آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج، عدم اعتماد پر ووٹنگ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں

پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے منعقد ہو گا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی ہدایت کے برعکس پرویز الہٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔

لائیو کوریج

  1. احتساب عدالت نے آصف زرداری، نواز شریف، یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرینس نیب کو واپس بھیج دیا

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے ایڈمنسٹریٹیو جج محمد بشیر کی عدالت نے سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس ’عدالتی دائرہ اختیار نہ ہونے‘ پر واپس نیب کو بھیج دیا۔

    احتساب عدالت نمبر 3 میں زیر سماعت مذکورہ ریفرنس پر فاضل عدالت کے جج سید اصغر علی کا عرصہ تعیناتی مکمل ہونے اور چارج چھوڑ جانے کے باعث گذشتہ روز ایڈمنسٹریٹیو جج محمد بشیر کی عدالت نے سماعت کی۔

    دوران سماعت عدالت نے آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر ملزمان کی طرف سے نیب ترمیمی ایکٹ 2022ء کے تحت دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے ریفرنس واپس نیب کو بھجوانے کا حکم سناتے ہوئے کہا کہ عدالتی دائرہ اختیار نہ ہونے پر ریفرنس واپس بھیجا جاتا ہے، نیب متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔

    واضح رہے کہ مذکورہ نیب ریفرنس میں آصف علی زرداری، میاں محمد نواز شریف، سید یوسف رضا گیلانی، عبدالغنی مجید اور انور مجید پانچ ملزمان ہیں اور طلبی کے باوجود مسلسل عدم پیشی پر عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کا کیس دیگر چاروں ملزمان سے الگ کرنے کے علاوہ نواز شریف کی جائیداد قرقی کا بھی حکم دے رکھا تھا۔

  2. بنوں حملہ: شہباز شریف کا سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کی تشکیلِ نو کا اعلان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بنوں اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی ازسرنو تشکیل پر کام کرے گی اور جدید اسلحہ کی فراہمی اور پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دی جائے گی۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ امن و امان کی بنیادی ذمہ داری صوبوں کی ہے لیکن وفاق ان سنگین مسائل پر آنکھیں بند نہیں کر سکتا، اور دہشت گردی کے مقابلے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت کی صلاحیت اور استعداد کار میں اضافہ دہشت گردی کے خاتمے میں اہم ہے اور وفاق صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورس اور ڈپارٹمنٹ کی پیشہ ورانہ صلاحیت بہتر بنانے میں معاونت کرے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردوں کی بیرونی سہولت کاری اور پناہ گاہوں کا سدباب بھی کرے گی۔

    واضح رہے کہ بنوں میں کینٹ اور آس پاس کے مختلف سڑکیں بدستور آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔ ضلعے بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی ادارے آج بھی بند ہیں اور موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس تیسرے دن بھی بدستور معطل ہیں۔

    کینٹ کے مکینوں کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہوتا جا رہا ہے اور رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  3. چمن میں سرحد پر کشیدگی کے بعد پاکستان اور افغانستان کا فلیگ میٹنگ پر اتفاق, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چمن کے ڈپٹی کمشنرعبدالحمید زہری نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ سرحدی حکام کے درمیان فلیگ میٹنگ کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستانی علماء، قبائلی عمائدین اور تاجروں پر مشتمل 18 رکنی امن مصالحتی جرگہ افغانستان گیا تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ ابتدائی ملاقاتوں میں افغان حکام نے بہترین تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستان وفد نے سپین بولدک میں اعلیٰ افغان حکام سے ملاقاتیں کیں جس میں امن قائم کرنے کے لیے کافی پیشرفت ہوئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر چمن نے کہا کہ افغانستان سے تمام حل طلب معاملات کے حل کے لیے افغان حکام کی جانب سے اچھا ریسپانس ملا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس وقت سرحد پر کشیدگی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور کشیدگی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور دونوں جانب سے رابطوں کا سلسلہ بحال ہو چکا ہے۔

    خیال رہے کہ 11 اور 15 دسمبر کو سرحدی تنازعے پر دونوں ممالک کے سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن سے چمن میں کم ازکم چھ افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

  4. مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت ہوئی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوگیا ہے۔ دونوں جماعتوں میں مکمل اتحاد اور یگانگت پائی گئی ہے اور کل سے حلقوں کی فہرست پر بات چیت ہو گی۔ اس سلسلے میں بات چیت کا دوسرا راؤنڈ کل ہو گا۔‘

  5. سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر آئینی قرار دے دیا

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر بلیغ الرحمان کے طلب کردہ اجلاس کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

    سپیکر نے دو صفحات پر مشتمل رولنگ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی جاری ہے اور جب تک موجودہ سیشن ختم نہیں ہوتا، گورنر نیا اجلاس نہیں بلا سکتے۔

    رولنگ کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد کی کارروائی صرف اسی مقصد کے لیے بلائے گئے خصوصی اجلاس میں ممکن ہے۔

    رولنگ میں کہا گیا ہے کہ خصوصی سیشن موجودہ سیشن ختم ہونے پر ہی بلایا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ آئینی ماہرین کے مطابق آئین میں اس حوالے سے ابہام موجود تھا اور سپیکر صوبائی اسمبلی کی اس ضمن میں دی گئی رولنگ کی عدالت میں حیثیت ہو سکتی ہے۔

  6. کل پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ ہوا، پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سیل کر دیں گے: رانا ثنا

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل منعقد نہ ہوا اور وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاؤس کو سیل کر دیں گے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اجلاس نہ بھی ہو تو وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا، پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ گورنر کا پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے پر سپیکر اسمبلی کا مؤقف غلط ہے، سپیکر اسمبلی کا مؤقف قواعد وضوابط کےخلاف ہے، گورنر پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کے وزیراعلیٰ خود کہیں کہ 99 فیصد ارکان اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں تو عدم اعتماد ہی آئے گا۔

  7. آج عمران خان سے ملاقات میں پنجاب اسمبلی توڑنے کی حکمت عملی مکمل کر لی ہے: مونس الٰہی

  8. بریکنگ, تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد فوری طور پر اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی: فواد چوہدری

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی تھے اور رہیں گے۔

    انھوں نے یہ بات زمان پارک کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ سپیکر کی صوابدید ہے کہ وہ پہلے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرواتا ہے یا اعتماد کا ووٹ لیتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد فوری طور پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘

  9. توانائی بچت قومی پروگرام: حکومت کا شادی ہالز رات 10، مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کی جانب سے توانائی بچت قومی پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق شادی ہالز کو رات 10 اور مارکیٹوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مارکیٹیں اور ریستوران رات آٹھ بجے بند کیے جائیں گے، دنیا بھر میں مارکیٹیں شام چھ بجے تک بند ہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں رات دو بجے تک کھلی ہوتی ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ 20 فیصد سرکاری ملازمین گھر سے کام کریں گے، مختلف ذرائع سے توانائی کی بچت کر کے معیشت کو اربوں کا فائدہ ہو گا، اس فیصلے سے آٹھ سے نو ہزار میگاواٹ بجلی کی بچت ہو گی اور 62 ارب روپے بچائے جا سکیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہم ای بائیکس متعارف کروانے جا رہے ہیں جس کے لیے الیکٹرک بائیکس کی درآمد شروع ہو چکی ہے۔

  10. اجلاس جاری ہونے کی صورت میں اعتماد کے ووٹ کا نہیں کہا جا سکتا: اے جی پنجاب, ترہب اصغر، بی بی سی

    ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے کہا ہے کہ جب ایک اجلاس چل رہا ہو تو اس دوران وزیرِ اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہیں کہا جا سکتا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس اکتوبر سے چل رہا ہے اس لیے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنا غیر آئینی ہے جسے سپیکر رولنگ کے ذریعے مسترد کر سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے سپیکر کی رولنگ کو اپوزیشن عدالت میں چیلنج کر سکتی ہے۔

    تاہم اُنھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر عملدرآمد ہو سکتا ہے اور اس کے لیے اجلاس جاری ہونے یا نہ ہونے کی کوئی قید نہیں۔

  11. سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس بلانے کا عمل غیر قانونی قرار دے دیا

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے گورنر پنجاب کی جانب سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے عمل کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اجلاس کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سبطین خان کا کہنا تھا کہ کہ اسمبلی کا اجلاس پہلے سے ہی جاری ہے اور گورنر کی ایڈوائس پر نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔

    ان کے اس بیان پر وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر کا مؤقف درست نہیں اور ضوابط اور آئین کے خلاف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر کل (بدھ 21 دسمبر) چار بجے اجلاس نہ ہوا اور اس میں وزیرِ اعلیٰ پرویز الہٰی اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو وہ اس عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔

    گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد انھیں ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہا ہے۔

    پیر کی رات گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کی تحریری ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور گورنر اس خیال سے متفق ہیں کہ وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں اس لیے آئین کے آرٹیکل 130 (7) کے تحت وہ 21 دسمبر کو شام چار بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کر رہے ہیں جس میں وزیراعلیٰ اعتماد کا ووٹ لیں۔

  12. مسلم لیگ (ن) کے معطل ارکانِ پنجاب اسمبلی کو ایوان کے اجلاس میں شرکت کی اجازت

    لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ نواز کے ڈیڑھ درجن صوبائی ارکانِ اسمبلی کی پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت پر پابندی کو معطل کرتے ہوئے انھیں 21 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    جسٹس شاہد بلال اور جسٹس رسال حسن سید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سپیکر کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے بعد دیا۔

    عدالت نے کہا ہے کہ یہ تمام ارکان بدھ کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں اور اگر اجلاس میں ووٹنگ ہوئی تو یہ ارکان ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے ن لیگ کے 18 ارکانِ پنجاب اسمبلی پر 15 اجلاسوں میں شرکت پر پابندی لگائی تھی۔

    اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپیکر کے لیے ضروری ہے کہ پابندی سے پہلے دو وارننگز دے اور وہ رکنِ اسمبلی کو 15 دن کے لیے معطل کر سکتا ہے۔ رکن پر 15 اجلاسوں میں شرکت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ بظاہر تو 15 دن کا وقت پورا ہو چکا ہے تو کیا پابندی کے خلاف درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے جس پر رانا مشہود کے وکیل کا کہنا تھا کہ پابندی کی مدت تو بظاہر پوری ہو چکی ہے لیکن قانونی سوال برقرار ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ارکان پر اجلاس میں شرکت پر پابندی نہیں ہے تو ہماری درخواست غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے جب سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل سے پوچھا گیا کہ 15 دن اور 15 نشستوں پر سپیکر کا کیا مؤقف ہے تو امتیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ اس کا ایک حقیقی اور ایک قانونی پہلو ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ سپیکر کی مرضی ہے کہ وہ ان ارکان کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں اور یہ ان ارکان کے رویے پر منحصر ہے۔

    اس پر مسلم لیگ ن کے ارکان کے وکیل نے کہا کہ اس طرح تو یہ درخواست ابھی غیر مؤثر نہیں ہے۔

    منصور اعوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کل وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہے جس میں درخواست گزاروں کو اپنے ووٹ کا حق کا استعمال کرنا ہے۔ اس سماعت کے بعد عدالت نے 18 ارکان کے اجلاس پر پابندی کے نکتے پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور کچھ دیر بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لیگ ن کے 18 ارکان کو بدھ کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی۔

  13. لسبیلہ: گیس سلنڈر میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی, محمد کاظم، بی بی سی

    بلوچستان کے شہرلسبیلہ میں گیس سلنڈر میں دھماکے کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو کہ دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے خود آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔

    ڈپٹی کمشنر لسبیلہ مراد کاسی نے فون پر بتایا کہ یہ واقعہ گیس سلنڈر میں لیکیج کی وجہ سے پیش آیا۔ ایس ایس پی لسبیلہ دوستین دشتی کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے 8 افراد کراچی میں زیر علاج ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

    واقعہ کیسے پیش آیا ؟

    ایس ایس پی لسبیلہ دوستین دشتی نے بتایا کہ لسبیلہ شہر میں پیر کی شام ایک ہوٹل میں پڑے گیس سلنڈر میں لیکج کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔

    اُنھوں نے بتایا کہ گیس سلنڈر میں آگ لگنے کے باعث بعض لوگ اس سے متاثر ہونے والے افراد کو بچانے کے لیے وہاں جمع ہوئے جس کے دوران ہوٹل کے باہر موٹر سائیکلوں میں بھی آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ آگ میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ یہ پھیل بھی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ آگ سے مجموعی طور پر 20 لوگ متائثر ہوئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد کراچی منتقل کیا گیا۔

    اُنھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 12 لوگ ہلاک ہوئے جبکہ 8 زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

    ایس ایس پی لسبیلہ نے بتایا کے اس واقعے میں 14موٹر سائیکلیں اور چار دکانیں بھی جل گئیں۔

  14. عمران خان پر مبینہ بیٹی کی معلومات چھپانے کا کیس، سماعت ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کی معلومات چھپانے پر نااہلی کیس کی سماعت آج ہوئی۔

    واضح رہے کہ ایک شہری محمد ساجد نے عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان نے گذشتہ عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت غلط معلومات فراہم کیں، عمران خان نے اپنے بچوں کی تفصیل میں دو کا ذکر کیا اور ایک کی معلومات چھپائیں۔

    منگل کو الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور عمران خان کی جانب سے سلمان اکرم راجہ نے وکالت نامہ جمع کروایا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس قسم کے کیس کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ کئی بار پہلے ہمارے پاس آ چکا ہے اور درخواستیں مسترد ہوتی رہی ہیں۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔

  15. ممنوعہ فنڈنگ کیس، توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں, شہزاد ملک، بی بی سی

    ممنوعہ فنڈنگ کیس اور توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف پی ٹی آئی اور عمران خان کی درخواستوں پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بنچ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر آج سماعت کرے گا جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کو کاالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت کریں گے۔

    بیرسٹر علی ظفر کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے اسے رکن قومی اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا اختیار نہیں، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے لیے اپنے اختیار سے تجاوز کیا، نااہلی کا فیصلہ کاالعدم قرار دیا جائے۔

  16. بنوں میں جاری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، مدد کے لیے تیار ہیں: امریکہ

    امریکہ نے کہا ہے کہ وہ بنوں میں جاری صورتحال سے واقف ہے اور اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    اپنی پریس بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ وہ ذمہ داروں سے یرغمالیوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغانستان میں اور پاک افغان سرحد کے ساتھ موجود دہشتگردوں سمیت ایسے ’مشترکہ چیلنج‘ میں امریکہ کی شراکت دار ہے۔

    نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ نے اس چیلنج سے نمٹنے میں پاکستانی حکومت کی مدد کی ہے اور وہ اس موجودہ صورتحال یا وسیع تر صورتحال سے نمٹنے میں مدد کے لیے بھی تیار ہیں۔

    تاہم اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت سے استفسار کیا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ شمال مغربی پاکستان میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  17. قبل از وقت الیکشن ملکی مفاد میں نہیں: بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے سیلاب کی تباہ کاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحالی کی سرگرمیوں کے ہوتے ہوئے قبل از وقت الیکشن ملکی مفاد میں نہیں۔

    بلومبرگ کو دیے انٹرویو میں بلاول نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور اب اسے عالمی براداری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’موجودہ صورتحال میں قبل از وقت الیکشن ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے عمران خان بلاجواز احتجاج سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

  18. پی ڈی ایم کی پیشکش قبول نہیں: مونس الہی

    وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی نے کہا ہے کہ وہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے کسی بھی پیشکش کو قبول نہیں کریں گے۔

    بعض حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی ہے تاہم مسلم لیگ ن یا دیگر جماعتوں نے اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی۔

  19. شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کی مدد کو تیار ہیں: امریکہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بریفننگ کے دوران بتایا ہے کہ پاکستان سٹریٹیجک شراکت دار ہے اور امریکہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں پاکستان کی مدد کو تیار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام بنوں میں جاری سکیورٹی کی صورتحال سے واقف ہیں۔ ’حملہ آوروں پر زور دیتے ہیں کہ قبضہ ختم کریں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں امریکہ کے شراکت دار ہیں۔ ’دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت دیکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

    نیڈ پرائس نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر امریکہ تعاون فراہم کر سکتا ہے۔

  20. وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد، بدھ کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب

    • پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی، سپیکر و ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک جمع کروا دی ہیں۔
    • گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ایڈوائس بھی کر دی ہے اور اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس 21 دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔
    • رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا دعویٰ ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی اور پرویز الہیٰ اسمبلی تحلیل کریں گے۔ ’عدم اعتماد اور اعتماد کے ووٹ کا مقصد الیکشنوں سے فرار ہے۔۔۔ عوام کا فیصلہ ہی حتمی ہے۔‘
    • وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی اور مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تمام اتحادیوں کا ماننا ہے کہ اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔
    • خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں جمعے کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ’جنرل باجوہ کے خلاف بات کرنے پر مجھے آرٹیکل 6 لگنے کا ڈر تھا، وہ انڈیا سے بھی اچھے تعلقات کے حامی تھے‘: عمران خان

    ترہب اصغر، بی بی سی نامہ نگار

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’حکومت میں رہتے ہوئے جنرل باجوہ کے خلاف بات اس لیے نہیں کی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ مجھ پر بھی آرٹیکل چھ لگا دیں گے۔‘

    لاہور میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جب حکومت میں آیا تو میرا منشور تھا کہ سب کا احتساب ہو لیکن جنرل باجوہ نے مجھے اور میری کابینہ کو کہا کہ آپ احتساب کو چھوڑیں اور معیشت پر توجہ دیں۔ نیب جنرل باجوہ کے زیر اثر تھا جس کی وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکا۔ اور میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے۔‘

    پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت جانے سے تین ماہ پہلے تک ہمارے تعلقات اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت اچھے تھے۔ لیکن پھر خارجہ پالیسی پر ہمارے اختلافات شروع ہوئے۔ جنرل باجوہ تو انڈیا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے حامی تھے لیکن بطور سیاست دان میری پارٹی کا کشمیر پر ایک موقف تھا۔ جس کی وجہ سے ہمارے دور میں زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔

    انھوں نے فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے معیشت کا برا حال ہو گیا ہے۔ میں اس سب کا قصور وار ایک ہی شخص کو سمجھتا ہوں اور وہ جنرل باجوہ ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں حکومت بہترین انداز میں چلائی جا رہی تھی لیکن مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ سب اچھا ہونے کے باوجود بھی ہماری حکومت کو نکال کر چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا۔ اس وقت ہمارا ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے۔ اور اس کا حل صرف جلد الیکشن ہیں۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یہ بھی خبر مل رہی ہے کہ یہ لوگ مل کر الیکشن کمیشن کے ساتھ ایک سے ڈیڑھ سال تک مزید تاخیر سے الیکشن کروائیں گے۔

    صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم جمعے کو اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔ جبکہ پرویز الہی ہمارے ساتھ ہیں۔ انھوں نے میرے سامنے کوئی اختلاف والی بات نہیں کی۔