چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر قاتلانہ حملے اور پھر اس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے میں دو تین لوگ ملوث ہیں۔ ان کے مطابق ہمارے ملک کی کی فوج ہر روز قرباننیاں دے رہی ہے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’ہر ادارے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں، مجھے ان کا پتا ہے، یہ جان بوجھ کر انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ اگر پاکستان کو فوج کے ذریعے قائم رکھ پاتے تو پھر بنگلا دیش ہم سے کبھی جدا نہ ہوتا۔
انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر آپ پاکستان کی سب سے بڑی وفاقی جماعت کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا فائدہ کس کو ہوگا۔
عمران خان کہا کہ ’مجھے پاکستان بھر سے ووٹ ملتے ہیں۔‘ انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ’وہ کون سا ذہن ہے جو ملک کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ملک کا نقصان ہوتا ہے، یہ مخالفین کا پلان ہو سکتا ہے۔‘
عمران خان نے پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے یہ اپیل کی ہے کہ ’چیف جسٹس مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات اپنی نگرانی میں کرائیں تو پھر ہی انصاف مل سکتا ہے، ورنہ مجھے کوئی انصاف کی امید نہیں ہے۔‘
’حملہ آور تربیت یافتہ تھا‘
عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے ضلع وزیرآباد میں مارچ پر ہونے والی فائرنگ کا ملزم تربیت یافتہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے سازش کرکے مجھے حکومت سے نکال دیا گیا اور پھر مجھے قتل کرنے کی سازش کی گئی اور میں نے عوام کو بتا دیا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ ’مجھے انٹیلی جینس ایجنسیوں کے اندر سے لوگوں نے بتایا کہ مذہب کے نام پر مجھے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور پھر وزیر آباد میں فائرنگ کی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میں پسٹل شوٹنگ کی ہوئی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وزیرآباد میں گولیاں چلانے والا ملزم تربیت یافتہ تھا کیونکہ اس نے ریپڈ فائرنگ کی ہے، ہمارے ہیرو ابتسام نے ان کو اوپر کی طرف فائرنگ کرنے سے روکا اور اللہ نے مجھے بچایا۔
ملزم کا بیان ہسپتال پہنچنے سے قبل سامنے آ گیا
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں ہسپتال بھی نہیں پہنچا تھا کہ پولیس ملزم کا بیان ریکارڈ کرکے مخصوص لوگوں کو جاری کرتی ہے حالانکہ اس وقت ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ مجھے تو پہلے پتا تھا کہ اس کے پیچھے کون تھا اور میں نے بتایا تھا کہ منصوبہ بندی ہو رہی ہے، ظاہر ہے جب منصوبہ بندی کا پتا تھا تو اس کے پیچھے کون تھا وہ بھی معلوم تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ایک پارٹی کا سربراہ اور سابق وزیراعظم ہوں اور پنجاب میں ہماری حکومت ہے لیکن میری مرضی کے مطابق تاحال ایف آئی آر درج نہیں ہوئی کیوں، اس سے بھی بڑی طاقت تھی جو روک رہی تھی یہ میرا پہلا سوال ہے۔
’اپنی حکومت میں ہم بے بس تھے‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پوری کوشش کرنے کے بعد ایف آئی آر درج کراونے میں ناکام ہوتے ہیں اور اس کے بعد جے آئی ٹی بن جاتی ہے اور مشکلوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
عمران خان کے مطابق جب جے آئی ٹی نے ڈی پی او سے کہا ہمیں آپ کے موبائل فون کی ضرورت ہے تو پنجاب میں ہماری حکومت ہوتے ہوئے ہماری حکومت کا ڈی پی او گجرات واضح طور پر منع کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے ملزم کا بیان ریکارڈ کیا اور سی ٹی ڈی کا عہدیدار بھی جے آئی ٹی کی جانب سے طلب کرنے کے باوجود وہ تعاون کرنے سے منع کرتا ہے حالانکہ سی ٹی ڈی بھی ہماری حکومت کے زیرانتظام ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس کے بعد جے آئی ٹی عدالت میں اپنی تحقیقات جمع کرادیتی ہے اور اس میں کہا گیا کہ حملہ دو نہیں تین تھے، ایک نوید جس نے گولیاں ماری، دوسرا اوپر سے گولیاں چلائی گئیں اور دو اور گولیاں مختلف تھیں۔
عمران خان نے کہا کہ معظم جب ملزم کی طرف جاتا ہے تو اس کو گولی لگتی ہے، گولی نہ تو آگے سے لگتی ہے اور نہ ہی کنٹینر سے لگتی ہے بلکہ کہیں دور سے آکر گولی لگتی ہے جو دراصل نوید کو مارنے کے لیے تھی لیکن درمیان میں معظم آگیا کیونکہ انھوں نے لیاقت علی خان جیسا واقعہ بتانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے فون کا فرانزک کرانے کے لیے وفاقی ادارے کو دیا لیکن اس ادارے نے منع کیا کہ ہم نہیں دیتے تو کیوں نہیں دیتے، اس کی وجہ کیا ہے۔