بریکنگ, آئین کے تحت انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتے ناہی مشاورت کر سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کا صدر عارف علوی کو جواب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن کی جانب سے صدرعارف علوی کو جواب دیا گیا ہے کہ کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہے۔
الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کی جانب سے لکھے جانے والے خط، جس کی کاپی بی بی سی کو موصول ہوئی ہے، میں لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے بعد دونوں صوبوں کے گورنرز سے رابطہ کیا لیکن اب تک ان کی جانب سے الیکشن کی تاریخ نہیں دی گئی۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے لکھا کہ کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کی حکم کے تحت گورنر پنجاب سے رابطہ کیا جنھوں نے آگاہ کیا کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے کہ آئین گورنر سے مشاورت کی اجازت نہیں دیتا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس اسمبلی تحلیل ہو جانے کی صورت میں انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار موجود نہیں ہے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ کمیشن صدر پاکستان کے عہدے کا احترام کرتا ہے لیکن الیکشن کی تاریخ کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے الیکشن کے معاملے پر صدر پاکستان کے آفس سے مشاورت نہیں کر سکتا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام











