اسلام
آباد ہائی کورٹ نےوفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات
سے متعلق درخواستوں میں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جمعے
کے روز سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف
سب سے بڑی جماعت ہے اور ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے ہمیں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔
چیف
جسٹس کا اس پر کہنا تھا کہ یہ عدالتی کارروائی ہے، یہاں تقریر نہیں کرنی، ایڈووکیٹ
جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا کہ وزارت داخلہ نے 19 دسمبر کو یونین کونسلز
بڑھانے کا نوٹی فکیشن کیا۔ الیکشن کمیشن نے سو موٹو پاور استعمال کرتے ہوئے اس نوٹی
فکیشن کو مسترد کر دیا۔
الیکشن
کمیشن نے وفاقی حکومت اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت کسی کو نوٹس کر کے سنا بھی
نہیں، عوام سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے بغیر یونین کونسلز میں تبدیلی نہیں کی
جا سکتی۔
یونین
کونسلز کی تعداد میں اضافے کا معاملہ اس سے الگ ہے، پورے اسلام آباد کو 125 یونین
کونسلز میں تقسیم کیا گیا،حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ہے۔
چیف
جسٹس نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام
آباد کے سرکل کا سائز تو مقرر ہے، یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے سے ہر یونین کونسل
کا سائز کم ہو گا۔
ایڈووکیٹ
جنرل کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں آبادی کے حساب سے کی جائیں گی جو الیکشن کمیشن نے
کرنی ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ سے لوکل ایریا
ڈسٹرب نہیں ہو گا؟، جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہاکہ کوئی ایریا ڈسٹرب نہیں
ہو گا،اس موقع پر درخواستگزار وکیل عادل عزیز قاضی نے کہا کہ لوکل ایریا سے مراد
پوری میٹروپولیٹن کارپوریشن ہے جس میں تمام یونین کونسلز آتی ہیں۔
حکومت
کے پاس تو یہ بھی اختیار ہے کہ دو میٹروپولیٹن کارپوریشنز بنا دے، اگر حکومت کوئی
سیکٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن سے الگ کرنا چاہے تو اس میں یونین کونسل بھی نہیں آئے
گی۔
چیف
جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ ایک مرتبہ ہے طے کر لیں کہ یونین کونسلز کی
تعداد کتنی بڑھانی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جس طرح لندن میں مئیر کا الیکشن
ڈائریکٹ ہوتا ہے اسلام آباد میں بھی وہی ہو گا۔
اس
سے قبل مئیر کو چیئرمین یونین کونسلز منتخب کرتے تھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یونین
کونسلز کی تعداد میں اضافہ کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں کرنے کی پابند ہے۔
جس
پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حلقہ بندیاں تبدیل ہونے کے بعد ووٹرز لسٹوں میں بھی
تبدیلی ہو گی؟
جس
پر اٹارنی جنرل نےعدالت کو بتایا کہ جی
بالکل، ووٹرز لسٹوں میں بھی تبدیلی ہو گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ لوکل
گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے یونین کونسلز کی تعداد 125 کر دی گئی ہے۔
اگر
آئندہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ یا کمی کرنی ہوئی تو نوٹی فکیشن سے ایسا
ممکن ہو گا،قومی اسمبلی سے بل پاس ہو گیا، سینیٹ سے پاس ہو گا، میئر اور ڈپٹی میئر
کا الیکشن بھی اب براہ راست ہو گا۔
سوال
یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو نہ
مانے،چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ہے کہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے
بعد حلقہ بندیوں میں تبدیلی ہوئی۔
چیف
جسٹس نے کہاکہ ایک معاملہ ووٹر لسٹوں میں درستگی کا بھی ہے،جب یونین کونسلز کی
تعداد 101 ہوئی تو کیا ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کا پراسیس کیا گیا؟
اس موقع پر ڈی جی لیگل الیکشن کمیشن نے کہاکہ جی
بالکل، پراسیس کیا گیا تھا، چیف جسٹس نے کہاکہ اس متعلق کوئی ڈاکومنٹ ہے تو وہ بھی
دکھائیں،دوران سماعت الیکشن کمیشن نے ووٹرز لسٹوں میں تبدیلی کا ریکارڈ عدالت میں
پیش کر دیا۔
چیف
جسٹس نے کہا کہ کیا ووٹرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پراسیس کے دوران اپنا ووٹ
درست نہیں کرایا؟
کیا آپ ووٹوں کی درستگی کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس گئے؟
اس
پر انعام امین منہاس ایڈووکیٹ نے کہا کہ روات کے ووٹرز گولڑہ میں اور گولڑہ کے
ووٹرز روات میں شامل ہیں،ووٹرز الیکشن کمیشن کے پاس گئے تو انھوں نے کہا الیکشن شیڈول
کے اعلان کے بعد تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
ڈی
جی الیکشن کمیشن نے کہاکہ یہ ووٹوں کی درستگی کے لیے پراسیس کے دوران نہیں آئے اور
جب آئے تو بہت دیر ہو چکی تھی، وکیل نے کہا کہ اگر ووٹرز کو ان کے حق سے محروم
رکھا جائے تو پھر لوکل گورنمنٹ الیکشن کرانے کا مقصد ہی نہیں،اتنی بڑی غلطیوں کے
ساتھ الیکشن کرائے گئے تو وہ فری اینڈ فیئر نہیں ہوں گے۔
چیف
جسٹس نے کہاکہ اقتدار میں کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، بلدیاتی انتخابات کرانے میں ان
کی دلچسپی نہیں، پولیٹیکل اینالسٹ بہتر بتا سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
اگر
2020 میں مدت پوری ہوئی تو اس وقت الیکشن ہو جانا چاہئے تھا،کبھی کورونا، کبھی سیلاب،
کبھی سردی، کبھی گرمی، یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔
اسلام آباد کے مسائل تب حل ہوں گے جب یہاں دہلی ماڈل کی اپنی پارلیمنٹ لائیں گے،ڈی
جی الیکشن کمیشن نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ انتخابی شیڈول کے بعد یونین
کونسلز کی تعداد بڑھائی گئی،31دسمبر کو بلدیاتی انتخابات پرانے شیڈول کے مطابق ہونے
چاہئیں،چیف جسٹس نے کہاکہ الیکشن کمیشن خود مختار آئینی ادارہ اور ریگولیٹری باڈی
ہے جسے ہدایات نہیں دے سکتے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ
کر لیا۔