مسلم
لیگ ن کے رہنما مریم نواز کا کہنا تھا
’نواز شریف کے خلاف فیصلے برق رفتاری سے آتے تھے۔اس مجرم کا فیصلہ کرنے والا کوئی
ہے۔ یا اس کا فیصلہ قیامت والے دن پر چھوڑ دیا ہے۔ ‘
وہ گوجرانوالہ
میں ورکرز کنونش سے خطاب کر رہی تھیں۔
خطاب میں
مریم نواز نے پرویز الٰہی اور یاسمین راشد کے ساتھ ساتھ فواد چوہدری کے حالیہ آڈیو
لیکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’اب یہ نہ کہنا جو ٹرک کورٹ کے باہر کھڑا کیا وہ مریم
نواز چلا رہی تھی۔‘
انھوں
نے کہا ’مریم نواز شیشہ دکھاتی ہے تو توہینِ عدالت یاد آ جاتی ہے۔ توہین عدالت تب
نہیں ہوتی جو آپ کا منتخب وزیر اعظم نواز شریف ایک اقامہ رکھنے پر اس کو وزیر اعظم
کے دفتر سے نکال باہر کرتے ہوئے‘۔
مریم نواز نے
کہا ’باپ بیٹی کے خلاف ہفتے میں پانچ دن عدالت لگتی تھی۔ کہا جاتا تھا نواز شریف
ایک گھنٹے میں پیش ہو۔‘
انھوں
نے عمران خان پر تنقید کی کی ’پانچ مہینے ہو گئے کہ ایک پلستر نہیں اتر رہا۔ عدالت
بلاتی ہے تو وہ پلاسٹر والی ٹانگ دکھا دیتے ہیں۔‘
مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے ’نواز شریف کو سازش کے ذریعے اپنی
سہولت کاروں کے ساتھ نکالا۔ ‘
انھوں نے جسٹس ثاقب نثار ، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور سابق
ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر عمران خان کا سہولت کار ہونے کا الزام عائد
کیا۔
انھوں
نے کہا ’جو آج بھی اس (عمران خان) کے سہولت کار ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کیوں
ایسے شخص کو بچانا چاہتے ہو جس کی کشتی گہرے پانیوں میں ڈوب چکی ہے۔ ‘
مریم
نوازکا کہنا تھا ’ یہ نہ ہو نواز شریف کو الیکشن مہم یہ کہہ کر چلانی پڑے کہ الیکشن
کرواؤ لیکن ترازو کے دونوں پلڑے برابر کرو۔‘
’نواز
شریف کو انصاف چاہیے اور یہ انصاف ہم لے کر رہیں گے۔‘