چوہدری پرویز الٰہی ق لیگ کے 10 رہنماؤں سمیت پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل

پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت 10 سابق اراکینِ صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے یہ اعلان بھی کیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کا مرکزی صدر بنانے کی سینیئر قیادت نے منظوری دے دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, تحریکِ طالبان پاکستان نے کراچی پولیس ہیڈ آفس پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    تحریکِ طالبان پاکستان نے کراچی پولیس ہیڈ آفس پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

  2. بریکنگ, آئی جی سندھ کے مطابق عمارت میں چھ سے سات دہشتگرد موجود ہیں: رانا ثنا اللہ

    police

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ انھیں آئی جی سندھ نے بتایا ہے کہ عمارت میں چھ سے سات دہشتگرد موجود ہیں۔

    انھوں نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وفاقی حکومت سندھ سے رابطے میں ہے اور ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’اس وقت دہشتگردوں کے خلاف عمارت کی تیسری منزل پر مزاحمت جاری ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے گاڑی پارک کرنے کے بعد دستی بم پھینکا۔‘

  3. بریکنگ, کراچی میں پولیس ہیڈ آفس پر حملہ، فائرنگ کا سلسلہ جاری

    police

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے شہر کراچی میں شارع فیصل پر پولیس ہیڈ آفس کی عمارت پر حملہ ہوا ہے اور شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے چھپ کر حملہ کیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پولیس کا آپریشن جاری ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے شارع فیصل پر تریفک کو دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے متبادل راستہ دیا گیا ہے۔

    تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ ہیڈ آفس پر حملہ کرنے والوں کی تعداد کتنی ہے اور عمارت میں کتنے اہلکار موجود ہیں۔

    کراچی شہر کی مرکزی سڑک پر گورا قبرستان کے قریب کراچی پولیس کے سربراہ کا دفتر واقع ہے۔

    پولیس چیف کے دفتر کے ساتھ رہائشی کالونی بھی واقع ہے جہاں سی ٹی ڈی کے افسران سمیت دیگر افسران کے گھر واقع ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈی آئی جیز کو اپنی زون سے ضروری پولیس فورس بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

  4. بریکنگ, عمران خان کا 22 فروری سے ’جیل بھرو تحریک‘ شروع کرنے کا اعلان

    چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے 22 فروری سے ’جیل بھرو تحریک‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اس کا آغاز لاہور سے ہو گا اور پھر یہ تحریک ہر بڑے شہر میں بڑھائی جائے گی۔

    عمران خان نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’آئین واضح طریقے سے کہتا ہے کہ الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں، 91ویں دن کا مطلب یہ ہو گا کہ جو بھی نگراں حکومتی ہو گی وہ غیر آئینی ہو گی۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا ’چیف الیکشن کمشنر کو معلوم ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 دن میں الیکشن کرانے ہیں، کہا جاتا ہے کہ پولیس نہیں ہو گی فوج نہیں ہوگی، خطرناک بات ہے کہ چیف الیکشن کمشنر الیکشن کرانے سے معذوری ظاہر کر رہے ہیں۔

    ’اگر عدلیہ آئین پر عمل نہیں کروا سکتی تو اس سے بڑی بربادی کوئی نہیں ہے۔‘

  5. عندلیب عباس: ’عمران خان کو گرفتار کیا تو تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے جیل کم پڑ جائے گی‘

    پاکستان تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عندلیب عباس کا کہنا ہے کہ پارٹی کارکنان دن رات عمران خان کی حفاظت کے لیے زمان پارک میں موجود ہیں اور اگر امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کو گرفتار کیا تو تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے جیل کم پڑ جائے گی۔

  6. بریکنگ, قومی اسمبلی کا اجلاس ضمنی مالیاتی بل پر ووٹنگ کے بغیر ہی ملتوی

    قومی اسمبلی کا اہم اجلاس، آئی ایم ایف پروگرام کی تجدید کے لیے ضروری ٹیکس ترامیم پر مشتمل ضمنی مالیاتی بل 2023 پر ووٹنگ کے بغیر ہی ملتوی کردیا گیا ہے۔

    جمعے کو سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے اجلاس کی سربراہی کی جس کے دوران اراکین نے ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے غریب عوام پر بوجھ بڑھانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس اب 20 فروری کو پیر کے روز شام پانچ بجے ہوگا۔

    وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے لیے بدھ کے روز ضمنی مالیاتی بل پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا تھا۔

  7. سی سی پی او لاہور کا تبادلہ: سپریم کورٹ نے پنجاب کی نگران حکومت کا فیصلہ معطل کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سی سی پی او لاہور

    ،تصویر کا ذریعہCCPO LAHORE/TWITTER

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی نگران حکومت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ روک دیا ہے۔

    جمعے کے دن سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا کہ ’کیا الیکشن کمیشن عام حالات میں تبادلے اور تعیناتی کی اجازت دے سکتا ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ ’کس نے چیف الیکشن کمشنر کو یہ اختیار دیا ہے کہ زبانی درخواست پر تبادلہ کر دے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ ’اگر کوئی مسٹر ایکس کال کر کے تبادلے کا کہے تو کیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔‘

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ’الیکشن کمیشن میں پہلے بھی اس طرح تبادلے ہوتے رہے ہیں۔‘ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے 23 جنوری کو غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کی زبانی درخواست کی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ 24 جنوری کو تحریری درخواست آئی، چھ فروری کو منظوری دی۔

    سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا حکم معطل کر دیا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ میں پولیس افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا معاملہ پہلے ہی پانچ رکنی بینچ سن رہا ہے اور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا کیس بھی پانچ رکنی بینچ سنے گا۔‘

  8. فواد چوہدری کی امریکی سفیر سے ’اچھی ملاقات‘

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کی امریکی سفیر اور دیگر سینیئر حکام سے ایک ’اچھی ملاقات‘ ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران ’پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال پر‘ خصوصی توجہ دی گئی۔

    ’پی ڈی ایم حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف انسداد دہشتگردی اور توہین مذہب کے قوانین کا استعمال کیا اور اس بارے میں، میں نے امریکی حکام کو بتایا۔‘

    ’سیاسی صورتحال اور متعدد معاملات پر پی ٹی آئی کا مؤقف زیر بحث آیا۔ ایسی ملاقاتیں دونوں طرف سے ظاہر کی گئی خواہش کا حصہ ہیں جن کی بنیاد برابری اور لوگوں کی فلاح ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. پنجاب الیکشن میں تاخیر کا معاملہ: سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی چیف جسٹس سے از خود نوٹس کی سفارش

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غلام محمود ڈوگر ٹرانسفر کیس میں سپریم کورٹ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ جاری کیا جس میں دو رُکنی بینچ نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں الیکشن کرانے سے متعلق معاملے کو مفاد عامہ قرار دیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر پر مشتمل بینچ نے اپنے حکمنامے میں چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی سفارش کی ہے۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ’یہ معاملہ ہمارے سامنے پیش نہیں کیا گیا، اس لیے ہم اس پر کوئی حکم جاری نہیں کر رہے۔۔۔ تاہم سماعت کے دوران اسے ہمارے نوٹس میں لایا گیا جس سے بنیادی حقوق کے نفاذ پر سنگین سوال اٹھتا ہے۔‘

    ’جب تک صورتحال پر قابو پانے کے لیے وقت پر اقدامات نہیں کیے جاتے تب تک آئین کی خلاف ورزی کا خطرہ موجود ہے جس کا دفاع ہماری آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ لہذا ہم معزز چیف جسٹس سے اس معاملے پر از خود نوٹس لینے کی سفارش کریں گے۔ اگر وہ مناسب سمجھیں تو اس کے لیے آرٹیکل 184 (3) کے تحت بینچ بنائیں۔‘

    سپریم کورٹ کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں الیکشن کرانا لازم ہے ’تاہم اس معاملے میں کوئی پیشرفت نظر نہیں آ رہی جس سے آئین کی خلاف ورزی کا خطرہ موجود ہے۔‘

  10. رانا ثنااللہ کی پریس کانفرنس اعتراف ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف مہم کے پیچھے وفاقی حکومت ہے: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. بریکنگ, میری نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ عمران خان عدلیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت سے بات کروں گا کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے۔‘

  12. بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی

    لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی ہے۔

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ عمران خان کی درخواست پر سماعت کر رہا تھا اور عمران خان سے ساڑھے چھ بجے تک عدالت میں پیش ہونے کا کہا گیا تھا، تاہم عمران خان عدالت میں نہیں پہنچ پائے تھے۔

  13. بریکنگ, گورنر پنجاب نے الیکشن سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    گورنر پنجاب کی جانب سے ایڈووکیٹ شہزاد شوکت نے سنگل بینچ کے فیصلے کی تشریح کے لیے درخواست دائر کی۔

    خیال رہے کہ ’سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ سے متعلق گورنر سے مشاورت کا حکم دیا۔

    ’درخواست گزار گورنر کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں، درخواست گزار گورنر نے اسمبلی تحلیل پر دستخط ہی نہیں کیے۔‘

  14. بریکنگ, عمران خان کا صدرِ پاکستان سے سابق آرمی چیف کے خلاف فوری تحقیقات کا مطالبہ

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے صدر عارف علوی سے ملک کی بری فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے صدر اور پاکستان کی افواج کے سپریم کمانڈر کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بطور آرمی چیف حلف کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا کہا گیا ہے۔

    عمران خان کی جانب سے تحریر کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ ’سابق آرمی چیف نے صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری سے ملاقات میں اعتراف کیا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر عمران خان اقتدار میں رہے تو ملک کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھیں یہ اختیار کس نے دیا کہ بطور آرمی چیف وہ یہ فیصلہ کریں کہایک منتخب وزیر اعظم مبینہ طور پر ملک کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے؟ انھوں نے اس اقدام کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 244 کی خلاف ورزی کی ہے اور ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں۔‘

    عمران خان نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ ’ان کے اس دعوے کہ انھوں نے شوکت ترین کے نیب کے کیسز ختم کروائے کی حقیقت سے ہٹ کر بغیر جنرل باجوہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ نیب ان کے زیر اثر تھا اور یہ بھی ان کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کو پیش ہونے کے لیے مزید ایک گھنٹے کی مہلت دے دی

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف )پی ٹی آئی( کے احتجاج اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو پیش ہونےکے لیے مزید ایک گھنٹےکی مہلت دے دی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز انسداد دہشتگری کی عدالت سے عبوری ضمانت خارج ہونے کے بعد عمران خان نے حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے تھے کہ عمران خان کو سٹریچر پر لائیں یا ایمبولینس میں لیکن پیش ہوئے بغیر ضمانت نہیں ہو گی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے جمعرات کی صبح سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکلا جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کراتے ہوئے کہا کہ ابھی دو مختلف پہلوؤں پر غور ہو رہا ہے۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق سے استفسار کیا کہ ’آپ وقت چاہ رہے ہیں؟

  16. بریکنگ, ’آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، یہ عدالت آپ کی پشت پر ہو گی‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Sikandar Sultan

    ،تصویر کا ذریعہECP

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات میں حائل رکاوٹوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    جمعرات کو لاہور کے سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے انتخابات نہ کروائے تو ہمیں دوسرا طریقہ بھی آتا ہے، توہین عدالت میں سب کو بلا لیں گے جس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے اختیارات اور آئینی تقاضے پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

    عدالتی حکم پر چیف الیکشن کمشنر عدالت میں پیش ہوئے تو سماعت کے دوران مذکورہ پولیس افسر کے تبادلے کے ساتھ ساتھ دونوں صوبوں میں انتخابات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

    بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز الااحسن نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت میں انتخابات نہ ہوئے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کرانے کا پابند کرتا ہے اور الیکشن کمیشن اپنے کام کے علاوہ باقی سارے کام کر رہا ہے۔

    اس پر چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ اگر وہ الیکشن کی تاریخ خود دیں تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے اختیارات اور آئینی تقاضے پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے‘۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ جب ان کے ادارے نے فوج سے سیکورٹی مانگی تو انکار کر دیا گیا، عدلیہ سے ریٹرننگ افسران مانگے تو انھوں نے انکار کردیا اور تو اور انتخابات کے لیے رقم مانگی تو اس سے بھی انکار کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسے حالات میں صاف شفاف الیکشن کیسے ہوں گے؟‘

    اس پر بینچ کے سربراہ نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ تگڑے ہوئے آئین کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، یہ عدالت آپ کی پشت پر ہو گی۔‘

  17. شیخ رشید کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم جاری, شہزاد ملک، بی بی سی

    Sheikh rasheed

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ملزم شیخ رشید کی طرف سے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    شیخ رشید اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔

    شیخ رشید نے سابق صدر آصف علی زرداری پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو قتل کروانے سے متعلق ایک شدت پسند تنظیم کو پیسے دیے ہیں۔

    اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ پولیس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا تھا۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے شیخ رشید احمد کی ضمانت کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کردی تھی کہ ملزم اپنے الزامات کو دوبارہ دوہرا رہا ہے۔

    شیخ رشید کے خلاف تھانہ مری میں بھی انہی الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم مقامی عدالت نے ان کی اس مقدمے میں ضمانت منظور کر لی تھی۔

    انہی الزامات کے تحت شیخ رشید کے خلاف بلوچستان اور سندھ کے تھانوں میں بھی مقدمات درج کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا۔

  18. اگر عدالت حکم دے تو تبادلے روک دیں گے: چیف الیکشن کمشنر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کیس میں چیف الیکشن کمشنر نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر کہا ہے کہ اگر عدالت حکم دے تو تبادلے روک دیے جائیں گے۔

    سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ جب سپریم کورٹ کا حکم تھا تو پھر بھی سی سی پی او کو تبدیل کیوں کیا گیا۔ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ غلام محمود ڈوگر کو الیکشن کمیشن کی اجازت سے دوسری مرتبہ تبدیل کیا گیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ افسران کی تبدیلی میں الیکشن کمیشن کا کیا کردار ہے۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار تو انتخابات کے اعلان ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب میں نگران حکومت آنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن سے اجازت لی گئی۔ اُنھوں نے کہا کہ آئین کے مطابق نگران حکومت آنے کے بعد 90 دنوں میں انتخابات ہونے لازمی ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے حکم کا علم نہیں تھا؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ نگران حکومت تقرر و تبادلے نہیں کر سکتی اور نگران حکومت کو تبادلہ مقصود ہو تو ٹھوس وجوہات کیساتھ درخواست دے گی اور الیکشن کمیشن وجوہات کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کرنے کا پابند ہے۔

    اس پر چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا اگر عدالت حکم دے تو تبادلے روک دیں گے جس پر سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت ایسا کوئی حکم جاری نہیں کرے گی۔

    اس درخواست پر سماعت سترہ فروری کو دوبارہ ہو گی۔

  19. لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت

    LHC

    ،تصویر کا ذریعہLHC

    لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت آج ہوئی اور عدالت نے کچھ دیر کے بعد سماعت ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دی۔

    عمران خان کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جان کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ عدالت میں عمران کی سکیورٹی اور صحت کے حوالے سے موجود خطرات عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ عدالتی نظیر موجود ہے کہ ملک سے باہر یا ملک کے اندر موجود افراد کو استثنیٰ مل سکتا ہے۔

  20. ’پروپیگنڈا، بے بنیاد الزامات کو امریکہ-پاکستان تعلقات میں رکاوٹ بننے نہیں دیں گے‘

    امریکہ، نیڈ پرائس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان سے دو طرفہ تعلقات کو اہم سمجھتا ہے اور اسے پروپیگنڈا یا جھوٹے الزامات سے متاثر ہونے نہیں دے گا۔

    ان سے جمعرات کی پریس بریفننگ کے دوران پوچھا گیا کہ ’عمران خان نے اب کہا ہے کہ انھیں عہدے سے ہٹانے کی سازش میں امریکہ نہیں بلکہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ ملوت تھے۔ تو کیا الزامات کا کھیل ختم ہونا بائیڈن انتظامیہ کے لیے اطمینان کا باعث ہے؟‘

    نیڈ پرائس نے جواب دیا کہ ’میں الزامات کے کھیل پر تبصرہ نہیں کروں گا، جیسا آپ نے کہا۔ ہم نے بے بنیاد الزامات پر واضح مؤقف رکھا ہے۔ ہم نے مسلسل کہا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

    ’ہم پاکستان سے تعاون کی قدر کرتے ہیں۔ ہمارے مفاد کے لیے خوشحال، جمہوری پاکستان اہم ہے۔۔۔ ہم پروپیگنڈا، جعلی اور بے بنیاد معلومات کو باہمی تعلقات میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک بات پاکستان کے سیاسی حلقوں کی ہے تو ہم کسی ایک سیاسی امیدوار یا جماعت کو دوسروں پر ترجیح نہیں دیتے۔ ہم پُرامن جمہوری اور آئینی اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘