ایگزیکٹ ڈگری سکینڈل کیس کے ملزم شعیب شیخ کو جب جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردوں کی طرح منھ پر کپڑا ڈال کے ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا۔‘
جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ’کیا مقدمے سے قبل انکوائری کی؟‘
تفتیشی افسر نے کہا ’جی انکوائری کی، جج کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے شعیب شیخ کے خلاف انکوائری کا حکم دیا۔ جیل میں ہونے کے باوجود رشوت بھیجی گئی، ادارے کو بدنام کیا گیا۔‘
ان کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ابھی تفتیش کرنی ہے لہذا ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر حوالے دیا جائے۔
شعیب شیخ نے کہا کہ ’برگیڈیر طاہر صاحب نے رشوت دی۔ رشوت دینے والا برگیڈیر ہے، رشوت لینے والا جج ہے۔ اس میں میرا کوئی تعلق نہیں۔ کیا برگیڈیر کو گرفتار کیا گیا؟ کیا ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا؟‘
ملزم نے عدالت کو بتایا کہ ’میرے ساتھ غیر انسانی سلوک ہوا۔ مجھ پر رشوت دینے کا الزام ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے خلاف انکوائری تھی، مجھے انکوائری میں شامل ہونے کے لیے کچھ روز دیے جاتے۔‘
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ’کیا سابق ایڈیشنل سیشن جج نے رشوت لینے کا اقرار نہیں کیا اور کیا دیگر 25 ملزمان کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا؟‘ اس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ’دیگر 25 ملزمان کو شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا۔‘
ملزم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سپیشل پراسیکیوٹر پر اعتراض اٹھایا کہ ’کوئی بھی پرائیویٹ وکیل سرکاری عہدہ رکھنے کا حق نہیں رکھتا۔‘
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر اشفاق نقوی نے کمرہ عدالت میں دلائل دیے کہ ’26 ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سابق ایڈیشنل سیشن جج کا بیان اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری اپیل کا حصہ تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دیگر شریک ملزمان کے ساتھ ٹرائل کورٹ نے شعیب شیخ کو مجرم قرار دیا تھا اور ملزم شیعب شیخ نے جیل جائے بغیر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی۔‘
پراسیکیوٹر کے دلائل کے دوران ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ کو پراسیکوٹر کے دلائل دینے کے دوران بار بار بولنے پر عدالت نے روک دیا۔ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’ہائیکورٹ کے دو ججز کے سامنے سیشن جج نے رشوت لینے کا اعتراف کیا۔‘
پراسیکوٹر نے ملزم شعیب شیخ کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی مخالفت کی اور کہا ’ابھی تو
24 گھنٹے گرفتاری کو ہوئے نہیں، کیس سے ڈسچارج نہیں کیا جاسکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’رشوت لینے والا ظاہر ہے تو کسی نے تو رشوت دی بھی ہو گی اور اس معاملے کے بینفشری سی ای او ایگزیکٹ شعیب شیخ ہیں اور اس سٹیج پر ڈسچارج کرنا نہیں بنتا، جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے۔‘
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے شعیب شیخ کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔