پاکستان کے وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا
اللہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور کابینہ کی بحالی کے گذشتہ روز لاہور
ہائیکورٹ کے فیصلے میں خلا ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عدالت عالیہ اپنے فیصلے پر
نظر ثانی کرے اور عدالت عظمیٰ اس کا ازخود نوٹس لے۔
لاہور میں مسلم لیگ کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس
کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے پرویز الہی کو عبوری
ریلیف کے طور پر مکمل ریلیف دے دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ سے
گذارش ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اختیارات کو محدود کیا جائے تاکہ یہ ان اٹھارہ دنوں میں
لوٹ مار کا بازار گرم نہ کر سکیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلیاں کسی کی ضد، انا
اور گھٹیا سیاست کی نظر ہو رہی ہو تو آئینی عہدیدار یعنی گورنر کی ذمہ داری ہے کہ
وہ ایوان سے اکثریت کا ووٹ لینے کا کہے۔
انھوں نے پرویز الہی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے
چند روز قبل ایک حکمنانہ دیا ہے جس میں لاہور میں ترقیاتی کاموں کے نام پر اربوں
روپے دیے ہیں اور باپ بیٹے نے دیہاڑی لگائی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پرویز الہی کے پاس ایوان میں اکثریت
نہیں ہے اور وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان
کے ساتھی ملک میں تباہی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی استحکام چاہتے ہیں۔ ان کا
کہنا تھا کہ یہ ملک کا نقصان چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکومت نے
اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے قربانی دی تھی۔
ان
کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں اور ہمارا موقف ہے کہ انتخابات اپنے وقت
پر ہونے چاہیں۔
اس
موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے گذشتہ روز کے فیصلے میں
خامیاں ہیں۔ آئین سے رو گردانی کوئی نہیں کر سکتا، عدالت نے 18 دن کا وقت دیا گیا ہے
جس میں ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے۔
عدالت نے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل ان کی صوابدید
پر چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے
اگر مگر کی کوئی صورت نہیں ہے۔
پرویز الہی کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لیے انھیں اعتماد کا
ووٹ لینا پڑے گا۔ یہ پی ٹی آئی کی بددیانتی پر مبنی ہے اور یہ اب عدالت کے سٹے آرڈر
کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی، ان کے ساتھیوں اور سہولت
کاروں نے ہمیں کام کرنے نہیں دیا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان
میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ گورنر جب سمجھے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کو
اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی عدلیہ سے نظریہ
ضرورت دفن نہیں ہوا اور جب تک پسند ناپسند یا نظریہ ضرورت ختم نہیں ہوتا اس وقت تک
ملک میں کسی کو انصاف نہیں ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اب بھی چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ
سیاست میں حصہ لے اور اس حکومت کے تخت پر بیٹھا دیا جائے۔