم شہباز شریف

    سرکاری خبر رساں اے پی پی کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے ’صحافیوں پر غنڈہ گردی‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک انا پرست شخص نے اس قوم میں عدم برداشت کا کلچر عام کیا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’عمران نیازی نے نوجوانوں میں عدم برداشت اور انتشار کا زہر بھرا۔‘

    وزیر اعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’آزادی رائے کا احترام مہذب قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ لاہور میں غنڈہ گردی کے شکار صحافیوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ ان تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو ایسے چیلنجز کے باوجود قوم تک سچ کو پہنچا رہے ہیں۔‘

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’عمران نیازی کی حکومت میں صحافیوں پر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں جو بھی عمران نیازی سے سوال کرتا ہے اس کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔‘

  4. آپ اپنا ووٹ رجسٹر کیسے کروا سکتے ہیں اور ’پوسٹل بیلٹ‘ کی سہولت کس کے لیے ہے؟

  5. ’ریلی کی اجازت نہ دی گئی تو تحریک انصاف کی قیادت آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی‘

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لاہور میں دفعہ 144 کی پابندی ’دو عدالتوں کی براہ راست توہین ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ وہی ریلی ہے جو پہلے نکالنی تھی۔ اس ریلی کو روک کر انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔

    ’لاہور ہائی کورٹ نے پابندی ہٹائی۔ اس ریلی کا روٹ پی ایس ایل کے روٹ سے کہیں نہیں ملتا، نہ ہی اس کے اوقات اس سے متصادم ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے الیکشن کمیشن کو لکھا ہے کہ 5:30 بجے ریلی ختم ہو جائے گی۔ آج دو جگہ میچ ہیں۔ ایک لاہور دوسرا راولپنڈی لیکن وہاں (راولپنڈی میں) دفعہ 144 نہیں۔‘

    بابر اعوان نے کہا کہ ’ریلی دو بجے ہے لہذا الیکشن کمیشن فوری حکم جاری کرے۔ اس میں کسی سماعت کی ضرورت نہیں ہے۔‘

    ادھر لاہور میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ اگر ریلی کی اجازت نہ دی گئی تو قیادت آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان آج دوپہر دو بجے زمان پارک سے داتا دربار تک ’حقیقی آزادی الیکشن ریلی‘ کی قیادت کریں گے۔

  6. الیکشن کمیشن لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کلعدم قرار دے اور انتخابی ریلی کی اجازت دے: تحریک انصاف

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بابر اعوان نے دفعہ 144 کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرنے کی درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن دفعہ 144 کے نفاذ کو ختم کرے۔ لاہور میں تحریک انصاف کی ریلی پر دفعہ 144 کا نفاذ غیر قانونی ہے۔ پنجاب حکومت دفعہ 144 کا نفاذ کر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خالف ورزی کر رہی ہے۔‘

    اس کے مطابق ’پنجاب حکومت پی ایس ایل میچ کو جواز بنا کر ریلی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی ریلی اور پی ایس ایل کے میچ کا روٹ مختلف ہے۔‘

    تحریک انصاف کی ریلی ساڑھے پانچ بجے ختم ہوگی جبکہ پی ایس ایل کا میچ سات بجے شروع ہوگا۔ اس سے پہلے کسی شہر میں پی ایس ایل کے دوران دفعہ 144 کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ الیکشن کمپین تحریک انصاف کا آئینی حق ہے۔ پنجاب حکومت غیر قانونی طور پر تحریک انصاف کی الیکشن کمپین کو روک رہی ہے۔‘

    ادھر یاسمین راشد نے تحریک انصاف کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی ہے کہ لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کلعدم قرار دیا جائے اور تحریک انصاف کو انتخابی ریلی نکالنے کی اجازت دی جائے۔

  7. ہم تم اک کمرے میں بند ہوں: وسعت اللہ خان کا کالم

  8. بریکنگ, پی ٹی آئی کا دفعہ 144 کو چیلنج کرنے کا اعلان اور کارکنان کو پہنچنے کی ہدایت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پنجاب کی نگراں حکومت کی جانب سے لاہور میں دفعہ 144 کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پابندی کے باوجود پارٹی کارکنان کو آج زمان پارک پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 کا کوئی جواز نہیں، فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد الیکشن ریلی روکنا آئین شکنی ہے۔ پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی آئین شکنی پر صبح الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ سے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ کسی کو آئین سے کھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نگراں حکومت کے دفعہ 144 کے فیصلے کے خلاف اتوار کی چھٹی کے باوجود لاہور ہائی کورٹ بھی جائیں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن لاہور سے درخواست کریں گے کہ نگراں حکومت آپ کی پابند ہے، انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے تو ریلی کی پابندی کا جواز نہیں۔ جبکہ اسلام آباد میں بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پارٹی موقف دیں گے۔

    انھوں نے کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہآج دن دو بجے زمان پارک پہنچیں، عمران خان آج ریلی کی قیادت کریں گے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے آج ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے جلسے ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

  9. بریکنگ, پی ٹی آئی ریلی: لاہور میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوس پر پابندی عائد

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اتوار کو ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    نگراں وزیر اطلاعات عامر میر نے سنیچر کی شب لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ نے ایک بار پھر اہم دن پر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے، لاہور میں آج پی ایس ایل کا ایک میچ، 40 کلومیٹر کی میراتھن اور سائیکل ریس ہونے جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان تمام ایونٹس کا فیصلہ ایک ماہ سے پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ لیکن عمران خان نے آج اچانک سے ان ایونٹس کے باوجود سیاسی ریلی کا اعلان کر دیا تھا۔

    پچھلے دنوں بھی شہر میں میچ اور عورت مارچ ریلی تھی تو انھوں نے ریلی کا اعلان کر دیا تھا۔

    عامر میر کا کہنا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے دفعہ 144 لگائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیے اور انھیں بتایا کہ آپ ریلی کی تاریخ کو آگے لے جائیں۔ ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کو بتایا وہ نہیں مانے تو پھر ہمیں دفعہ 144 کا نفاذ کرنا پڑا۔

    نگراں وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا تھا کہ 12 مارچ کے لیے پنجاب حکومت نے ریلی نکالنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور شہر میں کسی بھی قسم کی ریلی اور جلسے نکالنے پر مکمل پابندی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 کا نفاذ فی الحال ایک روز کے لیے کیا گیا ہے لیکن اگر پی ٹی آئی کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو اس کا نفاذ بڑھا دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اتوار کی دوپہر دو بجے انتخابی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دفعہ 144 پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اسے مسترد کرتی ہے، ہماری ریلی وقت پر لازمی نکلے گی۔

  10. عمران خان کی قیادت میں اتوار کی انتخابی ریلی کا روٹ جاری، داتا دربار آخری مقام

    تحریک انصاف نے اتوار کو اپنی پہلی انتخابی ریلی کا روٹ جاری کر دیا ہے۔ اس ریلی کی قیادت عمران خان کریں گے۔ یہ ریلی زمان پارک یعنی کنال بینک روڈ سے ہوتی ہوئی گڑھی شاھو کا رخ کرے گی اور پھر ریلوے سٹیشن، برانڈیتھ روڈ، سرکلر روڈ، شاہ عالم چوک، لوہاری گیٹ، اردو بازار چوک، بھاٹی گیٹ چوک سے ہوئی داتا دربار پہنچے گی۔

  11. عمران خان نے اتوار کی انتخابی ریلی سے متعلق مشاورتی اجلاس طلب کر لیا, ترہب اصغر بی بی سی اردو لاہور

    لاہور میں تحریک انصاف کی پہلی انتخابی ریلی کے سلسلے میں چیئرمین تحریک انصاف سینیئر قیادت کا مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں ریلی کے روٹ اور حکمت عملی طے کی جائے گی۔

    عمران خان کے خطاب اور استقبالیہ پوائنٹس پر مشاورت کی جائے گی۔ ریلی دو بجے زمان پارک سے شروع ہو گی۔

    آج اس ریلی کے بارے میں عمران خان نے قوم سے اپنے ٹی وی خطاب کے دوران اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے لاہور کے عوام سے اس ریلی میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

    آج کے خطاب میں انھوں نے لاہوں میں تحریک انصاف کے ایک کارکن کی ہلاکت سے متعلق حقائق کی چھان بین کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے۔

    اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ لاہوریو آپ زندہ دل قوم ہیں، کل 12 مارچ دوپہر 2 بجے میں خود نکلوں گا انشاءاللہ، الیکشن ریلی کروں گا۔ ہم سب نے نکلنا ہے، پیغام دینا ہے کہ ہم جبر کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

  12. عمران خان کا اتوار کی دوپہر دو بجے ’الیکشن ریلی‘ کی قیادت کرنے کا اعلان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کل دو بجے لاہور میں الیکشن ریلی کی قیادت کریں گے۔

    انھوں نے لاہور کے عوام سے باہر نکلنے کی اپیل کی ہے۔

    عمران خان نے کہا ہے کہ اب الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ’حکومت کی یہ کوشش ہے کہ کسی نہ کسی بہانے الیکشن نہ کرائیں۔‘

  13. عمران خان کا علی بلال کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ وہ تحریک انصاف کے کارکن علی بلال کی ہلاکت کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنائیں۔

    عمران خان نے کہا کہ علی بلال پر ’کسٹوڈیل ٹارچر‘ کیا ہے جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔

  14. نور مقدم قتل کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ پیر کو سنائے گی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ پیر کو سنائے گی۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے21 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو قتل کر دیا گیا تھا جس میں پولیس کی تفتیش کے مطابق نور مقدم کو تیز دھار آلے کی مدد سے گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا۔

    نور مقدم کے قتل کی ایف آئی آر اُن کے والد اور سابق سفیر شوکت مقدم کی مدعیت میں درج کروائی گئی تھی جس میں مقتولہ کے دوست ظاہر جعفر کو نامزد کیا گیا تھا۔

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی جبکہ اس سزا کے خلاف ظاہر جعفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر اب پیر کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

  15. بریکنگ, ’علی بلال حادثے میں ہلاک ہوئے، تحریک انصاف کی قیادت نے قتل کا جھوٹا الزام لگایا‘

    پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی اور آئی جی عثمان انور نے تحریک انصاف کے کارکن علی بلال عرف ’ظل شاہ‘ کی موت کو حادثاتی قرار دیا ہے اور تحریک انصاف کی قیادت پر یہ الزام لگایا ہے کہ انھیں اس کا علم تھا مگر اس کے باوجود سیاست کی خاطر حکام کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر پھلائی جانے والی تمام ویڈیوز جعلی ہیں۔ ٹیکنیکل ٹیم کی مدد سے تمام شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ اس شخص کو مارنے کی سازش نہیں تھی بلکہ یہ حادثہ تھا۔

    ’ظل شاہ کو ٹکر مارنے والی گاڑی کے مالک راجہ شکیل ہیں اور وہ تحریک انصاف کی سینٹرل پنجاب کے رکن ہیں۔‘

    خیال رہے کہ تحریک انصاف کی قیادت بشمول سابق وزیر اعظم عمران خان یہ الزام دہرا چکے ہیں کہ علی بلال پولیس ٹارچر کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے یہ بات نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کے ساتھ اتوار کے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ آئی جی پنجاب عثمان انور نے مزید بتایا کہ ’31 کیمروں کی مدد سے اس گاڑی کو برآمد کیا گیا۔ جب یہ گاڑی 6 بج کر 24 منٹ پر ڈیوائیڈر سے ٹکراتی ہے۔ وہ کریمینل نہیں بلکہ ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ گاڑی پھر مختلف جگہوں سے گزر کر سروسز ہسپتال پہنچتی ہے۔‘

    آئی جی پنجاب کے مطابق یہ حادثے کا کیس ہے، ان کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا گیا۔ ’تمام لوگ گرفتار ہو چکے جن کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ وارث شاہ روڈ سے گاڑی برآمد کی گئی۔ ڈرائیور نے حلیہ بدلنے کے لیے داڑھی شیو کر دی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق یہ ایکسیڈینٹ کا کیس ہے ان کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا گیا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’ایک روز قبل مقتول علی بلال کے والد لیاقت علی نے ویڈیو پیغام میں مجھ سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی موت کے بارے میں مکمل معلومات دی جائے، تفتیش کی جائے اور انصاف دیا جائے۔ ہماری یہ ذمہ داری 3 روز قبل ہی شروع ہوگئی تھی جب 6 بج کر 52 منٹ پر ایک کالے رنگ کی ویگو نے علی بلال کی لاش سروسز ہسپتال پہنچائی۔فوری طور پر یہ اطلاعات ہمارے پاس پہنچی اور ہم نے اسے ٹریک کرنا شروع کیا۔‘

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا فیصلہ کیا گیا کہ جب تک یہ مکمل طور پر وجوہات کنفرم نہ ہوں اس کو میڈیا سے شیئر نہیں کیا جائے گا اور اگر یہ شخص پولیس تشدد سے ہلاک ہوا تو کہ اس کے خلاف کارروائی سخت کی جائے گی۔

    پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے کہا کہ ’اس تمام واقعے کی اطلاعات رات کو یاسمین راشد کو دی جاتی ہیں کہ گاڑی سے بندہ ہٹ ہوا ہے۔ یاسمین راشد نے ان کو کہا کہ کل اپ میرے ساتھ زمان پارک چلیں۔ ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ کر۔ وہ ان کے ساتھ زمان پارک گئے۔ یاسمین راشد نے بھی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ قتل ہوا ہے۔ ہمارا سیاست سے لینا دینا نہیں لیکن جھوٹا الزام نہ لگائیں۔ آپ ہر ایک کو گمراہ کر رہے ہیں۔ مجھ پر الزام لگایا کہ میں نے قتل کی سازش کی ہے۔‘

    نگران وزیر اعلی پنجاب کے مطابق یاسمین راشد کو سب پتہ تھا پھر بھی انھوں نے جان بوجھ کر اس کو چھپایا۔ ’یاسمین راشد کو پتا چلا گیا تھا حادثہ ہے مگر ظل شاہ کی موت کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرایا گیا۔ عمران خان سے اپیل ہے اپنی سیاست ضرور کریں لیکن جھوٹ نکال دیں۔ یاسمین راشد نے بہت زیاتی کی ہے، اس سے بڑا جرم کوئی نہیں۔‘

    آئی جی پنجاب کے مطابق پوسٹ مارٹم میں ’بلنٹ ٹراما اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت زوردار ٹکر تھی۔ یہ اس طرح نہیں جو عام طور پر پولیس کے لاٹھی یا ڈنڈے سے مخصوص اعضا پر کیا گیا تشدد ہو۔‘

  16. اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو پارٹی کی قیادت عارضی طور پر خود کروں گا: شاہ محمود قریشی

    تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو پارٹی کی قیادت عارضی طور پر وہ خود کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ ’عمران خان کو اول تو گرفتار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کا کوئی جواز ہی نہیں۔ تاہم اگر سیاسی مصلحت کے تحت گرفتار کیا بھی گیا تو یہ ان کی عوامی رابطہ منقطع کرنےکی مذموم کوشش ہو گی۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ’اگرعمران خان کو اگر گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کے لیے پارٹی کا یک سٹرکچر موجود ہے جس کے تحت پارٹی کی زمہ داری عارضی طور پر مجھے سونپی جائے گی۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ ’رہنمائی اور اصول عمران خان کے ہوں گے اور قیادت بھی عمران خان کی ہو گی میرا رول عمران خان کے فرمان کے مطابق ہو گا اور یہ کردار عارضی ہو گا۔ ‘

  17. الیکشن ضرور ہوگا مگر پہلے ترازو کے دونوں پلڑے برابر کیے جائیں گے: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر اور سینیئر نائب صدر مریم نواز نے فیصل آباد میں جعمہ کے روز جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف سازش کرنے والے ایک ایک کر کے بول رہے ہیں کہ ہم نے سازش کی تھی۔ ان کے مطابق یہ پانامہ بنچ کے فیصلے نہیں ہوتے یہ اوپر والے کے فیصلے ہوتے ہیں، انھیں ماننا پڑتا ہے۔

    سارے سازشی جو 2017 اور 2018 کی سازش میں شامل تھے وہ نہ صرف خود بول رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کا پتا بھی بتا رہے ہیں۔

    مریم نواز کے مطابق ’نواز شریف آ رہا ہے، نواز شریف آئے گا، جس دن نواز شریف آ جائے گا اس دن اس ملک میں خوشحالی کے دن واپس آ جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’الیکشن ضرور ہوگا، لیکن پہلے احتساب ہوگا۔ الیکشن ہوگا، پہلے ترازو کے دونوں پلڑے برابر کیے جائیں گے۔‘ مریم نواز نے کہا کہ ’پہلے ترازو کے دونوں پلڑے برابر کرو، صبح الیکشن کروا لو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘

    مسلم لیگ کی چیف آرگنائزر نے مزید کہا کہ ’الیکشن سے پہلے کچھ فیصلے ہونا باقی ہیں۔‘ ان کے مطابق ایک طرف بے گناہ نواز شریف کیا دو سو پیشیاں اور دوسری طرف عمران خان کی دو پیشیاں۔۔ کیا یہ قبول ہے؟ ایک طرف مسلم لیگ کی دو دو سال کی جیل اور دوسری طرف دو دو گھنٹوں میں ضمانت کیا یہ قبول ہے۔‘

    ایک طرف خیالی تنخواہ اور دوسری طرف اپنی بیٹی چھپانا، قوم سے جھوٹ بولنا، گھڑیاں چوری کرنا اور چپ کر کے دبئی جا کر بیچ دینا۔ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عمران خان نے قومی خزانے پر 55 ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا ہے۔

  18. مریم نواز کا فیصل آباد جلسے میں سپریم کورٹ کے پانامہ بنچ پر تنقید

    پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے فیصل آباد میں اپنی جماعت کے جلسہ عام سے خطاب کرتے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی پانامہ بنچ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف تین بار ملک کے وزیراعظم بنے اور تینوں بار ملک اوپر اٹھا۔ جب جب نواز شریف نیچے گیا، یہ ملک بھی تب تب نیچے گیا۔‘

    مریم نواز نے پانامہ بنچ کے ریٹائرڈ دو ججز اور چیف جسٹسز آصف سعید کھوسہ اور ثاقب نثار پر تنقید بھی کی۔

    مریم نواز کے مطابق ’پانامہ بنچ والوں نے صرف نواز شریف سے دشمنی اور انتقام نہیں لیا بلکہ غریب کی دو روپے کی روٹی اور روزگار سے دشمنی کی۔ پاکستان کی ترقی سے دشمنی کی۔ غریب کے بچے کے روزگار سے دشمنی کی۔‘

    مریم نواز کے مطابق انھوں نے صرف نواز شریف کو نہیں نکالا بلکہ ایک نااہل اور گھڑی چور کو مسلط کر کے جُرم کیا۔ ان کے مطابق پانامہ بنچ کا یہ جرم قوم کی نسلیں بھی معاف نہیں کریں گی۔

  19. عمران خان کو گرفتار کیا جائے گا: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کا فیصل آباد جلسے سے خطاب

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں، الیکشن لڑیں گے اور انشااللہ کامیابی حاصل کریں گے۔

    عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ سے توشہ خانہ، فارن فنڈنگ اور جو ایک پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ مل کر ملک کو پچاس ارب کا ٹیکہ لگایا۔ خود پانچ ارب کی پراپرٹی اپنے اور اپنی بیگم کے نام کروائیں۔ الیکشن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ سے اس سب کا حساب نہیں لیا جائے گا۔

    رانا ثناللہ نے کہا کہ یہ (عمران خان) پکڑا بھی جائے گا اور جیل بھی جائے گا۔ انھوں نے کہا کبھی عدالتوں کے پیچھے جا کر چھپتے ہو، وکلا کے پیچھے جا کر چھپتے ہو، یہ بھاگ دوڑ کرتے کرتے آپ تھک جاؤ گے اور پھر پکڑے جاؤ گے۔

    ان کے مطابق نواز شریف واپس وطن آئیں گے اور الیکشن جیت کو ملک کو بحران سے نکالیں گے۔

  20. ڈپٹی چیئرمین نیب کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو چیئرمین نیب کو حاصل ہوتے ہیں: وفاقی وزیر قانون

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے نیب آرڈینس میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔

    وزیر قانون کے مطابق ’چیئرمین نیب کے اختیار کے حوالے سے صرف ایک ترمیم ہوئی ہے۔ چیئرمین نیب کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین کو کچھ اختیارات دیئے گئے ہیں۔‘

    وفاقی وزیر کے مطابق ’ ترامیم کے تحت ڈپٹی چیئرمین نیب کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو چیئرمین نیب کو حاصل ہوتے ہیں۔ نیب کے دائرہ اختیار میں نہ آنےوالےمقدمات کومتعلقہ اداروں کو بھیجاجا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’نیب کو صرف میگا کرپشن کے کیسز کے لیے رکھا گیا تھا ۔نیب میں مقدمے بنتے تھے لیکن ان کے فیصلے نہیں ہوتے تھے۔‘

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق’نیب کے اختیارات بہت ذیادہ تھے چھوٹے چھوٹے کیسز بنا دیئے جاتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کیس میں بھی اعلیٰ عدلیہ نے کہا نیب کو سیاسی انجئیرنگ کے لیےاستعمال کیا گیا ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ نیب کی دفعہ 4 اور دفعہ 5 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ عمران خان نے نیب قوانین میں اپنی مرضی کےخلاف ترمیم کو چیلنج کیا۔