آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں 31 جولائی کے بعد 90 روز میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں: رانا ثنا اللہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت مردم شماری نوٹیفائی ہونے پر چار ماہ تک الیکشن نہیں ہوسکتے بلکہ نئی حلقہ بندیوں میں ’اگر کسی صوبے میں سیٹیں بڑھتی ہیں تو بڑھیں گی۔‘

لائیو کوریج

  1. اسمبلی ازخود تحلیل ہو تو آئین خاموش ہے کہ تاریخ کون دے گا، فاروق نائیک, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلی ازخود تحلیل ہو تو آئین خاموش ہے کہ تاریخ کون دے گا۔

    منگل کے دن سماعت کے دوران فاروق نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت عدالت سے کون رجوع کر سکتا ہے، یہ واضح نہیں ہے۔

    فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق گورنر کے پاس تاریح دینے کے لیے نوے دن کا وقت ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ اس حساب سے نوے دن میں انتحابات کیسے ہوں گے؟ آرٹیکل 224 پر عمل کیسے ہو گا۔

    فارق نائیک کا کہنا تھا کہ اسمبلی ازخود تحلیل ہو تو آئین خاموش ہے کہ تاریخ کون دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ پنجاب میں اسمبلی ازخود تحلیل ہوئی، گورنر نے نہیں کی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فنڈز کی کمی کی صورت میں کیا ہوگا؟ فاروق نائیک نے جواب دیا کہ معاشی صورتحال اور فنڈنگ پر قانون خاموش ہے۔

  2. الیکشن کمیشن چٹھیوں کے پیچھے خاموش ہے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن چٹھیوں کے پیچھے خاموش ہے۔

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بنچ کی سربراہی کرنے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اولین ترجیح آئین کے مطابق چلنا ہے، آئین کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔

    جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کی تاریخ تو دیں، ہو سکتا ہے حالات ٹھیک ہو جائیں فنڈز بھی آ جائیں۔

    اس سے قبل خیبر پختونخوا کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ الیکشن کمیشن نے دونوں صوبوں کے لیے 60 ارب روپیے مانگے تھے۔

    انھوں نے موقف اختیار کیا کہ سوال یہ ہے کہ گورنر کے صوبدیدی اختیار میں مداخلت ہو سکتی ہےیا نہیں؟

  3. پنجاب، کے پی الیکشن از خود نوٹس کیس: مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے فل کورٹ کی درخواست واپس لے لی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس پر سیاسی جماعتوں نے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست واپس لے لی ہے۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کی جانب سے اس ازخود نوٹس کی کی سماعت کرنے والے نو رکنی بنچ کے دو ارکان، جسٹس اعجاز الاحسن اور جستس مظاہر نقوی، پر اعتراض کرتے ہوئے فل کورٹ بنانے کی درخواست کی تھی۔

    تاہم اس نو رکنی بنچ کے چار ججوں، جن میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس ، نے خود کو گزشتہ روز اس کیس سے الگ کر لیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت جاری رکھی۔

    منگل کو فارق ایچ نائیک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فل کورٹ کی درخواست واپس لے رہے ہیں۔

  4. بریکنگ, انسدادِ دہشت گردی اور بینکنگ عدالتوں سے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عدالتوں نے ممنوعہ فنڈنگ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمات میں تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی پیشی کے بعد ان کی ضمانت کی درخواستوں کو منظور کر لیا ہے۔

    منگل کے روز اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیس میں ہونے والی سماعتوں میں پیش ہونے کے لیے عمران خان لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے اور ان کے ہمراہ ان کی جماعت کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے تاہم پارٹی کارکن سکیورٹی حصار کو توڑتے ہوئے جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت میں داخل ہو گئے۔

    بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کی تو سپیشل پراسیکوٹر نے سابق وزیر اعظم کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دو اگست 2022 کو پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ثابت ہو گیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

    ایف آئی اے نے 11 اکتوبر کو عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا مقدمہ درج کیا تھا جس کی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور وہ نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں 10 سال کی تاخیر سے یہ مقدمہ درج کیا گیا جس میں کوئی متاثرہ فریق نہیں بلکہ ریاست نے یہ مقدمہ درج کرایا۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان پر عبوری ضمانت کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔

    سلمان صفدر نے کہا کہ 'تفتیشی افسر ابھی الزام لگائیں گے کہ عمران خان شامل تفتیش نہیں ہوئے، عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ عمران خان نے شامل تفتیش ہونے کے لیے کتنی کوشش کی۔'

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا تھا اور آج وہ وقت مکمل ہو رہا ہے۔

    فریقین کے دلائل کے بعد جج رخشندہ شاہین نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

    اس سے قبل انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم کی عبوری ضمانت منظور کی۔ عمران خان منگل کی دوپہر جج راجا جواد عباس حسن کی عدالت میں پیش ہوئے جہاں سماعت کے بعد عدالت نے نو مارچ تک ان کی ضمانت منظور کرنے کا حکم دیا۔

  5. توشہ خانہ کیس میں پانچ روز کے التوا کی استدعا پر جج برہم

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں منگل کو عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق مقدمے کی سماعت میں عمران خان کے وکیل کی درخواست پر وقفہ کر دیا گیا ہے۔

    توشہ خانہ سے گھڑیاں اور دوسرا سامان لے کر جانے اور انھیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق ریفرنس ضلعی عدالت کو بھیجا ہوا ہے۔

    اس مقدمے میں عمران خان پر سات فروری کو فردِ جرم عائد ہونی تھی تاہم وہ ابھی تک کسی بھی سماعت پر پیش نہیں ہوئے ہیں۔

    منگل کی صبح اس مقدمے میں ان کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آج جوڈیشل کمپلیکس میں دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے اس لیے وہ اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    علی بخاری نے سماعت پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی تو ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے کہ ملزم جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہو گا تو اس عدالت کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ ’ادھر فرد جرم عائد ہونی ہے، ادھر آجائیں، فرد جرم عائد ہو جائے پھر چلے جائیں‘۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی سماعت ملتوی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان عدالت میں پیش ہی نہیں ہونا چاہتے۔

    اس پر علی بخاری نے کہا اگر عمران خان عدالتی اوقات کے دوران جوڈیشل کمپلیس سے نکل آئے تو پیش ہو جائیں گے۔ اس کے بعد عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا۔

  6. انتخابات پر متحرک ہونا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن سے متعلق ازخود نوٹس سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ انتخابات پر متحرک ہونا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ نے مشاورت کرکے تاریخ دینے کا حکم دیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے گورنر سے ملاقات کی۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا گورنر کے پی سے تاریخ کے لیے بات ہوئی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ بھی نوٹس نوٹس ہی کر رہی ہے۔

    اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ گورنر کے پی کو یاددہانی کا خط بھی لکھا تھا، گورنر کے پی نے مشاورت کی ناہی الیکشن کی تاریخ دی اور دیگر اداروں سے رجوع کرنے کا کہا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ تمام ادارے انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخواہ کے مطابق دیگر اداروں سے رجوع کرکے تاریخ کا تعین کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابات پر متحرک ہونا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام تھا کہ مکمل تیاری کے ساتھ دوبارہ گورنرز سے رجوع کرتا۔

  7. عمران خان کو آج کن کن مقدمات اور عدالتوں میں پیش ہونا ہے؟

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو آج اسلام آباد میں چار مختلف مقدمات میں پیش ہونا ہے۔

    ان میں سے پہلا کیس جوڈیشل کمپلیکس میں انسداد دہشت گردی عدالت میں ہے۔ توشہ خانہ کے معاملے پر قومی اسمبلی کے سپیکر کے ریفرنس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پر عمران خان کے خلاف تھانہ سنگ جانی میں مقدمہ درج ہوا تھا جس میں کار سرکار میں مداخلت اور توڑ پھوڑ کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

    دوسرے نمبر پر جوڈیشل کمپلیکس میں ہی عمران خان کو بینکنگ کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ضمانت کی درخواست پر پیش ہونا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دو اگست 2022 کو پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ثابت ہو گیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ ایف آئی اے نے 11 اکتوبر کو عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا مقدمہ درج کیا تھا جس کی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور وہ نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔

    تیسرے نمبر پر اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں توشہ خانہ کیس ہے جس میں بابر اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عمران خان لازمی پیش ہوں گے۔ واضح رہے کہ توشہ خانہ سے گھڑیاں اور دوسرا سامان لے کر جانے اور انھیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق ریفرنس ضلعی عدالت کو بھیجا ہوا ہے۔

    اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر رکھا ہے تاہم وہ ابھی تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

    چوتھے نمبر پر، اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں ہی سیکرٹریٹ تھانہ میں محسن شاہنوار کی جانب سے دائر مقدمہ میں کہا تھا کہ الیکشن کمییشن کے باہر احتجاج کے دوران ان پر عمران خان کی ایما پر حملہ ہوا تھا۔

    عمران خان کو اس کیس میں ضمانت کی درخواست پر پیش ہونا تھا تاہم ان کے وکلا نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست واپس لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی جہاں رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر تین اعتراض لگا دیے۔

  8. چیئرمین تحریک انصاف کی جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد آمد

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں پہنچ چکے ہیں جہاں ان کو دو مختلف مقدمات میں پیش ہونا ہے۔

    اس موقع پر عمران خان کے ہمراہ تحریک انصاف کے ورکرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں عمران خان نے پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہونا ہے جس کے بعد وہ فارن فنڈنگ کیس میں اسی کمپلیکس میں موجود بینکنگ کورٹ میں پیش ہوں گے۔

    عمران خان کو اسلام آباد کی ایف ایٹ کچہری میں بھی ایک مقدمہ میں پیش ہونا ہے تاہم جیوز نیوز نے عمران خان کے چیف آف سٹاف شبلی فراز کے حالے سے بتایا کہ عمران خان کچہری نہیں جائیں گے کیوں کہ وہاں سکیورٹی کا خدشہ ہے اور وہ جوڈیشل کمپلیکس سے ہی واپس لاہور چلے جائیں گے۔

  9. قانون واضح نہیں تو کیسے کہیں الیکشن کمیشن غلطی کر رہا ہے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے الیکشن سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر قانون واضح نہیں تو کیسے کہیں الیکشن کمیشن غلطی کر رہا ہے۔

    منگل کے دن سماعت کے دوران اتارنی جنرل نے دلائل دیے اور کہا کہ نوے دن سے تاخیر پر عدالت اجازت دے سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ نہ سمجھیں عدالت کسی غیر آئینی کام کی توسیع کرے گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 254 کا جہاں اطلاق بنتا ہوا وہاں ہی کرییں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا نگران کابینہ گورنرز کو سمری بھجوا سکتی ہے۔جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ گورنر اور کابینہ دونوں آئین کے پابند ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ نگران کابینہ الیکشن کی تاریخ کے لیے سمری نہیں بھجوا سکتی۔

  10. صدر کا اختیار الیکشن کمیشن سے متضاد نہیں ہو سکتا، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    الیکشن ازخود نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن ایکٹ کا اختیار آئین سے بالا تر نہیں ہو سکتا۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر کا اختیار الیکشن کمیشن سے متضاد نہیں ہو سکتا۔

    جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ بطور اٹارنی جنرل قانون کا دفاع کرنے کی بجائے اس کے خلاف بول رہے ہیں۔

    جسٹس محمع علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سیکشن 57 ون ختم کر دیں تو الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا۔

    اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن انتخاب تاریخ کا اعلان کرے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ سکتا ہے 14 اپریل تک الیکشن ممکن نہیں۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹھوس وجوہات کے ساتھ الیکشن کمیشن فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ تاہم اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی نے ابھی تک تاریخ ہی نہیں دی سب کچھ ہوا میں ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کے پاس 90 روز سے تاخیر کا اختیار کہاں سے آیا؟

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جھگڑا ہی سارا 90 روز کے اندر الیکشنز کرانے کا ہے۔

  11. توشہ خانہ احتجاج کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کی درخواست ضمانت پر اعتراض, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ رجسٹرار آفس نے تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ فیصلے پر احتجاج کیس میں دائر درخواست ضمانت پر تین اعتراضات عائد کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف محسن شاہ نواز رانجھا کی مدعیت میں اسلام آباف کے تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے اور اس مقدمہ میں عمران خان کی جانب سے سیشن کورٹ میں درخواست برائے ضمانت دائر کی گئی تھی تاہم بعد میں سیشن کورٹ سے درخواست ضمانت واپس لیکر ہائیکورٹ میں دائر کی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراض کیا ہے کہ عمران خان کے دستخط پٹیشن پر دو جگہوں پر مختلف ہیں جبکہ انھوں نے بائیو میٹرک تصدیق بھی نہیں کرائی۔

    رجسٹرار آفس کی جانب سے یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست براہ راست ڈائریکٹ ہائیکورٹ میں کیسے دائر ہو سکتی ہے۔

  12. صوبائی عام انتخابات 25 اپریل سے پہلے ممکن نہیں، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا ہے کہ صوبائی عام انتخابات 25 اپریل سے پہلے ممکن نہیں۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل شہزاد الہی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے جس کی ذمہ داری انتخابات کرانا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے اعلان کرنا ہے تو کسی سے مشاورت کی ضرورت نہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئین اور قانون کی منشا کو سمجھیں، الیکشن کمیشن نے اعلان کرنا ہو تو صدر اور گورنر کا کردار کہا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کا کردار ہر صورت میں اہم ہے۔ انھوں نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق الیکش کمیشن کا کردار حتمی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین کی تشریح پارلیمنٹ کی قانون سازی سے نہیں ہو سکتی، آئین سپریم ہے اور صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ انتخابات کی تاریخ کو طے الیکشن کمیشن نے کرنا ہے اور اعلان گورنر نے کرنا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخِیل نے ریمارکس دیے کہ جب سب واضح ہے تو جھگڑا کس بات کا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن پروگرام پر عمل کریں تو انتخابات 90 روز کی مدت میں ممکن نہیں، پنجاب میں نوے روز کی مدت 14 اپریل کو ہو رہی ہے، صوبائی عام انتخابات 25 اپریل سے پہلے ممکن نہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ نیت ہو تو راستہ نکل ہی جاتا ہے، الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام چاہتے تو حل نکال سکتے تھے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ نوے روز کے اندر انتخابات کے لیے مہم کا وقت کم کیا جاسکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بااختیار ہے،کیا شیڈول میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لیے وقت درکار ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کا دورانیہ دو ہفتے تک کیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے کہا کہ اگر قانون میں تاریخ دینے کا معاملہ واضح کردیا جاتا تو آج یہاں نہ کھڑے ہوتے۔

  13. سپریم کورٹ میں بینچ کی تبدیلی پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کی تبدیلی پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کر لیا۔

    واضح رہے کہ اس مخصوص کیس کے لیے منگل کو سماعت سے قبل بینچ میں تبدیلی کی گئی جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ بینچ میں جسٹس حسن رضوی صاحب تھے، بینچ کیوں تبدیل ہوا۔

    عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو تمام ریکارڈ سمیت فوری طور پر طلب کر لیا جہاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شفافیت چاہتے ہیں، اگر رجسٹرار کیس ایک بینچ سے دوسرے بینچ میں لگا دے تو شفافیت کیسے ہو گی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے ایک رجسٹرار تو میرے جیسے جج سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کیا میں فون کرکے رجسٹرار کو یہ کہہ سکتا ہوں فلاں کیس فلاں بینچ میں لگا دیں۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان صاحب کی منظوری سے ہی مقدمات سماعت کے لیے مقرر ہوتے ہیں۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیسز فکس کرنے کا کیا طریقہ کار ہے۔

    عدالت میں موجود سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ لوگ پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں لیکن ہمارے کیسز نہیں لگتے۔

  14. الیکشن ازخود نوٹس کیس: الیکشن کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے، اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا ہے کہ صدر مملکت الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر ہی دے سکتے ہیں۔

    سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات 90 روز سے آگے کون لیکر جا سکتا ہے، یہ الگ بات ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن گورنر کی تاریخ کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ گورنر اگر 85 ویں دن الیکشن کا کہے تو الیکشن کمیشن 89 دن کا کہہ سکتا ہے ۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گورنر کو اسی وجہ سے الیکشن کمیشن سے مشاورت کا پابند کیا گیا ہے، صدر ہو یا گورنر سب ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ گورنر اسمبلی تحلیل کے اگلے دن انتخابات کا کہہ دے تو الیکشن کمیشن نہیں مانے گا۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر دے سکتے ہیں، دوسری صورت میں ملک بھر میں انتخابات ہوں تو ہی صدر تاریخ دے سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر کے صوابدیدی اور ایڈوائس پر استعمال کرنے والے اختیارات میں فرق ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن 90 روز میں ہی ہونے چاہیے، الیکشن کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے۔

  15. الیکشن ازخود نوٹس کیس: صدر کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن از خود نوٹس کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا ہے کہ صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں؟ ’

    منگل کے دن ازخود نوٹس کی کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے مشاورت کے لیے خط لکھے ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کرینگے کہ صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں۔

  16. نوے روز میں الیکشن کروانا آئین کی روح ہے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ 90 روز میں الیکشن کروانا آئین کی روح ہے۔

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا می الیکشن پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ نگران حکومت کی تعیناتی اور الیکشن کی تاریخ پر گورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں۔

    منگل کے دن سماعت میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین کا آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ صدر کا ہر عمل اور اقدام حکومت کی سفارش پر ہوگا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ صدر اور گورنر معاملہ میں کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں، کیا الیکشن کی تاریخ صدر اور گورنر اپنے طور پر دے سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نگران حکومت کی تعیناتی اور الیکشن کی تاریخ پر گورنر کسی کی ایڈوائس کاپابند نہیں۔

    عابد زبیری نے کہا کہ اتنے دنوں سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا آپ کہ رہے ہیں حکومت آئینی زمہ داری پوری نہیں کر رہی؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نوے روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے۔ عابد زبیری کا کہنا تھا کہ انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے۔

  17. عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک سے ممکن تھی، سکیورٹی کا خطرہ ہو گا، فواد چوہدری

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی عدالتوں میں پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے ممکن ہو سکتی تھی۔

    ٹوئٹر پر فواد چوہدری نے لکھا کہ ’عمران خان آج چار عدالتوں میں پیش ہوں گے، ان تمام مقامات پر عمران خان اور ان کے ساتھ ہزاروں لوگوں کی سیکیورٹی کو شدید خطرہ ہو گا۔‘

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’جعلی مقدموں میں انھیں ایک عدالت سے دوسری عدالت پیش کیا جا رہا ہے جن میں حاضری ویڈیو لنک سے ممکن تھی۔‘

  18. چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوں گے

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان لاہور سے اسلام آباد کے لیے زمان پارک سے روانہ ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان اسلام آباد کی عدالتوں میں مختلف مقدمات میں پیش ہوں گے۔

    عمران خان بینکنگ کورٹ،انسداد دہشت گردی عدالت اور سیشن کورٹ میں پیش ہوں گے۔

    اس سے قبل ان کی وکیل کی جانب سے مقدمات کی سماعت کا مقام تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    ملک کی تازہ ترین خبروں کے لیے لائیو پیج میں خوش آمدید

    27 فروری تک کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں

  20. پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس: کیس سے الگ ہونے والے ججز نے اپنے نوٹس میں کیا کہا ہے؟

    پیر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے کیس کی سماعت سے پہلے سپریم کورٹ میں اعلان کیا گیا کہ 23 فروری کو ہونے والی سماعت کا فیصلہ ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ چودہ صفحات پر مشتمل ہے جس میں بینچ سے الگ ہونے والے ججز کے نوٹس شامل ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل: جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ انہیں بائیس تاریخ کو رات گئے ایک فائل ملی جس کے مطابق چیف جسٹس نے انتخابات کے معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

    یہ ازخود نوٹس غلام محمود ڈوگر کی جانب سے کی گئی ایک پٹیشن پر ہونے و الے فیصلے کی بنیاد پر لیا گیا تھا جس میں عابد زبیری غلام محمود ڈوگر کے وکیل ہیں۔

    اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ 'غلام محمود ڈوگر کی پٹیشن پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا جب چیف الیکشن کمشنر، جو کہ اس کیس میں فریق نہیں تھے، کو بینچ نے طلب کیا اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سوال پوچھا گیا۔' اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 'یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ تین آڈیوز منظرعام پر آئیں۔

    رپورٹس کے مطابق ان ریکارڈنگز میں سے ایک میں عابد زبیری سابق چیف منسٹر سے غلام محمود ڈوگر کے کیس کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، جو کہ میرے خیال میں بہت سنجیدہ (معاملہ) ہے۔'

    اضافی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ججز اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی نے پہلے ہی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کا انعقاد نوے دن میں ہونا لازمی ہے اور یہ کہ آئین کی خلاف ورزی کا واضح خدشہ موجود ہے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے پر خود چیف جسٹس بھی اپنی رائے دے چکے ہیں۔ نوٹ کے مطابق ایسی حتمی رائے نے اس کیس کا فیصلہ کر دیا ہے اور فیصلہ بھی آئین کی شق 10 اے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

    'لہذا ان حالات میں آرٹیکل 184(3) کے تحت اس معاملے کو چیف جسٹس کے پاس ازخود نوٹس کے لیے بھیجنا مناسب نہیں تھا۔ ازخود نوٹس جسٹفائیڈ نہیں ہے۔'

    جسٹس سید منصور علی شاہ: جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ 'یہ اس عدالت کے ہر جج کی آئینی اور قانونی فرض ہے کہ وہ چیف جسٹس کے بنائے گئے اس بینچ میں بیٹھے اور اس وقت تک مقدمے کی سماعت کرے جب تک کہ اس کے پاس اس کیس کی سماعت سے خود کو الگ کرنے کی ایک قانونی جواز موجود نہ ہو۔'

    انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے خود کو اس سماعت سے علیحدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وہ اسے اپنا آئینی اور قانونی حق سمجھتے ہیں کہ وہ اس کیس سے متعلق اپنے تحفظات سامنے لائیں تاکہ ان کی خاموشی کو رضامندی نہ سمجھا جائے۔

    انہوں نے آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت اس عدالت کے اصل دائرہ اختیار کو موجودہ کیس کے ساتھ ساتھ موجودہ بینچ کی تشکیل پر بھی از خود نوٹس لینے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

    اضافی نوٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو ازخود نوٹس کی سفارش کرنے والا (دو رکنی) عدالتی حکم ایک ایسے کیس میں دیا گیا تھا جس کا ہمارے سامنے موجود معاملے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ اس فیصلے سے عوام میں یہ تاثر گیا کہ دو رکنی بینچ کی اس معاملے میں غیر ضروری دلچسپی ہے۔

    انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ اس سے منسلک عوام میں ایک تنازع موجود ہے جو مذکورہ (دو رکنی) بینچ کے ایک ممبر سے متعلق آڈیو لیکس سے جڑا ہے۔

    تاہم عدالت کے اندر اور باہر سے کی گئی درخواستوں کے باوجود عدالت یا سپریم جوڈیشل کونسل کے آئینی فورم کی طرف سے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ عوامی اہمیت کے اس معاملے میں مذکورہ بینچ کے ان ججوں کی موجودگی نامناسب ہے اور ان کی بنچ میں میں شمولیت اس لیے بھی زیادہ معانی خیز ہو جاتی ہے جب اس عدالت کے دیگر سینئر ججز بینچ میں شامل نہیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی: جسٹس یحیی آفریدی نے بھی اپنے اضافی نوٹ میں اس معاملے کو ہائی کورٹ کی انٹرا کورٹ اپیل میں جاری سماعت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتی طور پر مناسب نہیں ہو گا کہ ایک آرٹیکل 184 تھری کے تحت ایک ایسی پٹیشن پر ازخود نوٹس لیا جائے جو پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت عدالت کا دائرہ اختیار آزاد اور حقیقی ہے اور یہ دائرہ اختیار کسی بھی دوسری عدالت یا فورم پر موجود کسی پٹیشن کے التوا سے متاثر نہیں ہو سکتا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ عدالت کو خاص طور پر ایسے وقت میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جب لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے پر دیا گیا فیصلہ، اور پھر اس کے خلاف انٹراکورٹ اپیل زیرالتوا ہے جبکہ دوسری طرف فریقین کے مخصوص الزامات اور متزلزل بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

    لہذا اس سماعت کے دوران کسی بھی قسم کے ریمارکس نہ صرف سیاسی جماعتوں کے جانب سے لگائے گئے الزامات کو بڑھاوا دیں گے بلکہ ہائی کورٹ کی دائرہ اختیار کو بھی متاثر کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ 'اسی لیے میں ان تینوں پیٹیشنز کو ڈس مس کرتا ہوں'۔ ان کا مزید کہنا تھا ان تینوں درخواستوں پر ازخود نوٹس لینا غیرمناسب ہے اور اسی لیے ان کی سماعت کا کوئی فائدہ نہیں۔

    تاہم انہوں نے لکھا کہ وہ خود کو بینچ کا حصہ رکھنے یا نہ رکھنے سے متعلق فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑتے ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ: جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ وہ جسٹس یحییٰ آفریدی سے اتفاق کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا حکم اوپن کورٹ میں جاری کارروائی اور حکم سے مطابقت نہیں رکھتا۔

    انہوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اسمبلیوں کے تحلیل کیے جانے پر اپنے سوالات کو اضافی نوٹ کا حصہ بنایا۔

    انہوں نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ 'ہمارے سامنے اٹھائے گئے سوالات کو علیحدہ کر کے نہیں دیکھ اجا سکتا کیونکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے حوالے سے آئینی حیثیت سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسمبلیوں کی تحلیل کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں'۔

    انہوں نے کہا کہ ان کی تجویز تھی کہ اس معاملے پر غور کرنے سے قبل متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی آئینی حیثیت کا بھی جائزہ لیا جائے۔

    نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے آرٹیکل 184 تھری کے تحت لیے گئے از خود نوٹس کے دائرہ اختیار کو قبول کرتے ہوئے مجوزہ سوالات کو غور کے لیے شامل کرلیا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیوں کے تحلیل ہونے سے متعلق تین سوالات اٹھائے ہیں: 1: کیا صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے لیے وزیر اعلیٰ کا مشورہ دینے کا اختیار مطلق ہے اور کیا اس کے استعمال کے لیے کسی ٹھوس آئینی وجہ کی ضرورت نہیں ہے؟

    2: کیا وزیر اعلیٰ اپنی آزادانہ رائے سے ایسا مشورہ دے سکتے ہیں یا کسی دوسرے شخص کی ہدایت پر ایسا مشورہ دے سکتے ہیں؟

    3: اگر ایک یا کسی اور وجہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ کی ایسی تجویز آئینی طور پر غلط ثابت ہوئی تو کیا تحلیل کردہ صوبائی اسمبلی کو بحال کیا جا سکتا ہے؟

    انہوں نے مزید لکھا 'کہ میرے خیال میں آرٹیکل 183 تھری کے دائرہ اختیار میں یہ پنہاں ہے کہ اس غیر معمولی اختیار کو فل کورٹ ہی استعمال کرے۔

    نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پر چلنے والی کارروائی پر عوام کے اعتماد کو یقینی بنانے اور ہمارے سامنے اٹھائے گئے سوالات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ آئین کی خلاف ورزی اور اس کی تشریح کے معاملے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ لہٰذا اس تناظر میں آئین کے آرٹیکل 184 تھری کی مداخلت کی بھی تشریح درکار ہے۔