آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں 31 جولائی کے بعد 90 روز میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں: رانا ثنا اللہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت مردم شماری نوٹیفائی ہونے پر چار ماہ تک الیکشن نہیں ہوسکتے بلکہ نئی حلقہ بندیوں میں ’اگر کسی صوبے میں سیٹیں بڑھتی ہیں تو بڑھیں گی۔‘

لائیو کوریج

  1. الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں: چوہدری فواد حسین

  2. ’پنجاب میں 30 اپریل سے 7 مئی 2023 کے دوران انتخابات کا انعقاد کے لیے تیار ہیں‘

    الیکشن کمیشن نے صدر پاکستان عارف علوی کو پنجاب میں ضمنی انتخابات کی تاریخیں تجویز کرتے ہوئے خط لکھا ہے کہ ’پنجاب میں 30 اپریل سے 7 مئی 2023 کے دوران انتخابات کا انعقاد کے لیے تیار ہیں۔ ‘

    خط میں لکھا گیا ہے’صدر مملکت کی جانب سے تاریخ کے انتخاب کے بعد الیکشن کمیشن اپنے آئینی اور قانونی فرائض سر انجام دینے کےلیے تیار ہے۔‘

    الیکشن کمیشن اعلامیہ کے مطابق ’ چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ کا سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد صدر عارف علوی کو حط لکھا گیا ہے۔‘

    اعلامیہ کے مطابق ’اسی حوالے سے ایک مراسلہ گورنر خیبر پختونخوا کو بھی لکھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ان کے جواب کا الیکشن کمیشن منتظر ہے۔‘

    واضح رہے کہ آئین کےمطابق اسمبلیوں کی تحلیل ہونے کے 90 روز کے اندر انتخابات کا انعقاد لازمی ہے۔ پنجاب میں یہ 90 روز 14 اپریل جبکہ خیبر پختون خوا میں 90 روز 18 اپریل کو مکمل ہو جائیں گے۔

  3. جعلی آڈیو کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں: رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ایک اور جعلی آڈیو میرے نام سے مارکیٹ میں پھینک دی گئی ہے اس آڈیو کا میرے سے کوئی تعلق نہیں۔‘

    فواد چوہدری نے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ’نہ ہی چیف جسٹس لاہور سے کبھی ملاقات ہوئی نہ ہی انھیں جسٹس مظاہر کی مدد کا کہا۔‘

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک آڈیو وائرل ہے جس میں دو افراد مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے دو ججوں اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج سے مدد حاصل کرنے سے متعلق بات کر رہے ہیں۔

    یہ آڈیو فواد چوہدری اور ان کے بھائی فیصل چوہدری سے منسوب کی جا رہی تھی جس کی دونوں افراد نے تردید کی ہے۔

  4. سپریم کورٹ میں سمندرپار پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق درخواستوں کی سماعت ’پہلے جس قانون کو آئینی کہا، اب غیرآئینی کیسے قرار دیں‘

    سپریم کورٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق دینے کی درخواستوں پر سماعت جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

    دوران سماعت شیخ رشید کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا معاملہ روک رکھا ہے،اگر الیکشن کمیشن اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے اقدامات کرلے تو کوئی رکاوٹ ہی نہیں ہے۔‘

    دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’ہائیکورٹ نےاوورسیز پاکستانیوں کے حق لینے کی ترامیم پردرخواست خارج کر دی تھی، جبکہ پارلیمان نے 2017 میں الیکشن ایکٹ بنایا تھا۔‘

    جسٹس منیب اختر کے مطابق ’سمندر پار پاکستانیوں کے حق سے متعلق الیکشن ایکٹ کی سیکشن 94 واضح ہے، جس میں 2018 میں سپریم کورٹ سیکشن 94 کو آئین کے مطابق قرار دیا تھا۔2021 میں قانون کو مزید بہتر کیاگیا اور 2022 میں پارلیمنٹ واپس پرانی سطح پر لے آئی۔‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ نے پہلے جس قانون کو آئینی قرار دیا اب غیرآئینی کیسے قرار دے؟

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ’ نادرا کے مطابق الیکشن کمیشن معاہدہ کرے تو ایک سال میں آئی ووٹنگ کا سسٹم بنا سکتے ہیں، ماضی میں بھی نادرا نے ایک سال کا وقت مانگا تھا، عدالت کے کہنے پر چھ ماہ میں سسٹم بنا۔‘

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ’سال 2017 میں ہونے والے پائلٹ پراجیکٹ پر کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اور الیکشن کمیشن نے اب تک دوبارہ کوئی پائلٹ پراجیکٹ نہیں کیا۔‘

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’فریقین کے جواب آجائیں تو عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔‘

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے؟ پارلیمنٹ اپنے بنائے گئے قانون میں ترمیم کر رہا ہے تو عدالت مداخلت کیوں کرے؟

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت کی آبزرویشن کچھ بھی ہوں مگر پارلیمنٹ کی ہر قانون سازی آئینی تصور ہوتی ہے۔‘

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے تو اوورسیز کے ووٹ کے حق کےمتعلق قانون کو ہی کالعدم قرار دینے کی درخواست کر دی ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل کوعدالتی سوالات پر تیاری کر کے آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر دائر درخواست واضح ہونی چاہیے کہ کیا کوئی آئینی ضابطہ پارلیمنٹ کو قانون اصل حالت میں بحال کرنے سے روکتا ہے؟

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے د ترمیمی درخواستیں جمع کراوانے کی ہدایت کرتے ہوئے عمران خان اور شیخ رشید کو جواب جمع کرانے کا وقت دے دیا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو بھی اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر پیش رفت جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

  5. بریکنگ, ڈالر کی قیمت میں 10.9 روپے کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں جمعہ کے روز 10.9 کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ڈالر کی قیمت انٹر بینک میں اس وقت 275 روپے پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔

    یاد رہے کہ ڈالر کی قیمت میں گذشتہ روز 19 روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 285 روپے سے زائد کی سطح پر بند ہوئی تھی۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان کاروبار کے آغاز سے نظر آرہا ہے اور ڈالر ڈیمانڈ میں کچھ کمی دیکھی گئی۔

  6. بھارہ کہو منصوبے میں کسی قسم کی غفلت قابلِ قبول نہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھارہ کہو بائی پاس فلائی اوور کی تعمیر کے دوران جمعرات کو پیش آنے والے حادثے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    پی ایم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق ’وزیراعظم نے جمعرات کو پیش آنے والے حادثے کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔‘

    اعلامیہ کے مطابق ’وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارہ کہو منصوبے میں کسی قسم کی غفلت قابلِ قبول نہیں.واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرکے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔‘

    اعلامیہ کے مطابق ’سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی اس حادثے کے ہر پہلو کا جائزہ لے گی۔‘اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کو ہنگامی بنیادوں پر انکوائری رپورٹ مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں بھارہ کہو بائی پاس کے زیر تعمیر منصوبے میں جمعرات کے روز ایک اور زیر تعمیر پل کا حصہ گر گیا تھا۔

    بھارہ کہو کی مصروف ترین سڑک پر اس منصوبے میں ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا حادثہ تھا۔

    اس سے پہلے ایک ستون کی تعمیر کے دوران شٹرنگ کھلنے سے ستون کے اطراف کا زیر تعمیر حصہ گرنے سے دو مزدور ملبے تلے دبنے سے ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

  7. کوئی نہیں چاہتا کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے تاہم پاکستان کو بھی اب سنجیدگی دکھانا ہو گی: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ’آئی ایم ایف کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 8 ارب ڈالر رہنے کی پیش گوئی کر کے زیادتی کر رہا ہے دوست ممالک بھی بدظن ہو گئے ہیں کہ پاکستان جو کہا ہے وہ کرتا نہیں اور یہ تیسری بار ہو چکا ہے۔ چاہے وہ ہم نے یا پچھلی حکومت نے کیا ہو مگر ان کے لیے پاکستان دو تین بار اپنے وعدوں سے مکر چکا ہے۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر حزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ’آئی ایم ایف کی روپے کی قدر میں کمی، ڈالر کا ریٹ فری مارکیٹ سے قریب لانے اور شرح سود بڑھانے کی شرائط پوری ہو گئی ہیں۔ بس اب بجلی کی قیمت میں اضافہ رہتا ہے وہ بھی بڑھ جائے گا تاہم اصل مشکل یہ ہے کہ آئی ایم ایف جو ایکسٹرنل فنڈنگ پوری کرنے کی شرط لگا رہا ہے وہ ہمارے بس میں نہیں۔‘

    ان کے مطابق ’آئی ایم ایف کہتا ہے کہ آپ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے کنفرم کروائیں کہ وہ پاکستان میں انویسٹ کریں گے یا قرضہ دیں گے۔‘

    مفتاح اسماعیل نے کہا ’آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہوں یا نرم اگر معاشی منطق ہو تو بات سمجھ آتی ہے تاہم اگر آپ نے کوئی ایک بات طے کر لی ہو اور ایک ہفتے بعد آپ اس سے آگے پیچھے ہوں تو لگتا ہے کہ اب آئی ایم ایف نے بھی اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے۔‘

    مفتاح اسماعیل نے دعوی کیا کہ ’کوئی نہیں چاہتا کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے۔ دنیا آپ کی مدد کو تیار ہے تاہم تھوڑی تو سنجیدگی دکھائیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت ہو ہم اس پروگرام کے ختم ہونے کے بعد آئی ایم ایف کے دوسرے پروگرام میں جائیں گے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔‘

    سابق وزیر خزانہ کے مطابق ’انشاللہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا لیکن پاکستان پر اب بہت بڑے بڑے بوجھ ہیں جو ہمیں ادا کرنے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم ڈیفالٹ کی بات نہ کریں لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ڈیفالٹ سے بچ سکیں؟ ہمیں اس پر بات کرنا ہو گی۔‘

    مفتاح اسماعیل کے مطابق ’ آئی ایم ایف کی شرط پر آپ ڈالر کو آزاد چھوڑتے ہیں تو وہ 230 سے چھلانگ لگا کر 260 پر چلا جاتا ہے، پھر آپ پیٹرول سستا کرتے ہیں اور پھر اگلے دو روز میں ڈالر 30 روپے بڑھ جاتا ہے، یہ کوئی سنجیدہ اکنامک پالیسی نہیں بلکہ معیشت کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے۔‘

  8. بریکنگ, سونے کی قیمت میں ایک روز میں 9500 روپے فی تولہ کا اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    جمعرات کے روز پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب ایک تولہ سونے کی قیمت میں ساڑھے نو ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سونے کی فی تولہ قیمت دو لاکھ کی حد کو عبور کر کے 206500 فی تولہ پر بند ہوئی۔

    مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں گذشتہ چند روز سے استحکام تھا تاہم جمعرات کے روز سونے کی قیمت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    مقامی سونے کے تاجروں کے مطابق سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ غیر یقینی معاشی صورتحال ہے کیونکہ ڈالر کی طرح سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں بھی سرمایہ کاری ہو رہی ہے جو قیمت میں اضافے کا سبب بنی۔

  9. بریکنگ, قرض دینے والے ممالک، ادارے پاکستان کے معاشی اور سماجی استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں: چین

    چین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرض دینے والے ممالک اور اداروں کو ملک کے معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔

    جمعرات کو پریس کانفرنس میں اس سوال پر کہ کیا چین پاکستان کے قرضے رول اوور کرے گا چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ اس کا جواب تو متعلقہ حکام ہی دے سکتے ہیں تاہم وہ یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا بڑا حصہ ایسے تجارتی قرض داروں اور اداروں کا ہے جن پر مغربی ممالک کا اثر ہے۔

    انھوں نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایک ترقی یافتہ ملک کی سخت گیر مالیاتی اور اقتصادی پالیسیاں اور ان کے اثرات پاکستان اور اس جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک کی مالی مشکلات کی بنیادی وجہ ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ چین تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے معاشی اور سماجی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ایک تعمیری کردار ادا کریں۔

  10. ڈالر کی قیمت میں 18 روپے کا تاریخی اضافہ: وجوہات کیا ہیں اور کیا ہمیں مہنگائی کی نئی لہر کے لیے تیار رہنا چاہیے؟

    جمعرات کے دن پاکستان میں ایک ڈالر کی قیمت میں 18 روپے سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے جو پاکستانی روپے کی قدر میں سات فیصد کمی کے مترادف ہے۔ مگر اس کی وجوہات کیا ہیں، پاکستانی روپے کی بےقدری کا سلسلہ کہاں جا کر رُکے گا اور کیا اس کا نتیجہ ہائپر انفلیشن کی صورت میں نکلے گا؟

  11. بریکنگ, پاکستان میں شرحِ سود تین فیصد کے اضافے بعد 20 فیصد ہو گئی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 300 بیس پوائنٹس یا تین فیصد کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد مرکزی شرح سود 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ زری پالیسی کے اجلاس میں کیا گیا۔

    سٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ مہنگائی اور بیرونی اور مالی توازن کے حوالے سے لگائے گئے اندازوں میں بگاڑ کا مظہر ہے۔

    23 جنوری کو بھی سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 100 بیس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد شرح سود 17 فیصد پر پہنچ گئی تھی جبکہ اس سے قبل 100 بیس پوائٹس کا اضافہ 25 نومبر 2022 کو کیا گیا تھا۔

    شرح سود میں اضافے کے عام آدمی پر اثرات کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا بالواسطہ اثر ہر کسی پر پڑے گا۔

    ’جب بینک زیادہ شرح سود پر قرضے دیں گے تو صنعت، تجارت و زراعت کی کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہوگا جو وہ صارفین سے وصول کریں گے۔ اس کے ساتھ جب بینکوں کی جانب سے مہنگے قرضے جاری کیے جائیں گے تو اس کا اثر سرمایہ کاری پر بھی پڑے گا۔

    ’کاروباری افراد زیادہ شرح سود پر قرضے لے کر اپنے کاروبار میں توسیع کے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوں گے جس کا مطلب ہے کہ جب سرمایہ کاری نہیں ہو گی تو کاروبار میں توسیع نہیں ہو گی اور ملازمتیں کم پیدا ہوں گی جو ایک عام آدمی کے لیے ہوتی ہیں۔‘

  12. بھارہ کہو بائی پاس پل کا ایک اور زیرِ تعمیر حصہ گر گیا

    دار الحکومت اسلام آباد کے نواح میں بھارہ کہو بائی پاس کے زیر تعمیر منصوبے میں ایک اور زیر تعمیر پل کا حصہ گر گیا ہے۔

    سوشل میٹیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلائی اوور کو جوڑنے والا حصہ ٹوٹ کی گر گیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

    یہ بھارہ کہو کی مصروف ترین سڑک پر اس منصوبے میں ایک ہفتے کے دوران دوسرا حادثہ ہے۔ اس سے پہلے ایک ستون کی تعمیر کے دوران شٹرنگ کھلنے سے ستون کے اطراف کا زیر تعمیر حصہ گرنے سے دو مزدور ملبے تلے دبنے سے ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

  13. معاشی صورتحال درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان مخالف عناصر ڈیفالٹ سے متعلق افواہیں پھیلا رہے ہیں: اسحاق ڈار

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’پاکستان مخالف عناصر بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کر سکتا ہے جو کہ ناصرف سراسر جھوٹ ہے بلکہ حقائق کے بھی منافی ہے۔‘

    وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ’تمام بیرونی واجبات کی بروقت ادائیگی کے باوجود سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر چار ہفتے پہلے کی سطح سے تقریباً ایک ارب ڈالر اوپر ہیں۔‘

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات مکمل ہونے کے قریب ہیں اور امید ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے سے سٹاف لیول معاہدہ آئندہ ہفتے تک طے پا جائے گا۔

    اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ تمام تر معاشی اعشاریے درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

  14. پی ڈی ایم کی حکومت کے گیارہ ماہ میں ڈالر کی قیمت میں 110 روپے تک اضافہ کیا: عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران حان نے ڈالر کی قیمت میں اضافے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    اپنی ایک ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا کہ’ پی ڈی ایم کی حکومت کے گیارہ ماہ میں ڈالر کی قیمت میں 110 روپے تک اضافہ کیا گیا۔ ملکی تاریخ میں مہنگائی 31اعشارعہ پانچ کی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔

    عمران خان نے ٹویٹ میں دعوی کیا کہ ’پاکستانی عوام حکومت کی تبدیلی کی سازش کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘

  15. بغاوت پر اُکسانے کے مقدمے میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کو بری کر دیا گیا, شہزاد ملک

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کو بری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    جمعرات کے روز اس مقدمے کی سماعت ایڈیشنل سیشنز جج طاہر عباس سپرا نے کی۔

    اسلام آباد پولیس نے سماعت کے موقع پرامجد شعیب کو عدالت میں پیش کیا اور اُن کے مزید جسمانی ریمانڈُ کی استدعا کی جبکہ ملزم کے وکیل نے عدالت سے ان کے موکل کو اس مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی۔

    سماعت کے دوران لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے وکیل میاں علی اشفاق نے عدالت کے روبرو بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف کسی بھی پبلک سرونٹ نے مقدمے کی درخواست نہیں دی۔

    ان کے مطابق ’لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے الفاظ پر کیس نہیں بن سکتا اور یہ مقدمہ بوگس ہے کیونکہ امجد شعیب نے کسی کمیونٹی کے خلاف بات نہیں کی۔‘

    امجد شعیب کے وکیل کے مطابق ’لیفٹینٹ جنرل امجد شعیب نے جو کچھ پروگرام میں کہا وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں اور اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اگر انھیں دوبارہ بھی کسی پروگرام میں بلایا جاتا ہے تو وہ یہی بات دوبارہ کریں گے۔

    امجد شعیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں 6 لاکھ آرمی ملازمین ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں سرکاری ملازمین ہیں، کروڑوں کے سرکاری ملازمین میں سے کس نے آ کر آپ کو شکایت کی کہ ہم امجد شعیب کے بیان سے متاثرہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ کتنا بڑا المیہ ہے ایک سابق فوجی جرنیل کے ‏جیل کے کمرے میں کیمرہ لگایا ہوا ہے۔

    امجد شعیب کے وکیل کے مطابق ’‏رات دس بجے پروگرام چلا جو 11 بجے ختم ہوا، اس وقت پوری قوم سو رہی تھی جبکہ دوسرے دن بھی کروڑوں سرکاری ملازم سوتے رہےاور کوئی ایک بھی درخواست لے کر نہیں آیا۔‘

    امجد شعیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ کروڑوں سرکاری ملازمین نے امجد شعیب کی درخواست کی ایسی گھٹیا تشریح نہیں کی جو کہ مقدمے کے مدعی نے کی ہے۔‘

    دوران سماعت لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے عدالت کے روبرو کہا کہ ’میں نے ہمیشہ دھرنے اور لانگ مارچ کی مخالفت کی۔ ہمیشہ کہتا ہوں کہ کیا دھرنے سے یا لانگ مارچ سے کبھی کوئی حکومت گرائی گئی ہے؟ میرا تجزیہ ہوتا ہے اور کبھی میرے تجزیے پر کسی حکومت نے عمل نہیں کیا۔‘

    امجد شعیب نے عدالت میں مزید کہا کہ ’میری کبھی کسی سیاسی لیڈر سے ملاقات نہیں ہوئی۔توڑ پھوڑ سے اپنے ہی ملک کو نقصان ہوتا ہے، ،پروگرام میں میں ہسٹری کی بات کر رہا تھا کہ کبھی دھرنوں اور ریلی سے کوئی حاصل وصول نہیں ہوا۔‘

    دوران سماعت عدالت میں امجد شیعب کا مزید کہنا تھا کہ اپنی ایف آئی آر میں آج بھی للکارنے کا لفظ استعمال ہو رہا ہے ،جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ آپ کا للکارا تو نہیں تھا جس کی بنیاد پر مشورا دیا گیا ہو؟

    عدالت نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’آپ کا موقف سن لیا میرٹ پر دیکھ لیتے ہیں۔‘ ملزم کے وکیل میاں اشفاق نے امجد شعیب کو مقدمہ ختم کرنے کی استدعا کر کرتے ہوئے کہا کہ امجد شعیب محب وطن اور اس ملک کے معزز شہری ہیں ان کے حلاف بے بنیاد مقدمہ ختم کیا جائے۔

    امجد شعیب کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پراسیکیوٹر عدنان کی جانب سے جوالجواب دیے گئے سماعت کے دوران عدالت نے پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ مان لیتے ہیں کہ امجد شعیب کا رول ہے لیکن 6 دن رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔

    عدالت کے استفسار پر اسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم کا فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ کروانا تھا اور تفتیشی افسر نے تفتیش کرنی تھی۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیار زیادہ ہیں جو سب سے چھوٹی عدالت ہے۔

    جج نے اسفسار کیا کہ آپ نادرا کیوں نہیں لے کے جاتے کہ یہ امجد شعیب ہیں یا نہیں۔ عدالت نے اسفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ امجد شعیب کو محتاط رہ کے بات کرنی چاہیے تھی، انھوں نے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ آپ کے مطابق لوگ امجد شعیب کی بات سنتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔‘

    پراسیکیوٹر کی جانب سے امجد شعیب کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی مخالفت کی گئی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کچھ ہی دیر بعد سنا دیا گیا۔

  16. بریکنگ, ڈالر کی قیمت 18 روپے اضافے کے بعد 284.88 روپے پر پہنچ گئی, تنویر ملک ، صحافی

    کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب ایک ڈالر کی قیمت 18 روپے سے زائد کے اضافے کے بعد 284.88 روپے کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

    گذشتہ روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 266.11 روپے پر بند ہوئی تھی جس میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر تیزی دیکھی گئی۔

    کرنسی مارکیٹ ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی امپورٹ ڈیمانڈ میں تو کوئی نمایاں اضافہ دیکھا گیا تاہم آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر کی وجہ سے افواہ سازی کی بنیاد پر خبروں کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

  17. دیگر سیاسی جماعتوں کے پارٹی فنڈنگ کے مقدمات زیر سماعت ہیں تو پھر کیوں لٹکا رہے ہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن میں دیگر سیاسی جماعتوں کی سکروٹنی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔

    تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔

    درخواست گزار کی جانب سے انور منصور جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن ارشد خان عدالت پیش ہوئے۔

    انورمنصور نے استدعا کی کہ ’الیکشن کمیشن کے جواب پر تحریری اعتراض جمع جمع کردیا ہے۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک ہفتے سے سپریم کورٹ میں مصروف ہونے کے باعث وہ اعتراض ابھی پڑھ نہیں سکے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ’آپ بڑی عدالتوں میں جاتے ہیں چھوٹی عدالتوں میں کہاں آئیں گے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے پارٹی فنڈنگ کیسز زیر سماعت ہیں؟

    عدالت کے استفسار پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’دیگر سیاسی جماعتوں کے پارٹی فنڈنگ سے متعلق کیسز زیر سماعت ہیں۔‘

    جس پر عدالت نے کہا کہ ’جب مقدمات زیر سماعت ہیں تو پھر ختم کریں کیوں لٹکا رہے ہیں؟ ان کیسز کو نمٹائیں مگرایسا نہ ہو کہ مزید دو سال لگائیں۔‘

    عدالت نے کیس کی سماعت 20 مارچ تک کے لئے ملتوی کردی۔

  18. ایک محبِ وطن پاکستانی پر بغاوت کا الزام تھوپ کر اسے زندان میں ڈال دیا ہے:عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ریٹائرڈ فوجی جنرل امجد شعیب کے ساتھ اظہاریک جہتی کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اقتدار سے چمٹے رہنے کی مایوس کن خواہش کی تکمیل اور اختلافِ رائے کا گلا گھونٹنے کے لیے ایک معزز محبِ وطن پاکستانی پر بغاوت کا الزام تھوپ کر اسے زندان میں ڈال دیا ہے۔‘

    عمران خان نے مزید لکھا کہ ’مجرموں کی اس امپورٹڈ سرکاراور ان کے سرپرستوں کےہاتھوں ہم جن پستیوں میں گِرچکے ہیں بطور پاکستانی انھیں دیکھ کر شرم آتی ہے۔‘

    واضح رہے کہ ریٹائرڈ فوجی جنرل امجد شعیب کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انھیں سلاخوں کے پیچھے دکھایا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے امجد شعیب کو پیرکے روز گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف اداروں کو بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

  19. الیکشن کے لیے تیاری مکمل ہے تاہم ہماری رائے ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوں: رانا ثنا اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ’انتخابات سے ہم ہرگز نہیں گھبرا رہے۔ اگر دو اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہونا ہیں تو بھی ہماری تیاری میں کمی نہیں تاہم ہماری رائے ہے کہ ملک میں تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوں۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف دو اسمبلیوں کے انتخابات سے ملک میں افراتفری اور انارکی پھیلے گی جس کے زمہ دار عمران خان ہوں گے۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم انتخابات میں جیت گئے تو عمران خان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کریں گے اوروفاقی حکومت پر جانبداری کا الزام عائد کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آئین میں واضح درج ہے کہ جنرل الیکشن نگران حکومت کے سیٹ اپ میں منعقد ہوں گے۔‘

  20. اسلام آباد میں سیکیورٹی کے پیش نظرعدالتوں کے اردگرد مظاہروں پر پابندی عائد

    اسلام آباد میں دہشت گردی اور دیگر خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی کے پیش نظر اسلام آباد کی عدالتوں کے اردگرد کے علاقوں میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    پولیس کے بیان کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔ اعلامیہ کے مطابق عدالتوں کے احاطے میں صرف وکلاء، صحافیوں اور زیر سماعت مقدمات سے متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

    پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع پکار 15 پر دیں۔