آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں 31 جولائی کے بعد 90 روز میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں: رانا ثنا اللہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت مردم شماری نوٹیفائی ہونے پر چار ماہ تک الیکشن نہیں ہوسکتے بلکہ نئی حلقہ بندیوں میں ’اگر کسی صوبے میں سیٹیں بڑھتی ہیں تو بڑھیں گی۔‘

لائیو کوریج

  1. جوڈیشل کمپلیکس پر مبینہ حملہ: تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے خلاف جوڈیشل کمپلکس پر مبینہ حملہ کرنے پر مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج کیا گیا ہے۔

    مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان، راجہ خرم نواز، مراد سعید ،علی نواز اعوان سمیت دیگر رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔

  2. بریکنگ, حکومت کا پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر کمی، ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا اعلان

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر پانچ روپے کمی کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت کو برقرار رکھا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے اور نئی قیمت 267 روپے فی لیٹر ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رہیں گی، اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت میں فی لیٹر 15 روپے کمی کی جارہی ہے اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 187 روپے 73 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    وزیر خزانہ نے لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا اور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 184 روپے 68 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔

  3. ’ اگر 90 دن سے آگے گئے تو کبھی بھی الیکشن نہیں ہوں گے‘ فواد چوہدری

    تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر 90 دن سے آگے گئے تو کبھی بھی الیکشن نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منصور کے ریمارکس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ جج صاحب نے رائے دی کہ اتفاق رائے سے معاملات حل ہونے چاہیں اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدالت کی طرح تحریکِ انصاف بھی یہی چاہتی ہے کہ سیاسی جماعتیں پولیٹیکل فریم ورک کی جانب بڑھیں اور اتفاقِ رائے سے معاملات حل کریں۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم مقدمہ ہے اور اگر سپریم کورٹ کے ججز آئین کا تحفظ نہ کر سکے تو ان کی کرسیوں کا کوئی فائدہ نہیں۔

  4. بریکنگ, سپریم کورٹ میں از خود نوٹس پر سماعت مکمل، فیصلہ کل صبح سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران صدر پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے از خود نوٹس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    یہ فیصلہ بدھ کے روز یعنی کل دن گیارہ بجے سنایا جائے گا۔

  5. ’صدر تسلیم کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں الیکشن کے لیے انھیں تاریخ نہیں دینی چاہیے تھی‘ سلمان اکرم راجہ

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    کامران مرتضی، وکیل جے یو آئی ف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اب صدر پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کیا ہے۔

    سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ الیکشن ایکٹ کے تحت صدر کو اختیار آئین کے مطابق دیا گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے صدر اور گورنر کو ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔

    سلمان اکرم راجہ دلائل دیے کہ صدر کو صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کی تاریخ دینے کا بھی اختیار ہے۔ جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ صدر کے اختیار پر آپ کا موقف آ گیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ کیا آپ سپیکرزکی درخواستوں کو قابل سماعت سمجھتے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ درخواستیں 90 روز میں انتخابات کے لیے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےسوال کیا کہ صدر نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کیسے تاریخ دے دی۔ جس پر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ صدر ہائی کورٹ میں فریق نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں سیکشن 57 کا حوالہ نہیں تھا اور صدر کو قانونی مشورہ دیا گیا اپنا آئینی اختیار استعمال کریں۔

    سلمان اکرم راجہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گورنر کے پی کے تاریخ دینے کا اختیار استعمال نہیں کر رہے تھے۔

    صدر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صدر تسلیم کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں الیکشن کے لیے انھیں تاریخ نہیں دینی چاہیے تھی۔ صدر کو کے پی الیکشن کے لیے تاریخ دینے کا اختیار نہیں تھا اور صدر مملکت اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔

    سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ گورنر کے پی کا موقف معاملے کو پیچیدہ بناتا ہے، پنجاب میں صدر کو اختیار تھا کے پی میں نہیں۔

    جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے سوال کیا کہ صدر کو رائے آپ نے کس بنیاد پر دی یہ بتاٸیں؟

    سلامن اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ صدر کا حکم کوٸی نہیں مان رہا اس لیے عدالتی کاررواٸی کی حمایت کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2013 اور 2018 میں انتخابات کا اعلان صدر نے وزیراعظم کی ایڈواٸس پر کیا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ صدر مملکت لاہور ہاٸی کورٹ کے حکم سے باخبر تھے۔ جس پر صدر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ صدر نے الیکشن کمیشن کو مشاورت کے بلوایا تھا مگر الیکشن کمیشن نے مشاورت سے انکار کر دیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ صدر مملکت نے آئین و قانون کے مطابق تاریح دی۔ ان کا کہنا ہے کہ نوے روز میں ہر صورت انتحاب ہونے چاہیں۔

    صدر کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت ازخود نوٹس لینے اور درخواستیں سننے کے لیے بااختیار ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ صدر کو آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی دھمکیاں مل رہی ہیں، کابینہ نے صدر کو کہا ہے کہ آپ کے خلاف کاروائی ہوسکتی ہے۔

    جس جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جہاں آرٹیکل چھ لگتا ہے وہاں لگاتے نہیں۔

    اس کے ساتھ ہی صدر پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلاٸل مکمل ہو گئے ہیں۔

  6. ’گورنر آپ کی پارٹی کے ہیں، انھیں کہیں تاریخ کا اعلان کر دیں‘ جسٹس جمال مندوخیل کا کامران مرتضی سے مکالمہ

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    مسلم لیگ ن کے وکیل مقصود اعوان کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور کامران مرتضی، وکیل جے یو آئی ف دلائل دے رہے ہیں۔

    کامران مرتضی کا کہنا ہے کہ گورنر کے علاوہ کسی کو تاریخ دینے کا اختیار نئی دیا جا سکتا۔ کامران مرتضی نے فاروق ایچ نائیک کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری ہو چکی ہے اور ایسا ممکن نہیں دو صوبوں میں سابقہ مردم شماری پر الیکشن ہو۔

    کامران مرتضی کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا ایک صوبے میں گورنر تاریخ دے اور دوسری میں نہ دے، ارٹیکل 105-3 کو غیر موثر نہیں کیا جاسکتا اور الیکشن ایکٹ میں صدر کا اختیار آئین کے مطابق نہیں ہے۔ انھوں نے دلائل دیے کہ الیکشن ایکٹ بناتے ہوئے شاید غلطی ہوئی ہو۔

    جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ غلطی کو درست اپ نے کرنا ہے یا عدالت نے؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان نے جو قانون بنایا ہے اس کا کوئی مقصد ہو گا۔ انھوں نے دریافت کیا کہ اسمبلی کو قانون سازی کے لیے کتنا وقت درکار ہو گا؟

    جس پر کامران مرتضی کا کہنا ہے کہ وفاق میں تو تیز رفتاری سے قانون سازی ہوتی ہے۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر آپ کی پارٹی کے ہیں۔ انہیں کہیں تاریخ کا اعلان کر دیں۔

    اس کے ساتھ ہی کامران مرتضی کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں۔

  7. ’موجودہ حالات میں مقدمات دو مختلف ہائی کورٹس میں ہیں، ایسا بھی ممکن ہے دونوں عدالتیں متضاد فیصلے دیں‘ جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    مسلم لیگ ن کے وکیل مقصود اعوان دلائل دے رہے ہیں۔

    مقصود اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 1975 میں آرٹیکل 184/3 کی پہلی درخواست آئی تھی اور عدالت نے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے مقدمہ سنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آ چکا جو سپریم کورٹ میں چینلج نہیں ہے۔

    منصور اعوان کا کہنا ہے کہ اگرعدالت کہتی ہے کہ گورنر تاریخ دے گا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، عدالت کسی اور نتیجے پر گئی تو ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم ہو جائے گا۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ موجودہ حالات میں مقدمات دو مختلف ہائی کورٹس میں ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے دونوں عدالتیں متضاد فیصلے دیں اور وقت کی کمی کے باعث معاملہ اٹک سکتا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی ممکن ہے ہائی کورٹس کا فیصلہ ایک جیسا ہو اور کوئی چیلنج نہ کرے۔

    اس پر مسلم لیگ ن کے وکیل نے دلائل دیے کہ لاہور ہائی کورٹ نے دو آئینی اداروں کو مشاورت کا کہا جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اصل معاملہ وقت کا ہے جو کاقی ضائع ہو چکا۔ ان کا کہنا ہے کہ 90 دن کا وقت گزر گیا تو ذمہ دار کون ہو گا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائی کورٹ میں کیس زیادہ تاخیر کا شکار نہیں ہورہا۔ اس پر مسلم لیگ ن کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ امکان ہے ہائی کورٹس کے فیصلے مختلف ہی آئیں گے۔

  8. ’آئین واضح ہے، انتخاب 90 دن میں ہوں گے‘ جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اب مسلم لیگ ن کے وکیل مقصود اعوان کے دلائل شروع ہوئے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بطور سیاسی جماعت مسلم لیگ ن نہیں چاہتی آئین کی خلاف ورزی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب حکومتوں کے ہوتے ہوئے یکساں میدان ملنا مشکل ہے۔

    مقصود اعوان نے دلائل دیے کہ قومی اسمبلی کے انتحابات پر سوالیہ نشان اٹھے گا۔ جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے دلائل دیے کہ یہ ایشو اس وقت عدالت کے سامنے نہیں ہے۔

    مسلم لیگ ن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت مردم شماری کو بھی مدنظر رکھے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ 30 اپریل تک مردم شماری مکمل ہو جائے گی۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ اگر مردم شماری انتحابات سے ایک ہفتہ پہلے ہوں تو کیا الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوتی ہیں۔

    جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ موجود کیس میں دو اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وفاق میں سیاسی حکومت ہے وہ کیسے صوبائی انتخاب میں اثر انداز نہیں ہو گی۔ جس ر مسلم لیگ ن کے وکیل نے دلائل دیے کہ وفاق کے پاس پاور سیکٹر علاوہ کچھ نہیں بچا۔

    جس سپر جسٹس منیب نے مزید ریمارکس دیے کہ مردم شماری بھی وفاق کے ہی زیر اہتمام ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا گارنٹی ہے مردم شماری 30 اپریل کو شائع ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ 2016 کی مردم شماری بھی 2022 میں شائع ہوئی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ آئین واضح ہے انتخاب 90 دن میں ہوں گے۔

  9. ’اعلی عدلیہ کو سیاسی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہیے، صرف مخصوص حالات میں عدالت ازخود نوٹس لیتی ہے‘ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    دورانِ سماعت پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ میں سینیٹر ہوں، ابھی سینیٹ اجلاس نہیں ہو رہا۔

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ تین ہفتے سے ہائیکورٹ میں صرف نوٹس ہی چل رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اعلی عدلیہ کو سیاسی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہیے اور صرف مخصوص حالات میں عدالت ازخود نوٹس لیتی ہے۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ گذشتہ سال دو اور اس سال صرف ایک ازخود نوٹس لیا۔ انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سب متفق ہیں کہ آرٹیکل 224 کے تحت 90 روز میں الیکشن لازم ہیں۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت تلاش میں ہے کہ الیکشن کی تاریخ کہاں سے آنی ہے اور مستقبل میں الیکشن کی تاریخ کون دے گا اس کا تعین کرنا ہے۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ صرف قانون کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں اور عدالت کسی سے کچھ لے رہی ہے نہ دے رہی ہے۔

    اس پر فاروق ایچ نائیک نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل ایکٹوازم میں تحمل پر عدالت کا مشکور ہوں۔

  10. الیکشن کی تاریخ دینا صدر کی صوابدید ہے، جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینا صدر کی صوابدید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی مدت پوری ہو تو صدر کو فوری متحرک ہونا ہوتا ہے۔

    اس پر پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ رولز میں بینچ تشکیل کا طریقہ کار موجود ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق یہ آگاہ کرنا ضروری ہے کہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہے یا نہیں۔

    اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہوا تو بتانا ضروری ہے۔

  11. عدالت کسی فریق کی نہیں بلکہ آئین کی حمایت کر رہی ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں 90 روز میں الیکشن ضروری ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نےدو ہفتے نوٹس دینے میں لگائے، لاہور ہائی کورٹ میں بھی معاملہ التوا میں ہے اور سپریم کورٹ میں آج مسلسل دوسرا دن ہے اور کیس تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دے کہ عدالت کسی فریق کی نہیں بلکہ آئین کی حمایت کر رہی ہے۔

    اس پر پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ عدالت ہائی کورٹس کو جلدی فیصلے کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت معاملہ آگے بڑھانے کے لیے محنت کر رہی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ججز کی تعداد کم ہے پھر بھی عدالت نے ایک سال میں 24 بڑے کیسزز نمٹائے۔

  12. محسن شاہنواز رانجھا پر حملے کا کیس:عمران خان کی عبوری ضمانت 9 مارچ تک منظور

    سیکریٹریٹ تھانہ میں محسن شاہنوار کی جانب سے دائر مقدمہ میں عمران خان کی 9 مارچ تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔

    عدالت نے عمران خان کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں سیکریٹریٹ تھانہ میں محسن شاہنواز کی جانب سے دائر مقدمہ میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کے دوران ان پر عمران خان کی ایما پر حملہ ہوا تھا۔

    عمران خان کو اس کیس میں ضمانت کی درخواست پر پیش ہونا تھا تاہم ان کے وکلا نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مقامی عدالت سے واپس لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی جہاں رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر تین اعتراض لگائے تھے۔ تاہم درخواست پر اعتراضات دور ہونے کے بعد ان کی عبوری ضمانت کی درخواست قبول کر لی گئی۔

    یاد رہے آج سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو آج اسلام آباد میں چار مختلف مقدمات میں پیش ہونا تھا۔

    ان چار میں سے تین مقدمات میں ان کی ضمانت منظور ہو گئی ہے جبکہ توشہ خانہ کیس میں ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

  13. وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیر الیکشن کی تاریخ دینا خلاف آئین ہے: فاروق ایچ نائیک

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

    عدالت کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر مشاورت کے حکم کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے وکیل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ان کی جماعت نے اپنے اتحادیوں سے بات کی اور مزید مشاورت کے لیے وقت درکار ہے لہٰذا عدالت اس معاملے پر کارروائی جاری رکھے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ انتخابات کی تاریخ دینا سیاسی جماعتوں کا کام نہیں ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی مدت پوری کرے تو صدر کو ایڈوائس کون کرے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی مدت پوری کرے تو دو ماہ میں الیکشن لازمی ہیں۔

    جسٹس منیب کا مزید کہنا تھا کہ ایڈوائس تو صدر 14 دن بعد واپس بھی بھجوا سکتا ہے، سمری واپس بھجوانے کی صورت میں 25 دن تو ضائع ہو گئے۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کو اعتماد کے ووٹ کا کہنا صدر کی صوابدید ہے اور صدر کو اعتماد کے ووٹ کا کہنے کے لیے سمری کی ضرورت نہیں ہے۔

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے کہ صدر نے الیکشن کی تاریخ وزیر اعظم کی ایڈوائس کے بغیر دی۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر ایڈوائس الیکشن کی تاریخ دینا خلاف آئین ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے الیکشن کمیشن سے بھی مشاورت نہیں کی۔

  14. چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت کے باہر رینجرز تعینات

    چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت کے باہر رینجرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پولیس نے میڈیا نمائندگان کو بھی چیف جسٹس کی عدالت میں جانے سے روک دیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر آنے والے عدالتی رپورٹرز کو بھی کمرہ عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔

    یاد رہے توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کچھ دیر بعد کیس کی سماعت کریں گے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان دائری برانچ کے باہر پہنچ چکے ہیں۔

  15. توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق مقدمے میں عدم پیشی کی بنیاد پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    توشہ خانہ سے گھڑیاں اور دوسرا سامان لے کر جانے اور انھیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق ریفرنس عدالت کو بھیجا ہوا ہے۔ اس مقدمے میں عمران خان پر سات فروری کو فردِ جرم عائد ہونی تھی تاہم عمران خان ابھی تک کسی بھی سماعت پر پیش نہیں ہوئے ہیں۔

    جج ظفر اقبال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ عمران خان کو بار بار موقع دیا گیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کی بنیاد پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔

    منگل کی صبح اس مقدمے میں اُن کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آج جوڈیشل کمپلیکس میں دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے اس لیے وہ اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    علی بخاری نے سماعت پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی تو ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کہا کہ ’یہ کیا طریقہ ہے کہ ملزم جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہو گا تو اس عدالت کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ اِدھر فرد جرم عائد ہونی ہے، ادھر آ جائیں، فرد جرم عائد ہو جائے پھر چلے جائیں۔‘

    اس موقع پر جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیے کہ کیا عمران خان کے وارنٹ نکالے جائیں تب وہ عدالت میں پیش ہوں گے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل اگلی پیشی پر عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی سماعت ملتوی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان عدالت میں پیش ہی نہیں ہونا چاہتے۔

    عمران خان کے وکیل نے منگل کی سماعت کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جس پر جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیے کہ استثنی کی استدعا پر ساڑھے تین بجے فیصلہ سنائیں گے۔

    اس کے بعد عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا اور بعدازاں مختصر فیصلہ سناتے ہوئے اُن کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

  16. سابق وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے اور سابق وزیر اعظم اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران کی دو درخواستوں پر اعتراض عائد کر رکھے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بائیو میٹرک کی تصدیق کے لیے ہائی کورٹ پہنچے ہیں۔

    یاد رہے عمران خان کی ایک درخواست مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات حذف کرنے سے متعلق ہے جبکہ دوسری درخواست عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کی دائر کی ہے۔

  17. اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کچھ دیر بعد کیس کی سماعت کریں گے۔

    اطلاعات کے مطابق عمران خان کچھ دیر میں بائیو میٹرک کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ جائیں گے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ بائیو میٹرک کی تصدیق کے بعد عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔

  18. سپریم کورٹ کا حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے الیکشن کی تاریخ دینے کا مشورہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس میں حکومت اور تحریک انصاف کو مشاورت کرنے اور الیکشن کی ایک تاریخ دینے کا مشورہ دیا ہے۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ہم فیصلہ کر بھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ بازی عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہو گی۔

    پنجاب اور کے پی از خود نوٹس کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے وکلا سے کہا کہ سیاسی قاٸدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہی ہے کہ مل بیٹھ کر الیکشن کی تاریخ طے کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی یہی منشا ہے کہ فریقین لچک دکھائیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے بھی کہا کہ اصل طریقہ یہی ہے کہ مل کر فیصلہ کیا جائے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قانونی باتوں کو ایک طرف رکھ کر ملک کا سوچیں، ملک کو آگے رکھ کر سوچیں گے تو حل نکل ہی آئے گا۔

    عدالت نے سیاسی جماعتوں کے وکلا سے آج چار بجے تک رائے مانگ لی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں، عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

    بعد ازاں عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

  19. عدالت کے علاوہ کوئی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے علاوہ کسی کو انتکابی مدت برھانے کا اختیار نہیں، کوئی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا۔

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹھوس وجوہات کا جائزہ لیکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ معاشی مشکلات کا ذکر 1988 کے صدارتی ریفرنس میں بھی تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قدرتی آفات یا جنگ ہو تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جا سکتا ہے لیکن آرٹیکل 254 لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینر کھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ہے۔

  20. عمران خان جوڈیشل کمپلیکس سے اسلام آباد ہائیکورٹ روانہ

    دو عدالتوں سے ضمانت کی منظوری کے بعد عمران خان اپنے کارکنوں کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس سے روانہ ہو گئے ہیں۔

    اب ان کے قافلے کا رخ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب ہے جہاں ان کے وکلا نے تھانہ سیکریٹیرٹ میں درج مقدمے کے حوالے سے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی جمع کروائی تھی تاہم رجسٹرار آفس نے اس پر تین اعتراض کیے تھے جن میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نہ صرف عمران خان کے دستخط پٹیشن پر دو جگہوں پر مختلف ہیں بلکہ انھوں نے بائیو میٹرک تصدیق بھی نہیں کروائی۔

    رجسٹرار آفس کا یہ اعتراض بھی تھا کہ ضمانت قبل از گرفتاری براہِ راست ہائیکورٹ میں کیسے دائر ہو سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے یہ درخواست سیشن کورٹ سے واپس لے کر ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ وہ توشہ خانہ کیس میں سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوں گے یا نہیں جہاں ان کے وکیل نے عدالت سے ابتدا میں پانچ روز کے التوا کی درخواست کی تھی جس پر جج نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

    اس پر عمران خان کے وکیل نے کہا تھا کہ اگر عدالتی اوقات کے دوران عمران خان جوڈیشل کمپلیکس سے نکل آئے تو وہ عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔

    توشہ خانہ سے گھڑیاں اور دوسرا سامان لے کر جانے اور انھیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق ریفرنس ضلعی عدالت کو بھیجا ہوا ہے۔

    اس مقدمے میں عمران خان پر سات فروری کو فردِ جرم عائد ہونی تھی تاہم وہ ابھی تک کسی بھی سماعت پر پیش نہیں ہوئے ہیں۔